کاشف چوہدری's banner
کاشف چوہدری's profile picture

کاشف چوہدری

@awarahgard40,848 subscribers

There is a thin line between the saint and the satan ………….. https://t.co/40FB0eH2re

Shorts

Patwarkhana right now👇😂

Patwarkhana right now👇😂

541,719 views

نپیال کے سیلابی کلپس اور تباہی دیکھی تو حقائق جاننے کیلیے گوگل میٹا وغیرہ پڑھا معلوم ہوا کہ نیپال اور تبت کی گلیشئرز اور پہاڑوں والی سرحد پر کہیں 5200 میٹر کی بلندی پر کسی گلیشئیر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر 1200 میٹر نیچے تک گرا جو دریا کا رستہ تھا اُسنے دریا کا رستہ روک دیا رستہ رُکنے سے زمین سے 4000 میٹر اوپر کہیں پانی جمع ہوکر جھیل کی صورت اختیار کر گیا پانی کا پریشر بڑھتا گیا کہ کہ رکاوٹ ہٹ گئی اور اُس جھیل کا پانی 4000 میٹر سے کئی گنا پریشر کساتھ جٹانیں پتھر گارا درخت سب کُچھ ساتھ لیکر دریائی رستے سے نیچے آگیا جس سے آبادی میں بہتے دریا میں پانی کی سطح صرف 6 منٹ میں 30 فٹ تک بلند ہوگئی😳 30 فٹ کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ نئی سوسائٹیز میں گھروں کی اونچائی کی حد 30 فٹ ہوتی ہے گلیشیر گرنے سے گڑگڑاھٹ اور زمین کی تھرتھراہٹ کُچھ ایسی تھی جیسے 5.2 میگنیچیوٹ کا زلزلہ آیا ہو مگر یہ زلزلہ نہیں تھا آپ Flood in nepal سرچ کریں بہت کُچھ دیکھنے کو ملے گا نیپال 👇

نپیال کے سیلابی کلپس اور تباہی دیکھی تو حقائق جاننے کیلیے گوگل میٹا وغیرہ پڑھا معلوم ہوا کہ نیپال اور تبت کی گلیشئرز اور پہاڑوں والی سرحد پر کہیں 5200 میٹر کی بلندی پر کسی گلیشئیر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر 1200 میٹر نیچے تک گرا جو دریا کا رستہ تھا اُسنے دریا کا رستہ روک دیا رستہ رُکنے سے زمین سے 4000 میٹر اوپر کہیں پانی جمع ہوکر جھیل کی صورت اختیار کر گیا پانی کا پریشر بڑھتا گیا کہ کہ رکاوٹ ہٹ گئی اور اُس جھیل کا پانی 4000 میٹر سے کئی گنا پریشر کساتھ جٹانیں پتھر گارا درخت سب کُچھ ساتھ لیکر دریائی رستے سے نیچے آگیا جس سے آبادی میں بہتے دریا میں پانی کی سطح صرف 6 منٹ میں 30 فٹ تک بلند ہوگئی😳 30 فٹ کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ نئی سوسائٹیز میں گھروں کی اونچائی کی حد 30 فٹ ہوتی ہے گلیشیر گرنے سے گڑگڑاھٹ اور زمین کی تھرتھراہٹ کُچھ ایسی تھی جیسے 5.2 میگنیچیوٹ کا زلزلہ آیا ہو مگر یہ زلزلہ نہیں تھا آپ Flood in nepal سرچ کریں بہت کُچھ دیکھنے کو ملے گا نیپال 👇

