
Aftab Nazir
@Aftab_Nazir • 25,960 subscribers
Social Activist | content creator | social media strategist | blogger | freelance journalist | lecturer
Shorts
Videos

منسلک ویڈیو سابق ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی کی ہے، جو لاہور میں جامعہ عروۃ الوثقیٰ تشریف لائے تھے یہ صاحب کون تھے، ان کا دورِ وزارت کیا تھا اور اس دور میں ایران خطے میں کیا کر رہا تھا؟ میں آپکو بتاتا ہوں ۰۰۰۰۰ کمال خرازی 1997 سے 2005 تک ایران کے وزیر خارجہ رہے یہ وہی عرصہ تھا جب ایران عراق میں اپنے مسلح اثر و رسوخ کو تیزی سے بڑھا رہا تھا بدر کور ایران میں تربیت اور اسلحہ حاصل کرنے والی ایرانی حمایت یافتہ قوت تھی 2003 کے بعد ایران نے بدر کے ساتھ ساتھ مقتدیٰ الصدر کی مہدی آرمی اور دوسرے شیعہ مسلح گروہوں کو بھی مالی مدد، تربیت اور ہتھیار فراہم کیے، مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا پر عراق کے اہلِ سنت کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد کے بھی سنگین الزامات اور ثبوت سب کے سامنے ہیں میری معلومات کے مطابق 2004 تک ایرانی کیمپوں میں عراقی جنگجوؤں کی تربیت جاری تھی، پھر 2005 میں ابو مصطفیٰ الشیبانی کے نیٹ ورک کے ذریعے ایرانی ساختہ EFP بم، 107 اور 122 ملی میٹر راکٹ، کاتیوشا اور مارٹر عراق پہنچنے کی تفصیلات سامنے آئیں انہی پرانے بدر اسمگلنگ روٹس کے ذریعے مہدی آرمی، بدر اور دوسرے گروہوں کو اسلحہ اور مالی معاونت پہنچنے کا ریکارڈ بھی موجود ہے مزے کی بات یہ کہ جب یہ سب چل رہا تھا تو عین اسی وقت کمال صاحب کمال فنکاری سے انکاری تھے کہ ایران ایسا کچھ نہیں کررہا، مارچ 2003 میں کمال خرازی نے بدر کور کے اہلکاروں کو عراق بھیجنے کی تردید کی اور کہا کہ ایران جنگ میں کسی فریق کا ساتھ نہیں دے رہا، اسی موقع پر انہوں نے ایران کے عراق میں کردار سے متعلق الزامات کو رد کیا یعنی ایک طرف یہ مؤقف کہ عراق میں ہمارا کوئی کردار نہیں، اور دوسری طرف ایرانی حمایت یافتہ مسلح نیٹ ورک، تربیتی کیمپ، اسلحہ کے راستے اور EFP جیسے مہلک ہتھیاروں کی تفصیلات لبنان میں بھی خرازی کا مؤقف کسی ابہام میں نہیں تھا، 2005 میں انہوں نے کالعدم تخریبی گروہ حزب اللات کے ہتھیاروں کا دفاع کیا اور اسے محض ملیشیا ماننے کے بجائے مزاحمتی تحریک قرار دیا یہ تعارف اس شخص کے دورِ وزارت اور اس وقت کی ایرانی پالیسی کا تاریخی ریکارڈ ہے کہ جب ایران نے اپنی پراکسیز کو مسلم ممالک میں مسلح کرکے داخل کرنا شروع کیا اور یہ شخص مکمل طور پر اس ساری سازش اور تخریب کا ایک بہت بڑا کردار اور حصہ تھا جواد نقوی صاحب ایک ایسے سعودی سفیر پر، جو پاکستان آیا ہی نہیں ، یہ الزام لگا بیٹھے کہ اس نے پاکستانی مفتیوں کو ناشتہ کرایا ایک ایسے شخص کی میزبانی اور اس کے خلاف الزام، جس کی پاکستان آمد ہی نہیں ہوئی، اگر اتنا بڑا موضوع بن سکتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کمال خرازی کی میزبانی کے وقت یہ تاریخی پس منظر کیوں یاد نہیں آیا؟ جب آپ اپنے ادارے کے بچوں اور بچیوں کو ایرانی خانہ فرہنگوں کے اسٹاف کے سامنے پیش کرتے ہیں، ایرانی شخصیات کو اپنے تعلیمی ادارے میں مدعو کرتے ہیں، اور دوسری طرف سعودی عرب کے بارے میں محض ایک مفروضے پر الزامات عائد کرتے ہیں تو آپکو آپکا ضمیر بھی نہیں ملامت کرتا؟ کوئ رتی برابر شرم؟ احساس یا ندامت؟ کمال خرازی آج اس دنیا میں نہیں، مگر ان کی پاکستان عروہ آمد کی یہ ویڈیو موجود ہے، ان کا دورِ وزارت تاریخ کا حصہ ہے اور اس دور کی ایرانی پراکسی پالیسی کا ریکارڈ بھی موجود ہے لہٰذا میرا سوال کسی ایرانی شخصیت کی پاکستان آمد یا کسی قوم سے دشمنی کا نہیں، سوال یہ ہے کہ جس شخص کے دور میں ایران عراق میں اپنے مسلح نیٹ ورکس، تربیت، اسلحہ رسانی اور پراکسی اثر و رسوخ کو وسعت دے رہا تھا، لبنان میں حزب اللات کے مسلح کردار کا دفاع کیا جا رہا تھا، اور دنیا کے سامنے عراق میں ایرانی کردار سے انکار بھی کیا جا رہا تھا تو اس شخص کو ایک پاکستانی تعلیمی ادارے میں مدعو کرنے کی ضرورت آخر کیا تھی؟ جواد نقوی صاحب! سعودی سفیر کے بارے میں، جو آیا ہی نہیں، آپ نے ایک مفروضے سے اتنا بڑا الزام کشید کر لیا تو جس شخص کی آمد، میزبانی اور ویڈیو سب ہمارے سامنے موجود ہیں، اس کے بارے میں آپ سے سوال پوچھنا کیا ہمارا حق نہیں؟ کمال خرازی کو عروۃ الوثقیٰ کیوں بلایا گیا؟ وہاں کیا پیغام دیا گیا؟ کس بیانیے کو انجیکٹ کیا گیا؟ اور آخر اس دعوت کے پیچھے ایجنڈا کیا تھا؟ امید ہیکہ ایران نواز ٹولے میں سے کوئ ایک مائ کا لعل یا غیرتمند تمن خور اس تحریر کا جواب دلائل سے دیکر پاکستانی قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کرےگا آفتاب نذیر
Aftab Nazir34,715 views • 5 days ago

