Asad Qaiser's banner
Asad Qaiser's profile picture

Asad Qaiser

@AsadQaiserPTI • 1,622,444 subscribers

Former-Speaker National Assembly of Pakistan

Shorts

رجیم چینج آپریشن کے دوران پی ڈی ایم جماعتیں یہ جھوٹ بھی بڑی تواتر سے بولتی تھی کہ عمران خان نے سی پیک پر کام بند کیا جبکہ حقیقت کچھ یوں ہے ۔ #نااہل_حکمران_عوام_پریشان

رجیم چینج آپریشن کے دوران پی ڈی ایم جماعتیں یہ جھوٹ بھی بڑی تواتر سے بولتی تھی کہ عمران خان نے سی پیک پر کام بند کیا جبکہ حقیقت کچھ یوں ہے ۔ #نااہل_حکمران_عوام_پریشان

477,999 Aufrufe

آج وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ملاقات ہوئی، جس میں عمران خان کی رہائی، انصاف کی فراہمی، آئین و قانون کی بالادستی، امن و امان اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس طلب کرنے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کا فیصلہ کیا گیا۔ جمہوریت، آئین کی بالادستی اور پارلیمانی نظام کے استحکام کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے اور مشترکہ جدوجہد کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی پنجاب، سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے، جہاں سیاسی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ عوامی رابطہ مہم بھی چلائی جائے گی۔ مختلف صوبوں میں پارٹی تنظیموں سے مشاورت کے بعد اجلاسوں اور ملاقاتوں کا شیڈول طے کیا جائے گا اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ عمران خان، بشریٰ بی بی اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، انصاف کی فراہمی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ وکلاء، طلبہ، کسانوں، مزدوروں اور دیگر طبقات کے جرگے بھی منعقد کیے جائیں گے۔

آج وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ملاقات ہوئی، جس میں عمران خان کی رہائی، انصاف کی فراہمی، آئین و قانون کی بالادستی، امن و امان اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس طلب کرنے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کا فیصلہ کیا گیا۔ جمہوریت، آئین کی بالادستی اور پارلیمانی نظام کے استحکام کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے اور مشترکہ جدوجہد کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی پنجاب، سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے، جہاں سیاسی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ عوامی رابطہ مہم بھی چلائی جائے گی۔ مختلف صوبوں میں پارٹی تنظیموں سے مشاورت کے بعد اجلاسوں اور ملاقاتوں کا شیڈول طے کیا جائے گا اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ عمران خان، بشریٰ بی بی اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، انصاف کی فراہمی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ وکلاء، طلبہ، کسانوں، مزدوروں اور دیگر طبقات کے جرگے بھی منعقد کیے جائیں گے۔

37,421 Aufrufe

میں پی ٹی آئی میں ہوں اور پی ٹی آئی میری پارٹی ہے۔

میں پی ٹی آئی میں ہوں اور پی ٹی آئی میری پارٹی ہے۔

301,150 Aufrufe

صوابی میں عوام کی کثیر تعداد نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی ۔ #PTIProtestOnFriday #قرآن_کی_بےحرمتی_نامنظور

صوابی میں عوام کی کثیر تعداد نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی ۔ #PTIProtestOnFriday #قرآن_کی_بےحرمتی_نامنظور

193,379 Aufrufe

عمران خان سے جیل میں ملاقات پر پابندی کے خلاف تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے پارلیمنٹ ہاؤس تک احتجاج۔

عمران خان سے جیل میں ملاقات پر پابندی کے خلاف تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے پارلیمنٹ ہاؤس تک احتجاج۔

135,255 Aufrufe

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پارٹی کارکنان کے ہمراہ جی 13 گولڑہ موڑ میں موجود ۔ہمارا پرامن احتجاج جاری رہے گا جب تک چیئرمین عمران خان کو رہا نہیں کیا جاتا ۔

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پارٹی کارکنان کے ہمراہ جی 13 گولڑہ موڑ میں موجود ۔ہمارا پرامن احتجاج جاری رہے گا جب تک چیئرمین عمران خان کو رہا نہیں کیا جاتا ۔

