Arbaz Raza Bhutta's banner
Arbaz Raza Bhutta's profile picture

Arbaz Raza Bhutta

@ArbazReza01 • 26,388 subscribers

Journalist @ExpressNewsPK | Opinion Writer @TFT_

Shorts

🚨ایک ایرانی (War Veteran) کا خدائی رحمت پر ردعمل میں کہنا ہے کہ 👇 "ہم پر اللہ کی رحمت کی بارش ہو رہی ہے، اور اسرائیلیوں پر ایرانی میزائلوں کی بارش ہو رہی ہے۔"

🚨ایک ایرانی (War Veteran) کا خدائی رحمت پر ردعمل میں کہنا ہے کہ 👇 "ہم پر اللہ کی رحمت کی بارش ہو رہی ہے، اور اسرائیلیوں پر ایرانی میزائلوں کی بارش ہو رہی ہے۔"

42,937 Aufrufe

🚨"وزیراعلیٰ پنجاب نے چند روز پہلے کہا تھا کہ الیکٹرک بسوں کی تعداد 5,000 تک لے جائیں گے۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ ان کے چارجنگ اسٹیشنز میں سے کوئی بھی سولر پاور پر نہیں چل رہا۔ ان بسوں میں لیتھیم آئن بیٹریاں نصب ہیں، اور یہ بات پہلے دن سے معلوم تھی۔ مگر پلاننگ کرتے وقت کسی نے یہ نہیں سوچا کہ چارجنگ اسٹیشنز بھی سولر پر منتقل کیے جائیں۔ اب جبکہ بسیں آ چکی ہیں اور چلنا شروع ہو گئی ہیں، تو سنا جا رہا ہے کہ اب منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ چارجنگ اسٹیشنز کو بھی سولر پاور پر منتقل کیا جائے۔" اکمل خان صاحب Muhammad Akmal Khan Amir Mateen

🚨"وزیراعلیٰ پنجاب نے چند روز پہلے کہا تھا کہ الیکٹرک بسوں کی تعداد 5,000 تک لے جائیں گے۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ ان کے چارجنگ اسٹیشنز میں سے کوئی بھی سولر پاور پر نہیں چل رہا۔ ان بسوں میں لیتھیم آئن بیٹریاں نصب ہیں، اور یہ بات پہلے دن سے معلوم تھی۔ مگر پلاننگ کرتے وقت کسی نے یہ نہیں سوچا کہ چارجنگ اسٹیشنز بھی سولر پر منتقل کیے جائیں۔ اب جبکہ بسیں آ چکی ہیں اور چلنا شروع ہو گئی ہیں، تو سنا جا رہا ہے کہ اب منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ چارجنگ اسٹیشنز کو بھی سولر پاور پر منتقل کیا جائے۔" اکمل خان صاحب Muhammad Akmal Khan Amir Mateen

16,421 Aufrufe

Videos

ArbazReza01's profile picture

🚨 ایک خفیہ کیمرے سے حاصل ہونے والی ویڈیو، جو ایک مبینہ مخبر جاسوس کے سینے پر نصب تھا، حقیقی وقت میں یہ دکھاتی ہے کہ 14 دسمبر 2025 کو غزہ کے اندر ایک ہدفی کارروائی کس طرح منظم کی گئی۔ الجزیرہ کی تحقیق، جسے تیمر المشعل نے پیش کیا، اس پورے آپریشن کی تفصیل سامنے لاتی ہے: دو افراد کو شوکی ابو نصیرہ ملیشیا (جسے "پیپلز آرمی" بھی کہا جاتا ہے) میں شامل کیا گیا، انہیں کرم شالوم کراسنگ لے جایا گیا، جہاں انہیں ایک اسرائیلی افسر کے حوالے کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں ایک فوجی اڈے پر اسلحہ استعمال کرنے اور الیکٹرک سائیکل چلانے کی تربیت دی گئی، خفیہ کیمرے فراہم کیے گئے، اور پھر خاموش گلاک پستولوں اور ڈرون نگرانی کے ساتھ واپس غزہ بھیج دیا گیا تاکہ وہ گلیوں میں رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ سکیں۔ ان کا ہدف احمد عبدالباری زمزم تھا، جو غزہ کے وسطی علاقے میں داخلی سیکیورٹی کے نائب ڈائریکٹر تھے، اور جنہیں مبینہ طور پر مخبری کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے اور ختم کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ اس ملیشیا کی قیادت سابق فلسطینی اتھارٹی کے ایک سیکیورٹی افسر شوکی ابو نصیرہ کے پاس ہے، جو اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ اپنے تعلق کو "مضبوط اور گہری دوستی" قرار دیتے ہیں۔ اس گروہ کی سرگرمیاں صرف ہدفی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ امدادی ٹرکوں پر چھاپے مارنا، سرنگوں کی نشاندہی کرنا، مطلوب افراد کو پکڑنا اور انہیں حوالے کرنا، اور لاشوں کی بے حرمتی جیسے اقدامات بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد ایک اہلکار اس وقت گرفتار ہو گیا جب اسرائیلی افسر سے اس کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا، جبکہ دوسرا فرار ہو کر اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں واپس چلا گیا۔" Courtesy: Al Jazeera English

