
Arbaz Raza Bhutta
@ArbazReza01 • 26,333 subscribers
Journalist @92newschannel | Opinion Writer @TFT_
Shorts
Videos

🚨"میں نے خان صاحب سے پوچھا کہ آپ کی سیاست کا مقصد کیا ہے؟ خان صاحب، آپ تو وزیراعظم بن گئے، اگر یہی آپ کی خواہش تھی تو وہ پوری ہو چکی۔ اب ستمبر 2022 میں آپ سیاست کو کیوں جاری رکھنا چاہتے ہیں؟ اس پر خان صاحب نے بالکل یہی بات کہی۔ انہوں نے کہا، "دیکھو، یہ ملک ایک ایسی نہج پر کھڑا ہے جہاں بے شمار تضادات موجود ہیں۔ غریب اور امیر کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے، مسلکی تقسیم موجود ہے، خیبر پختونخوا میں جو صورتحال ہے، جو بدحالی ہے، جو بدامنی ہے، اور وہاں کے لوگوں کے جو جذبات ہیں، اگر میں نہیں ہوں گا تو یہ لوگ نسلی سیاست کی طرف راغب ہو جائیں گے۔" سلمان اکرم راجہ salman akram raja Mujahid Hussain
Arbaz Raza Bhutta65,037 views • 3 days ago

🚨"یہ بات سیاسی دانائی کی تھی جو نوید قمر نے پکڑ لی۔ حکومت نے ایف بی آر کے ذریعے قانون میں یہ تجویز دی تھی کہ اگر تیس ستمبر کی قانونی ڈیڈ لائن یا اس کے بعد ایف بی آر کی دی گئی توسیع کے بعد گوشوارہ جمع کرایا جائے تو پچیس ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ یہ بیوروکریٹک سوچ تھی۔ سیاسی سوچ یہ کہتی ہے کہ ہمارے ملک میں تو پہلے ہی لوگ گوشوارہ جمع نہیں کرواتے، اگر کوئی دسمبر یا مارچ میں بھی آ کر جمع کروا رہا ہے تو پچیس ہزار جرمانہ کیوں؟ جواب آیا کہ وہ صرف اس لیے آتے ہیں کہ گاڑی یا گھر خریدنا ہے اور فائلر کی شرح سے بچنا چاہتے ہیں۔ سوال اٹھا کہ یہ کیسے پتہ چلے گا کہ مقصد یہی ہے، کوئی حقیقی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔ جواب تھا بس ہمیں پتہ ہے ایسے ہی ہوتا ہے۔" شہباز رانا Shahbaz Rana Kamran Yousaf
Arbaz Raza Bhutta24,054 views • 3 days ago

🚨مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔ لاہور کی ایک معروف نجی سوسائٹی میں مالک مکان ملازمہ کو گھر کے اندر بند کر کے چلا گیا۔ رات گئے اس کے جانے کے بعد گھر میں سے آوازیں باہر آئیں کہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔ اہلِ علاقہ نے چیخوں کو سن کر مشکل سے بچی کو گھر سے نکال لیا۔ اللّٰہ معاف کرے اس معصوم بچی کی چیخیں کس کرب اور اذیت سے ہوں گی جس کو ایسے حالات میں رکھا گیا۔ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہی کہہ لیں کہ ہم سامنے والے غریب کے بچے کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے کیڑے مکوڑے جانتے ہیں کہ یہ غریب ہیں انہیں نہیں کاٹنا یا پھر ان کو اگر کسی نے کاث بھی لیا تو کُچھ نہیں ہو گا۔ یہی نام نہاد چند پیسے والے لوگ اپنے بچوں کا کتنا خیال کرتے ہیں آپ نے اردگرد دیکھا ہی ہو گا۔ یہ ظلم ہے، یہ بچے بھی اسی طرح نازک ہیں جیسے آپ کے بچے ہیں۔ اگر اس دنیا میں یہاں سے بچ بھی نکلے تو اگلے جہان میں اس رابِ ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہو گا جس کے ہاں سب برابر ہیں۔ کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل نہیں ہے۔ وہاں پھر حساب دینا ہی پڑے گا۔
Arbaz Raza Bhutta109,734 views • 17 days ago

