کاشف چوہدری's banner
کاشف چوہدری's profile picture

کاشف چوہدری

@awarahgard40,498 subscribers

There is a thin line between the saint and the satan ………….. https://t.co/40FB0eH2re

Shorts

کشمیر ایشو (حصہ اوّل) پہلے تو آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر ایک آزاد ریاست ہے جسکا پاکستان کیساتھ الحاق ہے ڈیفینس کرنسی اور خارجی معاملات حکومت پاکستان دیکھتی ہے داخلی اور دیگر معاملات مکمل حکومت کشمیر کے اپنے ہیں کشمیر کی عدلیہ سول انتظامیہ پولیس وغیرہ سب کا کشمیری ہونا لازم ہے کشمیر میں فوجی معاملات میں بھی حکومت کشمیر سے اجازت آئینی اور قانونی طور پر لازم ہے غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا کشمیریوں کے شناخی کارڈ پر دو پرچم ہوتے ہیں ایک کشمیر کا دوسرا پاکستان کا 👆یہ میں مختصر خاکہ لکھ دیا اب آجائیے کہ گذشتہ دنوں کشمیر میں ہوا کیا؟ 👇👇👇 سب سے پہلی اور اہم بات یہ حکومت آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر کے باسی کشمیریوں کا مسئلہ ہے پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہ تو تھا اور نہ ہے بلکہ حکومت پاکستان نے یہ تمام معاملہ حل کروایا وزیزاعظم شہباز شریف نے اب ہم شروع کرتے ہیں کہ معاملہ ہے کیا؟ اور کب سے شروع ہے؟ معاملہ کشمیر میں مہنگائی اور کچھ دیگر معاملات پر گذشتہ دو سال سے شروع ہے جو تاجروں نے شروع کیا اس تحریک کے بانی کہہ لیں روح رواں کہہ لیں شوکت نواز میر صاحب مرکزی انجمن تاجران مظفر آباد کے چئیرمین ہیں پہلے یہ تحریک مظفر آباد میں شروع ہوئی پھر روالا کوٹ اس میں شامل ہوا اور پھیلتے پھیلتے پورے کشمیر کے تاجر اس تحریک میں شامل ہو گئے اور اس پلیٹ فارم کو ”جموں و کشمیر تاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی“ کا نام دے دیا گیا سب کشمیری تاجر اس پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے سو جو پہلے ہڑتالیں اپنے علاقوں یا شہروں میں ہو رہی تھیں وہ اب پورے کشمیر میں ایک ساتھ ہونے لگیں اور پھر اس تحریک میں سول سوسائٹی اور طلباء بھی شامل ہو گئے اور یہ پلیٹ فارم اب تاجروں سے آگے نکل کر سب کشمیریوں کا بن گیا یہاں یہ بات واضح رہے کہ دو سال سے جاری ان ہڑتالوں اور پہیہ جام میں کوئی گھیراؤ جلاؤ نہیں ہوا کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوا ایک گلملا بھی نہیں ٹوٹا آپکو بھی یاد ہوگا کہ آج سے 8 ماہ پہلے کشمیریوں نے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا اعلان کیا تھا وہ اسی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ جب تک بجلی سستی نہیں کیجاتی ہم بجلی کے بلز نہیں دیں گے اب حکومت کشمیر کے اپنے اعداد شمار کے مطابق پچھلے آٹھ مہینے