Arbaz Raza Bhutta's banner
Arbaz Raza Bhutta's profile picture

Arbaz Raza Bhutta

@ArbazReza0126,333 subscribers

Journalist @92newschannel | Opinion Writer @TFT_

Shorts

🚨 "ایرانی لڑکیوں کا اس ویڈیو میں کہنا ہے کہ اسرائیل ہماری تاریخی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے اور ہم نہیں بنا رہے۔ پتہ ہے کیا وجہ ہے؟ اسرائیل کے پاس کوئی تاریخی مقام ہی نہیں ہے۔ اسرائیل سے آیت اللّٰہ جنتی کی عمر زیادہ ہے۔" 😂😂

🚨 "ایرانی لڑکیوں کا اس ویڈیو میں کہنا ہے کہ اسرائیل ہماری تاریخی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے اور ہم نہیں بنا رہے۔ پتہ ہے کیا وجہ ہے؟ اسرائیل کے پاس کوئی تاریخی مقام ہی نہیں ہے۔ اسرائیل سے آیت اللّٰہ جنتی کی عمر زیادہ ہے۔" 😂😂

74,233 Aufrufe

🚨ایک ایرانی خاتون کا اردو میں کہنا ہے کہ 👇 "ہاں جنگ ہے اور حملے بھی ہو رہے ہیں مگر جو چیز نہیں ہے وہ ہے ڈر"

🚨ایک ایرانی خاتون کا اردو میں کہنا ہے کہ 👇 "ہاں جنگ ہے اور حملے بھی ہو رہے ہیں مگر جو چیز نہیں ہے وہ ہے ڈر"

40,042 Aufrufe

🚨ایک ایرانی (War Veteran) کا خدائی رحمت پر ردعمل میں کہنا ہے کہ 👇 "ہم پر اللہ کی رحمت کی بارش ہو رہی ہے، اور اسرائیلیوں پر ایرانی میزائلوں کی بارش ہو رہی ہے۔"

🚨ایک ایرانی (War Veteran) کا خدائی رحمت پر ردعمل میں کہنا ہے کہ 👇 "ہم پر اللہ کی رحمت کی بارش ہو رہی ہے، اور اسرائیلیوں پر ایرانی میزائلوں کی بارش ہو رہی ہے۔"

42,932 Aufrufe

Videos

ArbazReza01's profile picture

🚨مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔ لاہور کی ایک معروف نجی سوسائٹی میں مالک مکان ملازمہ کو گھر کے اندر بند کر کے چلا گیا۔ رات گئے اس کے جانے کے بعد گھر میں سے آوازیں باہر آئیں کہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔ اہلِ علاقہ نے چیخوں کو سن کر مشکل سے بچی کو گھر سے نکال لیا۔ اللّٰہ معاف کرے اس معصوم بچی کی چیخیں کس کرب اور اذیت سے ہوں گی جس کو ایسے حالات میں رکھا گیا۔ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہی کہہ لیں کہ ہم سامنے والے غریب کے بچے کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے کیڑے مکوڑے جانتے ہیں کہ یہ غریب ہیں انہیں نہیں کاٹنا یا پھر ان کو اگر کسی نے کاث بھی لیا تو کُچھ نہیں ہو گا۔ یہی نام نہاد چند پیسے والے لوگ اپنے بچوں کا کتنا خیال کرتے ہیں آپ نے اردگرد دیکھا ہی ہو گا۔ یہ ظلم ہے، یہ بچے بھی اسی طرح نازک ہیں جیسے آپ کے بچے ہیں۔ اگر اس دنیا میں یہاں سے بچ بھی نکلے تو اگلے جہان میں اس رابِ ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہو گا جس کے ہاں سب برابر ہیں۔ کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل نہیں ہے۔ وہاں پھر حساب دینا ہی پڑے گا۔

