Amir H. Qureshi's banner
Amir H. Qureshi's profile picture

Amir H. Qureshi

@AmirHQureshi • 49,355 subscribers

PML-N Activist. Influencer. Civilian and Constitutional Supremacy Enthusiast. Pakistan 🇵🇰 is my ultimate love ❤.

Shorts

اختر سعید میڈیکل کالج (بحریہ ٹاؤن لاہور) میں طالبات کی حرمت، طلبہ کی تذلیل اور انتظامیہ کے رویّے پر سوالیہ نشان- کالج کے گرلز ہوسٹل میں خفیہ ویڈیو گرافی کر کے طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہ صرف انتہائی سنگین جرم ہے اور کالج کے اندر نظم و ضبط کے شدید فقدان کی نشاندھی کرتا ہے نہی بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یونیورسٹی کے سربراہ کا مبینہ رویّہ ہے- اطلاعات کے مطابق جب طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ سامنے آیا تو سربراہ نے مبینہ طور پر چیخ چیخ کر اسے معمولی بات قرار دیا اور کہا کہ ایسا ہو ہی جاتا ہے- شاید ان کے خاندان میں یہ عام سی بات ہو- اس کے بعد طلبہ کو دھمکایا گیا کہ انتظامیہ صرف ہاسٹل میں رہنے والی طالبات سے بات کرے گی- طلبہ کے احتجاج کے بعد ڈے اسکالرز کو بھی بلا لیا گیا- لیکن سوالات اٹھنے پر مبینہ طور پر طلبہ کی تصاویر بنانا شروع کر دی گئیں اور انہیں ایک ایک کرکے دیکھ لینے اور یونیورسٹی سے نکال دینے کی دھمکیاں دی گئیں- سوال یہ ہے کہ آخر ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کا اپنے ہی طلبہ کے ساتھ یہ کیسا رویّہ ہے؟ اگر طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانا کوئی بڑی بات نہیں, جیسا کہ مبینہ طور پر کہا گیا, تو پھر طالبات کی عزت، تحفظ اور نجی زندگی کی اہمیت کہاں گئی؟ یونیورسٹی کے سربراہ طلبہ کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے الٹا انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں- کیا اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں طلبہ کو تحفظ، اعتماد اور عزت ملنے کے بجائے خوف کے ماحول میں رہنا چاہیئے؟ یہ صرف ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ اس ذہنیت اور انتظامی رویّئے پر بھی سوال ہے- کیا ہماری بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں؟ خوش آئند بات یہ ہے کہ احتجاج میں طالبات کے حق میں لڑکے بھی شامل ہیں- واقعے کا فوری نوٹس لیکر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گزارش کرتا ہوں-

اختر سعید میڈیکل کالج (بحریہ ٹاؤن لاہور) میں طالبات کی حرمت، طلبہ کی تذلیل اور انتظامیہ کے رویّے پر سوالیہ نشان- کالج کے گرلز ہوسٹل میں خفیہ ویڈیو گرافی کر کے طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہ صرف انتہائی سنگین جرم ہے اور کالج کے اندر نظم و ضبط کے شدید فقدان کی نشاندھی کرتا ہے نہی بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یونیورسٹی کے سربراہ کا مبینہ رویّہ ہے- اطلاعات کے مطابق جب طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ سامنے آیا تو سربراہ نے مبینہ طور پر چیخ چیخ کر اسے معمولی بات قرار دیا اور کہا کہ ایسا ہو ہی جاتا ہے- شاید ان کے خاندان میں یہ عام سی بات ہو- اس کے بعد طلبہ کو دھمکایا گیا کہ انتظامیہ صرف ہاسٹل میں رہنے والی طالبات سے بات کرے گی- طلبہ کے احتجاج کے بعد ڈے اسکالرز کو بھی بلا لیا گیا- لیکن سوالات اٹھنے پر مبینہ طور پر طلبہ کی تصاویر بنانا شروع کر دی گئیں اور انہیں ایک ایک کرکے دیکھ لینے اور یونیورسٹی سے نکال دینے کی دھمکیاں دی گئیں- سوال یہ ہے کہ آخر ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کا اپنے ہی طلبہ کے ساتھ یہ کیسا رویّہ ہے؟ اگر طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانا کوئی بڑی بات نہیں, جیسا کہ مبینہ طور پر کہا گیا, تو پھر طالبات کی عزت، تحفظ اور نجی زندگی کی اہمیت کہاں گئی؟ یونیورسٹی کے سربراہ طلبہ کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے الٹا انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں- کیا اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں طلبہ کو تحفظ، اعتماد اور عزت ملنے کے بجائے خوف کے ماحول میں رہنا چاہیئے؟ یہ صرف ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ اس ذہنیت اور انتظامی رویّئے پر بھی سوال ہے- کیا ہماری بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں؟ خوش آئند بات یہ ہے کہ احتجاج میں طالبات کے حق میں لڑکے بھی شامل ہیں- واقعے کا فوری نوٹس لیکر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گزارش کرتا ہوں-