Arbaz Raza Bhutta

134,387 Aufrufe • vor 5 Monaten

ArbazReza01's profile picture

🚨"شوگر کین بنیادی طور پر ساحلی علاقوں کی فصل ہے۔ اس میں موجود سکروز سے چینی بنتی ہے، اور ساحلی علاقوں میں اگنے والے گنے میں سکروز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ جوں جوں آپ ساحل سے دور اور شمال کی طرف جاتے ہیں، سکروز کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔ میری رائے میں پاکستان میں شوگر کین کی کاشت صرف چند اضلاع، مثلاً ٹھٹھہ، بدین اور سجاول تک محدود ہونی چاہیے۔ اسی طرح شوگر ملیں بھی انہی علاقوں میں ہونی چاہئیں۔ جب شوگر کی پیداوار بڑھتی ہے تو حکومت اسے ترقی کا نام دیتی ہے، حالانکہ یہ حقیقی ترقی نہیں بلکہ معیشت کے لیے نقصان دہ عمل ہے۔ اس میں حکومت کے خزانے سے پیسہ نکلتا ہے، اور دراصل وہ عوام کی جیب سے نکالا گیا پیسہ ہوتا ہے جو شوگر مل مالکان کو منتقل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا صرف اعداد و شمار کو دیکھ کر ترقی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں دوبارہ یہ طے کرنا ہوگا کہ ترقی دراصل ہوتی کیا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی تیس برسوں میں، چاہے حکومت فوجی ہو یا سویلین، ایک واضح قومی وژن موجود تھا کہ ملک کو کس سمت لے جانا ہے اور ترقی کا ماڈل کیا ہوگا۔ انہی برسوں میں نمایاں پیش رفت بھی ہوئی۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ ایسا کوئی واضح وژن نظر نہیں آتا۔ اب زیادہ زور اس بات پر ہے کہ وسائل اور مراعات طاقتور طبقات میں تقسیم کر دی جائیں اور پھر اعداد و شمار کے ذریعے یہ تاثر دیا جائے کہ ملک میں بہت ترقی ہو رہی ہے، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔" ڈاکٹر قیصر بنگالی ماہر معاشیات

Arbaz Raza Bhutta

86,434 Aufrufe • vor 3 Monaten

ArbazReza01's profile picture

🚨"میں ایک دفعہ انگلینڈ گیا تو وہاں معلوم ہوا کہ نئے موبائل ٹاورز کی تنصیب پر عدالت نے پابندی لگا دی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ایک بزرگ خاتون نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ یہ خوفناک شکل کے بڑے بڑے ٹاورز ان پر ذہنی دباؤ ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد وہاں ٹاورز کے ڈیزائن ہی تبدیل کر دیے گئے۔ اب وہ درختوں کی شکل میں یا ماحول سے ہم آہنگ دوسرے انداز میں بنائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کو ناگوار محسوس نہ ہوں۔ اور ایک ہم ہیں کہ ان ٹاورز کے لیے عوام کے گھر گرانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ گھر گرانا تو ایک طرف، بعض جگہوں پر لوگوں کی املاک پر قبضے تک کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جس قیادت، جس لیڈرشپ یا جس سیاسی جماعت کی سوچ اس نہج پر پہنچ جائے، اسے آپ عوامی خدمت یا قومی مفاد کا نام نہیں دے سکتے۔ ایسے رویے کو تو صرف جبر اور طاقت کے استعمال کی سیاست ہی کہا جا سکتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا پاکستان کے عوام اور ان کے حقوق سے کوئی حقیقی تعلق ہی نہیں ہے۔" محمد علی درانی Muhammad Ali Durrani Official Amir Mateen Muhammad Ali Durrani

