Abbas Ahmed's banner
Abbas Ahmed's profile picture

Abbas Ahmed

@abbasHQahmed2,666 subscribers

Broadcast Journalist |𝘾𝙚𝙣𝙩𝙧𝙖𝙡 𝙋𝙧𝙚𝙨𝙞𝙙𝙚𝙣𝙩 𝙋𝙅𝙁| ................. |𝑪𝑬𝑶 𝑴𝑶𝑺𝑨𝑰𝑪 𝑵𝑬𝑾𝑺|

Shorts

اسلام آباد: Islamabad Police ذرائع کے مطابق تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود میں ایک مسجد کے پاس ایک پٹاخہ پھٹ گیا۔ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ کسی چھت سے پھینکا گیا تھا۔ ایک بندہ گرفتار بھی ہوا… مگر سفارش آئی اور جناب رہا بھی ہو گئے اصل “کارروائی” اس کے بعد شروع ہوئی۔ پولیس نے خود پٹاخہ پھوڑتے دیکھنے کے باوجود سیدھا ایک جنرل اسٹور پر چھاپہ مار دیا۔ دکاندار کو اٹھایا، بدتمیزی الگ، اور شہری کے مطابق تقریباً 65 ہزار روپے بھی اٹھا لیے گئے۔ راشن بھی “بھولے” نہیں، وہ بھی ساتھ لے گئے۔اوپر سے شہری پر دفعہ 188 کا پرچہ بھی دے دیا گیا اصل ملزم آزاد، اور جو ہاتھ آیا وہی قانون کی زد میں؟ کیا یہی انصاف ہے؟ کیا یہی میرٹ ہے؟ یا پھر جس کی سفارش مضبوط، اس کا قانون کمزور؟

اسلام آباد: Islamabad Police ذرائع کے مطابق تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود میں ایک مسجد کے پاس ایک پٹاخہ پھٹ گیا۔ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ کسی چھت سے پھینکا گیا تھا۔ ایک بندہ گرفتار بھی ہوا… مگر سفارش آئی اور جناب رہا بھی ہو گئے اصل “کارروائی” اس کے بعد شروع ہوئی۔ پولیس نے خود پٹاخہ پھوڑتے دیکھنے کے باوجود سیدھا ایک جنرل اسٹور پر چھاپہ مار دیا۔ دکاندار کو اٹھایا، بدتمیزی الگ، اور شہری کے مطابق تقریباً 65 ہزار روپے بھی اٹھا لیے گئے۔ راشن بھی “بھولے” نہیں، وہ بھی ساتھ لے گئے۔اوپر سے شہری پر دفعہ 188 کا پرچہ بھی دے دیا گیا اصل ملزم آزاد، اور جو ہاتھ آیا وہی قانون کی زد میں؟ کیا یہی انصاف ہے؟ کیا یہی میرٹ ہے؟ یا پھر جس کی سفارش مضبوط، اس کا قانون کمزور؟

118,661 Aufrufe

Videos

abbasHQahmed's profile picture

اس ویڈیو میں ایک خاتون ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتی نظر آ رہی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے تشویشناک منظر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وفاقی دارالحکومت میں عوام کو انصاف اور سروس کے لیے اس طرح اپیلیں کرنا پڑیں تو پھر ذمہ داری کس کی بنتی ہے؟ دو سال گزرنے کے باوجود اگر اسلام آباد پولیس کی سروس ڈلیوری پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو یہ وقت ہے کہ اس پورے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ پاکستان میں قابل اور تجربہ کار افسران کی کمی نہیں، اس لیے عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا وفاقی پولیس کو ایسے افسران کے سپرد نہیں ہونا چاہیے جو عملی تجربے کے ساتھ دارالحکومت کی پولیس کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔اسلام آباد پولیس کے آپریشن ڈویژن کے حوالے سے بھی یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ اختیارات کا توازن درست نہیں۔ ایس ایس پی آپریشن کو وسیع اختیارات حاصل ہیں جبکہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے سینئر عہدے کو مکمل طور پر مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔حقیقت یہ ہے کہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے تجربہ کار افسران اگر مکمل اختیارات اور سپورٹ کے ساتھ کام کریں تو اسلام آباد پولیس کا آپریشنل نظام کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتا ہے۔ عوام کی توقع صرف ایک ہے: دارالحکومت کی پولیس مضبوط، منظم اور حقیقی معنوں میں عوام دوست نظر آئے۔ Islamabad Police Mohsin Naqvi

Abbas Ahmed

12,150 Aufrufe • vor 4 Monaten

Keine weiteren Inhalte verfügbar