🚨" کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک بااثر میمن خاندان کے دو امیدوار CSS کے تحریری امتحان میں غیر معمولی طور پر ٹاپر بن کر سامنے آئے۔ تاہم جب وہ فائنل انٹرویو میں پیش ہوئے تو ان کی کارکردگی اور تحریری امتحان کے نتائج میں واضح تضاد نظر آیا، جس پر انٹرویو پینل کو شدید شک ہوا۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے تحقیقات کا حکم دیا۔ انکوائری میں یہ الزام سامنے آیا کہ کمیشن کے بعض ملازمین اور سندھ بیوروکریسی کے چند افسران کی مبینہ ملی بھگت سے امتحانی ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا، متعدد جوابی شیٹس تبدیل کی گئیں اور امیدواروں کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا گیا۔ بعد ازاں کیس ایف آئی اے کو بھیجا گیا، مقدمات درج ہوئے، گرفتاریاں ہوئیں اور بعض ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی گئی۔ تاہم کئی سال تک کیس چلنے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ ایف پی ایس سی اور ایف آئی اے کی تحقیقات میں سنگین خامیاں موجود تھیں۔ انہی نقائص کی بنیاد پر متعلقہ ملازمین اور دونوں امیدواروں کو ریلیف مل گیا اور انہیں ایک طرح سے کلین چٹ حاصل ہو گئی، حالانکہ یہی امیدوار ماضی میں مبینہ طور پر سی ایس ایس امتحان میں بڑے فراڈ کے مرکزی کردار سمجھے جاتے تھے۔" سینئر صحافی زاہد گشکوری Zahid Gishkori
Arbaz Raza Bhutta57,506 views • 9 days ago

🚨 کیا آپ کو پتہ ہے کہ خط غربت کا پیمانہ کیا ہے؟ اگر آپ کی ماہانہ آمدنی 8,500 روپے ہے تو آپ خطِ غربت کے نیچے ہیں، لیکن اگر آپ کی آمدنی 10,000 روپے ماہانہ ہے تو آپ خطِ غربت سے اوپر ہیں۔ یعنی اگر آپ شادی شدہ ہیں، آپ کا 1 بچہ بھی ہے، اور آپ کی آمدنی 10,000 روپے مہینہ ہے تو سرکاری حساب کے مطابق آپ غریب نہیں ہیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر بتایا گیا کہ 7 کروڑ 28 لاکھ لوگ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کی ماہانہ آمدنی 8,500 روپے سے کم ہے۔ اب ذرا خود حساب لگائیں۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس ملک میں 7 کروڑ 28 لاکھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس پورے مہینے کے لیے صرف 8,500 روپے ہیں؟ اب بتاؤ، میں جاؤں تو کہاں جاؤں؟ کس کے آگے روؤں؟ کس کو اپنی حالت سناؤں؟ اور پھر اس کے بعد بیٹھ کر بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ نگار نصرت جاوید صاحب Nusrat Javeed
Arbaz Raza Bhutta71,410 views • 12 days ago

