Ameer Abbas's banner
Ameer Abbas's profile picture

Ameer Abbas

@ameerabbas84 • 278,694 subscribers

Journalist - Suspended and twice terminated in support of democracy. Ex COO/Anchor G TV, Ex MD Such, BOL, Dawn, Dunya, Express, News One - Mphil/Msc QAU/NDU

Shorts

شکر، صد شکر کہ فیض حمید جیسا کوئی سابق DG ISI اور طاقتور ترین جرنیل سیاسی مداخلت جیسے الزامات کی فرد جُرم کا سامنا کر رہا ہے، فیض حمید کی فرد جُرم کا مطلب ہے کہ انہوں نے حلف توڑا اور آئین سے غداری کی لہذا اس پر آرٹیکل 6 بھی لگانا چاہیے۔ میں تو کہوں گا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی جنرل پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام پر بھی سیاست میں مداخلت کا الزام لگاتی رہی ہیں، ن لیگ کو اب تو ہمت کرتے ہوئے ان دونوں جرنیلوں کا بھی احتساب شروع کر دینا چاہیے۔ اگر کوئی کسی اور سابق جج یا جرنیل کا احتساب کروانا چاہتا ہے تو میں اسکے ساتھ بھی غیر مشروط کھڑا ہوں اب آ جائیں کہانی کے دوسرے رخ کی طرف: جنرل باجوہ نے بطور آرمی چیف قوم کے سامنے اعتراف کیا کہ انکے دور سمیت 70 سال تک فوج سیاست میں مداخلت کرتی رہی، باجوہ کے دور میں ہی فیض حمید ISI میں ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز تھا اور پھر باجوہ دور میں ہی DG ISI بنا، کیا باجوہ فیض حمید کے سیاسی جرائم سے بری الذمہ ہو سکتا ہے؟ اسوقت سپریم کورٹ کا آئینی بنچ جنرل اسلم بیگ اور مرحوم حمید گُل جیسے جرنیلوں کی بنائی ہوئی IJI کا کیس بھی سن رہا ہے جس میں فوج نے سیاستدانوں میں پیسے بانٹے۔ جو فیض حمید کے ہم پلہ جرم تھا، لہذا کیا ہی کمال ہو جائے کہ IJI بنانے والے جرنیلوں کا بھی احتساب ہونے دیا جائے۔ تیسری اور آخری بات، پرویز مشرف کو بھی پھانسی دینے کی سزا پشاور ہائیکورٹ کے جج نے سنائی تھی لیکن کوئی مائی کا لال مشرف کو ہاتھ نہیں لگا سکا خلاصہ: اگر ریاست واقعی احتساب کی دلداہ ہے تو پھر باجوہ سے لیکر اسلم بیگ تک کا بھی احتساب کیا جائے ورنہ مورخ یہی کہے گا کہ فیض حمید بہانہ تھا عمران خان نشانہ تھا