پاکستان میں ایرانی پراکسیز کے خلاف سب سے زیادہ سرگرم جماعت کے صدر مولانا اورنگزیب صاحب نے بھی سعودی عرب پر حوثی جارحیت کی کھل کر مذمت کرتے ہوئے جمعہ کے روز ملک بھر میں سعودی عرب سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کی اپیل کی ہے انہوں نے خطباءِ کرام سے بھی اپیل کی ہے کہ جمعہ کے خطابات میں حوثیوں کے مظالم اور سعودی عرب کے خلاف ان کی جارحیت کو اجاگر کیا جائے۔ یاد رہے کہ حافظ طاہر محمود اشرفی صاحب، علامہ ہشام الٰہی ظہیر صاحب، قائد جمیعت مولانا فضل الرحمن صاحب،مفتی تقی عثمانی صاحب اور مفتی منیب الرحمن صاحب سمیت تقریباً تمام مکاتبِ فکر کے اہلِ سنت علماء نے حوثی جارحیت کی واضح مذمت کی ہے دوسری جانب پاکستان کے مختلف طبقات میں حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے ایسے وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا محض سیاسی مؤقف نہیں، حرمین شریفین کے تحفظ کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار بھی ہے آفتاب نذیر
Aftab Nazir12,012 views • 12 days ago

