Aftab Nazir's banner
Aftab Nazir's profile picture

Aftab Nazir

@Aftab_Nazir • 25,960 subscribers

Social Activist | content creator | social media strategist | blogger | freelance journalist | lecturer

Shorts

پراکسیز کی دکان اب بلوچستان میں بھی کھل گئ!!! ایران برسوں سے خطے میں فاطمیون، زینبیون اور دیگر مسلح گروہوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتا آیا ہے، اب سراوان کے علاقے گُشت سے سامنے آنے والی اس ویڈیو نے ان الزامات کی مزید تصدیق کردی ویڈیو میں ایک گرلز مڈل اسکول کے اندر مسلح افراد عسکری تربیت کرتے دکھائی دے رہے ہیں، مقامی رپورٹ کے مطابق یہ افراد زینبیون اور فاطمیون کے ہیں اور ویڈیو 20 ستمبر 2026ء کی ہے یرپورٹس صرف یہاں تک محدود نہیں؛ سیستان و بلوچستان کے متعدد علاقوں میں فاطمیون اور زینبیون سے منسوب افراد کی تعیناتی، نقل و حرکت اور گشت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں بعض رپورٹس مقامی بسیج مراکز ان کے حوالے کیے جانے کا دعویٰ بھی کرتی ہیں، یعنی جو حکومت برسوں دوسروں کے ملکوں میں پراکسیز چلاتی رہی، وہ اب اپنے ملک میں بھی انہی پراکسیز کے سہارے کھڑی ہے اور اگر یہ سب محض معمول کی عسکری مشق ہے تو گرلز اسکول ہی کیوں؟ کیا ایرانی اسکولز میں یہ تعلیم دی جاتی؟ ایرانی عوام معاشی مشکلات اور ریاستی پالیسیوں پر پہلے ہی سوال اٹھاتے رہے ہیں، اوپر سے ستم یہ کہ مہنگائ یا بنیادی حقوق کے لئیے آواز اٹھانے پر ہزاروں مظاہرین کا اجتماعی قتل عام بھی کیا گیا جبکہ ماورائے عدالت پھانسیاں سیستان و بلوچستان میں پاسداران کے مظالم کی داستانیں اب دنیا کے سامنے ہیں اور حالیہ ایام میں سامنے آنے والی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہیکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا ہی جارہا ہے نیز ہمارے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کو بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر زینبیون اور فاطمیون کے حوالے ہماری سرحد پر سیستان و بلوچستان کو مضبوط کیا جارہا ہے تو اسکے اثرات ہماری طرف کیا ہونگے ؟ یاد رہے کہ زینبیون کو پاکستان میں کالعدم قرار دیا جاچکا ہے اور اس تنظیم کے متعدد ٹارگٹ کلرز اور تخریب کار اس وقت پاکستانی جیلوں میں اپنے جرائم کی سزا بھگت رہے آفتاب نذیر