شکر، صد شکر کہ فیض حمید جیسا کوئی سابق DG ISI اور طاقتور ترین جرنیل سیاسی مداخلت جیسے الزامات کی فرد جُرم کا سامنا کر رہا ہے، فیض حمید کی فرد جُرم کا مطلب ہے کہ انہوں نے حلف توڑا اور آئین سے غداری کی لہذا اس پر آرٹیکل 6 بھی لگانا چاہیے۔ میں تو کہوں گا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی جنرل پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام پر بھی سیاست میں مداخلت کا الزام لگاتی رہی ہیں، ن لیگ کو اب تو ہمت کرتے ہوئے ان دونوں جرنیلوں کا بھی احتساب شروع کر دینا چاہیے۔ اگر کوئی کسی اور سابق جج یا جرنیل کا احتساب کروانا چاہتا ہے تو میں اسکے ساتھ بھی غیر مشروط کھڑا ہوں اب آ جائیں کہانی کے دوسرے رخ کی طرف: جنرل باجوہ نے بطور آرمی چیف قوم کے سامنے اعتراف کیا کہ انکے دور سمیت 70 سال تک فوج سیاست میں مداخلت کرتی رہی، باجوہ کے دور میں ہی فیض حمید ISI میں ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز تھا اور پھر باجوہ دور میں ہی DG ISI بنا، کیا باجوہ فیض حمید کے سیاسی جرائم سے بری الذمہ ہو سکتا ہے؟ اسوقت سپریم کورٹ کا آئینی بنچ جنرل اسلم بیگ اور مرحوم حمید گُل جیسے جرنیلوں کی بنائی ہوئی IJI کا کیس بھی سن رہا ہے جس میں فوج نے سیاستدانوں میں پیسے بانٹے۔ جو فیض حمید کے ہم پلہ جرم تھا، لہذا کیا ہی کمال ہو جائے کہ IJI بنانے والے جرنیلوں کا بھی احتساب ہونے دیا جائے۔ تیسری اور آخری بات، پرویز مشرف کو بھی پھانسی دینے کی سزا پشاور ہائیکورٹ کے جج نے سنائی تھی لیکن کوئی مائی کا لال مشرف کو ہاتھ نہیں لگا سکا خلاصہ: اگر ریاست واقعی احتساب کی دلداہ ہے تو پھر باجوہ سے لیکر اسلم بیگ تک کا بھی احتساب کیا جائے ورنہ مورخ یہی کہے گا کہ فیض حمید بہانہ تھا عمران خان نشانہ تھا

81,422 просмотров

Videos

ameerabbas84's profile picture

انا لله و انا علیه راجعون دنیا کے دو ارب مسلمانوں میں سے صرف یہ ایک 86 سالہ مسلمان زندہ تھا، جس نے خم ٹھونک کر استعمار اور سامراج کی سب سے بڑی طاقت کا نہ صرف انکار کیا بلکہ اپنی قوم کو مزاحمت کیلئے تیار کیا۔ محلات، پُر تعیش زندگی، شان و شوکت کو ٹھوکر مار کر درویشی کی زندگی گزاری، نہ کوئی بیرون ملک اثاثہ، نہ فیکٹریاں، نہ رئیل اسٹیٹ، پہلے بہو اور داماد شہید ہوئے اور پھر خود، وہ طاغوت کیلئے موت کا سایہ اور مستضعفین زمانہ کیلئے امید تھے، زندگی وہ ہے جو انہوں نے گزاری اور موت کی سعادت بھی وہ ہے جو انہیں طاغوت سے ٹکرا کر نصیب ہوئی نہ کہ کسی محل کے بستر پر۔ کچھ لوگ ایسی زندگی گزارتے ہیں کہ زندگی کو اُن سے گِھن آتی ہے لیکن خامنہ ای جیسے لوگ جب زندہ ہوں تو زندگی ان پر رشک کرتی ہے اور جب مریں تو موت بھی اشک بہاتی ہو گی جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