یہ آج اس وقت کی ویڈیو ہے،رات وحشت اور بربریت کا جو ننگا ناچ ہوا وہ انسانی حقوق کے کسی چیمپئن کو نظر نہیں آرہا انجمن حسینیہ اور زینبیون کی سرپرستی میں کل پہلے پاکستانی پرچم کو پاؤں تلے روند دِیا پھر پاکستانی جھنڈے کے جگہ ایرانی دہشتگرد تنظیم زینبیوں کا پرچم لگایاگیا اہلسنت کے گاؤں بگن پر منظم حملہ کیا گیا، اس حملے میں زینبیون نے پورے بگن بازار کو آگ لگا دی، گھروں کو تباہ کیا، اور معصوم بچوں کو ان کی ماؤں کی گود میں بے دردی سے قتل کیا۔۔۔۔ خاندانوں کے خاندان غائب ہیں جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل رہا گھروں سے قیمتی سامان اور مویشی تک کھول کر کے جائے گئے۔۔۔ ۔ یہ ناقابل برداشت انسانیت سوز مظالم چونکہ اہلسنت مسلمانوں پر ڈھائے گئے اس لئیے نا تو کسی بار کونسل کو احتجاج کی توفیق ہوگی،ناکسی صحافی کے کان پر جوں رینگے گی اور نا ہی کسی میڈیا گروہ کو توفیق ہوگی کہ حقائق سامنے لائے۔۔۔۔۔ ہماری ان تمام اکاونٹس پھر گہری نظر ہے جو اس موقع پر حق نمک ادا کررہے کراچی کے وکیل سے لیکر گلگت کے ذاکروں تک نے پاکستان کو گالیاں دیں، پرچم جلائے، پاک آرمی کی پوسٹوں پر جھنڈے گاڑی کر فتح کا اعلان کیا اور انجمن حسینیہ کے عنایت حسین طوری نے اسے فتح مبین کا نام دیکر جشن منایا۔۔۔۔ میں یہاں ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس اور دیگر صحافی تنظیموں اور وکلاء برادری کو دعوت عام دیتا ہوں کہ آپ لوگ پہلے اس مسئلہ کو سمجھیں دیکھیں سنیں اسکے بعد کم از کم بول نہیں سکتے تو باطل کی آواز تو نا بنیں!!!! آفتاب نذیر #SecureTheKurram #JusticeForBugan #stopkillingsunni
Aftab Nazir249,145 views • 1 year ago

مفتی طارق مسعود کا یہ پرانا کلپ ہے، جو شائد سری لنکن مینیجر کے مارے جانے پر ریکارڈ کیا گیا۔۔۔۔ دوست جانتے ہیں کہ مفتی طارق مسعود سے میرا ہمیشہ 36 کا آکڑا رہا ہے اوراسکی کئ ایک وجوہات بھی ہیں۔۔۔۔ سال بھر قبل میں نے یار من نوفل ربانی اور دیگر دوستوں کے سامنے پیشن گوئ کی تھی کہ مفتی صاحب جلد کسی نا کسی اپنے ہی مارے گئے بھنڈ میں پھنسنے والے ہیں کیونکہ انکی پرواز بہت بہت اونچی ہوچکی تھی اور اسکی ایک وجہ انکا رویہ اور مزاج بھی تھا۔۔۔۔۔ المختصر یہ کہ مفتی طارق مسعود صاحب سے باوجود شدید اختلاف کے انکے یہ الفاظ میرے دل کو بھائے اگر ہر مسلک و مذہب کے لوگوں اور انسانوں کو یہ بات سمجھ آجائے تو پاکستان سے جنونیت ختم ہوسکتی ہے آفتاب نذیر
Aftab Nazir116,038 views • 2 years ago