🚨"شوگر کین بنیادی طور پر ساحلی علاقوں کی فصل ہے۔ اس میں موجود سکروز سے چینی بنتی ہے، اور ساحلی علاقوں میں اگنے والے گنے میں سکروز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ جوں جوں آپ ساحل سے دور اور شمال کی طرف جاتے ہیں، سکروز کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔ میری رائے میں پاکستان میں شوگر کین کی کاشت صرف چند اضلاع، مثلاً ٹھٹھہ، بدین اور سجاول تک محدود ہونی چاہیے۔ اسی طرح شوگر ملیں بھی انہی علاقوں میں ہونی چاہئیں۔ جب شوگر کی پیداوار بڑھتی ہے تو حکومت اسے ترقی کا نام دیتی ہے، حالانکہ یہ حقیقی ترقی نہیں بلکہ معیشت کے لیے نقصان دہ عمل ہے۔ اس میں حکومت کے خزانے سے پیسہ نکلتا ہے، اور دراصل وہ عوام کی جیب سے نکالا گیا پیسہ ہوتا ہے جو شوگر مل مالکان کو منتقل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا صرف اعداد و شمار کو دیکھ کر ترقی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں دوبارہ یہ طے کرنا ہوگا کہ ترقی دراصل ہوتی کیا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی تیس برسوں میں، چاہے حکومت فوجی ہو یا سویلین، ایک واضح قومی وژن موجود تھا کہ ملک کو کس سمت لے جانا ہے اور ترقی کا ماڈل کیا ہوگا۔ انہی برسوں میں نمایاں پیش رفت بھی ہوئی۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ ایسا کوئی واضح وژن نظر نہیں آتا۔ اب زیادہ زور اس بات پر ہے کہ وسائل اور مراعات طاقتور طبقات میں تقسیم کر دی جائیں اور پھر اعداد و شمار کے ذریعے یہ تاثر دیا جائے کہ ملک میں بہت ترقی ہو رہی ہے، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔" ڈاکٹر قیصر بنگالی ماہر معاشیات
Arbaz Raza Bhutta86,249 views • 15 days ago

🚨"یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک ریاض کے ذاتی ڈرائیور ماجد حال ہی میں ان کی والدہ کا انتقال ہوا، جس پر وہ پاکستان آئے تاکہ جنازے میں شرکت کر سکیں۔ اطلاعات کے مطابق والدہ کے جنازے اور دیگر رسومات کے بعد جب ماجد واپس دبئی روانہ ہونے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا ویزا پاکستان آمد کے بعد دبئی حکام کی جانب سے منسوخ کر دیا گیا ہے، لہٰذا وہ سفر نہیں کر سکتے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے بیرونِ ملک، خصوصاً متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں میں تشویش پیدا ہونا فطری ہے۔ اس وقت تقریباً 15 سے 18 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں ملازمت، کاروبار اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں اور اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں۔" اسد طور Asad Ali Toor
Arbaz Raza Bhutta75,940 views • 14 days ago

🚨"میں نے چند دن پہلے ایک ٹویٹ کی تھی کہ عام آدمی سولر پر بجلی خود بنا رہا ہے اور آہستہ آہستہ آف گرڈ ہوتا جا رہا ہے۔ پانی وہ موٹر لگا کر خود نکالتا ہے۔ ہیلتھ اور ایجوکیشن بھی زیادہ تر پرائیویٹ سیکٹر میں چلی گئی ہے۔ چوکیدار بھی اپنا ہے۔ کوئی بھی بنیادی سروسز نہیں ہیں۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، اور جو موٹرویز ہیں وہاں اشرافیہ کے لیے ٹول بہت زیادہ ہے۔ تو یہ جو ہم 100 ٹریلین کے ٹیکسز اور قرضوں کی بات کرتے ہیں، وہ تو اس سے بھی آگے جا رہا ہے۔ تو عام آدمی کا یہ جائز سوال نہیں ہے کہ یہ سب ہم کس لیے دے رہے ہیں، کیوں دے رہے ہیں، اور کس کو دے رہے ہیں؟" سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین صاحب Amir Mateen Haroon Sharif
Arbaz Raza Bhutta64,936 views • 12 days ago

"ابھی انسٹاگرام کے اوپر یہ ویڈیو دیکھی جو کہ واقعتاً ہمارے ملک کے نظام کو عیاں کرتی ہے کہ کس طرح اس ملک میں امیر زادے جو لوگوں کو اپنی گاڑیوں تلے روند دیتے ہیں اور ان کے خلاف ہمارا قانون بے بسی کا ایک نمونہ بن جاتا ہے۔ اس ملک میں ایسے امیر زادوں کے کئی کیسزز آپ کو دیکھنے کو ملیں گے حالانکہ میں امراء کے خلاف کوئی بات نہیں کر رہا امیر ہونا کوئی گناہ نہیں ہے مگر میں اس قانون کی بات کر رہا ہوں جو اس طرح کے لوگوں کو حفاظت فراہم کرتا ہے۔ ایک تو غریب و بے بس لوگوں کے پیارے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں دوسرا کورٹ کچہری کے چکر ان کی معاشی صورتحال کو تباہ کر دیتے ہیں اور ںعد میں انصاف کا بھی جنازہ اٹھ جاتا ہے۔"
Arbaz Raza Bhutta22,556 views • 4 days ago

