
Zorakh Baloch
@ZorakhBaloch • 12,732 subscribers
Activist | Nationalist | Voice Against State Violence |
Shorts
Videos

دن کے وقت " شہادت شہادت" کا راگ الاپتے ہیں اور رات کے وقت بیرکس میں یہ نظارۓ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہاں ویڈیو ریکارڈ کرنے پر سخت پابندی ہے، تو وہاں کی ویڈیوز بہت کم نظر آتی ہیں لیکن ماحول یہی ہوتا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں پہلے پنجاب سے "شریف" ٹک ٹاکرز کو بلوچستان اسی سلسلے میں مدعو کیا گیا تھا۔ نوٹ: یہ ویڈیو سنٹرل پنجاب کی ہے، اگر پنجاب کے پبلک پلیسز پر ایسا ماحول ہے تو بیرکس میں کیا ماحول ہوتا ہوگا۔
Zorakh Baloch45,885 次观看 • 9 天前

جو بشیر زیب آج آپ کو ہونڈا 125 دوڑاتے نظر آ رہا ہے، وہ کبھی کوئٹہ پریس کلب میں کھڑے ہو کر اپنے مطالبات سیاسی اور پرامن طریقے سے پیش کیا کرتا تھا، مگر 2014 میں بلوچستان کے سیاسی کارکنوں پر ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد جب بہت سے بلوچ رہنماؤں کو قتل کر دیا گیا تو بشیر زیب بھی انڈر گراؤنڈ ہو گئے کیونکہ ان کے مطالبات سننے والا کوئی نہ تھا اور جو کوئی بھی اپنے حقوق سیاسی طور پر مانگتا تھا اسے چپ کرا دیا جاتا تھا یا قتل کر دیا جاتا تھا، ان حالات نے بشیر زیب کو قلم کے بجائے بندوق اٹھانے پر مجبور کر دیا اور بی ایل اے میں شامل ہوگئے۔ آج وہ بشیر زیب بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کے ایک سینئر کمانڈر بن چکے ہیں، وہ تنظیم جو کبھی صرف گیارہ افراد پر مشتمل تھی آج اس کی ریکروٹمنٹ ہزاروں میں ہو چکی ہیں، پہلے بی ایل اے کئی طرف سے محدود حملے ہوتے تھے مگر اب جب سے بشیر زیب نے کمانڈ سنبھالی ہے بی ایل اے کا سکیل کافی وسیع ہو چکا ہے۔ اب بات کوئٹہ سمیت پورا بلوچستان ہائیجیکنگ تک پہنچ چکی ہے، اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان حالات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ان کے ذمہ دار آخر کون ہیں، یہ فیصلہ آپ خود کریں !
Zorakh Baloch239,427 次观看 • 5 个月前

میڈیا پر سرفراز مسوری اپنے ترجمانوں کے ساتھ بیٹھ کر بڑے بڑے دعوے کرتا ہے اور حکومت کی طرف سے ٹوئٹر اکاؤنٹس کے ذریعے دروغ گوئی و دھوکے کا سہارا لیا جاتا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر حکومتی ارکان میڈیا پر دعویٰ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات مکمل کنٹرول میں ہیں اور ایک ایک انچ پر ریاستی رٹ قائم ہے، آج بلوچستان کے جیوانی علاقے میں کوسٹ گارڈ ہیڈ کوارٹر پر خودکش دھماکے کی اطلاعات ملیں تو فوراً ریاستی اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ حملہ ناکام بنا دیا گیا اور چار حملہ آور مار دیے گئے لیکن حملہ آوروں نے ویڈیو اپ لوڈ کر دی جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پورا کوسٹ گارڈ ہیڈ کوارٹر زمین بوس ہو گیا ہے اور حملہ آور بھی صرف ایک تھا، اطلاعات ملی ہیں کہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کر لی ہے جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 30 کوسٹ گارڈ اہلکار مارے گئے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے کس قدر جھوٹ بولا جا رہا ہے اور حقائق کو کس طرح چھپایا جا رہا ہے، کہاں ہیں وہ سرفراز مسوری اور حکومتی ارکان جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ حملہ آوروں نے زمہ داری بھی قبول کر لی اور ویڈیو بھی اپ لوڈ کر دی لیکن سیکورٹی فورسز اور بلوچستان حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی پریس ریلیز جاری نہیں ہوئی بلکہ ریاستی سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے صرف حملہ ناکام ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ باقی مجھے آج تک پتہ نہیں چلا کہ پاکستان میں حملہ ناکام یا کامیاب کرنے کا کرائٹیریا کیا ہے ؟
Zorakh Baloch28,775 次观看 • 21 天前
2:11
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

بلوچ خواتین کے خلاف اس جیسی چلی ہوئی کارتوسوں کو بھی استعمال کیا گیا لیکن بلوچ خواتین کی وہی عزت و آبرو آج بھی برقرار ہے۔ اب استعمال شدہ نئی تتلیوں کو بھی لانچ کر کے دیکھ لو۔ یہ بھی اسی طرح کوڑۓ دان کی زینت بنیں گی۔ اس ویڈیو کو بھی زوم کر کے دیکھ لیں یہاں دیکھنے کے لیے مواد زیادہ ملے گا۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر اندازہ تو ہو گیا ہوگا کہ بلوچ کس قدر لباس اور غیرت میں تم لوگوں سے کتنا بہتر ہے !
Zorakh Baloch36,152 次观看 • 1 个月前