73,537 views

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وادوز (Vaduz) کا دورہ کیا تاکہ اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کی جا سکے- سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں- ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرنے اور اس پر بات چیت کے لیئے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لیختنسٹائن کا سفر کیا- رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاول کی شادی رواں سال کے آخر میں ہو سکتی ہے، جبکہ ان کی مبینہ منگیتر کا تعلق لیختنسٹائن (Liechtenstein) کے دارالحکومت وادوز سے بتایا جاتا ہے- تاہم، پیپلز پارٹی نے ان دعووں کی تردید کی ہے- کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب، جو بلاول کے ترجمان بھی ہیں، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی منگنی یا شادی کے بارے میں خبریں "غلط اور بے بنیاد" ہیں- بلاول یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے منگنی کی تصدیق کے لیئے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ خبر ابھی تک غیر مصدقہ ہے- لیختنسٹائن مغربی یورپ میں واقع ایک چھوٹی خودمختار ریاست ہے جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے- اس کا دارالحکومت وادوز ملک کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے- بلاول اس سے قبل بھی شادی کے بارے میں عوامی سطح پر بات کر چکے ہیں لیکن انہوں نے ممکنہ شریکِ حیات یا شادی کی تاریخ کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں- سن 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے دوران، ایک صحافی نے بلاول سے ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا- مسکراتے ہوئے، اس وقت کے وزیر خارجہ نے جواب دیا، "یقیناً، شادی کا ارادہ رکھتا ہوں،" لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں- بلاول نے 2016 میں بھی اس موضوع پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہونے والی دلہن کو سب سے پہلے ان کی بہنوں کے "دل جیتنے" ہوں گے- انہوں نے کہا تھا، "مناسب امیدوار کو سب سے پہلے میری بہنوں کے دل جیتنے ہوں گے- مجھے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا اور کسی بھی لڑکی کے لیے میری بہنوں کے دل جیتنا بہت مشکل کام ہے۔" (رپورٹ: وقار ستی - جیو نیوز)

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وادوز (Vaduz) کا دورہ کیا تاکہ اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کی جا سکے- سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں- ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرنے اور اس پر بات چیت کے لیئے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لیختنسٹائن کا سفر کیا- رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاول کی شادی رواں سال کے آخر میں ہو سکتی ہے، جبکہ ان کی مبینہ منگیتر کا تعلق لیختنسٹائن (Liechtenstein) کے دارالحکومت وادوز سے بتایا جاتا ہے- تاہم، پیپلز پارٹی نے ان دعووں کی تردید کی ہے- کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب، جو بلاول کے ترجمان بھی ہیں، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی منگنی یا شادی کے بارے میں خبریں "غلط اور بے بنیاد" ہیں- بلاول یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے منگنی کی تصدیق کے لیئے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ خبر ابھی تک غیر مصدقہ ہے- لیختنسٹائن مغربی یورپ میں واقع ایک چھوٹی خودمختار ریاست ہے جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے- اس کا دارالحکومت وادوز ملک کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے- بلاول اس سے قبل بھی شادی کے بارے میں عوامی سطح پر بات کر چکے ہیں لیکن انہوں نے ممکنہ شریکِ حیات یا شادی کی تاریخ کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں- سن 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے دوران، ایک صحافی نے بلاول سے ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا- مسکراتے ہوئے، اس وقت کے وزیر خارجہ نے جواب دیا، "یقیناً، شادی کا ارادہ رکھتا ہوں،" لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں- بلاول نے 2016 میں بھی اس موضوع پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہونے والی دلہن کو سب سے پہلے ان کی بہنوں کے "دل جیتنے" ہوں گے- انہوں نے کہا تھا، "مناسب امیدوار کو سب سے پہلے میری بہنوں کے دل جیتنے ہوں گے- مجھے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا اور کسی بھی لڑکی کے لیے میری بہنوں کے دل جیتنا بہت مشکل کام ہے۔" (رپورٹ: وقار ستی - جیو نیوز)