130,383 Aufrufe

آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے لیگل ٹیم کے ہمراہ مختلف کیسز میں پیش ہوا ۔ اللّه تعالیٰ کی ذات پر یقین ہے کہ تمام من گھڑت کیسز منطقی انجام تک پہنچیں گے اور ملک میں آئین اور قانون کا بول بالا ہوگا انشاء اللّه ۔

آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنے لیگل ٹیم کے ہمراہ مختلف کیسز میں پیش ہوا ۔ اللّه تعالیٰ کی ذات پر یقین ہے کہ تمام من گھڑت کیسز منطقی انجام تک پہنچیں گے اور ملک میں آئین اور قانون کا بول بالا ہوگا انشاء اللّه ۔

119,459 Aufrufe

سینئر سیاست دان اور رکنِ قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ کی رہائش گاہ پر ان کی عیادت کی، ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی اللہ تعالیٰ انہیں صحتِ کاملہ عطا فرمائے ۔

سینئر سیاست دان اور رکنِ قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ کی رہائش گاہ پر ان کی عیادت کی، ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی اللہ تعالیٰ انہیں صحتِ کاملہ عطا فرمائے ۔

30,459 Aufrufe

سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج دورانی کی وفات پر انکے بیٹے سے اظہار تعزیت کی اور انکی روح کی ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔

سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج دورانی کی وفات پر انکے بیٹے سے اظہار تعزیت کی اور انکی روح کی ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔

28,133 Aufrufe

مرکزی رہنما پی ٹی آئی اور سیکریٹری جنرل تحریک تحفظ آئین پاکستان اسد قیصر کی جیل میں ناحق قید پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ کے گھر آمد، جہاں انہوں نے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ڈاکٹر صاحبہ کی خیریت دریافت کی۔ اسد قیصر نے ڈاکٹر صاحبہ کے عزم اور دلیری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ کرنے کے باوجود ڈاکٹر صاحبہ فاشسٹ حکومت کے سامنے نہیں جھکیں اور عمران خان کے نظریے کے عزم کو بلند رکھا ہوا ہے۔ فاشسٹ حکومت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کو ان کے جائز قانونی حقوق اور علاج معالجے کی سہولیات سے بھی محروم رکھ رہی ہے، جو انتہائی قابلِ مذمت اور افسوس ناک ہے۔

مرکزی رہنما پی ٹی آئی اور سیکریٹری جنرل تحریک تحفظ آئین پاکستان اسد قیصر کی جیل میں ناحق قید پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ کے گھر آمد، جہاں انہوں نے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ڈاکٹر صاحبہ کی خیریت دریافت کی۔ اسد قیصر نے ڈاکٹر صاحبہ کے عزم اور دلیری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ کرنے کے باوجود ڈاکٹر صاحبہ فاشسٹ حکومت کے سامنے نہیں جھکیں اور عمران خان کے نظریے کے عزم کو بلند رکھا ہوا ہے۔ فاشسٹ حکومت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کو ان کے جائز قانونی حقوق اور علاج معالجے کی سہولیات سے بھی محروم رکھ رہی ہے، جو انتہائی قابلِ مذمت اور افسوس ناک ہے۔

18,762 Aufrufe

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر آج اے ٹی سی اسلام آباد میں طاہر سپرا کی عدالت میں پیش ہوئے

سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر آج اے ٹی سی اسلام آباد میں طاہر سپرا کی عدالت میں پیش ہوئے

19,338 Aufrufe

Anbar interchange Swabi #ReleaseImranKhan

Anbar interchange Swabi #ReleaseImranKhan

49,248 Aufrufe

صوابی کی گلی گلی میں "آئین بچاو" ریلیاں نکالی گئی۔آئین بچاو تحریک ملک کی حقیقی آزادی ، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی تک جاری رہے گی۔پوری قوم آئین کی بالادستی کیلئے چیف جسٹس کے ساتھ کھڑی ہے ۔