پراکسیز کی دکان اب بلوچستان میں بھی کھل گئ!!! ایران برسوں سے خطے میں فاطمیون، زینبیون اور دیگر مسلح گروہوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتا آیا ہے، اب سراوان کے علاقے گُشت سے سامنے آنے والی اس ویڈیو نے ان الزامات کی مزید تصدیق کردی ویڈیو میں ایک گرلز مڈل اسکول کے اندر مسلح افراد عسکری تربیت کرتے دکھائی دے رہے ہیں، مقامی رپورٹ کے مطابق یہ افراد زینبیون اور فاطمیون کے ہیں اور ویڈیو 20 ستمبر 2026ء کی ہے یرپورٹس صرف یہاں تک محدود نہیں؛ سیستان و بلوچستان کے متعدد علاقوں میں فاطمیون اور زینبیون سے منسوب افراد کی تعیناتی، نقل و حرکت اور گشت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں بعض رپورٹس مقامی بسیج مراکز ان کے حوالے کیے جانے کا دعویٰ بھی کرتی ہیں، یعنی جو حکومت برسوں دوسروں کے ملکوں میں پراکسیز چلاتی رہی، وہ اب اپنے ملک میں بھی انہی پراکسیز کے سہارے کھڑی ہے اور اگر یہ سب محض معمول کی عسکری مشق ہے تو گرلز اسکول ہی کیوں؟ کیا ایرانی اسکولز میں یہ تعلیم دی جاتی؟ ایرانی عوام معاشی مشکلات اور ریاستی پالیسیوں پر پہلے ہی سوال اٹھاتے رہے ہیں، اوپر سے ستم یہ کہ مہنگائ یا بنیادی حقوق کے لئیے آواز اٹھانے پر ہزاروں مظاہرین کا اجتماعی قتل عام بھی کیا گیا جبکہ ماورائے عدالت پھانسیاں سیستان و بلوچستان میں پاسداران کے مظالم کی داستانیں اب دنیا کے سامنے ہیں اور حالیہ ایام میں سامنے آنے والی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہیکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا ہی جارہا ہے نیز ہمارے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کو بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر زینبیون اور فاطمیون کے حوالے ہماری سرحد پر سیستان و بلوچستان کو مضبوط کیا جارہا ہے تو اسکے اثرات ہماری طرف کیا ہونگے ؟ یاد رہے کہ زینبیون کو پاکستان میں کالعدم قرار دیا جاچکا ہے اور اس تنظیم کے متعدد ٹارگٹ کلرز اور تخریب کار اس وقت پاکستانی جیلوں میں اپنے جرائم کی سزا بھگت رہے آفتاب نذیر

22,401 次观看

اس شخص کا نام تہران طوری ہے یہ زینبیون کا کمانڈر ہے یہ یاعلی مدد کے نعرے مار کر کیا کہہ رہا کسی بھی پٹھان سے ترجمہ کراکر سن لیں۔۔۔۔ 2007 سے اہلنست کے گاؤں کے گاؤں جلاتے جارہے آج رات بھی اتنی دلخراش اور دردناک ویڈیوز آئ ہیں کہ اگر وہ پوسٹ ہوئیں تو ملک کا امن و امان تہس نہس ہوجانا لیکن انکے قتل پر BBCسے لیکر بڑے بڑے میڈیا چینلز تک کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور تو اورغزہ کے فلسطینی بچے کی فیڈر کی تصویروں کو دردناک کیپشن دے دے کر پاڑہ چناری چھ ماہ کے شہید کی پوسٹیں کرنے والے ہمارے بڑے بڑے ٹوئیپس بھی آج بگن کی خواتین اور بچوں کے اذیت ناک قتل کی ویڈیوز اور لوگوں کے باہر پڑے بھیجوں کی کلپس دیکھنے کے باوجود ایسے خاموش ہیں کہ جیسے یہ مرنے والے تو انسان کے بچے ہی نا ہوں منافقت کے سینگ نہیں ہوتے،کچھ لوگ بیلنس کرنے کے لئیے کہہ دیتے کہ دونوں طرف سے ایسا ہوتا،سو دفعہ کریں!!! جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں! ہمیشہ اہلسنت مارے جاتے، کل اہل تشیع کی گاڑی ٹارگٹ ہوئ، کس نے کی؟ یہ اب تک کنفرم نہیں ہوپارہا، ذرائع کیمطابق ٹ ٹ پ امیر کاظم گروپ ہے یہ کس کا گروپ ہے؟ کوئ نہیں جانتا انہوں نے کیوں خواتین اور بچوں کو ایک اتنے حساس اہل سنت کے گاؤں میں مارا کہ جسکے نتیجے کا پکا یقین تھا کیا نکلنا؟ اس کاروائی کا تو (سو) 100 فیصد اہل سنت کو نقصان ہی ہونا تھا جو کہ ہوا تو پھر کیوں نہیں تحقیقات کیں جاتیں کہ سازش کے پیچھے کون؟؟ جس بگن کے لوگوں نے کل 27 مسافروں کو حملہ آوروں سے بچا کر بحفاظت انکے گھروں تک پہنچایا انہیں آج اس نیکی کا صلہ مل گیا!!! مجھے نہیں پتہ کہ اب آگے کیا ہوگا لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میڈیا پر ایران نواز لابی اتنی چھائ کوئ ہیکہ انکی بنائ ISPR کی جھوٹی ٹوئیٹ بھی مین اسٹریم کی خبر بن جاتی اور ہماری سامنے پڑی لاشیں بھی ان اندھوں کو نظر نہیں آتیں!!! میڈیا انڈسٹری پر اس لابی کا اتنا انفلونس ہیکہ چیف رپورٹر سے لیکر بیورو چیفس تک تقریبا ہر چینل میں اسی طبقے کے ہیں آج مجھے PTV کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سرکاری ٹی ویژن پورا اس لابی کے نرغے میں ہے،پورے پاکستان کے رن ڈاؤن مینجرز ہوں یا NLE اور آرکائیو والے، فیلڈ رپورٹر ہوں یا اینکر پرسنز وہ دنیا میں کچھ بھی بعد میں ہوتے پہلے مومن ہوتے اور پھر اپنے "مومن پنے" کا حق ادا کرکے ہی رہتے!!!! آفتاب نذیر #پاراچنار #ParachinarBleeds