سے 80% کشمیریوں نے بجلی کے بلز دینا بند کر دئیے جبکہ سو فیصد تاجروں نے بجلی کے بلز دینے بند کر دئیے دسمبر میں حکومت کشمیر نے مذاکرات کی کمیٹی بنائی اور عین حکومت والی کاروائی ڈالی مذاکرات مذاکرات مذاکرات تے کم دھلے دا نئیں حکومتی ہٹ دھری دیکھ کر اس تحریک نے جنوری میں اعلان کیا کہ 5 فروری کو شٹر ڈاؤن پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاۓ گا 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ہے کشمیر حکومت نے 3 فروری کو اسلام آباد میں جوائینٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کئیے اور دس مطالبات میں سے 7 مطالبات مان لئیے گئے یہ سات لوکل سطح کے چھوٹے معاملات تھے اور کہا گیا کہ ہم ابھی نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہیں اور تین اہم اور بڑے مطالبات پر مذید وقت مانگا گیا وہ تین مطالبات یہ تھے 👇👇👇 پہلا بجلی کی قیمت کم کی جاۓ دوسرا آٹا سستا کیا جاۓ ( براؤن آٹا، جو کھاتا ہی غریب ہے) تیسرا اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں 👆تین مطالبات پر جو ایک مہینے کا وقت مانگا گیا اُس میں بہانہ لگایا گیا کہ ان تین مطالبات کو پورا کرنے کے لئیے ہمیں پیسے کی ضرورت ہے اور پاکستان میں نگران سیٹ اپ ہے پیسے دینا نگران سیٹ اپ کے اختیار میں نہیں پاکستان میں 8 فروری کو الیکشن ہوجاۓ منتخب حکومت بن جاۓ تب ان معاملات پر حکومت پاکستان سے بات کر کے ہم یہ مطالبات حل کر دیں گے سو ہمیں ایک مہینے کا وقت دیں تحریک والوں نے 5 فروری کی احتجاج کی کال واپس لے لی پاکستان میں الیکشن ہوگئے منتخب حکومت بن گئی اور کشمیر حکومت وہی روائیتی ٹال مٹول کرتے ہوۓ مذاکرات سے بھاگتی رہی تاجران نے پریشر بڑھایا تو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ایک یریس کانفرینس بلائی اور دھمکی آمیز بیان داغ دیا کلپ تھریڈ کے ساتھ لگا ہوا کہ سوشل میڈیا تے چاں چاں نہ کرو دم ہے تے بار نکلو اسی تُہانو نبڑ لواں گے یہ دھمکی وزراعظم دے گاٹے فٹ ہو گئی تحریک کا اجلاس ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ 11 مئی کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہوگا اور اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاے گا وزیراعظم آزاد کشمیر نے دوبارہ پریس کانفرینس کی دوبارہ تڑیاں لگائیں اور ساتھ میں روائیتی گھسا پٹا ریکارڈ بجا دیا کہ جو کروا رہا ہے ہندوستان کروا رہا ہے اور کمیٹی والے غدار ہیں 😂😂😂 آج جمعہ ہے جمعہ کی تیاری کرنا ہے اسلئیے آج اتنا ہی تحریر ابھی باقی ہے کہ معاملہ ٹریگر کیسے ہوا؟ وہ اب کل جب آپ سب پڑھ لیں تو پراپیگنڈہ کرنے والے تو اپنی جگہ مگر انکے ڈھول پر ناچنے والے بیشرم اپنا گریبان ضرور جھانکئیے گا