پاکستان کا سب سے بڑا "سفید ہاتھی" پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام ہے جس میں وفاق اور چاروں صوبے مل کر تقریباً 4 کھرب روپے خرچ کرتے ہیں۔ سڑکیں، اسپتال، اسکول یہ سب اسی مد میں آتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ پیسہ اصل کام پر نہیں لگتا۔ پہلے ٹھیکیدار 20 فیصد لے جاتا ہے، پھر ایم این اے اور ایم پی اے کا حصہ، پھر بیوروکریسی کا حصہ، جب یہ سب کٹ جاتا ہے تو اصل کام کے لیے کچھ بچتا ہی نہیں۔ یہ محض بدعنوانی نہیں، یہ ایک مکمل نظام بن چکا ہے جس میں ایم این ایز، وزراء، ٹھیکیدار اور بیوروکریسی سب شامل ہیں اور سب اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ سینئر صحافی و تجزیہ نگار نجم سیٹھی Najam Sethi Syeda Ayesha Naz
Arbaz Raza Bhutta40,601 views • 11 days ago

🚨لاہور میں افسوسناک واقعہ University of Management and Technology کے قریب ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں مبینہ طور پر کرایہ نہ دینے پر ایک طالبہ کو ذہنی دباؤ اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ طالبہ کو بار بار ہاسٹل سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ اسے سامان سمیت باہر پھینک دیا جائے گا۔ طالبہ نے صرف دو دن کی مہلت مانگی، مگر الزام ہے کہ ہاسٹل انتظامیہ نے اس کے گھر والوں کو بلا کر صورتحال مزید کشیدہ کر دی۔ بعد ازاں والد کی جانب سے بھی مبینہ تشدد اور گالم گلوچ کی گئی، جبکہ طالبہ کے کپڑے تک پھاڑ دیے گئے۔ شدید ذہنی دباؤ اور تذلیل سے دلبرداشتہ ہو کر طالبہ نے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں اس نوعیت کا افسوسناک واقعہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا طالبات کے لیے نجی ہاسٹلز محفوظ ہیں؟ اور کیا انتظامیہ کو انسانی وقار کا خیال نہیں رکھنا چاہیے Maryam Nawaz Sharif Azma Zahid Bokhari Hina Parvez Butt #Lahore
Arbaz Raza Bhutta96,872 views • 1 month ago

🚨"میں نے ایک خبر دی کہ بلاول بھٹو زرداری نے کسی محفل میں کہا ہے کہ میں بہت غصے میں آ گیا ہوں، تو وہ کیا کریں گے؟ تو انہوں نے کچھ نہ کچھ بہرحال کر دیا یا وہ کچھ مجھے لوگ الزام دے رہے ہیں کہ یہ آپ کی اس خبر چلانے کی وجہ سے فی الحال ان کو حکومت مل گئی ہے۔ اب گلگت بلتستان میں حکومت سازی میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں اتفاق ہو گیا ہے۔ کافی دن سے یہ الیکشن ہو گئے تھے، پھر یہ طے پا نہیں پا رہا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کتنی سیٹیں ہیں اور وہ فل میجورٹی تو کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس لیے پہلے پیپلز پارٹی کو درمیان میں یہ غصہ لگ رہا تھا کہ شاید حکومت نہیں مل رہی۔" سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین Amir Mateen
Arbaz Raza Bhutta13,825 views • 5 days ago