اس شخص کا نام تہران طوری ہے یہ زینبیون کا کمانڈر ہے یہ یاعلی مدد کے نعرے مار کر کیا کہہ رہا کسی بھی پٹھان سے ترجمہ کراکر سن لیں۔۔۔۔ 2007 سے اہلنست کے گاؤں کے گاؤں جلاتے جارہے آج رات بھی اتنی دلخراش اور دردناک ویڈیوز آئ ہیں کہ اگر وہ پوسٹ ہوئیں تو ملک کا امن و امان تہس نہس ہوجانا لیکن انکے قتل پر BBCسے لیکر بڑے بڑے میڈیا چینلز تک کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور تو اورغزہ کے فلسطینی بچے کی فیڈر کی تصویروں کو دردناک کیپشن دے دے کر پاڑہ چناری چھ ماہ کے شہید کی پوسٹیں کرنے والے ہمارے بڑے بڑے ٹوئیپس بھی آج بگن کی خواتین اور بچوں کے اذیت ناک قتل کی ویڈیوز اور لوگوں کے باہر پڑے بھیجوں کی کلپس دیکھنے کے باوجود ایسے خاموش ہیں کہ جیسے یہ مرنے والے تو انسان کے بچے ہی نا ہوں منافقت کے سینگ نہیں ہوتے،کچھ لوگ بیلنس کرنے کے لئیے کہہ دیتے کہ دونوں طرف سے ایسا ہوتا،سو دفعہ کریں!!! جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں! ہمیشہ اہلسنت مارے جاتے، کل اہل تشیع کی گاڑی ٹارگٹ ہوئ، کس نے کی؟ یہ اب تک کنفرم نہیں ہوپارہا، ذرائع کیمطابق ٹ ٹ پ امیر کاظم گروپ ہے یہ کس کا گروپ ہے؟ کوئ نہیں جانتا انہوں نے کیوں خواتین اور بچوں کو ایک اتنے حساس اہل سنت کے گاؤں میں مارا کہ جسکے نتیجے کا پکا یقین تھا کیا نکلنا؟ اس کاروائی کا تو (سو) 100 فیصد اہل سنت کو نقصان ہی ہونا تھا جو کہ ہوا تو پھر کیوں نہیں تحقیقات کیں جاتیں کہ سازش کے پیچھے کون؟؟ جس بگن کے لوگوں نے کل 27 مسافروں کو حملہ آوروں سے بچا کر بحفاظت انکے گھروں تک پہنچایا انہیں آج اس نیکی کا صلہ مل گیا!!! مجھے نہیں پتہ کہ اب آگے کیا ہوگا لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میڈیا پر ایران نواز لابی اتنی چھائ کوئ ہیکہ انکی بنائ ISPR کی جھوٹی ٹوئیٹ بھی مین اسٹریم کی خبر بن جاتی اور ہماری سامنے پڑی لاشیں بھی ان اندھوں کو نظر نہیں آتیں!!! میڈیا انڈسٹری پر اس لابی کا اتنا انفلونس ہیکہ چیف رپورٹر سے لیکر بیورو چیفس تک تقریبا ہر چینل میں اسی طبقے کے ہیں آج مجھے PTV کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سرکاری ٹی ویژن پورا اس لابی کے نرغے میں ہے،پورے پاکستان کے رن ڈاؤن مینجرز ہوں یا NLE اور آرکائیو والے، فیلڈ رپورٹر ہوں یا اینکر پرسنز وہ دنیا میں کچھ بھی بعد میں ہوتے پہلے مومن ہوتے اور پھر اپنے "مومن پنے" کا حق ادا کرکے ہی رہتے!!!! آفتاب نذیر #پاراچنار #ParachinarBleeds