53,018 views

چائینہ کا تبت نیپال سرحد پر موجود 6/7 منزلہ امیگریشن سینٹر عمارت اُس چائینہ کی جو 24/7 سیٹیلائیٹس سے ساری دنیا پر نظر رکھی بیٹھا ہے تقریباً 160 فٹ اونچی عمارت جو زلزلے میں بھی محفوظ رہے بمعہ تمام عملہ امیگریشن کے لئیے آۓ لوگ 20 سیکنڈ میں کھیل ختم 20 سیکنڈ میں آپ یہ ٹویٹ نہیں پڑھ سکتے لہر کی اونچائی کا سائز سوچیں ذرا اگر بلڈنگ 150 فٹ ہو تو لہر 180/200 فٹ تو ہوگی مطلب مینار پاکستان کے لگ بھگ😳 20 امریکن بلڈنگ موجود تھے کُل غائب امریکن 47 مذھبی ہندوؤ سیاح اور جو مقامی لوگ رکشہ ٹیکسی ڈرائیور وغیرہ وغیرہ ہونگے وہ کتنے گئے یہ تو وقت ہی بتاۓ گا سینکڑوں تو اسی بلڈنگ میں موجود ہونگے تباہی والے کلپس میرے اس سے پہلے والے ٹویٹ میں موجود ہیں ہور لاواں؟ کہ بہت نے؟ کیونکہ اب انٹرنیشل میڈیا کیمرے لے کے پہنچ گیا اے #nepal_disaster

چائینہ کا تبت نیپال سرحد پر موجود 6/7 منزلہ امیگریشن سینٹر عمارت اُس چائینہ کی جو 24/7 سیٹیلائیٹس سے ساری دنیا پر نظر رکھی بیٹھا ہے تقریباً 160 فٹ اونچی عمارت جو زلزلے میں بھی محفوظ رہے بمعہ تمام عملہ امیگریشن کے لئیے آۓ لوگ 20 سیکنڈ میں کھیل ختم 20 سیکنڈ میں آپ یہ ٹویٹ نہیں پڑھ سکتے لہر کی اونچائی کا سائز سوچیں ذرا اگر بلڈنگ 150 فٹ ہو تو لہر 180/200 فٹ تو ہوگی مطلب مینار پاکستان کے لگ بھگ😳 20 امریکن بلڈنگ موجود تھے کُل غائب امریکن 47 مذھبی ہندوؤ سیاح اور جو مقامی لوگ رکشہ ٹیکسی ڈرائیور وغیرہ وغیرہ ہونگے وہ کتنے گئے یہ تو وقت ہی بتاۓ گا سینکڑوں تو اسی بلڈنگ میں موجود ہونگے تباہی والے کلپس میرے اس سے پہلے والے ٹویٹ میں موجود ہیں ہور لاواں؟ کہ بہت نے؟ کیونکہ اب انٹرنیشل میڈیا کیمرے لے کے پہنچ گیا اے #nepal_disaster