صوابی کی گلی گلی میں "آئین بچاو" ریلیاں نکالی گئی۔آئین بچاو تحریک ملک کی حقیقی آزادی ، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی تک جاری رہے گی۔پوری قوم آئین کی بالادستی کیلئے چیف جسٹس کے ساتھ کھڑی ہے ۔

38,506 Aufrufe

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا دھرنا پانچویں روز میں داخل۔ قائدِ حزبِ اختلاف، سربراہِ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محترم مشر محمود خان اچکزئی کے زیرِ صدارت اہم اجلاس اس وقت پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری ہے۔

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا دھرنا پانچویں روز میں داخل۔ قائدِ حزبِ اختلاف، سربراہِ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی محترم مشر محمود خان اچکزئی کے زیرِ صدارت اہم اجلاس اس وقت پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری ہے۔

10,537 Aufrufe

Videos

AsadQaiserPTI's profile picture

جو گورنر راج اور ہمارے صوبے میں ایمرجنسی لگائی گئی ہے، سب سے پہلے تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف گورنر راج لگا ہے اور کہتے ہیں کہ گورنر راج آئین میں ہے، ایمرجنسی آئین میں ہے۔ تو ایک صوبے میں کچھ ایریاز میں گورنر راج ہے اور کچھ ایریاز میں ایمرجنسی ہے۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایمرجنسی میں جو انہوں نے کمیٹی بنائی ہے، یہ کمیٹی کس قانون کے تحت بنائی ہے؟ کوئی قانون ہے اس کا؟ یعنی جو غیر قانونی اور غیر آئینی کام ہو رہے ہیں، یہ میں نہیں کہتا، یہ فاروق ایچ نائیک نے کہا، جو ڈپٹی اسپیکر صاحب، آپ کی جماعت پیپلز پارٹی کا سب سے مایہ ناز آدمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو ایمرجنسی لگی ہے اور وہاں جو کمیٹی بنائی ہے، یہ غیر آئینی ہے۔ کیا پارلیمنٹ اس غیر آئینی اقدام کے خلاف کوئی قرارداد لائے گی؟ خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کا گورنر ہے اور انہوں نے اس اقدام کی اونرشپ لی ہے۔ ان کو اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔

Asad Qaiser

53,751 Aufrufe • vor 2 Tagen

AsadQaiserPTI's profile picture

ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ سب سے پہلے آپ ہمیں عمران خان تک ایکسیس دیں۔ اور ہم نے کہا کہ ہم تمام مطالبات واپس کرتے ہیں، ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہماری پولیٹیکل لیڈرشپ کو عمران خان تک رسائی دی جائے۔ تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک وہ ایگریمنٹ میں شامل نہیں ہوگا اور اس وقت وہ قابلِ غور نہیں ہے۔ تو ہم نے پھر سوچا کہ اگر عمران خان تک ہمیں ایکسیس نہیں دی جاتی تو دیکھیں، اگر مسلم لیگ (ن) ہر معاملہ نواز شریف یا شہباز شریف سے پوچھ کر کرتی ہے، یا پیپلز پارٹی ہر معاملہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری سے پوچھ کر کرتی ہے، تو ہمارا لیڈر عمران خان، جو سب سے مقبول لیڈر ہے اور جیل میں ہے، تو جو بھی پالیسی بنے گی کیا ہم اس سے مشاورت نہیں کریں گے؟ کیا ہم اس کی ڈائریکشن نہیں لیں گے؟ تو اس لیے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ جو اس کو دہشت گردی کی شکل دے رہا ہے ۔ بالکل ایسا نہیں ہے۔ میں آپ کے سامنے وہ چیز رکھتا ہوں جو ہم اس میں شامل کرنا چاہتے تھے کہ: “کے پی میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کی جان و مال کے تحفظ اور مستقل، پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔ وفاق اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے، باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع، قابلِ عمل اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں گے، اور اس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے ذمہ دار لیڈرز اور اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا تاکہ جو پالیسی بنے اسے پوری عوام کا اعتماد حاصل ہو"-