83,903 次观看

پہلی ویڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہیکہ سپاہ صحابہ پاکستان کی دو بسیں اپنے روٹ پر جارہیں، اسکے بعد جمیعت علماء اسلام(JUI) کی ہائ روف(کیری ڈبہ) اس درمیان سامنے گلی سے نکل کر فائرنگ کرنے والے افراد کو ٹیکنیکل ڈیٹا لیکر باآسانی گرفتار کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔ جبکہ دوسری ویڈیو میں شرپسند بلوائی بسوں کو جلارہے۔۔۔۔ اگر ارض پاک کو کالعدم زینبیون کے ان دہشتگردوں سے پاک کرنا ہے تو ریاست کو انچولی تا جعفر طیار فی الفور آپریشن ضرب فاروقی کرنا ہوگا

پہلی ویڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہیکہ سپاہ صحابہ پاکستان کی دو بسیں اپنے روٹ پر جارہیں، اسکے بعد جمیعت علماء اسلام(JUI) کی ہائ روف(کیری ڈبہ) اس درمیان سامنے گلی سے نکل کر فائرنگ کرنے والے افراد کو ٹیکنیکل ڈیٹا لیکر باآسانی گرفتار کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔ جبکہ دوسری ویڈیو میں شرپسند بلوائی بسوں کو جلارہے۔۔۔۔ اگر ارض پاک کو کالعدم زینبیون کے ان دہشتگردوں سے پاک کرنا ہے تو ریاست کو انچولی تا جعفر طیار فی الفور آپریشن ضرب فاروقی کرنا ہوگا

81,984 次观看

افسوس ناک خبر ایرانی دہشتگرد تنظیم زینبیون کے سرگرم کارکن مشہود علی کو آج پاڑاچنار بازار میں آرمی نے گرفتار کرنے کی کوشش کی، جس پر پاراچنار امام بارگاہ میں 500 کی قریب زینبیون دہشت گردوں کا ایک میٹنگ چل رہا تھا وہ بندے میٹنگ سے اٹھ کرآرمی کے جوانوں پر دھاوا بولااور دہشت گرد کو پاک فوج سے چھڑواکر لے گئے۔۔۔ مشہود علی ایک دہشت گرد تنظیم کا سرکردہ رکن ہے حال ہی میں ضلع کرم میں فرقہ وارانہ فسادات میں براہ راست ملوث تھا کل بھی اس نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس پر پاک فوج نے اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو پاراچنار کے زینبیون دہشت گردوں نے پاک فوج کی خلاف نعرے لگائے اور مشہود علی کو زبردستی گاڑی سے اتار دیا گیا اور آرمی سے چھڑوالیا قومی اداروں کو دھمکانے اور گالیاں دینے کے بعد مشہود علی واپس انجمن حسینیہ میں گھس گیا جہاں ساجد طوری بھی موجود ہے