Arbaz Raza Bhutta

109,734 Aufrufe • vor 17 Tagen

ArbazReza01's profile picture

🚨" کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک بااثر میمن خاندان کے دو امیدوار CSS کے تحریری امتحان میں غیر معمولی طور پر ٹاپر بن کر سامنے آئے۔ تاہم جب وہ فائنل انٹرویو میں پیش ہوئے تو ان کی کارکردگی اور تحریری امتحان کے نتائج میں واضح تضاد نظر آیا، جس پر انٹرویو پینل کو شدید شک ہوا۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے تحقیقات کا حکم دیا۔ انکوائری میں یہ الزام سامنے آیا کہ کمیشن کے بعض ملازمین اور سندھ بیوروکریسی کے چند افسران کی مبینہ ملی بھگت سے امتحانی ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا، متعدد جوابی شیٹس تبدیل کی گئیں اور امیدواروں کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا گیا۔ بعد ازاں کیس ایف آئی اے کو بھیجا گیا، مقدمات درج ہوئے، گرفتاریاں ہوئیں اور بعض ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی گئی۔ تاہم کئی سال تک کیس چلنے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ ایف پی ایس سی اور ایف آئی اے کی تحقیقات میں سنگین خامیاں موجود تھیں۔ انہی نقائص کی بنیاد پر متعلقہ ملازمین اور دونوں امیدواروں کو ریلیف مل گیا اور انہیں ایک طرح سے کلین چٹ حاصل ہو گئی، حالانکہ یہی امیدوار ماضی میں مبینہ طور پر سی ایس ایس امتحان میں بڑے فراڈ کے مرکزی کردار سمجھے جاتے تھے۔" سینئر صحافی زاہد گشکوری Zahid Gishkori

Arbaz Raza Bhutta

57,506 Aufrufe • vor 9 Tagen

ArbazReza01's profile picture

🚨"شوگر کین بنیادی طور پر ساحلی علاقوں کی فصل ہے۔ اس میں موجود سکروز سے چینی بنتی ہے، اور ساحلی علاقوں میں اگنے والے گنے میں سکروز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ جوں جوں آپ ساحل سے دور اور شمال کی طرف جاتے ہیں، سکروز کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔ میری رائے میں پاکستان میں شوگر کین کی کاشت صرف چند اضلاع، مثلاً ٹھٹھہ، بدین اور سجاول تک محدود ہونی چاہیے۔ اسی طرح شوگر ملیں بھی انہی علاقوں میں ہونی چاہئیں۔ جب شوگر کی پیداوار بڑھتی ہے تو حکومت اسے ترقی کا نام دیتی ہے، حالانکہ یہ حقیقی ترقی نہیں بلکہ معیشت کے لیے نقصان دہ عمل ہے۔ اس میں حکومت کے خزانے سے پیسہ نکلتا ہے، اور دراصل وہ عوام کی جیب سے نکالا گیا پیسہ ہوتا ہے جو شوگر مل مالکان کو منتقل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا صرف اعداد و شمار کو دیکھ کر ترقی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں دوبارہ یہ طے کرنا ہوگا کہ ترقی دراصل ہوتی کیا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی تیس برسوں میں، چاہے حکومت فوجی ہو یا سویلین، ایک واضح قومی وژن موجود تھا کہ ملک کو کس سمت لے جانا ہے اور ترقی کا ماڈل کیا ہوگا۔ انہی برسوں میں نمایاں پیش رفت بھی ہوئی۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ ایسا کوئی واضح وژن نظر نہیں آتا۔ اب زیادہ زور اس بات پر ہے کہ وسائل اور مراعات طاقتور طبقات میں تقسیم کر دی جائیں اور پھر اعداد و شمار کے ذریعے یہ تاثر دیا جائے کہ ملک میں بہت ترقی ہو رہی ہے، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔" ڈاکٹر قیصر بنگالی ماہر معاشیات