سب سے پہلے تو مجھے خوشی ہے کہ اس چٹے بلے کے چہرے پر سے بھی وحدت والا نقاب اترا کیونکہ ہمارے بہت سے اہل سنت بھی اسے انتہائ معتدل سمجھ کر فالو کیا کرتے تھے (میرا رب اسے مزید Exposeکرے) لیکن ساتھ ساتھ میں حیران ہوں کہ خانہ فرہنگ کے پیسے پر کھڑے کیے گئے ان قلعہ نما کمپاؤنڈز میں کیا کچھ نہیں ہو رہا؟ ایک طرف غیر ملکی سفارتی عملے کو بلا کر عہد و پیماں کیے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف یہی بیٹھکیں پاکستان کے خلاف بیانیہ گھڑنے اور سازشیں بننے کا اڈہ بنی ہوئی ہیں انہوں نے آج تک قائد اعظم کو تو کبھی رہبر نہیں کہا ، انکے رہبر ہمیشہ فارس کے امپورٹڈ رجیمی نمائندگان ولایت فقیہ ہی کیوں رہے؟ یہ جواد نقوی کا ادارہ عروة الوثقى ہے جہاں سے مسلسل ہذیان اور تبرا بکا جارہا، دن رات پاکستانی اداروں، فوج اور ریاستی مشینری کو برا بھلا کہا جارہا انکی زبان میں زہر، لہجے میں تکبر اور وفاداری ایرانی رجیم کے لیےہے ایران کے ڈکٹیٹروں کے ساتھ وفاؤں کے گیت گائے جا رہے ہیں، اور یہاں بیٹھ کر اپنی ہی ریاست کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جس کی چھاؤں میں یہ سب سانڈ دن بدن پھیلتے جارہے سرزمینِ عرب اور پاک سرزمین پاکستان پر حملہ آور ہونے والے ملک ایران کے ساتھ محبت کے راگ الاپے جا رہے ہیں، اسکاوٹس کے نام پر منظم جتھے تیار ہو رہے ہیں، اور پاکستان کے اندر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا جاچکا ہے میرا سوال یہ ہیکہ کیا واقعی ریاست اتنی بے بس ہو چکی ہے؟ نہ کسی سرکاری ادارے میں جرات نظر آتی ہے، نہ لاہور میں بیٹھے کسی CTD یا CCDوالے کو فرصت ہے، نہ ہی کسی چڑیا گھر کے آس پاس بیٹھے مجھ سے “صحافی”کو غیرت آ رہی ہے کہ اس کھلی بغاوت کو روکا جائے کیا کوئ نہیں بازپرس کرنے والا؟ کہاں گئے وہ سیکٹر کمانڈر جو ایک ایک ٹوئیٹ پر ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے باغیوں کو پاتال سے نکال لاتے تھے؟ کہاں گئے وہ کڑیل جوان جو بلوائیوں کو بلوں سے بھی ڈھونڈ نکالتے تھے ؟ کیوں نہیں یہاں مریم نواز کا ہاتھ حرکت میں آتا؟ رینجرز، پولیس، ایجنسیاں، میڈیا ،سول سوسائٹی سب خاموش کیوں ہیں؟ کیا انکا زور صرف بابے خادم اور جھنگ کے نہتوں پر ہی چلتا ہے؟ اگر ملک کو گالی دینا بھی اب ایک پالیسی بن چکی ہے، تو پھر قوم کو صاف صاف بتا دیا جائے تاکہ آئندہ ہم بھی کسی غدارانہ زبان بولنے والے کو دیکھ کر ہش ہش کرنے سے پہلے اپنا آپ دیکھ لیں کیونکہ شاید آپ تو برداشت کر لیں، مگر ہم اپنے جیتے جی ارضِ پاک پر ہونے والی اس طرح کی کھلی بغاوت کا تماشا نہیں دیکھ سکتے اگر ہم کچھ بھی نا کرسکے تو کم از کم صدائے حق ضرور بلند کریں گے۰۰۰۰ راجہ ناصر عباس سے لیکر خانہ فرہنگ کے سفارتی عملے تک کی آونڑیاں جاونڑیاں اور یہ ریاست مخالف زبانیں اگر آپ کو نہیں کھٹکتیں تو بند کردیں یہ ساری دوکانیں اور جائیں اپنی بیرکوں میں واپس۰۰۰۰ خالی باتیں کرنے اور ویڈیو پیغامات جاری کروانے سے گند صاف نا ہوگا، انہیں کالعدم قرار دیکر سیل کریں ان قلعوں کو اور جس فیلڈ آپریٹر یا افسر کو انکی طرف بھیجیں تو پہلے اسکا اپنا بھی گراونڈ چیک کرالیا کریں کہ اسکی وابستگی کس کے ساتھ ہے ؟ وگرنہ یہی ہوگا کہ حوالدار صاحب عالیشان عمارت میں چائے پی کر5000 کا ہدیہ لیکر سب اوکے کی رپورٹ submit کریں گے اور وقت آنے پر آپ اس ٹرانسفر ہونے والے حوالدار ہی کو کوستے رہ جائیں گے آفتاب نذیر
Aftab Nazir32,339 views • 6 months ago