65,422 views

ہمت کرتے اور سروس شو انڈسٹری کے سی ای او اور مالکان کو گرفتار کرتے- چند ہزار روپوں کی تنخواہ پر شو اسٹور پہ کام کرنے والے مینیجر کو گرفتار کرنا نہ صرف پاگل پن ہے بلکہ حد درجے کی بیغیرتی بھی ہے- مینیجر تو وہی بیچے گا جو کمپنی اسے بیچنے کیلئے دے گی- یہ واقعہ فیصل آباد کا ہے جہاں غیر معیاری جوتے فروخت کرنے پر "سروس شوز" کے برانچ مینیجر کو گرفتار کر لیا گیا- ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد فواد عارف کے حکم پر، "سروس شوز" کی چائنا ون روڈ برانچ کے مینیجر کو عدالتی بیلف محمد حسیب نے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا- عدالتی فیصلے کے مطابق، غیر معیاری اور ناقص جوتوں کی فروخت سے متعلق ایک شہری کی شکایت درست ثابت ہونے پر کمپنی کے خلاف ڈگری جاری کی گئی تھی- اس پاگل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے پوچھا جائے کہ سروس شو انڈسٹریز کے خلاف جاری شدہ ڈگری پر عملدرآمد سروس شوز کی ایک برانچ کے مینیجر کو گرفتار کرنے سے کیسے ہو گیا؟

ہمت کرتے اور سروس شو انڈسٹری کے سی ای او اور مالکان کو گرفتار کرتے- چند ہزار روپوں کی تنخواہ پر شو اسٹور پہ کام کرنے والے مینیجر کو گرفتار کرنا نہ صرف پاگل پن ہے بلکہ حد درجے کی بیغیرتی بھی ہے- مینیجر تو وہی بیچے گا جو کمپنی اسے بیچنے کیلئے دے گی- یہ واقعہ فیصل آباد کا ہے جہاں غیر معیاری جوتے فروخت کرنے پر "سروس شوز" کے برانچ مینیجر کو گرفتار کر لیا گیا- ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد فواد عارف کے حکم پر، "سروس شوز" کی چائنا ون روڈ برانچ کے مینیجر کو عدالتی بیلف محمد حسیب نے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا- عدالتی فیصلے کے مطابق، غیر معیاری اور ناقص جوتوں کی فروخت سے متعلق ایک شہری کی شکایت درست ثابت ہونے پر کمپنی کے خلاف ڈگری جاری کی گئی تھی- اس پاگل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے پوچھا جائے کہ سروس شو انڈسٹریز کے خلاف جاری شدہ ڈگری پر عملدرآمد سروس شوز کی ایک برانچ کے مینیجر کو گرفتار کرنے سے کیسے ہو گیا؟

51,924 views

I loved the way Mr. Safdar Awan received and treated his Queen 👸 💞

I loved the way Mr. Safdar Awan received and treated his Queen 👸 💞

95,454 views

JF-17 تھنڈر سے گائیڈڈ بم پھینکے جانے کا منظر-

JF-17 تھنڈر سے گائیڈڈ بم پھینکے جانے کا منظر-

212,623 views

مری امپروومنٹ ٹرسٹ کی نااہلی کہ ڈھلوان پر ایک تنگ موڑ کے سامنے حفاظتی باڑھ یا دیگر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے جیپ کھائی میں جا گری-

مری امپروومنٹ ٹرسٹ کی نااہلی کہ ڈھلوان پر ایک تنگ موڑ کے سامنے حفاظتی باڑھ یا دیگر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے جیپ کھائی میں جا گری-

58,748 views

This is super amazing 😲

This is super amazing 😲

84,920 views

خود پڑھے تو چلا آئے, ریاست بہت پریشان ہے-😆

خود پڑھے تو چلا آئے, ریاست بہت پریشان ہے-😆

123,228 views

سندھ کا بدنام زمانہ ڈاکو راحب شر جس نے سررینڈر پالیسی کے تحت خود گرفتاری دی تھی وہ 10 اگست 2026 کو ضلع گھوٹکی میں اوباڑو کی سول عدالت میں پیشی کے دوران پولیس کی حراست سے اپنے ایک اور ساتھ موریو شر کے ساتھ فرار ہو گیا تھا وہ تاحال مفرور ہے- غفلت برتنے والے کسی پولیس اہلکار و افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی کیونکہ اس خدمت کا معاوضہ یقیناً اعلیٰ ترین سطح تک پہنچا ہو گا- جب تک بھٹو زندہ ہے اسوقت تک سندھ میں تمام جرائم پیشہ لوگوں کی موجیں لگی رہیں گی-