Asad Qaiser

422,327 Aufrufe • vor 28 Tagen

AsadQaiserPTI's profile picture

حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کا جواز پیش کرتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی، لیکن افسوس کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے صوبے کی پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ آج میرے گھر پر پولیس کی بھاری نفری کا چھاپہ اس طرزِ عمل کی ایک واضح مثال ہے۔ اگر گورنر راج کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا تو پھر سیاسی مخالفین کے گھروں پر چھاپے کیوں مارے جا رہے ہیں؟ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کہاں ہے؟ عوام کے جان و مال کا تحفظ کہاں ہے؟ آخر خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرکے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟صوبے میں امن و امان کی بحالی کے بجائے سیاسی کارکنوں اور مخالفین کو نشانہ بنانا حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم ایسے ہتھکنڈوں سے نہ خوفزدہ ہوں گے اور نہ ہی اپنے آئینی، جمہوری اور سیاسی مؤقف سے پیچھے ہٹیں گے۔ فوری طور پر سیاسی انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر تمام گرفتار سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور اراکینِ اسمبلی کو رہا کیا جائے۔

Asad Qaiser

271,911 Aufrufe • vor 19 Tagen

AsadQaiserPTI's profile picture

میں نے ابھی وفاقی حکومت کے نمائندوں کی پریس کانفرنس سنی ہے اور اس حوالے سے چند بنیادی حقائق اور اپنے مؤقف کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ میرے حوالے سے جو بات کی گئی ہے، میں اس کی تائید کرتا ہوں کہ ہمارے لیے پاکستان کا امن، سلامتی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ سب سے اہم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم کسی قسم کے سمجھوتے کے قائل نہیں۔ لیکن میرا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب کوئی پالیسی مسلسل ناکامی کا شکار ہو، جب اس کے نتیجے میں امن قائم ہونے کے بجائے بدامنی بڑھتی جائے، تو اس پالیسی پر نظرثانی کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آج ہمیں سنجیدگی سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کے باوجود خیبر پختونخوا میں امن کیوں قائم نہیں ہو سکا؟ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ اور کیا موجودہ پالیسی واقعی مطلوبہ نتائج دے رہی ہے؟ خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ چالیس سال سے مختلف جنگوں اور پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ کبھی افغان جنگ، کبھی وار آن ٹیرر اور کبھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر ہمارے صوبے کو مسلسل آزمائشوں سے گزارا گیا۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں ہمارے لوگوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، کاروبار تباہ ہوئے، لاکھوں خاندان متاثر ہوئے اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوا۔ آخر خیبر پختونخوا کے عوام کا قصور کیا ہے؟ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ہمیں جینے دو، ہمارے بچوں کو امن دو اور ہمارے صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانا بند کرو۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی قیادت میں ایک وسیع البنیاد امن جرگہ منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، تاجر تنظیموں، کاروباری نمائندوں، حکومتی شخصیات اور گورنر خیبر پختونخوا سمیت تمام متعلقہ حلقوں نے شرکت کی۔ تفصیلی مشاورت کے بعد متفقہ اعلامیہ اور قرارداد منظور کی گئی، جس میں امن کے قیام کے لیے واضح سفارشات اور مطالبات پیش کیے گئے۔ یہ قرارداد اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو بھی ارسال کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ ان متفقہ سفارشات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ صوبے کی سیاسی قیادت اور عوامی نمائندوں کی اجتماعی آواز کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں قومی مسائل کے حل کے بجائے اختلافی آوازوں کو دبانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پہلے غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کیے جاتے تھے اور اب دہشت گردی کے الزامات کے ذریعے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ نہ قومی یکجہتی کے لیے مفید ہے اور نہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کا متبادل۔ ایک طرف ہمارے صوبے کے وزرا، منتخب اراکین قومی اسمبلی اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور مبینہ غیر قانونی حراستوں کے واقعات سامنے آتے ہیں، دوسری طرف صوبائی حکومت پر انتظامی ناکامی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ اگر صوبے کے منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات اور قانونی تحفظ کو ہی نظرانداز کیا جائے تو وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کیسے قائم ہوگا؟ اسی طرح خیبر پختونخوا کے مالی حقوق کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ سابق فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی، انتظامی ذمہ داریوں اور مالی ضروریات میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن این ایف سی کے تحت صوبے کے حصے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے درکار وسائل کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔ وفاقی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کوئی خیرات نہیں بلکہ وفاقی نظام کے تحت اس کا جائز حق ہیں۔ امن و امان کی ذمہ داریاں صوبے پر ڈال کر اسے مطلوبہ وسائل سے محروم رکھنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے بھی صوبائی حکومت نے اپنے حصے کے وسائل فراہم کیے ہیں، جبکہ وفاق کے ذمہ واجب الادا فنڈز کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اگر وفاق واقعی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے سیاسی بیانات کے بجائے عملی تعاون، وسائل کی فراہمی اور مشترکہ حکمت عملی پر توجہ دینا ہوگی۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ صوبے کے عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور جمہوری عمل کے لیے ایک انتہائی خطرناک قدم ہے۔