افسوس ناک خبر ایرانی دہشتگرد تنظیم زینبیون کے سرگرم کارکن مشہود علی کو آج پاڑاچنار بازار میں آرمی نے گرفتار کرنے کی کوشش کی، جس پر پاراچنار امام بارگاہ میں 500 کی قریب زینبیون دہشت گردوں کا ایک میٹنگ چل رہا تھا وہ بندے میٹنگ سے اٹھ کرآرمی کے جوانوں پر دھاوا بولااور دہشت گرد کو پاک فوج سے چھڑواکر لے گئے۔۔۔ مشہود علی ایک دہشت گرد تنظیم کا سرکردہ رکن ہے حال ہی میں ضلع کرم میں فرقہ وارانہ فسادات میں براہ راست ملوث تھا کل بھی اس نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس پر پاک فوج نے اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو پاراچنار کے زینبیون دہشت گردوں نے پاک فوج کی خلاف نعرے لگائے اور مشہود علی کو زبردستی گاڑی سے اتار دیا گیا اور آرمی سے چھڑوالیا قومی اداروں کو دھمکانے اور گالیاں دینے کے بعد مشہود علی واپس انجمن حسینیہ میں گھس گیا جہاں ساجد طوری بھی موجود ہے

61,187 次观看

فیصل عابدی کا کہنا ہیکہ زینبیون ہم ہیں،فاطمیون ہم ہیں حشد الشعبی ہم ہیں، حزب اللات ہم ہیں اگر یہی بات کسی بھی مسلمان نےکہی ہوتی کہ لشکرہم ہیں قاعدہ ہم ہیں طالب ہم ہیں تواب تک ملک بھرمیں شام غریباں بپاہوتی یاد رہےکہ کالعدم زینبیون دہشت گرد تنظیم ہے جسےعابدی ڈنکےکی چوٹ پرown کررہا

فیصل عابدی کا کہنا ہیکہ زینبیون ہم ہیں،فاطمیون ہم ہیں حشد الشعبی ہم ہیں، حزب اللات ہم ہیں اگر یہی بات کسی بھی مسلمان نےکہی ہوتی کہ لشکرہم ہیں قاعدہ ہم ہیں طالب ہم ہیں تواب تک ملک بھرمیں شام غریباں بپاہوتی یاد رہےکہ کالعدم زینبیون دہشت گرد تنظیم ہے جسےعابدی ڈنکےکی چوٹ پرown کررہا