سندھ کا بدنام زمانہ ڈاکو راحب شر جس نے سررینڈر پالیسی کے تحت خود گرفتاری دی تھی وہ 10 اگست 2026 کو ضلع گھوٹکی میں اوباڑو کی سول عدالت میں پیشی کے دوران پولیس کی حراست سے اپنے ایک اور ساتھ موریو شر کے ساتھ فرار ہو گیا تھا وہ تاحال مفرور ہے- غفلت برتنے والے کسی پولیس اہلکار و افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی کیونکہ اس خدمت کا معاوضہ یقیناً اعلیٰ ترین سطح تک پہنچا ہو گا- جب تک بھٹو زندہ ہے اسوقت تک سندھ میں تمام جرائم پیشہ لوگوں کی موجیں لگی رہیں گی-

26,342 views

عرس کی اس پرنور محفل سے آپ سب بھی فیضیاب ہو جائیں- یہ ویڈیو بہت مشکل سے پوسٹ کی ہے- اگر آپ اسے ریپوسٹ کرنے کی کوشش کریں گے تو شیطان آپکو بھی روکے گا-

عرس کی اس پرنور محفل سے آپ سب بھی فیضیاب ہو جائیں- یہ ویڈیو بہت مشکل سے پوسٹ کی ہے- اگر آپ اسے ریپوسٹ کرنے کی کوشش کریں گے تو شیطان آپکو بھی روکے گا-

130,501 views

آج میں رنگ روڈ سے آیا ہوں بائی دا وے...!!! ماشاء الله, کیا آپ لوگوں کا شہر ہے, کیا حسین شہر ہے 💚 الله پورے پاکستان کو لاہور جیسا بنائے ❤ (فہد مصطفیٰ)

آج میں رنگ روڈ سے آیا ہوں بائی دا وے...!!! ماشاء الله, کیا آپ لوگوں کا شہر ہے, کیا حسین شہر ہے 💚 الله پورے پاکستان کو لاہور جیسا بنائے ❤ (فہد مصطفیٰ)

88,886 views

چور چور کے نعرے لگانے والے لوگ اور انکا یہ ذہن بنانے والی قوتیں پاکستان کی دشمن ہیں ورنہ لاہور کی طرح پورا پاکستان نواز شریف کے ویژن کی لپیٹ میں آ چکا ہوتا- ❤

چور چور کے نعرے لگانے والے لوگ اور انکا یہ ذہن بنانے والی قوتیں پاکستان کی دشمن ہیں ورنہ لاہور کی طرح پورا پاکستان نواز شریف کے ویژن کی لپیٹ میں آ چکا ہوتا- ❤

142,202 views

یہ حالت ہے کراچی کی- پولیس اور حکمران پارٹی نے اپنی جیبیں بھرنے کیلئے اپنی آنکھیں دانستہ طور پر بند کر رکھی ہیں-

یہ حالت ہے کراچی کی- پولیس اور حکمران پارٹی نے اپنی جیبیں بھرنے کیلئے اپنی آنکھیں دانستہ طور پر بند کر رکھی ہیں-

36,827 views

انتہائی دکھ اور انتہائی افسوس کہ کراچی کیا تھا اور زندہ بھٹو نے اسے کیا بنا دیا 😔

انتہائی دکھ اور انتہائی افسوس کہ کراچی کیا تھا اور زندہ بھٹو نے اسے کیا بنا دیا 😔

15,524 views

سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ضلع راجن پور, تحصیل جام پور, رانی بازار, الجنت دہی بھلے والے کی ہے- مبیّنہ طور پر دوکان کے مالک نے لڑکے کو اسقدر بیدردی سے مارا کہ یہ مر گیا- یہ لڑکا اپنے گھر کو اکیلا چلاتا تھا جبکہ اس کا باپ ایک معذور اور بزرگ آدمی ہے- اس واقعے کی انکوائری اور پولیس رپورٹ ضروری ہے- Punjab Police Official Rajanpur Police District Information Officer Rajanpur Rajanpur Police Official Rajanpur Police