Arbaz Raza Bhutta

33,569 Aufrufe • vor 3 Monaten

ArbazReza01's profile picture

مجھے یاد ہےایک دفعہ الیکشن کمپین میں نواز شریف صاحب نے کہا تھا: "ترقی دیکھنی ہے تو لاہور جا کے دیکھیں، شہباز شریف نے کتنی ترقی کرا دی ہے۔" یہ بات وہ راجن پور میں کھڑے ہو کر راجن پور کے لوگوں کو کہہ رہے تھے۔ راجن پور کے لوگوں کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے نعرے مار مار کے گلے بٹھا لیے، واہ واہ کی، خوب داد دی، لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ راجن پور کی ترقی کی بھی کوئی بات کر لیں۔ ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ، خانیوال، لودھراں، رحیم یار خان، بہاول نگر اور باقی جتنے اضلاع ہیں، ان کی بات نہیں کرنی۔ سینٹرل پنجاب اور نارتھ پنجاب کے بہت سے علاقوں کی بھی بات نہیں کرنی۔ انہوں نے کہا، "جناب، اگر ترقی دیکھنی ہے تو لاہور دیکھیں۔" اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ سارا پیسہ آپ نے وہاں لگا دیا۔ پورے پنجاب سے لوگ، کھوتے ریڑھی پر بیٹھ کر یا میری طرح کسی نہ کسی ذریعے سے، لاہور پہنچ گئے۔ اب آبادی کا بم وہاں پھٹ چکا ہے اور اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ روؤف کلاسرا Rauf Klasra

Arbaz Raza Bhutta

30,105 Aufrufe • vor 3 Monaten

ArbazReza01's profile picture

🚨"ایران امریکہ جنگ اس نوعیت کی نہیں رہی کہ اسے ایک بڑی جنگ کہا جائے، لیکن یہ ایک محدود جنگ سے آہستہ آہستہ وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ آج اس کشیدگی کا چوتھا یا پانچواں دن ہے، اور دونوں جانب سے گولہ باری بھی جاری ہے جبکہ بیانات بھی مسلسل بدل رہے ہیں۔ کل صدر ٹرمپ نے ایک ایسا بیان دیا جسے میں مضحکہ خیز سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام آئل ٹینکرز سے 20 فیصد چارج لیا جائے گا، کیونکہ امریکہ اس اہم بحری راستے کی سکیورٹی فراہم کر رہا ہے۔ یہ بیان اس لیے حیران کن تھا کہ امریکہ کا سرکاری مؤقف، جسے مارکو روبیو اور دیگر امریکی حکام بارہا دہراتے رہے ہیں، یہ رہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں کسی قسم کا ٹول یا چارج عائد نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کے بیشتر ممالک بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ چنانچہ جب خود صدر ٹرمپ نے 20 فیصد چارج کی بات کی تو گویا انہوں نے اپنی ہی سابقہ پوزیشن کی نفی کر دی۔ اس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی طنزیہ ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ٹول لینے کا حق رکھتا ہے تو پھر وہی لے گا۔" سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین

Arbaz Raza Bhutta

17,631 Aufrufe • vor 2 Monaten

ArbazReza01's profile picture

کیا تنخوا دار طبقہ کو ریلیف دیا گیا ہے؟ "تنخوا دار طبقے نے اس سال 600 ارب روپے ٹیکس دیا ہے تو اگلے سال وہ 550 ارب دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگلے سال وہ تقریباً 700 ارب روپے ٹیکس ادا کرے گا۔ حکومت صرف یہ کہہ رہی ہے کہ اگر یہ ریلیف نہ دی جاتی تو یہ رقم 750 ارب روپے تک پہنچ جاتی، اس لیے ہم آپ سے 750 کے بجائے 700 ارب لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی شخص کی ماہانہ تنخواہ ڈھائی لاکھ روپے ہے۔ اس آمدنی پر اس وقت تقریباً 23 فیصد تک ٹیکس لگ رہا تھا۔ حکومت نے اسے کم کرکے 20 فیصد کر دیا، جو بظاہر ایک اچھی بات ہے۔ لیکن اگر مہنگائی کی وجہ سے اس شخص کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ ہو جائے تو اس کی آمدنی ڈھائی لاکھ سے بڑھ کر 2 لاکھ 75 ہزار روپے ہو جائے گی۔ نتیجتاً وہ اگلے ٹیکس سلیب میں چلا جائے گا، جہاں اس پر 25 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس لیے عملی طور پر حکومت تنخواہ دار طبقے سے کم نہیں بلکہ زیادہ ٹیکس وصول کرے گی۔ یعنی اگر اس سال اس طبقے سے 600 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں تو اگلے مالی سال میں یہی رقم بڑھ کر تقریباً 700 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔" مفتاح اسماعیل Miftah Ismail Absar Alam

Arbaz Raza Bhutta

22,754 Aufrufe • vor 3 Monaten