Arbaz Raza Bhutta

86,249 Aufrufe • vor 15 Tagen

ArbazReza01's profile picture

🚨 ایک خفیہ کیمرے سے حاصل ہونے والی ویڈیو، جو ایک مبینہ مخبر جاسوس کے سینے پر نصب تھا، حقیقی وقت میں یہ دکھاتی ہے کہ 14 دسمبر 2025 کو غزہ کے اندر ایک ہدفی کارروائی کس طرح منظم کی گئی۔ الجزیرہ کی تحقیق، جسے تیمر المشعل نے پیش کیا، اس پورے آپریشن کی تفصیل سامنے لاتی ہے: دو افراد کو شوکی ابو نصیرہ ملیشیا (جسے "پیپلز آرمی" بھی کہا جاتا ہے) میں شامل کیا گیا، انہیں کرم شالوم کراسنگ لے جایا گیا، جہاں انہیں ایک اسرائیلی افسر کے حوالے کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں ایک فوجی اڈے پر اسلحہ استعمال کرنے اور الیکٹرک سائیکل چلانے کی تربیت دی گئی، خفیہ کیمرے فراہم کیے گئے، اور پھر خاموش گلاک پستولوں اور ڈرون نگرانی کے ساتھ واپس غزہ بھیج دیا گیا تاکہ وہ گلیوں میں رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ سکیں۔ ان کا ہدف احمد عبدالباری زمزم تھا، جو غزہ کے وسطی علاقے میں داخلی سیکیورٹی کے نائب ڈائریکٹر تھے، اور جنہیں مبینہ طور پر مخبری کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے اور ختم کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ اس ملیشیا کی قیادت سابق فلسطینی اتھارٹی کے ایک سیکیورٹی افسر شوکی ابو نصیرہ کے پاس ہے، جو اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ اپنے تعلق کو "مضبوط اور گہری دوستی" قرار دیتے ہیں۔ اس گروہ کی سرگرمیاں صرف ہدفی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ امدادی ٹرکوں پر چھاپے مارنا، سرنگوں کی نشاندہی کرنا، مطلوب افراد کو پکڑنا اور انہیں حوالے کرنا، اور لاشوں کی بے حرمتی جیسے اقدامات بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد ایک اہلکار اس وقت گرفتار ہو گیا جب اسرائیلی افسر سے اس کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا، جبکہ دوسرا فرار ہو کر اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں واپس چلا گیا۔" Courtesy: Al Jazeera English

Arbaz Raza Bhutta

134,195 Aufrufe • vor 2 Monaten

ArbazReza01's profile picture

مجھے یاد ہےایک دفعہ الیکشن کمپین میں نواز شریف صاحب نے کہا تھا: "ترقی دیکھنی ہے تو لاہور جا کے دیکھیں، شہباز شریف نے کتنی ترقی کرا دی ہے۔" یہ بات وہ راجن پور میں کھڑے ہو کر راجن پور کے لوگوں کو کہہ رہے تھے۔ راجن پور کے لوگوں کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے نعرے مار مار کے گلے بٹھا لیے، واہ واہ کی، خوب داد دی، لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ راجن پور کی ترقی کی بھی کوئی بات کر لیں۔ ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ، خانیوال، لودھراں، رحیم یار خان، بہاول نگر اور باقی جتنے اضلاع ہیں، ان کی بات نہیں کرنی۔ سینٹرل پنجاب اور نارتھ پنجاب کے بہت سے علاقوں کی بھی بات نہیں کرنی۔ انہوں نے کہا، "جناب، اگر ترقی دیکھنی ہے تو لاہور دیکھیں۔" اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ سارا پیسہ آپ نے وہاں لگا دیا۔ پورے پنجاب سے لوگ، کھوتے ریڑھی پر بیٹھ کر یا میری طرح کسی نہ کسی ذریعے سے، لاہور پہنچ گئے۔ اب آبادی کا بم وہاں پھٹ چکا ہے اور اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ روؤف کلاسرا Rauf Klasra

Arbaz Raza Bhutta

30,105 Aufrufe • vor 18 Tagen