Asad Qaiser

222,093 Aufrufe • vor 21 Tagen

AsadQaiserPTI's profile picture

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان حسین احمد یوسفزئی پر مشتمل وفد نے امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں مہمان وفد نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن کی قومی اسمبلی میں تقریر کی بھرپور تائید کرتے ہوئے حکومتی وزراء کی جانب سے امیر جمعیت علمائے اسلام کی کردار کشی کی شدید مذمت کی۔ وفد نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں اور کردار کشی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے، اور سیاسی قیادت کے احترام کو ہر صورت ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔ ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں کی ناحق قید، انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھنے اور اہلِ خانہ و وکلاء کو ان تک رسائی نہ دینے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر اس طرزِ عمل کے نتیجے میں کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ وزیراعلی سہیل آفریدی ، سپیکر بابر سلیم سواتی ، صوبائی صدر جنید اکبر خان کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا گیا۔

Asad Qaiser

32,651 Aufrufe • vor 3 Tagen

AsadQaiserPTI's profile picture

میں آج ایک وضاحتی بیان دینا چاہتا ہوں۔ آج محسن نقوی صاحب نے پریس کانفرنس میں ہماری گفتگو اور دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کے حوالے سے بات کی۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان سب سے پہلے ہے اور پاکستان کے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ میں نے کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف تفصیل سے رکھا، اور وہی مکمل مؤقف عوام کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔ میں جس صوبے، خیبرپختونخوا، سے تعلق رکھتا ہوں وہ تقریباً چار دہائیوں سے بدامنی اور دہشت گردی کے اثرات برداشت کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے امن و امان کے ساتھ کاروبار، صنعت، سرمایہ کاری اور عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ میں نے سب سے پہلے خیبرپختونخوا اسمبلی کی متفقہ قرارداد سامنے رکھی، جس کے حوالے سے ہمارا مؤقف تھا کہ امن و امان اور دہشت گردی سے متعلق آئندہ پالیسی بناتے وقت اس قرارداد کو مدنظر رکھا جائے۔ نیشنل ایکشن پلان اور دیگر پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے صوبے کی تمام پارلیمانی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت میں شامل کیا جائے۔ ہمارا مؤقف یہ بھی تھا کہ اگر وفاقی حکومت PTI کے ساتھ براہِ راست مشاورت نہیں کرنا چاہتی تو جماعت اسلامی، اے این پی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے ایک متفقہ لائحۂ عمل بنایا جائے؛ صوبائی حکومت ایسے اتفاقِ رائے کا احترام کرے گی 1/2

