
Asad Qaiser
@AsadQaiserPTI • 1,622,345 subscribers
Former-Speaker National Assembly of Pakistan
Shorts
Videos

جو گورنر راج اور ہمارے صوبے میں ایمرجنسی لگائی گئی ہے، سب سے پہلے تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک طرف گورنر راج لگا ہے اور کہتے ہیں کہ گورنر راج آئین میں ہے، ایمرجنسی آئین میں ہے۔ تو ایک صوبے میں کچھ ایریاز میں گورنر راج ہے اور کچھ ایریاز میں ایمرجنسی ہے۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایمرجنسی میں جو انہوں نے کمیٹی بنائی ہے، یہ کمیٹی کس قانون کے تحت بنائی ہے؟ کوئی قانون ہے اس کا؟ یعنی جو غیر قانونی اور غیر آئینی کام ہو رہے ہیں، یہ میں نہیں کہتا، یہ فاروق ایچ نائیک نے کہا، جو ڈپٹی اسپیکر صاحب، آپ کی جماعت پیپلز پارٹی کا سب سے مایہ ناز آدمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو ایمرجنسی لگی ہے اور وہاں جو کمیٹی بنائی ہے، یہ غیر آئینی ہے۔ کیا پارلیمنٹ اس غیر آئینی اقدام کے خلاف کوئی قرارداد لائے گی؟ خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کا گورنر ہے اور انہوں نے اس اقدام کی اونرشپ لی ہے۔ ان کو اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔
Asad Qaiser57,439 views • 3 days ago

میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی دونوں قیادتوں، کو آصف زرداری ،بلاول بھٹو زرداری، میاں نواز شریف اور شہباز شریف سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم نے یہ جو فیصلہ کیا ہے، تم نے جمہوریت پر حملہ کیا ہے۔ تم نے خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا ہے۔ جس طرح آپ نے صوبے کو دلدل میں پھنسا دیا ہے، اس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ جو تم اقدامات کررہے ہوں ، اس کو واپس لو۔ صوبے کے حقوق بحال کرو اور جو ہمارے جائز مطالبات ہیں، ان کو مانیں۔ میں اس موقع پر پھر بھی کہوں گا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں۔ ہم بالکل یکسوئی کے ساتھ اپنی قانونی اور آئینی جنگ لڑیں گے۔ ہم کسی اشتعال میں نہیں آئیں گے۔ ہماری پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی جو فیصلہ کرے گی، ان شاء اللہ، اس کے مطابق ہم اپنا آئندہ لائحہ عمل دینگے۔
Asad Qaiser379,077 views • 21 days ago

ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ سب سے پہلے آپ ہمیں عمران خان تک ایکسیس دیں۔ اور ہم نے کہا کہ ہم تمام مطالبات واپس کرتے ہیں، ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہماری پولیٹیکل لیڈرشپ کو عمران خان تک رسائی دی جائے۔ تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک وہ ایگریمنٹ میں شامل نہیں ہوگا اور اس وقت وہ قابلِ غور نہیں ہے۔ تو ہم نے پھر سوچا کہ اگر عمران خان تک ہمیں ایکسیس نہیں دی جاتی تو دیکھیں، اگر مسلم لیگ (ن) ہر معاملہ نواز شریف یا شہباز شریف سے پوچھ کر کرتی ہے، یا پیپلز پارٹی ہر معاملہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری سے پوچھ کر کرتی ہے، تو ہمارا لیڈر عمران خان، جو سب سے مقبول لیڈر ہے اور جیل میں ہے، تو جو بھی پالیسی بنے گی کیا ہم اس سے مشاورت نہیں کریں گے؟ کیا ہم اس کی ڈائریکشن نہیں لیں گے؟ تو اس لیے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ جو اس کو دہشت گردی کی شکل دے رہا ہے ۔ بالکل ایسا نہیں ہے۔ میں آپ کے سامنے وہ چیز رکھتا ہوں جو ہم اس میں شامل کرنا چاہتے تھے کہ: “کے پی میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کی جان و مال کے تحفظ اور مستقل، پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔ وفاق اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے، باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع، قابلِ عمل اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں گے، اور اس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے ذمہ دار لیڈرز اور اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا تاکہ جو پالیسی بنے اسے پوری عوام کا اعتماد حاصل ہو"-
Asad Qaiser422,327 views • 28 days ago

حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کا جواز پیش کرتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی، لیکن افسوس کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے صوبے کی پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ آج میرے گھر پر پولیس کی بھاری نفری کا چھاپہ اس طرزِ عمل کی ایک واضح مثال ہے۔ اگر گورنر راج کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ تھا تو پھر سیاسی مخالفین کے گھروں پر چھاپے کیوں مارے جا رہے ہیں؟ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کہاں ہے؟ عوام کے جان و مال کا تحفظ کہاں ہے؟ آخر خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرکے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟صوبے میں امن و امان کی بحالی کے بجائے سیاسی کارکنوں اور مخالفین کو نشانہ بنانا حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم ایسے ہتھکنڈوں سے نہ خوفزدہ ہوں گے اور نہ ہی اپنے آئینی، جمہوری اور سیاسی مؤقف سے پیچھے ہٹیں گے۔ فوری طور پر سیاسی انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر تمام گرفتار سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور اراکینِ اسمبلی کو رہا کیا جائے۔
Asad Qaiser271,966 views • 19 days ago

میں نے ابھی وفاقی حکومت کے نمائندوں کی پریس کانفرنس سنی ہے اور اس حوالے سے چند بنیادی حقائق اور اپنے مؤقف کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ میرے حوالے سے جو بات کی گئی ہے، میں اس کی تائید کرتا ہوں کہ ہمارے لیے پاکستان کا امن، سلامتی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ سب سے اہم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم کسی قسم کے سمجھوتے کے قائل نہیں۔ لیکن میرا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب کوئی پالیسی مسلسل ناکامی کا شکار ہو، جب اس کے نتیجے میں امن قائم ہونے کے بجائے بدامنی بڑھتی جائے، تو اس پالیسی پر نظرثانی کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آج ہمیں سنجیدگی سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کے باوجود خیبر پختونخوا میں امن کیوں قائم نہیں ہو سکا؟ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ اور کیا موجودہ پالیسی واقعی مطلوبہ نتائج دے رہی ہے؟ خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ چالیس سال سے مختلف جنگوں اور پالیسیوں کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ کبھی افغان جنگ، کبھی وار آن ٹیرر اور کبھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر ہمارے صوبے کو مسلسل آزمائشوں سے گزارا گیا۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں ہمارے لوگوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں، کاروبار تباہ ہوئے، لاکھوں خاندان متاثر ہوئے اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوا۔ آخر خیبر پختونخوا کے عوام کا قصور کیا ہے؟ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ہمیں جینے دو، ہمارے بچوں کو امن دو اور ہمارے صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانا بند کرو۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی قیادت میں ایک وسیع البنیاد امن جرگہ منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، تاجر تنظیموں، کاروباری نمائندوں، حکومتی شخصیات اور گورنر خیبر پختونخوا سمیت تمام متعلقہ حلقوں نے شرکت کی۔ تفصیلی مشاورت کے بعد متفقہ اعلامیہ اور قرارداد منظور کی گئی، جس میں امن کے قیام کے لیے واضح سفارشات اور مطالبات پیش کیے گئے۔ یہ قرارداد اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو بھی ارسال کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ ان متفقہ سفارشات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ صوبے کی سیاسی قیادت اور عوامی نمائندوں کی اجتماعی آواز کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں قومی مسائل کے حل کے بجائے اختلافی آوازوں کو دبانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پہلے غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کیے جاتے تھے اور اب دہشت گردی کے الزامات کے ذریعے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔ یہ رویہ نہ قومی یکجہتی کے لیے مفید ہے اور نہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کا متبادل۔ ایک طرف ہمارے صوبے کے وزرا، منتخب اراکین قومی اسمبلی اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور مبینہ غیر قانونی حراستوں کے واقعات سامنے آتے ہیں، دوسری طرف صوبائی حکومت پر انتظامی ناکامی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ اگر صوبے کے منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات اور قانونی تحفظ کو ہی نظرانداز کیا جائے تو وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کیسے قائم ہوگا؟ اسی طرح خیبر پختونخوا کے مالی حقوق کا معاملہ بھی انتہائی سنگین ہے۔ سابق فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی، انتظامی ذمہ داریوں اور مالی ضروریات میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن این ایف سی کے تحت صوبے کے حصے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے درکار وسائل کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔ وفاقی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صوبے کے آئینی اور مالی حقوق کوئی خیرات نہیں بلکہ وفاقی نظام کے تحت اس کا جائز حق ہیں۔ امن و امان کی ذمہ داریاں صوبے پر ڈال کر اسے مطلوبہ وسائل سے محروم رکھنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے بھی صوبائی حکومت نے اپنے حصے کے وسائل فراہم کیے ہیں، جبکہ وفاق کے ذمہ واجب الادا فنڈز کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اگر وفاق واقعی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسے سیاسی بیانات کے بجائے عملی تعاون، وسائل کی فراہمی اور مشترکہ حکمت عملی پر توجہ دینا ہوگی۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ یہ صوبے کے عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور جمہوری عمل کے لیے ایک انتہائی خطرناک قدم ہے۔
Asad Qaiser222,093 views • 21 days ago

میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس معاملے میں کوشش کی اور ہمت کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ حکومت نے ان کی بات نہیں مانی، لیکن ہم ان کی جدوجہد اور کوششوں کو سراہتے ہیں اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتیں، خصوصاً جماعتِ اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر سیاسی جماعتیں اس غیر جمہوری رویے کے خلاف متحد ہوں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، ہم مایوس نہیں ہیں اور اپنی جمہوری و قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
Asad Qaiser200,245 views • 21 days ago

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان حسین احمد یوسفزئی پر مشتمل وفد نے امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں مہمان وفد نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمٰن کی قومی اسمبلی میں تقریر کی بھرپور تائید کرتے ہوئے حکومتی وزراء کی جانب سے امیر جمعیت علمائے اسلام کی کردار کشی کی شدید مذمت کی۔ وفد نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں اور کردار کشی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے، اور سیاسی قیادت کے احترام کو ہر صورت ملحوظِ خاطر رکھا جانا چاہیے۔ ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں کی ناحق قید، انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھنے اور اہلِ خانہ و وکلاء کو ان تک رسائی نہ دینے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر اس طرزِ عمل کے نتیجے میں کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ وزیراعلی سہیل آفریدی ، سپیکر بابر سلیم سواتی ، صوبائی صدر جنید اکبر خان کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا گیا۔
Asad Qaiser32,937 views • 3 days ago

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایمرجنسی میں جو انہوں نے کمیٹی بنائی ہے، یہ کمیٹی کس قانون کے تحت بنائی ہے؟ کوئی قانون ہے اس کا؟ یعنی جو غیر قانونی اور غیر آئینی کام ہو رہے ہیں۔ یہ میں نہیں کہتا، یہ فاروق ایچ نائیک نے کہا، جو ڈپٹی اسپیکر صاحب آپکی جماعت پیپلز پارٹی کا سب سے مایہ ناز آدمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو ایمرجنسی لگی ہے اور وہاں جو کمیٹی بنائی ہے، یہ غیر آئینی ہے۔ کیا پارلیمنٹ اس غیر آئینی اقدام کے خلاف کوئی قرارداد لائے گی؟ خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کا گورنر ہے اور انہوں نے اس اقدام کی اونرشپ لی ہے۔ ان کو اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔
Asad Qaiser17,132 views • 3 days ago

میں آج ایک وضاحتی بیان دینا چاہتا ہوں۔ آج محسن نقوی صاحب نے پریس کانفرنس میں ہماری گفتگو اور دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کے حوالے سے بات کی۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان سب سے پہلے ہے اور پاکستان کے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ میں نے کمیٹی کے سامنے اپنا مؤقف تفصیل سے رکھا، اور وہی مکمل مؤقف عوام کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔ میں جس صوبے، خیبرپختونخوا، سے تعلق رکھتا ہوں وہ تقریباً چار دہائیوں سے بدامنی اور دہشت گردی کے اثرات برداشت کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے امن و امان کے ساتھ کاروبار، صنعت، سرمایہ کاری اور عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ میں نے سب سے پہلے خیبرپختونخوا اسمبلی کی متفقہ قرارداد سامنے رکھی، جس کے حوالے سے ہمارا مؤقف تھا کہ امن و امان اور دہشت گردی سے متعلق آئندہ پالیسی بناتے وقت اس قرارداد کو مدنظر رکھا جائے۔ نیشنل ایکشن پلان اور دیگر پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے صوبے کی تمام پارلیمانی جماعتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت میں شامل کیا جائے۔ ہمارا مؤقف یہ بھی تھا کہ اگر وفاقی حکومت PTI کے ساتھ براہِ راست مشاورت نہیں کرنا چاہتی تو جماعت اسلامی، اے این پی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے ایک متفقہ لائحۂ عمل بنایا جائے؛ صوبائی حکومت ایسے اتفاقِ رائے کا احترام کرے گی 1/2
Asad Qaiser92,466 views • 28 days ago

وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے راستوں کی بندش کی پُرزور مذمت کرتا ہوں۔ پُرامن احتجاج کی اجازت پاکستان کا آئین دیتا ہے۔ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں مریم نواز، حمزہ شہباز، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن صاحب نے لانگ مارچ کیے، کسی بھی لانگ مارچ کا نہ راستہ روکا گیا اور نہ ہی اُن پر لاٹھی چارج یا آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ فارم 47 کی جعلی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، کیونکہ انہیں پتا ہے کہ پاکستانی عوام ان کی پالیسیوں کی وجہ سے رُل چکی ہے۔ غریب عوام کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہو چکی ہے۔ ان کی پالیسیوں سے کسان، مزدور، طلبہ، سرمایہ کار، غرض ہر طبقہ پریشان ہے۔ انہیں پتا ہے کہ اگر ایک دفعہ خوف کا بت ٹوٹ گیا تو پوری قوم اسلام آباد کا رخ کرے گی اور ظلم و جبر پر قائم یہ ناجائز حکومت ختم ہو کر رہے گی، ان شاء اللہ۔
Asad Qaiser103,145 views • 1 month ago

متحدہ عرب امارات ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، ہماری خواہش ہے کہ اس کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید بہتر ہوں۔ یو اے ای کی ترقی میں پاکستانی قوم کا بہت بڑا کردار ہے۔ میں خود سفر کر رہا تھا، وہاں جو رویہ رکھا گیا وہ انتہائی نامناسب تھا۔ ہماری فلائٹ کینسل ہوئی، ہم نے ہوٹل میں قیام کرنا چاہا، لیکن ہمارے پاکستانیوں کے ساتھ ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ ادھر اعلان ہو رہا تھا کہ صرف بھارت اور امریکا کے پاسپورٹ ہولڈرز کو انٹرٹین کیا جائے گا۔ ہم نے احتجاج کیا، لیکن ان کے رویے پر افسوس ہے۔ اس دن میں نے محسوس کیا کہ پاکستان کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا، وہ مناسب نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ڈپلومیٹک چینلز ہیں، ان کو اس معاملے کو اٹھانا چاہیے۔ پاکستانی عوام یو اے ای کی حکومت کی عزت کرتی ہے، محبت کرتی ہے۔ ابھی میرے پاس ایک وفد آیا کہ ہمارے ساتھ بھی رویہ مناسب نہیں تھا۔ پاکستان نے تو امریکا ایران تنازعے میں بہت مثبت رول پلے کیا۔ میں فارن آفس اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کو یو اے ای اتھارٹیز کے ساتھ ڈسکس کریں۔
Asad Qaiser168,159 views • 2 months ago

یہ ہر منٹ بعد اٹھتے تھے، کبھی زرداری صاحب سے بات کرتے تھے، کبھی شہباز شریف صاحب سے رابطہ کرتے تھے تو کبھی کسی اور جگہ سے ہدایات لیتے تھے۔ تو کیا ان کے پاس مینڈیٹ نہیں تھا؟ وہ ہر پانچ منٹ بعد اٹھ کر جا رہے تھے اور بات چیت کر رہے تھے۔ یہ تو مشاورت کا ایک فطری طریقہ کار ہوتا ہے، مینڈیٹ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ مشاورت نہ کریں؛ آپ نے مشاورت ہی کرنی ہوتی ہے کہ کیا پیش رفت ہو رہی ہے۔ ہم بھی وہی مشاورت کر رہے تھے۔ ہم محمود خان اچکزئی سے مشاورت کر رہے تھے؛ وہاں صرف سہیل آفریدی نہیں تھے بلکہ ہماری باقی تمام قیادت اور خیبر پختونخوا کی کابینہ موجود تھی، ہم سب کے ساتھ مسلسل مشاورت کر رہے تھے کیونکہ اتنا بڑا فیصلہ تنہا کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس لیے ہماری تمام متعلقہ افراد سے مکمل مشاورت جاری تھی۔
Asad Qaiser56,807 views • 27 days ago