18,805 次观看

Videos

Aftab_Nazir's profile picture

منسلک ویڈیو سابق ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی کی ہے، جو لاہور میں جامعہ عروۃ الوثقیٰ تشریف لائے تھے یہ صاحب کون تھے، ان کا دورِ وزارت کیا تھا اور اس دور میں ایران خطے میں کیا کر رہا تھا؟ میں آپکو بتاتا ہوں ۰۰۰۰۰ کمال خرازی 1997 سے 2005 تک ایران کے وزیر خارجہ رہے یہ وہی عرصہ تھا جب ایران عراق میں اپنے مسلح اثر و رسوخ کو تیزی سے بڑھا رہا تھا بدر کور ایران میں تربیت اور اسلحہ حاصل کرنے والی ایرانی حمایت یافتہ قوت تھی 2003 کے بعد ایران نے بدر کے ساتھ ساتھ مقتدیٰ الصدر کی مہدی آرمی اور دوسرے شیعہ مسلح گروہوں کو بھی مالی مدد، تربیت اور ہتھیار فراہم کیے، مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا پر عراق کے اہلِ سنت کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد کے بھی سنگین الزامات اور ثبوت سب کے سامنے ہیں میری معلومات کے مطابق 2004 تک ایرانی کیمپوں میں عراقی جنگجوؤں کی تربیت جاری تھی، پھر 2005 میں ابو مصطفیٰ الشیبانی کے نیٹ ورک کے ذریعے ایرانی ساختہ EFP بم، 107 اور 122 ملی میٹر راکٹ، کاتیوشا اور مارٹر عراق پہنچنے کی تفصیلات سامنے آئیں انہی پرانے بدر اسمگلنگ روٹس کے ذریعے مہدی آرمی، بدر اور دوسرے گروہوں کو اسلحہ اور مالی معاونت پہنچنے کا ریکارڈ بھی موجود ہے مزے کی بات یہ کہ جب یہ سب چل رہا تھا تو عین اسی وقت کمال صاحب کمال فنکاری سے انکاری تھے کہ ایران ایسا کچھ نہیں کررہا، مارچ 2003 میں کمال خرازی نے بدر کور کے اہلکاروں کو عراق بھیجنے کی تردید کی اور کہا کہ ایران جنگ میں کسی فریق کا ساتھ نہیں دے رہا، اسی موقع پر انہوں نے ایران کے عراق میں کردار سے متعلق الزامات کو رد کیا یعنی ایک طرف یہ مؤقف کہ عراق میں ہمارا کوئی کردار نہیں، اور دوسری طرف ایرانی حمایت یافتہ مسلح نیٹ ورک، تربیتی کیمپ، اسلحہ کے راستے اور EFP جیسے مہلک ہتھیاروں کی تفصیلات لبنان میں بھی خرازی کا مؤقف کسی ابہام میں نہیں تھا، 2005 میں انہوں نے کالعدم تخریبی گروہ حزب اللات کے ہتھیاروں کا دفاع کیا اور اسے محض ملیشیا ماننے کے بجائے مزاحمتی تحریک قرار دیا یہ تعارف اس شخص کے دورِ وزارت اور اس وقت کی ایرانی پالیسی کا تاریخی ریکارڈ ہے کہ جب ایران نے اپنی پراکسیز کو مسلم ممالک میں مسلح کرکے داخل کرنا شروع کیا اور یہ شخص مکمل طور پر اس ساری سازش اور تخریب کا ایک بہت بڑا کردار اور حصہ تھا جواد نقوی صاحب ایک ایسے سعودی سفیر پر، جو پاکستان آیا ہی نہیں ، یہ الزام لگا بیٹھے کہ اس نے پاکستانی مفتیوں کو ناشتہ کرایا ایک ایسے شخص کی میزبانی اور اس کے خلاف الزام، جس کی پاکستان آمد ہی نہیں ہوئی، اگر اتنا بڑا موضوع بن سکتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کمال خرازی کی میزبانی کے وقت یہ تاریخی پس منظر کیوں یاد نہیں آیا؟ جب آپ اپنے ادارے کے بچوں اور بچیوں کو ایرانی خانہ فرہنگوں کے اسٹاف کے سامنے پیش کرتے ہیں، ایرانی شخصیات کو اپنے تعلیمی ادارے میں مدعو کرتے ہیں، اور دوسری طرف سعودی عرب کے بارے میں محض ایک مفروضے پر الزامات عائد کرتے ہیں تو آپکو آپکا ضمیر بھی نہیں ملامت کرتا؟ کوئ رتی برابر شرم؟ احساس یا ندامت؟ کمال خرازی آج اس دنیا میں نہیں، مگر ان کی پاکستان عروہ آمد کی یہ ویڈیو موجود ہے، ان کا دورِ وزارت تاریخ کا حصہ ہے اور اس دور کی ایرانی پراکسی پالیسی کا ریکارڈ بھی موجود ہے لہٰذا میرا سوال کسی ایرانی شخصیت کی پاکستان آمد یا کسی قوم سے دشمنی کا نہیں، سوال یہ ہے کہ جس شخص کے دور میں ایران عراق میں اپنے مسلح نیٹ ورکس، تربیت، اسلحہ رسانی اور پراکسی اثر و رسوخ کو وسعت دے رہا تھا، لبنان میں حزب اللات کے مسلح کردار کا دفاع کیا جا رہا تھا، اور دنیا کے سامنے عراق میں ایرانی کردار سے انکار بھی کیا جا رہا تھا تو اس شخص کو ایک پاکستانی تعلیمی ادارے میں مدعو کرنے کی ضرورت آخر کیا تھی؟ جواد نقوی صاحب! سعودی سفیر کے بارے میں، جو آیا ہی نہیں، آپ نے ایک مفروضے سے اتنا بڑا الزام کشید کر لیا تو جس شخص کی آمد، میزبانی اور ویڈیو سب ہمارے سامنے موجود ہیں، اس کے بارے میں آپ سے سوال پوچھنا کیا ہمارا حق نہیں؟ کمال خرازی کو عروۃ الوثقیٰ کیوں بلایا گیا؟ وہاں کیا پیغام دیا گیا؟ کس بیانیے کو انجیکٹ کیا گیا؟ اور آخر اس دعوت کے پیچھے ایجنڈا کیا تھا؟ امید ہیکہ ایران نواز ٹولے میں سے کوئ ایک مائ کا لعل یا غیرتمند تمن خور اس تحریر کا جواب دلائل سے دیکر پاکستانی قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کرےگا آفتاب نذیر