زندہ باد اور شیرا! شام جتنے بھی غیر ملکی مہمانوں/ساتھیوں نے آزادی کی جدوجہد میں ساتھ دیا ان سب کو شامی شہریت دی جائیگی، اور یہ بات جولانی نے یورپینز کے سامنے کی۔۔۔ یعنی مجاہدین قفقاز سے لیکر مجاہدین افریقہ تک جو بھی شام کے لئیےلڑے سب کوشامی پاسپورٹ ملیگا الحمدللہ!
Aftab Nazir60,406 views • 1 year ago

قطر سے ہمارے دوست عالیان عباسی نے تازہ ترین ایرانی حملوں کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ لوگ سڑکوں پر گاڑیاں چھوڑ کر بھاگ صحراؤں کی طرف بھاگ نکلے۔۔۔۔۔ ہر طرف سائرن اور چیخ و پکار۔۔۔۔۔ گو کہ یہ علامتی حملے تھے لیکن قطر جیسے ملک پر حملے کے بعد عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔۔۔۔ یاد رہیکہ حماس کی اعلی قیادت بھی قطر میں ہے اور افغان حکومت کے مذاکرات میں بھی قطر نے طالبان کا کافی ساتھ دیا، اسکے علاوہ ایران نے جب اسماعیل ہنیہ کو بلا کر شہید کرایا تو قطر ہی تھا کہ جس نے ہنیہ شہید کو اپنی سرزمین پر دفن کرنے کی سعادت حاصل کی!!!!
Aftab Nazir54,584 views • 1 year ago

آدھے گھنٹے میں جائے حادثہ تک ٹیمیں پہنچ جائینگی۔۔۔۔۔ سردی اور دھند بڑھتی جارہی ہے یہ ریسکیو کے تازہ ترین مناظر ہیں کہیں خوشی کہیں غم یاد رہے ایرانی صدر نے سینکڑوں اہلسنت علماء کو پھانسی کی سزا دی اسکے علاوہ حال ہی میں پاکستان پر ہونیوالے حملے رئیسی ہی کے حکم پر ہوئے #Raisi
Aftab Nazir71,349 views • 2 years ago

ایران نے اور ایرانی فنڈڈ کالعدم زینبیون اور طوری و بنگش قبائلی فرقہ وارانہ لشکر نے پاکستان ایران وہی خونی کھیل شروع کردیا ہے جو ایران 15 سال سے شام ،عراق اور لبنان میں کھیلتا چلا آرہا ہے یہ تربیت یافتہ ایرانی گماشتے پورے پورے لشکر بنا کر دیہاتوں پر حملہ آور ہورہے ہیں اور ان کے گماشتے میڈیا پر ان ہی قاتلوں کو مظلوم بنا کر پیش کر رہے ہیں آپ مظلوموں کی آواز بنیں #SaveKurram #SaveBagan
Aftab Nazir52,936 views • 1 year ago

یہاں کوئ کیا کاروبار کرے؟؟؟ بقول اس شہری کے ایک شخص جو اثر رسوخ رکھتا ہے اسلام آباد پولیس کی سرپرستی میں پورا گودام خالی کرواکر لے گیا تین کروڑ روپے سیف سے نکال لئیے بیس کروڑ کا گودام سے مال اٹھالیا والد چچا سمیت گھر کے تمام بزرگوں کو لے گئے اگر کوئ یہ سمجھتا ہیکہ آئ جی اسلام آباد کے علم میں اتنی بڑی کاروائی نہیں تھی تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا آفتاب نذیر
Aftab Nazir22,292 views • 7 months ago

حسن اللہ یاری شیعہ ہے۔۔۔ اہل تشیع نوجوانوں میں کافی مقبول ہے۔۔۔۔ اکثر سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی شان میں گستاخی کرتا رہتا۔۔۔۔۔ بندہ نے ایک بار لائیو کال پر مکالمہ کی دعوت دی جو کہ تاحال موصوف کی جانب سے پینڈنگ میں پڑی ہے۔۔۔۔ آج پوری دنیا کی ملت تشیع اسکا یہ بیان سنے۔۔۔ آپکا اپنا تخم آپکے باریمیں کیا کہہ رہا؟؟؟
Aftab Nazir49,114 views • 2 years ago