میں اس وقت ہمارے ایم پی اے عبدالکریم خان کے ڈیرے پر ہوں، کل رات یہاں اس ڈیرے پر حملہ ہوا ہے۔ چادر اور چار دیواری کی بے توقیری کی گئی، گھر کے اندر بھی توڑ پھوڑ کی گئی، خواتین اور بچوں کی بے حرمتی کی گئی اور یہاں جتنی گاڑیاں تھیں، ان کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ملک اس طرح چلے گا؟ آپ نے عدالتیں بنائی ہیں، پولیس ہے، کئی ادارے ہیں، تو ان کا کیا کردار ہے؟ یہ ڈکلیئر کر دیں کہ یہ ملک نہیں، جنگل ہے، بنانا ریپبلک ہے۔ یہ آئین کس لیے بنایا ہے، یہ قانون کس لیے بنایا ہے۔ ہم بالکل واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا جمہوری حق ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ ہمارا جو جمہوری حق ہے، آئین ہمیں حق دیتا ہے، قانون ہمیں حق دیتا ہے، وہ کوئی ہم سے نہیں چھین سکتا۔ آپ جتنا جبر کر سکتے ہو، جتنے ظلم کر سکتے ہو، ان شاء اللہ ہم کھڑے رہیں گے اور آپ کے جبر اور آپ کے ظلم کا مقابلہ کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ گورنر صاحب نے کس قانون کے تحت سکیورٹی کی میٹنگ کی ہے؟ کیا آپ نے گورنر راج لگایا ہے، آپ نے ایمرجنسی لگائی ہے؟ کس قانون کے تحت گورنر سکیورٹی میٹنگ کر رہے ہیں۔ میں بلاول صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں، بلاول صاحب، آپ تو جمہوریت کے بڑے چیمپئن ہیں۔ بلاول بھٹو جمہوریت کا بہت راگ الاپتے ہیں۔ آپ بینظیر بھٹو کے فرزند اور ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں۔ بلاول صاحب، کیا یہ آپ کی جمہوریت ہے؟ آپ اس ظلم کے ساتھ باقاعدہ شریک ہیں، آپ باقاعدہ اس حکومت میں شامل ہیں اور آپ کا گورنر غیر قانونی کام کر رہا ہے۔ہمیں کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا ساتھ نہیں دے رہے۔ آپ نے بائیس آپریشن کیے، کیا ان بائیس آپریشنز کے بعد امن قائم ہوا؟ کیا ان بائیس آپریشنز کے بعد یہاں دہشت گردی کا خاتمہ ہوا۔ ہماری تو بالکل کلیر پالیسی ہے کہ ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم امن کی بحالی چاہتے ہیں، ہر صورت میں اپنے لوگوں کو امن دینا چاہتے ہیں، لیکن آپ کو اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
Asad Qaiser51,732 views • 26 days ago

ہمارے خیبر پختونخوا کے لوگوں کو عزت دیں، میں تو میاں نواز شریف صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ آپ کا ووٹ کو عزت دو والا معاملہ ہے؟ یہ جو آج بھی جو لوگ بیٹھے تھے، اس میں کتنے لوگ ہیں جو عوام کے نمائندے ہیں، جس نے عوام سے ووٹ لیا اور یہاں بیٹھے ہیں؟ ان کے پاس کیا اخلاقی جواز ہے کہ وہ اس قسم کے فیصلے کریں؟ اور پھر ادھر اس صوبائی حکومت کے خلاف، جو کہ صحیح معنوں میں فرنگ پنتالیس کی نمائندگی کرتی ہے، اس کے خلاف جو ہے نا ڈس انفارمیشن پھیلاؤ، اس کے خلاف غلط پروپیگنڈا کریں، اور وہ لوگ بیٹھے جو ہیں، اس قسم کے فیصلے کریں۔
Asad Qaiser42,381 views • 21 days ago