🚨 ایک خفیہ کیمرے سے حاصل ہونے والی ویڈیو، جو ایک مبینہ مخبر جاسوس کے سینے پر نصب تھا، حقیقی وقت میں یہ دکھاتی ہے کہ 14 دسمبر 2025 کو غزہ کے اندر ایک ہدفی کارروائی کس طرح منظم کی گئی۔ الجزیرہ کی تحقیق، جسے تیمر المشعل نے پیش کیا، اس پورے آپریشن کی تفصیل سامنے لاتی ہے: دو افراد کو شوکی ابو نصیرہ ملیشیا (جسے "پیپلز آرمی" بھی کہا جاتا ہے) میں شامل کیا گیا، انہیں کرم شالوم کراسنگ لے جایا گیا، جہاں انہیں ایک اسرائیلی افسر کے حوالے کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں ایک فوجی اڈے پر اسلحہ استعمال کرنے اور الیکٹرک سائیکل چلانے کی تربیت دی گئی، خفیہ کیمرے فراہم کیے گئے، اور پھر خاموش گلاک پستولوں اور ڈرون نگرانی کے ساتھ واپس غزہ بھیج دیا گیا تاکہ وہ گلیوں میں رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ سکیں۔ ان کا ہدف احمد عبدالباری زمزم تھا، جو غزہ کے وسطی علاقے میں داخلی سیکیورٹی کے نائب ڈائریکٹر تھے، اور جنہیں مبینہ طور پر مخبری کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے اور ختم کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ اس ملیشیا کی قیادت سابق فلسطینی اتھارٹی کے ایک سیکیورٹی افسر شوکی ابو نصیرہ کے پاس ہے، جو اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ اپنے تعلق کو "مضبوط اور گہری دوستی" قرار دیتے ہیں۔ اس گروہ کی سرگرمیاں صرف ہدفی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ امدادی ٹرکوں پر چھاپے مارنا، سرنگوں کی نشاندہی کرنا، مطلوب افراد کو پکڑنا اور انہیں حوالے کرنا، اور لاشوں کی بے حرمتی جیسے اقدامات بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد ایک اہلکار اس وقت گرفتار ہو گیا جب اسرائیلی افسر سے اس کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا، جبکہ دوسرا فرار ہو کر اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں واپس چلا گیا۔" Courtesy: Al Jazeera English
Arbaz Raza Bhutta134,195 views • 2 months ago

"وزیر اعظم نے بجٹ کو چار بھائیوں میں روٹی کی تقسیم کہا، لیکن اصل میں یہ بجٹ اشرافیہ کا بجٹ ہے۔ سرمایہ داروں پر سپر ٹیکس 10 سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا سیمنٹ، اسٹیل، آٹو موبائل اور فارما انڈسٹری کو کروڑوں کا فائدہ۔ کنسٹرکشن اور آئی ٹی کو بھی ٹیکس ریلیف ملا۔ زمینداروں کے لیے ڈیمڈ انکم کا سیکشن ہی ختم کر دیا گیا اور غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس بھی ختم۔ تنخواہ دار طبقے کے سلیبس تھوڑے بہتر کیے گئے اور بیوروکریسی کی پینشن میں 17 فیصد اضافہ ہوا یعنی جن کے پاس پہلے سے ہے، انہیں مزید دیا گیا۔" سینئر صحافی و تجزیہ نگار نجم سیٹھی Najam Sethi Syeda Ayesha Naz
Arbaz Raza Bhutta19,618 views • 10 days ago

پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی اجازت مل بھی جاتی ہے اور اگر وہ کوئی ایسے اقدامات کریں جن سے اسٹیبلشمنٹ خوش نہ ہو تو پھر ان کو ووٹ آف نو کانفیڈنس کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے۔ اور وہی آزاد جو ادھر اّدھر ہو رہے ہیں وہ نون لیگ کے ساتھ چلے جاتے ہیں، کیونکہ فرق صرف چار پانچ سیٹوں کا ہوتا ہے۔ تو اب ہو سکتا ہے ان پانچ میں سے دو تین پیپلز پارٹی کو مل جائیں، دو تین نون لیگ کو مل جائیں، اور پھر کسی بھی مرحلے پر انڈیپینڈنٹس مل کر ہی حکومت بناتے ہیں۔ کیونکہ انڈیپینڈنٹس تو آپ کو پتہ ہے کہ وہ واقعی انڈیپینڈنٹ نہیں ہوتے، ان کو کہیں نہ کہیں سے کنٹرول کیا جاتا ہے، ہماری تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ نگار نجم سیٹھی Najam Sethi
Arbaz Raza Bhutta20,688 views • 11 days ago

