Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

پنجاب نے پتا نہیں کیا کیا گند مچایا ہوا ہے، ہر روز کسی فحش لیک ویڈیو کا زکر سوشل میڈیا پر ہو رہا ہوتا ہے، لیکن بلوچستان سے آپ کو ایسی غلیظ گھٹیا کنٹنیٹ نہیں ملے گا بلکہ ایسی ویڈیوز منظر عام پر آتی ہیں، زرا غور سے دیکھیں۔...

57,600 просмотров • 11 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

بریکنگ نیوز 🚨غیرت مند، حلالی ماں کا حلالی بیٹا، جسٹس انوارالحق پنوں چھا گیا۔ شہباز گل نے اپنے ویلاگ میں مکمل کلپ چلا دی۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کچھ پلے نہ چھوڑا، پچھلے اگلے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ آج تک آپ نے اپنی پوری زندگی میں کسی جج کی ایسی دبنگ، باکمال، حق پر مبنی گفتگو نہیں سنی ہوگی۔ ایک ایک الفاظ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ شروع سے لے کر اینڈ تک سننا، مس مت کرنا 🔥🔥 ہم جھوٹے ہیں، ہم دغاباز ہیں، ہماری ویلیو سسٹم اپنی زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں جا چکا ہے۔ اس لیے اس سے کسی قسم کی توقع فوری طور پر کئی نئے صوبے بنا لیں، لوکل گورنمنٹ لے آئیں، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ مجھے ان دو تین ٹرمز سے بڑی حیرت ہوتی ہے، فلاں حکمران خاندان ڈیموکریسی میں بھی کبھی یہ تصور ہوتا ہے کہ جی فلاں حکمران خاندان، فلاں مقتدرہ۔ کیا ڈیموکریسی میں بھی کسی اسٹیبلشمنٹ کو مقتدرہ کہا جاتا ہے؟ تو جب تک یہ لوگ اپنے اپنے آربٹ (مدار) میں نہیں جاتے، اور یہ اب نہیں جائیں گے، اس لیے کہ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں، ان کی خواہشات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ان کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے انڈیا والوں نے تو خود کو کاک روچ سے آئڈینٹیفائی کیا، ایک سمبولیکلی (علامتی طور پر) کیا کہ ہماری حیثیت یہ ہے، مگر انہوں نے ایک ڈیموکریٹک سسٹم کے اندر ڈیمونسٹریشن کرنے کے بعد اپنی ایک بات کو منوایا۔ یہاں تو آزادی سے سوچنے کی اجازت نہیں ہے۔ حالانکہ آپ کسی سے شیئر نہیں کر رہے، آپ کو سوچنے کی اجازت نہیں ہے، آپ کو کسی سے شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جس ملک میں آزادی سے سوچنے کی اجازت نہ ہو، جس ملک میں آزادی سے بات کرنے کی اجازت نہ ہو، وہ ملک کسی قیمت پر ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ آفاقی اصول ہیں۔ آپ دنیا بھر کے جو ملک ہیں، جس جس ملک نے ترقی کی ہے، اگر انہوں نے کسی اصول پر، ادارے قائم کر کے ترقی کی ہے، تو ہمیں بھی اسی پر جانا پڑے گا۔ ہمارا کوئی علیحدہ سے خطہ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کے کہنے پر یہ اسمبلیاں 15 دنوں میں، 5 دنوں میں اتنی بڑی امینڈمنٹس (ترامیم) ہوتی ہیں، کیا وزیر قانون کو بھی نہیں پتہ ہونا چاہیے کہ کیا امینڈمنٹ انٹروڈیوس ہو رہی ہے؟ کیا پاکستان کی عدلیہ جو ہے، اس کو اس حد تک سبجوگیٹ (ماتحت) ہونا چاہیے تھا؟ کیا پنجاب کے اندر ہر روز ہاف فرائی اور فل فرائی کی جو ٹرم چل رہی ہے، وہ ہزاروں لوگ قتل ہو گئے، یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے آپ بہت دیر وقت گزار لیں گے؟ ان کو سیکنڈ کون کر رہا ہے؟ اور اس کے بعد ایک ٹی وی پروگرام جو کل میں نے دیکھا، وہ ایک منصور علی خان کوئی جرنلسٹ ہیں، جس انداز میں انہوں نے بات کی ہے، فائلیں تیار ہو چکی ہیں، فلاں جو مسلم لیگ ن ہے اس کی جو لیڈرشپ ہے اس کو یہ کیا جائے گا۔ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ یہ آپ کا اختیار ہے؟ یہ آپ کے کہنے پر صوبے بننے چاہئیں؟ یہ اس ملک کے جن کی زمین ہے، جن کا آسمان ہے، جن کی فضا ہے، یہ ان کے لیے، ان کے کہنے پر بننے چاہئیں۔ اس ملک کو تنخواہ دار طبقے نے لوٹا ہے۔ خود کو مالک سمجھ کر خواہ ججز ہوں، خواہ بیوروکریٹس ہوں، خواہ فوجی ہوں، انہوں نے تباہ کیا ہے اور ابھی تک کر رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,172 просмотров • 20 дней назад

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 просмотров • 7 месяцев назад