ابھی جو اقدامات وفاقی حکومت نےکیےاس کےبعد مذاکرات ممکن نہیں، اب جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اپوزیشن اتحاد اور آل پارٹیزکانفرنس میں ہوگا، آل پارٹیزکانفرنس میں جو متفقہ فیصلہ آئےگا اسی کے تحت آگے بڑھاجائےگا،تحریک انصاف براہ راست کوئی مذاکرات نہیں کرے گی،حکومت نےبدترین کردار ادا کیا،اب جو فیصلے ہونگے اپوزیشن اتحادکےہونگے.
Asad Qaiser29,139 views • 15 days ago

ہم اپنی پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی کو آن بورڈ رکھ رہے ہیں، ان کی مشاورت کے مطابق مذاکرات ہو رہے ہیں۔ خواجہ آصف کا بیان آپ نے دیکھا ہے، انہوں نے جس لب و لہجے میں بات کی ہے، وہ انتہائی نامناسب ہے۔ دیکھیں، مذاکرات کے دوران اَپس اینڈ ڈاؤنز آتے ہیں، ہمارا اپنا اور ان کا اپنا مؤقف ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ بامعنی مذاکرات ہوں اور پُرامن طریقے سے معاملات حل ہوں۔
Asad Qaiser49,427 views • 29 days ago

ہم آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں، تمام سیاسی پارٹیوں سے کہتا ہوں کہ جو ہمارے ساتھ ہورہا ہے تو آپکی باری آسکتی ہے، ہم بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ کیا ہم نے اس طرح ملک کو چلانا ہے۔ یہ ملک ہمارا ہے، ہم سے بڑھ کر کوئی پاکستانی نہیں، ہم اس ملک کے آئین کے مطابق احتجاج کریں گے۔
Asad Qaiser65,896 views • 1 month ago

یہ بھی بہت عجیب ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے آپ کو جمہوریت کی بہت بڑی چیمپئن کہتی ہے، جو اپنے آپ کو جمہوریت کا راگ الاپتے تھکتے نہیں ہیں،یعنی تیسرا گورنر راج پیپلز پارٹی کی مرہونِ منت بن گیا۔ اور پھر کہا گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کا آئین دیا، اور آپ نے جس طرح اس آئین کو مسمار کیا، اس کی جو عوام کی توہین کی، یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔
Asad Qaiser35,513 views • 21 days ago

اس وقت جو گورنر راج کی بات کر رہے ہیں، اس سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے، لگانا چاہتے ہیں تو سو بسم اللہ، بالکل گورنر راج لگانی ہے، یا ایمرجنسی لگانی ہے۔ ویسے بھی صوبائی حکومت اور اسمبلی کا جو مینڈیٹ ہوتا ہے، حکومت کے پاس جو اختیار ہوتا ہے، وہ تو ویسے بھی چھینا گیا ہے، زبردستی چھینا گیا ہے۔ کیا اس طرح ہوتا ہے کہ اراکین اسمبلی اغوا ہوتے ہیں، اس طرح ہوتا ہے کہ پولیس بالکل بے بس ہو جاتی ہے، صوبائی حکومت کے کسی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوتا، احکامات کہاں سے ہوتے ہیں، آرڈر کہاں سے ملتے ہیں؟ ویسے بھی عملاً انہوں نے اپنا راج قائم کیا ہوا ہے۔ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کریں لیکن ایک بات یاد رکھیں، گورنر راج کے لیے جو ماحول بنانا چاہتے ہیں، جو ڈرامہ رچانا چاہتے ہیں، تو بلوچستان میں کیا حال ہے، وہاں کیا ریشو ہے، آزاد کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟ پھر تو پورے ملک میں ایمرجنسی ڈکلیئر کریں گے، ادھر پنجاب میں جو کچے کے ڈاکوؤں کی حکمرانی ہے۔انہوں نے ویسے بھی ماورائے آئین سارے اقدامات کیے ہیں، لیکن گورنر راج شہباز شریف کی حکومت کو فارغ کرے گا، یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماریں گے۔ ہم ہر صورت میں اپنی جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔
Asad Qaiser41,710 views • 1 month ago