کشمیر ایشو (حصہ اوّل) پہلے تو آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر ایک آزاد ریاست ہے جسکا پاکستان کیساتھ الحاق ہے ڈیفینس کرنسی اور خارجی معاملات حکومت پاکستان دیکھتی ہے داخلی اور دیگر معاملات مکمل حکومت کشمیر کے اپنے ہیں کشمیر کی عدلیہ سول انتظامیہ پولیس وغیرہ سب کا کشمیری ہونا لازم ہے کشمیر میں فوجی معاملات میں بھی حکومت کشمیر سے اجازت آئینی اور قانونی طور پر لازم ہے غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا کشمیریوں کے شناخی کارڈ پر دو پرچم ہوتے ہیں ایک کشمیر کا دوسرا پاکستان کا 👆یہ میں مختصر خاکہ لکھ دیا اب آجائیے کہ گذشتہ دنوں کشمیر میں ہوا کیا؟ 👇👇👇 سب سے پہلی اور اہم بات یہ حکومت آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر کے باسی کشمیریوں کا مسئلہ ہے پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہ تو تھا اور نہ ہے بلکہ حکومت پاکستان نے یہ تمام معاملہ حل کروایا وزیزاعظم شہباز شریف نے اب ہم شروع کرتے ہیں کہ معاملہ ہے کیا؟ اور کب سے شروع ہے؟ معاملہ کشمیر میں مہنگائی اور کچھ دیگر معاملات پر گذشتہ دو سال سے شروع ہے جو تاجروں نے شروع کیا اس تحریک کے بانی کہہ لیں روح رواں کہہ لیں شوکت نواز میر صاحب مرکزی انجمن تاجران مظفر آباد کے چئیرمین ہیں پہلے یہ تحریک مظفر آباد میں شروع ہوئی پھر روالا کوٹ اس میں شامل ہوا اور پھیلتے پھیلتے پورے کشمیر کے تاجر اس تحریک میں شامل ہو گئے اور اس پلیٹ فارم کو ”جموں و کشمیر تاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی“ کا نام دے دیا گیا سب کشمیری تاجر اس پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے سو جو پہلے ہڑتالیں اپنے علاقوں یا شہروں میں ہو رہی تھیں وہ اب پورے کشمیر میں ایک ساتھ ہونے لگیں اور پھر اس تحریک میں سول سوسائٹی اور طلباء بھی شامل ہو گئے اور یہ پلیٹ فارم اب تاجروں سے آگے نکل کر سب کشمیریوں کا بن گیا یہاں یہ بات واضح رہے کہ دو سال سے جاری ان ہڑتالوں اور پہیہ جام میں کوئی گھیراؤ جلاؤ نہیں ہوا کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوا ایک گلملا بھی نہیں ٹوٹا آپکو بھی یاد ہوگا کہ آج سے 8 ماہ پہلے کشمیریوں نے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا اعلان کیا تھا وہ اسی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ جب تک بجلی سستی نہیں کیجاتی ہم بجلی کے بلز نہیں دیں گے اب حکومت کشمیر کے اپنے اعداد شمار کے مطابق پچھلے آٹھ مہینے سے 80% کشمیریوں نے بجلی کے بلز دینا بند کر دئیے جبکہ سو فیصد تاجروں نے بجلی کے بلز دینے بند