Aftab Nazir

34,715 次观看 • 5 天前

Aftab_Nazir's profile picture

یہ آج اس وقت کی ویڈیو ہے،رات وحشت اور بربریت کا جو ننگا ناچ ہوا وہ انسانی حقوق کے کسی چیمپئن کو نظر نہیں آرہا انجمن حسینیہ اور زینبیون کی سرپرستی میں کل پہلے پاکستانی پرچم کو پاؤں تلے روند دِیا پھر پاکستانی جھنڈے کے جگہ ایرانی دہشتگرد تنظیم زینبیوں کا پرچم لگایاگیا اہلسنت کے گاؤں بگن پر منظم حملہ کیا گیا، اس حملے میں زینبیون نے پورے بگن بازار کو آگ لگا دی، گھروں کو تباہ کیا، اور معصوم بچوں کو ان کی ماؤں کی گود میں بے دردی سے قتل کیا۔۔۔۔ خاندانوں کے خاندان غائب ہیں جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل رہا گھروں سے قیمتی سامان اور مویشی تک کھول کر کے جائے گئے۔۔۔ ۔ یہ ناقابل برداشت انسانیت سوز مظالم چونکہ اہلسنت مسلمانوں پر ڈھائے گئے اس لئیے نا تو کسی بار کونسل کو احتجاج کی توفیق ہوگی،ناکسی صحافی کے کان پر جوں رینگے گی اور نا ہی کسی میڈیا گروہ کو توفیق ہوگی کہ حقائق سامنے لائے۔۔۔۔۔ ہماری ان تمام اکاونٹس پھر گہری نظر ہے جو اس موقع پر حق نمک ادا کررہے کراچی کے وکیل سے لیکر گلگت کے ذاکروں تک نے پاکستان کو گالیاں دیں، پرچم جلائے، پاک آرمی کی پوسٹوں پر جھنڈے گاڑی کر فتح کا اعلان کیا اور انجمن حسینیہ کے عنایت حسین طوری نے اسے فتح مبین کا نام دیکر جشن منایا۔۔۔۔ میں یہاں ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس اور دیگر صحافی تنظیموں اور وکلاء برادری کو دعوت عام دیتا ہوں کہ آپ لوگ پہلے اس مسئلہ کو سمجھیں دیکھیں سنیں اسکے بعد کم از کم بول نہیں سکتے تو باطل کی آواز تو نا بنیں!!!! آفتاب نذیر #SecureTheKurram #JusticeForBugan #stopkillingsunni