ہوشیار 🚨 اسلام آباد اور لاہور میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھائی جا رہی ہے۔ ان میں سے کچھ کو کوہ سلیمانی لہجہ اور کچھ کو مکرانی لہجہ سکھایا گیا ہے۔آپ کو بتاتا چلوں کہ کوئی بھی زبان کے بنیادی الفاظ، عام جملے یا رٹی رٹائی باتیں یاد رکھنا یا کیمرہ کے سامنے بولنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ بہت سے لوگ روس، چین اور دیگر ممالک میں سکالرشپس پر پڑھنے جاتے ہیں اور وہاں کی زبان چھ ماہ سے ایک سال کے اندر آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ اب جبکہ بلوچستان میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور بلوچ مسلح تنظیموں کی جنگی حکمت عملی بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اب خواتین نے بھی جنگ کا حصہ بننے کے لیے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ پنجاب کے سو کالڈ تجزیہ کار جن میں مختلف ٹاؤٹسس، کچھ پشتون لڑکیاں بھی، استعمال کی گئیں لیکن بلوچ عوام نے ان کو مسترد کیا، براق ڈیجیٹل، آزاد ڈیجیٹل سمیت ہر فارمولا ناکام ہوا کیونکہ بلوچ ان کے اصل چہرے جانتے ہیں۔ پاکستان کو بیانیہ کی جنگ (narrative warfare) میں بلوچ خواتین کی ضرورت پڑی، لیکن بلوچستان کی مقامی خواتین اس قسم کے پروپیگنڈا کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہوئیں (سوائے چند ایک کے)۔ اس لیے ریاست نے پنجاب اور دیگر شہروں کی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھانا شروع کر دیا۔آج کل انسٹاگرام، ایکس (ٹویٹر)، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بلوچی زبان بولتی ہوئی خواتین ایک مخصوص بیانیہ چلانے کی کوشش کر رہی ہیں، جو مکمل طور پر سرکار کی سرپرستی اور حمایت میں ہو رہا ہے۔ واضح کرتا چلوں اگر ان کا بائیو ڈیٹا نکالا جاۓ تو ان میں سے ہر ایک کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔ ان خواتین کا بلوچستان یا بلوچ کاز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Zorakh Baloch18,916 次观看 • 28 天前

افغانوں کو تندور پر کام کرنے کا طعنہ دیا جاتا ہے جبکہ بلوچ خواتین کی جدوجہد پر انہیں "غیرت" کا طعنہ دیا جاتا ہے، لیکن اپنا کلچر کیا ہے؟ اس ویڈیو میں بس ایک چھوٹی سی جھلک دیکھ لیں اور پھر خود اندازہ لگائیں کہ ایسے لوگوں کو افغانوں یا بلوچوں پر تنقید کرنے کا حق ہے بھی یا نہیں؟
Zorakh Baloch37,985 次观看 • 4 个月前

میں ہمیشہ سے کہتا آ رہا ہوں کہ جب بھی سیکیورٹی کی کوئی ناکامی پیش آئے تو متعلقہ اداروں اور ذمہ داروں سے براہ راست سوال کیا جانا چاہیے کہ اربوں روپے کا دفاعی بجٹ آخر کہاں خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ مسلح افراد گاڑیوں میں بارود بھر بھر کوئٹہ شہر میں کھلے عام کارروائیاں کر رہے ہیں، پہلے یہ رواج تھا کہ کسی بھی مسلح کارروائی کے بعد ماہ رنگ بلوچ اور ایمان مزاری جیسی انسانی حقوق کی کارکنوں کے مذمت کا مطالبہ کیا جاتا تھا اور اصل مجرمان کی بجائے انسانی حقوق کے رہنماؤں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا، اب کم از کم کچھ لوگ تو اصل ذمہ داروں سے سوال کر رہے ہیں کہ یہ اربوں کا بجٹ کہاں جا رہا ہے اور یہ سوال دبانے کی بجائے اس کا جواب دینا اور احتساب کرنا ضروری ہے۔
Zorakh Baloch14,753 次观看 • 1 个月前

اب جب واضح ہو چکا ہے کہ وہ سات سرنڈرڈ فوجی پاکستان کے تھے جو بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کے ہاتھوں گرفتار ہوئے، جن کے لیے بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے آج ساتواں اور آخری دن تھا، سرکاری طور پر بھی ان کی گرفتاری قبول کر لی گئی ہے اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشن شروع کر دیے گئے ہیں، تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان "ریسرچرز بھائیوں" کا کیا ہوگا جنہوں نے ویڈیو کا بڑی باریکی سے جائزہ لے کر اسے اے آئی جنریٹڈ قرار دے دیا تھا؟
Zorakh Baloch14,333 次观看 • 5 个月前
没有更多内容可加载