Sensitive content

سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ضلع راجن پور, تحصیل جام پور, رانی بازار, الجنت دہی بھلے والے کی ہے- مبیّنہ طور پر دوکان کے مالک نے لڑکے کو اسقدر بیدردی سے مارا کہ یہ مر گیا- یہ لڑکا اپنے گھر کو اکیلا چلاتا تھا جبکہ اس کا باپ ایک معذور اور بزرگ آدمی ہے- اس واقعے کی انکوائری اور پولیس رپورٹ ضروری ہے- Punjab Police Official Rajanpur Police District Information Officer Rajanpur Rajanpur Police Official Rajanpur Police

88,468 views

مصر 🇪🇬 آخری پندرہ منٹ کے کھیل میں کمزور دفاع اور وقت ضائع کرنے کا کوئی پلان نہ ہونے کی وجہ سے ارجنٹائن 🇦🇷 سے تقریباً جیتا ہوا پری کوارٹر فائنل میچ ہار گیا-

مصر 🇪🇬 آخری پندرہ منٹ کے کھیل میں کمزور دفاع اور وقت ضائع کرنے کا کوئی پلان نہ ہونے کی وجہ سے ارجنٹائن 🇦🇷 سے تقریباً جیتا ہوا پری کوارٹر فائنل میچ ہار گیا-

21,462 views

دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ راولپنڈی کا وہی راجہ بازار ہے جہاں سے پیدل گزرنا تک محال تھا- سوچا تک نہیں جا سکتا تھا کہ راجہ بازار کبھی اس شکل میں بھی تبدیل ہو گا- یہ کرشمہ صرف سپر سی ایم محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کے ویژن کا مرہون منّت ہے- کتنا خوش قسمت ہے پنجاب 💚

دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ یہ راولپنڈی کا وہی راجہ بازار ہے جہاں سے پیدل گزرنا تک محال تھا- سوچا تک نہیں جا سکتا تھا کہ راجہ بازار کبھی اس شکل میں بھی تبدیل ہو گا- یہ کرشمہ صرف سپر سی ایم محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کے ویژن کا مرہون منّت ہے- کتنا خوش قسمت ہے پنجاب 💚

22,703 views

Videos

AmirHQureshi's profile picture

چودھری نثار کو چاہیئے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کو یہ یقین دلا دیں کہ اب وہ فیض حمید نیٹ ورک سے لاتعلق ہو چکے ہیں- وہی نیٹ ورک جسکی وجہ سے موصوف نے مشکل وقت میں مسلم لیگ ن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا- پھر اگر اسٹیبلشمنٹ یقین کر لے تو یہ پی ٹی آئی کو جوائن کر لیں- وہاں انکا مستقبل زیادہ روشن ہو گا اور پی ٹی آئی سے پختون پارٹی کا لیبل اتارنے بھی میں مدد ملے گی- آستین کے اس سانپ کو اب بھی یہ خوش فہمی ہے کہ اسنے اگر مسلم لیگ ن جوائن کر لی تو وزیر یا مشیر کا عہدہ اسے پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دیا جائیگا- رہی بات علاقے کی خدمت کی, تو ذرا چکری کا ایک چکّر لگا کر وہاں کے حالات دیکھ آئیں- سوائے موٹروے کو براستہ چکری گزاروانے اور انٹرچینج بنوانے کے اسنے اپنے حلقے کیلئے کچھ نہیں کیا- مسلم لیگ ن کی لیڈرشپ سے بھی کہتا ہوں کہ اس شخص کو دوبارہ پارٹی میں مدعو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں- اب یہ شخص کسی کام کا نہیں رہا- چودھری نثار کے ساتھ ساتھ میں شاہد خاقان, مفتاح اسمعیل اور مصطفیٰ نواز کھوکھر کو بھی پی ٹی آئی جوائن کرنے کا مشوره دیتا ہوں تاکہ وہاں کی موجودہ الّو کے پٹھوں کی لاٹ کو کوئی تھوڑی بہت سمجھ دینے والے لوگ ہوں اور سیاسی کلچر کی غلاظت میں کچھ کمی آئے-