کر دئیے دسمبر میں حکومت کشمیر نے مذاکرات کی کمیٹی بنائی اور عین حکومت والی کاروائی ڈالی مذاکرات مذاکرات مذاکرات تے کم دھلے دا نئیں حکومتی ہٹ دھری دیکھ کر اس تحریک نے جنوری میں اعلان کیا کہ 5 فروری کو شٹر ڈاؤن پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاۓ گا 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ہے کشمیر حکومت نے 3 فروری کو اسلام آباد میں جوائینٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کئیے اور دس مطالبات میں سے 7 مطالبات مان لئیے گئے یہ سات لوکل سطح کے چھوٹے معاملات تھے اور کہا گیا کہ ہم ابھی نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہیں اور تین اہم اور بڑے مطالبات پر مذید وقت مانگا گیا وہ تین مطالبات یہ تھے 👇👇👇 پہلا بجلی کی قیمت کم کی جاۓ دوسرا آٹا سستا کیا جاۓ ( براؤن آٹا، جو کھاتا ہی غریب ہے) تیسرا اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں 👆تین مطالبات پر جو ایک مہینے کا وقت مانگا گیا اُس میں بہانہ لگایا گیا کہ ان تین مطالبات کو پورا کرنے کے لئیے ہمیں پیسے کی ضرورت ہے اور پاکستان میں نگران سیٹ اپ ہے پیسے دینا نگران سیٹ اپ کے اختیار میں نہیں پاکستان میں 8 فروری کو الیکشن ہوجاۓ منتخب حکومت بن جاۓ تب ان معاملات پر حکومت پاکستان سے بات کر کے ہم یہ مطالبات حل کر دیں گے سو ہمیں ایک مہینے کا وقت دیں تحریک والوں نے 5 فروری کی احتجاج کی کال واپس لے لی پاکستان میں الیکشن ہوگئے منتخب حکومت بن گئی اور کشمیر حکومت وہی روائیتی ٹال مٹول کرتے ہوۓ مذاکرات سے بھاگتی رہی تاجران نے پریشر بڑھایا تو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ایک یریس کانفرینس بلائی اور دھمکی آمیز بیان داغ دیا کلپ تھریڈ کے ساتھ لگا ہوا کہ سوشل میڈیا تے چاں چاں نہ کرو دم ہے تے بار نکلو اسی تُہانو نبڑ لواں گے یہ دھمکی وزراعظم دے گاٹے فٹ ہو گئی تحریک کا اجلاس ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ 11 مئی کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہوگا اور اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاے گا وزیراعظم آزاد کشمیر نے دوبارہ پریس کانفرینس کی دوبارہ تڑیاں لگائیں اور ساتھ میں روائیتی گھسا پٹا ریکارڈ بجا دیا کہ جو کروا رہا ہے ہندوستان کروا رہا ہے اور کمیٹی والے غدار ہیں 😂😂😂 آج جمعہ ہے جمعہ کی تیاری کرنا ہے اسلئیے آج اتنا ہی تحریر ابھی باقی ہے کہ معاملہ ٹریگر کیسے ہوا؟ وہ اب کل جب آپ سب پڑھ لیں تو پراپیگنڈہ کرنے والے تو اپنی جگہ مگر انکے ڈھول پر ناچنے والے بیشرم اپنا گریبان ضرور جھانکئیے گا