Ameer Abbas

112,916 просмотров • 7 месяцев назад

ameerabbas84's profile picture

میں تو اپنے بھائی کا بھرم رکھنے کیلئے جنگ بندی کر چکا تھا لیکن اگر جنگ ہے تو جنگ سہی 😊 یہ رہی جَون حسین کی وضاحت آپ کو اپنا چشمہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ سیاست اور دنیا کو دیکھنے کیلئے آپ کو چشمہ بھی شاید انہوں نے ہی لے دیا ہے جنہوں نے آپ کی ٹاوٹی پر آپ کو تمغہ دلوایا اور آپ کو انٹرویو کرنے کیلئے سیاستدانوں کو مار مار کر لا کر آپ کے سامنے بٹھایا آپ جان بوجھ کر نہ سمجھنے والے سوشل میڈیا فسادیوں کا حصہ بن کر اپنی سنجیدہ شخصیت کو مسخ کر رہے ہیں، یہ بات ایرانی وفد کے پاکستان پہنچنے سے کم از کم 8/9 گھنٹے پہلے کی ہے جبکہ وفد کے پہنچنے کے آخری لمحہ تک مذاکرات پر ابہام کی خبریں بدستور آ رہی تھیں، جس کا الزام اسرائیل پر آ رہا تھا، کیونکہ اسرائیل جنگ بندی کے باوجود لبنان پر بمباری کر رہا تھا جس کا اظہار ایرانی وفد کے سربراہ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ کا حوالہ دے کر بھی کیا اور یہی میری اور جون کی گفتگو کا سیاق و سباق تھا۔ یہ فارس نیوز ایجنسی کی خبر بھی پڑھ لیں کہ کس طرح آخری وقت تک عالمی میڈیا اُسی ابہام کی بات کر رہا تھا جس کا اظہار جون یا میں نے کیا رہی بات میری گُت بننے کی تو میں تو سمجھ رہا تھا کہ میں ایک قابل وکیل اور تمغہ بردار بڑے صحافی سے بات کر رہا ہوں جو اپنی دلیل کو تاریخ، فلسفہ، قانون، لسانیات، سماجیات وغیرہ کی بنیاد پر قائم کرے گا لیکن آپ تو اپنی بونگی پر شرمندہ ہونے اور میرے دیئے گئے حقائق پر علمی بحث کرنے کے بجائے ایک بدترین ن لیگی ٹرول نکلے جو مریم نواز کے بنائے سوشل میڈیا سیلز سے ناقدین کو سارا دن جُگتیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ مایوس کیا یار آپ نے 🤦 اور میرے پیارے ٹاوٹ بھائی آپ نے جس تمغہ پر الحمد اللّہ کہا ہے، اُس پر الحمد اللّہ نہیں بلکہ استغفر اللّہ کہا جاتا ہے 🫣 ایسے تمغے اعزاز نہیں ذلت کا طوق ہوتے ہیں اور آپ نے تمغہ نہیں سجایا بلکہ ذلت کا طوق پہنا ہے 😊 اور جو ذلت کو اعزاز سمجھتے ہیں شاید انہی کے بارے میں مہندر ہما نے کہا تھا غیرت زدہ تو ڈوب گیا ایک بوند میں بے غیرتوں کو کوئی سمندر نہیں ملا آپ اور آپ جیسے ٹرولز کیلئے جون اور میری بمعہ سیاق و سباق کے ویڈیو بھی حاضر ہے 🙏 آپ کا خیر اندیش

Ameer Abbas

79,965 просмотров • 5 месяцев назад

ameerabbas84's profile picture

اندر بیلاروس کے صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف مشترکہ خطاب کر رہے ہیں اور بمشکل 3 کلومیٹر کے فاصلے پر شدید شیلنگ کی دھماکہ خیز آوازیں آپ سن سکتے ہیں۔ کیا یہ آوازیں اس تقریب میں بھی نہیں سنی جا رہی ہونگی؟ اس ہائبرڈ نظام کی ضد اور ڈھٹائی نے حالات کشیدہ کر دیئے ہیں، ملک کا صدر منظر سے غائب ہے، حکمران پارٹی کا صدر مری میں موسم سرما انجوائے کر رہا ہے، اتحادی پارٹی کا چیئرمین دبئی یا یورپ میں چھٹیاں گزار رہا ہے، ملک محسن نقوی جیسے غیر سیاسی اور غیر جمہوری نظام کی حادثاتی سیاسی پیداوار کے حوالے کر دیا گیا ہے یا outsource کر دیا گیا ہے یا ان بیچاروں کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہیں ورنہ عمران خان کا کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں جو منظور نہ ہو سکے مظاہرین نے پولیس اور رینجرز کو D چوک کی طرف دھکیل دیا، فورسز پیچھے ہٹنے پر مجبور، شدید شیلنگ، پہلا شخص مزاحمت کرتے 1:30 پر D چوک میں داخل اللّہ میرے ملک کا حامی و ناصر ہو!

Ameer Abbas

185,565 просмотров • 1 год назад