Amir H. Qureshi

33,060 views • 9 days ago

AmirHQureshi's profile picture

اختر سعید میڈیکل کالج (بحریہ ٹاؤن لاہور) میں طالبات کی حرمت، طلبہ کی تذلیل اور انتظامیہ کے رویّے پر سوالیہ نشان- کالج کے گرلز ہوسٹل میں خفیہ ویڈیو گرافی کر کے طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہ صرف انتہائی سنگین جرم ہے اور کالج کے اندر نظم و ضبط کے شدید فقدان کی نشاندھی کرتا ہے نہی بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یونیورسٹی کے سربراہ کا مبینہ رویّہ ہے- اطلاعات کے مطابق جب طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ سامنے آیا تو سربراہ نے مبینہ طور پر چیخ چیخ کر اسے معمولی بات قرار دیا اور کہا کہ ایسا ہو ہی جاتا ہے- شاید ان کے خاندان میں یہ عام سی بات ہو- اس کے بعد طلبہ کو دھمکایا گیا کہ انتظامیہ صرف ہاسٹل میں رہنے والی طالبات سے بات کرے گی- طلبہ کے احتجاج کے بعد ڈے اسکالرز کو بھی بلا لیا گیا- لیکن سوالات اٹھنے پر مبینہ طور پر طلبہ کی تصاویر بنانا شروع کر دی گئیں اور انہیں ایک ایک کرکے دیکھ لینے اور یونیورسٹی سے نکال دینے کی دھمکیاں دی گئیں- سوال یہ ہے کہ آخر ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کا اپنے ہی طلبہ کے ساتھ یہ کیسا رویّہ ہے؟ اگر طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانا کوئی بڑی بات نہیں, جیسا کہ مبینہ طور پر کہا گیا, تو پھر طالبات کی عزت، تحفظ اور نجی زندگی کی اہمیت کہاں گئی؟ یونیورسٹی کے سربراہ طلبہ کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے الٹا انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں- کیا اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں طلبہ کو تحفظ، اعتماد اور عزت ملنے کے بجائے خوف کے ماحول میں رہنا چاہیئے؟ یہ صرف ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ اس ذہنیت اور انتظامی رویّئے پر بھی سوال ہے- کیا ہماری بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں؟ خوش آئند بات یہ ہے کہ احتجاج میں طالبات کے حق میں لڑکے بھی شامل ہیں- واقعے کا فوری نوٹس لیکر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گزارش کرتا ہوں-

Amir H. Qureshi

73,537 views • 28 days ago

الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-
2:39

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

AmirHQureshi's profile picture

الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-

Amir H. Qureshi

56,772 views • 1 month ago

AmirHQureshi's profile picture

اینکر: کیا آپ کا ماننا ہے کہ آصف زرداری آپ کے والد کے قتل میں ملوث ہیں؟ فاطمہ بھٹو: جی ہاں۔ اینکر: کیا آپ کا خیال ہے کہ بے نظیر بھٹو کا بھی اس میں کوئی کردار تھا؟ فاطمہ بھٹو: جی ہاں، بدقسمتی سے- اینکر: میں چاہوں گا کہ آپ اس بات کو دہرائیں- کیا آپ واقعی یہ مانتی ہیں کہ آپ کی پھوپھی—یعنی آپ کے والد کی بڑی بہن—اپنے بھائی کے قتل کی کسی نہ کسی طرح ذمہ دار ہیں؟ فاطمہ بھٹو: ان کے دورِ حکومت میں لاقانونیت کا راج تھا۔ میرے والد ان ہزاروں لوگوں میں شامل تھے جو ان کی دوسری حکومت کے دوران مارے گئے- لہٰذا، یقیناً وہ اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں- اور ان کے قتل کے بعد، میری پھوپھی نے معاملے کو دبانے اور معاملات کو سنبھالنے میں بہت اہم کردار ادا کیا- ہمیں ایف آئی آر (FIR) درج کرانے سے منع کیا گیا- تمام گواہوں کو گرفتار کر لیا گیا- انہیں وکلاء یا اپنے اہل خانہ تک رسائی نہیں دی گئی- درحقیقت، انہیں اس وقت تک جیل میں رکھا گیا جب تک کہ ان کی حکومت ختم نہیں ہو گئی- اینکر: تو، اس واقعے سے پہلے، پھر فوراً بعد، اور پھر معاملے کو دبانے کے عمل کے دوران... ان تینوں مراحل میں، کیا آپ کا ماننا ہے کہ ان کے رویے پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں؟ فاطمہ بھٹو: جی ہاں، یقیناً؛ آپ جانتے ہیں کہ مسعود شیری، جو اس وقت انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ تھے اور اس رات جائے وقوعہ پر موجود تھے، انہوں نے وزیراعظم کے دفتر کو رپورٹ دی تھی- کئی سال بعد، انہیں بنگال کی مرکزی کمیٹی میں شامل کر لیا گیا-

Amir H. Qureshi

51,889 views • 1 month ago