27,444 views

Videos

آپ مسکرائیے جمعہ تو بعد ملاقات ہوۓ گی 😝😝👇🤣🤣🤣
1:34

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

awarahgard's profile picture

لاہور آدمی کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا کرشن چندر کسی شہر میں رہنا اور کسی شہر میں بسنا دو مختلف کیفیات ہیں لاہور میں رہنا نہیں بسنا پڑتا ہے پھر لاہور آپکے دل میں بس جاتا ہے اور ایسا بستا ہے کہ پھر کوئی اور اس دل میں بس نہیں سکتا مہرالنساء لاہور میں نور جہاں بن کر آسودۂ خاک ہوئیں لاہور سے انہیں بڑی محبت تھی جس کا اظہار اس لازوال شعر کی صورت میں کیا لاہور را بہ جان برابر خریدہ ایم جاں دادہ ایم و جنتِ دیگر خریدہ ایم (لاہور کو ہم نے جان کے برابر قیمت پر حاصل کیا ہے۔ ہم نے جان قربان کر کے نئی جنت خرید لی ہے) پطرس بخاری نے کہا تھا کہ لاہور کے کاٹے کا علاج نہیں کرشن چندر نے لکھا کہ لاہور آدمی کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا مشہور افسانہ نگار کرشن چندر لاہور میں رہے ایف سی کالج میں تعلیم پائی وہ اس شہر سے بے پناہ محبت کرتے تھے آزادی کے وقت ہندوستان جانے کے بعد بھی اپنی روح لاہور ہی میں چھوڑ گئے اس شہر کا تذکرہ وہ کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی طرح رقت آمیز لہجے میں کیا کرتے تھے وہ لاہور سے آنے والوں کو بڑی حسرت سے دیکھتے اور اپنے محبوب شہر کی گلی کوچوں، بازاروں، عمارتوں، باغوں کا تفصیل سے حال پوچھتے کرشن چندر نے احمد ندیم قاسمی کے نام اپنے خط میں لکھا کہ لاہور کا ذکر تو کجا، اس شہر کے بارے میں سوچتا بھی ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں راجندر سنگھ بیدی جنہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز محسن لاہوری کے قلمی نام سے کیا تھا مرتے دم تک لاہور کے عشق میں گرفتار رہے لاہور کی باتیں کرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ایک مرتبہ ٹی وی پر انٹرویو کے دوران لاہور کا ذکر آیا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اے حمید برما میں قیام کے دوران اپنی جنم بھومی امرتسر کی بجائے لاہور کو یاد کیا کرتے تھے وہ کہا کرتے تھے کہ لاہور کا نام زبان پر آتے ہی طلسم و اسرار کی الف لیلہ کا ایک باب کھل جاتا ہے لاہور ایک شہر ہی نہیں، یہ ایک کیفیت کا نام ہے سید احمد شاہ پطرس بخاری کا شمار بھی لاہور کے سچے عاشقوں میں ہوتا تھا نیویارک میں قیام کے دوران انہوں نے صوفی تبسم کے نام ایک خط میں پوچھا، "کیا راوی اب بھی مغلوں کی یاد میں آہیں بھرتا ہے؟" گویا یہ شہر اپنے عاشقوں کے اعصاب پر ایسا سوار ہوتا ہے کہ وہ کبھی کسی دوسری جگہ پر سکون نہیں پا سکتے جمنا داس اختر، گوپال متل، پران نوائل، اور ان جیسے کئی قلمکار آزادی کے بعد لاہور سے کوچ کر گئے، لیکن ان کا دل لاہور ہی میں اٹکا رہا معروف شاعرہ شبنم شکیل لاہور کے ہجر میں غزلیں کہتی رہیں بھارتی فلمی اداکار پران، اوم پرکاش، دیو آنند، یش چوپڑا، اور ناول نگار بپسی سدھوا جیسے مشاہیر لاہور کی بزم سے اٹھ جانے کے باوجود اس کی طرف بار بار مڑ کر دیکھتے رہے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ لاہور ایک کیف و مستی کا نام ہے ایک نشہ ہے جو طاری ہوجائے تو اترنے کا نام نہیں لیتا پیدا ہونے کے لئے لاہور کے درشن کرنا بھی ضروری ہے کجھ روز گزار کے جنت وچ سب درشن کر لئے حوراں دے جدوں پی لئے جام انگوراں دے اک بابے غم نال آہ بھری نالے بات کہی اک صاف کھری ایتھے ٹشن بڑی نالے ٹور وی اے جو لبھنے ساں او دور وی اے پر میریا مولا دس مینوں کوئی جنت تیری ہور وی اے؟ جتھے وسدے نے سب دل والے جتھے دسدا شہر لاہور وی اے۔۔! #لاہور_لاہور_اے❤️ 👆یہ تحریر مجھے واٹس ایپ پر موصول ہوئی لکھنے والے کا نام معلوم نہیں جنہوں نے بھیجی کم از کم اُنہوں نے تو نہیں لکھی😝 مگر تحریر خوبصورت اور زندگی کا احساس لئیے ہوۓ ہے اسلئیے میں آپکے ساتھ شئیر کر رہا ہوں میں دنیا کے 70 سے زیادہ مختلف شہر دیکھنے کے بعد شاید اس تحریر سے زیادہ خوبصورت احساس اپنے شہر لاہور کے لئیے رکھتا ہوں مگر میرے پاس الفاظ کا فقدان ہے اتنا ضرور لکھوں گا کہ لاہور شہر کے حسن اور طلسم جیسا دنیا میں کوئی دوسرا شہر میں نہیں لاہور دنیا میں ایک ہی ہے❤️ لاہور سے سڑنے والے اس پوسٹ سے دور رہیں ورنہ میں تُہانو پورا ساڑ دینا 😝😝😝

کاشف چوہدری

31,854 views • 2 years ago