Asad Qaiser

92,466 Aufrufe • vor 28 Tagen

AsadQaiserPTI's profile picture

متحدہ عرب امارات ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، ہماری خواہش ہے کہ اس کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید بہتر ہوں۔ یو اے ای کی ترقی میں پاکستانی قوم کا بہت بڑا کردار ہے۔ میں خود سفر کر رہا تھا، وہاں جو رویہ رکھا گیا وہ انتہائی نامناسب تھا۔ ہماری فلائٹ کینسل ہوئی، ہم نے ہوٹل میں قیام کرنا چاہا، لیکن ہمارے پاکستانیوں کے ساتھ ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ ادھر اعلان ہو رہا تھا کہ صرف بھارت اور امریکا کے پاسپورٹ ہولڈرز کو انٹرٹین کیا جائے گا۔ ہم نے احتجاج کیا، لیکن ان کے رویے پر افسوس ہے۔ اس دن میں نے محسوس کیا کہ پاکستان کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا، وہ مناسب نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ڈپلومیٹک چینلز ہیں، ان کو اس معاملے کو اٹھانا چاہیے۔ پاکستانی عوام یو اے ای کی حکومت کی عزت کرتی ہے، محبت کرتی ہے۔ ابھی میرے پاس ایک وفد آیا کہ ہمارے ساتھ بھی رویہ مناسب نہیں تھا۔ پاکستان نے تو امریکا ایران تنازعے میں بہت مثبت رول پلے کیا۔ میں فارن آفس اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کو یو اے ای اتھارٹیز کے ساتھ ڈسکس کریں۔

Asad Qaiser

168,159 Aufrufe • vor 2 Monaten

AsadQaiserPTI's profile picture

میں اس وقت ہمارے ایم پی اے عبدالکریم خان کے ڈیرے پر ہوں، کل رات یہاں اس ڈیرے پر حملہ ہوا ہے۔ چادر اور چار دیواری کی بے توقیری کی گئی، گھر کے اندر بھی توڑ پھوڑ کی گئی، خواتین اور بچوں کی بے حرمتی کی گئی اور یہاں جتنی گاڑیاں تھیں، ان کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ملک اس طرح چلے گا؟ آپ نے عدالتیں بنائی ہیں، پولیس ہے، کئی ادارے ہیں، تو ان کا کیا کردار ہے؟ یہ ڈکلیئر کر دیں کہ یہ ملک نہیں، جنگل ہے، بنانا ریپبلک ہے۔ یہ آئین کس لیے بنایا ہے، یہ قانون کس لیے بنایا ہے۔ ہم بالکل واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا جمہوری حق ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ ہمارا جو جمہوری حق ہے، آئین ہمیں حق دیتا ہے، قانون ہمیں حق دیتا ہے، وہ کوئی ہم سے نہیں چھین سکتا۔ آپ جتنا جبر کر سکتے ہو، جتنے ظلم کر سکتے ہو، ان شاء اللہ ہم کھڑے رہیں گے اور آپ کے جبر اور آپ کے ظلم کا مقابلہ کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ گورنر صاحب نے کس قانون کے تحت سکیورٹی کی میٹنگ کی ہے؟ کیا آپ نے گورنر راج لگایا ہے، آپ نے ایمرجنسی لگائی ہے؟ کس قانون کے تحت گورنر سکیورٹی میٹنگ کر رہے ہیں۔ میں بلاول صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں، بلاول صاحب، آپ تو جمہوریت کے بڑے چیمپئن ہیں۔ بلاول بھٹو جمہوریت کا بہت راگ الاپتے ہیں۔ آپ بینظیر بھٹو کے فرزند اور ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں۔ بلاول صاحب، کیا یہ آپ کی جمہوریت ہے؟ آپ اس ظلم کے ساتھ باقاعدہ شریک ہیں، آپ باقاعدہ اس حکومت میں شامل ہیں اور آپ کا گورنر غیر قانونی کام کر رہا ہے۔ہمیں کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا ساتھ نہیں دے رہے۔ آپ نے بائیس آپریشن کیے، کیا ان بائیس آپریشنز کے بعد امن قائم ہوا؟ کیا ان بائیس آپریشنز کے بعد یہاں دہشت گردی کا خاتمہ ہوا۔ ہماری تو بالکل کلیر پالیسی ہے کہ ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم امن کی بحالی چاہتے ہیں، ہر صورت میں اپنے لوگوں کو امن دینا چاہتے ہیں، لیکن آپ کو اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