Aftab Nazir

249,145 次观看 • 1 年前

Aftab_Nazir's profile picture

سب سے پہلے تو مجھے خوشی ہے کہ اس چٹے بلے کے چہرے پر سے بھی وحدت والا نقاب اترا کیونکہ ہمارے بہت سے اہل سنت بھی اسے انتہائ معتدل سمجھ کر فالو کیا کرتے تھے (میرا رب اسے مزید Exposeکرے) لیکن ساتھ ساتھ میں حیران ہوں کہ خانہ فرہنگ کے پیسے پر کھڑے کیے گئے ان قلعہ نما کمپاؤنڈز میں کیا کچھ نہیں ہو رہا؟ ایک طرف غیر ملکی سفارتی عملے کو بلا کر عہد و پیماں کیے جا رہے ہیں، اور دوسری طرف یہی بیٹھکیں پاکستان کے خلاف بیانیہ گھڑنے اور سازشیں بننے کا اڈہ بنی ہوئی ہیں انہوں نے آج تک قائد اعظم کو تو کبھی رہبر نہیں کہا ، انکے رہبر ہمیشہ فارس کے امپورٹڈ رجیمی نمائندگان ولایت فقیہ ہی کیوں رہے؟ یہ جواد نقوی کا ادارہ عروة الوثقى ہے جہاں سے مسلسل ہذیان اور تبرا بکا جارہا، دن رات پاکستانی اداروں، فوج اور ریاستی مشینری کو برا بھلا کہا جارہا انکی زبان میں زہر، لہجے میں تکبر اور وفاداری ایرانی رجیم کے لیےہے ایران کے ڈکٹیٹروں کے ساتھ وفاؤں کے گیت گائے جا رہے ہیں، اور یہاں بیٹھ کر اپنی ہی ریاست کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جس کی چھاؤں میں یہ سب سانڈ دن بدن پھیلتے جارہے سرزمینِ عرب اور پاک سرزمین پاکستان پر حملہ آور ہونے والے ملک ایران کے ساتھ محبت کے راگ الاپے جا رہے ہیں، اسکاوٹس کے نام پر منظم جتھے تیار ہو رہے ہیں، اور پاکستان کے اندر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا جاچکا ہے میرا سوال یہ ہیکہ کیا واقعی ریاست اتنی بے بس ہو چکی ہے؟ نہ کسی سرکاری ادارے میں جرات نظر آتی ہے، نہ لاہور میں بیٹھے کسی CTD یا CCDوالے کو فرصت ہے، نہ ہی کسی چڑیا گھر کے آس پاس بیٹھے مجھ سے “صحافی”کو غیرت آ رہی ہے کہ اس کھلی بغاوت کو روکا جائے کیا کوئ نہیں بازپرس کرنے والا؟ کہاں گئے وہ سیکٹر کمانڈر جو ایک ایک ٹوئیٹ پر ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے باغیوں کو پاتال سے نکال لاتے تھے؟ کہاں گئے وہ کڑیل جوان جو بلوائیوں کو بلوں سے بھی ڈھونڈ نکالتے تھے ؟ کیوں نہیں یہاں مریم نواز کا ہاتھ حرکت میں آتا؟ رینجرز، پولیس، ایجنسیاں، میڈیا ،سول سوسائٹی سب خاموش کیوں ہیں؟ کیا انکا زور صرف بابے خادم اور جھنگ کے نہتوں پر ہی چلتا ہے؟ اگر ملک کو گالی دینا بھی اب ایک پالیسی بن چکی ہے، تو پھر قوم کو صاف صاف بتا دیا جائے تاکہ آئندہ ہم بھی کسی غدارانہ زبان بولنے والے کو دیکھ کر ہش ہش کرنے سے پہلے اپنا آپ دیکھ لیں کیونکہ شاید آپ تو برداشت کر لیں، مگر ہم اپنے جیتے جی ارضِ پاک پر ہونے والی اس طرح کی کھلی بغاوت کا تماشا نہیں دیکھ سکتے اگر ہم کچھ بھی نا کرسکے تو کم از کم صدائے حق ضرور بلند کریں گے۰۰۰۰ راجہ ناصر عباس سے لیکر خانہ فرہنگ کے سفارتی عملے تک کی آونڑیاں جاونڑیاں اور یہ ریاست مخالف زبانیں اگر آپ کو نہیں کھٹکتیں تو بند کردیں یہ ساری دوکانیں اور جائیں اپنی بیرکوں میں واپس۰۰۰۰ خالی باتیں کرنے اور ویڈیو پیغامات جاری کروانے سے گند صاف نا ہوگا، انہیں کالعدم قرار دیکر سیل کریں ان قلعوں کو اور جس فیلڈ آپریٹر یا افسر کو انکی طرف بھیجیں تو پہلے اسکا اپنا بھی گراونڈ چیک کرالیا کریں کہ اسکی وابستگی کس کے ساتھ ہے ؟ وگرنہ یہی ہوگا کہ حوالدار صاحب عالیشان عمارت میں چائے پی کر5000 کا ہدیہ لیکر سب اوکے کی رپورٹ submit کریں گے اور وقت آنے پر آپ اس ٹرانسفر ہونے والے حوالدار ہی کو کوستے رہ جائیں گے آفتاب نذیر

Aftab Nazir

32,339 次观看 • 6 个月前