"پاکستان کا کردار واضح طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ دوسری طرف ایران میں بھی پاکستان کا کردار نمایاں ہے، ایرانی پارلیمنٹ میں جب حالات سنگین تھے تو پاکستان کے نعرے لگ رہے تھے۔ ادھر بھارت نے سفارت کاری، پیسے اور بندرگاہوں کے ذریعے ایران کے راستے سینٹرل ایشیا تک رسائی کے سارے منصوبے خود ہی ضائع کر دیے، بلکہ اعلانیہ کہہ دیا کہ وہ مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ یعنی ایران کے ساتھ بھارت کا تعلق عملاً ختم ہو گیا۔ جو منصوبہ پاکستان کو گھیرنے کے لیے بن رہا تھا، وہ مکمل طور پر الٹ گیا ہے، اور پاکستان ایک مڈل پاور بن کر سامنے آیا ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ سات دن بعد آبنائے ہرمز میں ٹیکس وصول کریں گے، امریکہ اس کی مخالفت کرے یا نہ کرے، لیکن ایران کا ارادہ واضح ہے۔" دانیال عزیز Daniyal Aziz Amir Mateen
Arbaz Raza Bhutta10,567 views • 5 days ago

"یہ معاہدہ دراصل ایک "فریم ورک" ہے، مکمل حل نہیں۔ جو ابھی طے ہوگا وہ بس یہ ہے کہ جنگ بند، ناکہ بندی ختم، اور اگلے 60 دن میں باقی سب بات کریں گے۔ 60 دن میں جو طے ہونا ہے وہ اصل پیچیدہ معاملات ہیں۔ ایران کے منجمد اثاثے کس مرحلے میں ملیں گے۔ آبنائے ہرمز کی ملکیت اور فیس کا سوال — ایران اور عمان مل کر کچھ نہ کچھ چارج کریں گے۔ یورینیم اور نیوکلیئر انسپیکشن کا معاملہ۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کہہ رہا ہے "ایک دھیلا نہیں دیں گے" — لیکن پیسے دینے پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔ یعنی ٹرمپ اپنے عوام کو کچھ اور بتائے گا، حقیقت کچھ اور ہوگی۔" سینئر صحافی و تجزیہ نگار نجم سیٹھی Najam Sethi Syeda Ayesha Naz
Arbaz Raza Bhutta18,186 views • 10 days ago

مجھے یاد ہےایک دفعہ الیکشن کمپین میں نواز شریف صاحب نے کہا تھا: "ترقی دیکھنی ہے تو لاہور جا کے دیکھیں، شہباز شریف نے کتنی ترقی کرا دی ہے۔" یہ بات وہ راجن پور میں کھڑے ہو کر راجن پور کے لوگوں کو کہہ رہے تھے۔ راجن پور کے لوگوں کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے نعرے مار مار کے گلے بٹھا لیے، واہ واہ کی، خوب داد دی، لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ راجن پور کی ترقی کی بھی کوئی بات کر لیں۔ ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ، خانیوال، لودھراں، رحیم یار خان، بہاول نگر اور باقی جتنے اضلاع ہیں، ان کی بات نہیں کرنی۔ سینٹرل پنجاب اور نارتھ پنجاب کے بہت سے علاقوں کی بھی بات نہیں کرنی۔ انہوں نے کہا، "جناب، اگر ترقی دیکھنی ہے تو لاہور دیکھیں۔" اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ سارا پیسہ آپ نے وہاں لگا دیا۔ پورے پنجاب سے لوگ، کھوتے ریڑھی پر بیٹھ کر یا میری طرح کسی نہ کسی ذریعے سے، لاہور پہنچ گئے۔ اب آبادی کا بم وہاں پھٹ چکا ہے اور اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ روؤف کلاسرا Rauf Klasra
Arbaz Raza Bhutta30,105 views • 18 days ago