Asad Qaiser

51,732 Aufrufe • vor 25 Tagen

AsadQaiserPTI's profile picture

اس وقت جو گورنر راج کی بات کر رہے ہیں، اس سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے، لگانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ، بالکل گورنر راج لگانی ہے، یا ایمرجنسی لگانی ہے۔ ویسے بھی صوبائی حکومت اور اسمبلی کا جو مینڈیٹ ہوتا ہے، حکومت کے پاس جو اختیار ہوتا ہے، وہ تو ویسے بھی چھینا گیا ہے، زبردستی چھینا گیا ہے۔ کیا اس طرح ہوتا ہے کہ اراکین اسمبلی اغوا ہوتے ہیں، اس طرح ہوتا ہے کہ پولیس بالکل بے بس ہو جاتی ہے، صوبائی حکومت کے کسی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوتا، احکامات کہاں سے ہوتے ہیں، آرڈر کہاں سے ملتے ہیں؟ ویسے بھی عملاً انہوں نے اپنا راج قائم کیا ہوا ہے۔ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کریں لیکن ایک بات یاد رکھیں، گورنر راج کے لیے جو ماحول بنانا چاہتے ہیں، جو ڈرامہ رچانا چاہتے ہیں، تو بلوچستان میں کیا حال ہے، وہاں کیا ریشو ہے، آزاد کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟ پھر تو پورے ملک میں ایمرجنسی ڈکلیئر کریں گے، ادھر پنجاب میں جو کچے کے ڈاکوؤں کی حکمرانی ہے۔انہوں نے ویسے بھی ماورائے آئین سارے اقدامات کیے ہیں، لیکن گورنر راج شہباز شریف کی حکومت کو فارغ کرے گا، یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماریں گے۔ ہم ہر صورت میں اپنی جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔

Asad Qaiser

41,710 Aufrufe • vor 1 Monat

AsadQaiserPTI's profile picture

دوسرا معاملہ پولیس ایکٹ کا تھا۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ پولیس ایکٹ پر بات نہیں ہوسکتی۔ اسے ضرور revisit کیا جاسکتا ہے، لیکن پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے متعلقہ قوانین کو بھی سامنے رکھا جائے۔ اگر دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو امن و امان سے متعلق انتظامی اختیارات حاصل ہیں تو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے اختیارات کے معاملے پر بھی یکساں اصولوں کے تحت بات ہونی چاہیے۔ صوبے کا چیف ایگزیکٹو اگر امن و امان کا جواب دہ ہے تو اہم پولیس تقرریوں اور انتظامی فیصلوں میں اس سے مشاورت کا مؤثر طریقہ بھی ہونا چاہیے۔ تیسرا نکتہ یہ تھا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے معاملے میں سنجیدہ نہیں۔ اس کے جواب میں میں نے کمیٹی کے سامنے پولیس کے بجٹ، تنخواہوں، جدید سازوسامان، ترقیاتی منصوبوں اور capacity enhancement سے متعلق اعداد و شمار رکھے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت نے پولیس کی استعداد بڑھانے، اہلکاروں کی مراعات بہتر بنانے اور حساس اضلاع میں پولیس کو مضبوط کرنے کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص کیے ہیں۔ پانچ حساس اضلاع میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے منصوبے کے حوالے سے بھی ہمارا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت نے اپنے حصے کے فنڈز بجٹ میں مختص کیے، جبکہ وفاقی حصے کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔ ان تمام اعداد و شمار اور مختص رقوم کی تفصیلات بھی کمیٹی کے سامنے رکھی گئی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ امن و امان کسی ایک جماعت، حکومت یا ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق، صوبے، تمام سیاسی جماعتوں، سکیورٹی اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان سنجیدہ اور مسلسل مشاورت ضروری ہے۔ پاکستان سب سے پہلے ہے اور ہمیں آئین، قانون اور باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا.2/2

Asad Qaiser

36,945 Aufrufe • vor 28 Tagen