28,650 views

کشمیر ایشو (حصہ اوّل) پہلے تو آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر ایک آزاد ریاست ہے جسکا پاکستان کیساتھ الحاق ہے ڈیفینس کرنسی اور خارجی معاملات حکومت پاکستان دیکھتی ہے داخلی اور دیگر معاملات مکمل حکومت کشمیر کے اپنے ہیں کشمیر کی عدلیہ سول انتظامیہ پولیس وغیرہ سب کا کشمیری ہونا لازم ہے کشمیر میں فوجی معاملات میں بھی حکومت کشمیر سے اجازت آئینی اور قانونی طور پر لازم ہے غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا کشمیریوں کے شناخی کارڈ پر دو پرچم ہوتے ہیں ایک کشمیر کا دوسرا پاکستان کا 👆یہ میں مختصر خاکہ لکھ دیا اب آجائیے کہ گذشتہ دنوں کشمیر میں ہوا کیا؟ 👇👇👇 سب سے پہلی اور اہم بات یہ حکومت آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر کے باسی کشمیریوں کا مسئلہ ہے پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہ تو تھا اور نہ ہے بلکہ حکومت پاکستان نے یہ تمام معاملہ حل کروایا وزیزاعظم شہباز شریف نے اب ہم شروع کرتے ہیں کہ معاملہ ہے کیا؟ اور کب سے شروع ہے؟ معاملہ کشمیر میں مہنگائی اور کچھ دیگر معاملات پر گذشتہ دو سال سے شروع ہے جو تاجروں نے شروع کیا اس تحریک کے بانی کہہ لیں روح رواں کہہ لیں شوکت نواز میر صاحب مرکزی انجمن تاجران مظفر آباد کے چئیرمین ہیں پہلے یہ تحریک مظفر آباد میں شروع ہوئی پھر روالا کوٹ اس میں شامل ہوا اور پھیلتے پھیلتے پورے کشمیر کے تاجر اس تحریک میں شامل ہو گئے اور اس پلیٹ فارم کو ”جموں و کشمیر تاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی“ کا نام دے دیا گیا سب کشمیری تاجر اس پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے سو جو پہلے ہڑتالیں اپنے علاقوں یا شہروں میں ہو رہی تھیں وہ اب پورے کشمیر میں ایک ساتھ ہونے لگیں اور پھر اس تحریک میں سول سوسائٹی اور طلباء بھی شامل ہو گئے اور یہ پلیٹ فارم اب تاجروں سے آگے نکل کر سب کشمیریوں کا بن گیا یہاں یہ بات واضح رہے کہ دو سال سے جاری ان ہڑتالوں اور پہیہ جام میں کوئی گھیراؤ جلاؤ نہیں ہوا کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوا ایک گلملا بھی نہیں ٹوٹا آپکو بھی یاد ہوگا کہ آج سے 8 ماہ پہلے کشمیریوں نے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا اعلان کیا تھا وہ اسی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ جب تک بجلی سستی نہیں کیجاتی ہم بجلی کے بلز نہیں دیں گے اب حکومت کشمیر کے اپنے اعداد شمار کے مطابق پچھلے آٹھ مہینے سے 80% کشمیریوں نے بجلی کے بلز دینا بند کر دئیے جبکہ سو فیصد تاجروں نے بجلی کے بلز دینے بند کر دئیے دسمبر میں حکومت کشمیر نے مذاکرات کی کمیٹی بنائی اور عین حکومت والی کاروائی ڈالی مذاکرات مذاکرات مذاکرات تے کم دھلے دا نئیں حکومتی ہٹ دھری دیکھ کر اس تحریک نے جنوری میں اعلان کیا کہ 5 فروری کو شٹر ڈاؤن پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاۓ گا 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ہے کشمیر حکومت نے 3 فروری کو اسلام آباد میں جوائینٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کئیے اور دس مطالبات میں سے 7 مطالبات مان لئیے گئے یہ سات لوکل سطح کے چھوٹے معاملات تھے اور کہا گیا کہ ہم ابھی نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہیں اور تین اہم اور بڑے مطالبات پر مذید وقت مانگا گیا وہ تین مطالبات یہ تھے 👇👇👇 پہلا بجلی کی قیمت کم کی جاۓ دوسرا آٹا سستا کیا جاۓ ( براؤن آٹا، جو کھاتا ہی غریب ہے) تیسرا اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں 👆تین مطالبات پر جو ایک مہینے کا وقت مانگا گیا اُس میں بہانہ لگایا گیا کہ ان تین مطالبات کو پورا کرنے کے لئیے ہمیں پیسے کی ضرورت ہے اور پاکستان میں نگران سیٹ اپ ہے پیسے دینا نگران سیٹ اپ کے اختیار میں نہیں پاکستان میں 8 فروری کو الیکشن ہوجاۓ منتخب حکومت بن جاۓ تب ان معاملات پر حکومت پاکستان سے بات کر کے ہم یہ مطالبات حل کر دیں گے سو ہمیں ایک مہینے کا وقت دیں تحریک والوں نے 5 فروری کی احتجاج کی کال واپس لے لی پاکستان میں الیکشن ہوگئے منتخب حکومت بن گئی اور کشمیر حکومت وہی روائیتی ٹال مٹول کرتے ہوۓ مذاکرات سے بھاگتی رہی تاجران نے پریشر بڑھایا تو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ایک یریس کانفرینس بلائی اور دھمکی آمیز بیان داغ دیا کلپ تھریڈ کے ساتھ لگا ہوا کہ سوشل میڈیا تے چاں چاں نہ کرو دم ہے تے بار نکلو اسی تُہانو نبڑ لواں گے یہ دھمکی وزراعظم دے گاٹے فٹ ہو گئی تحریک کا اجلاس ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ 11 مئی کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہوگا اور اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاے گا وزیراعظم آزاد کشمیر نے دوبارہ پریس کانفرینس کی دوبارہ تڑیاں لگائیں اور ساتھ میں روائیتی گھسا پٹا ریکارڈ بجا دیا کہ جو کروا رہا ہے ہندوستان کروا رہا ہے اور کمیٹی والے غدار ہیں 😂😂😂 آج جمعہ ہے جمعہ کی تیاری کرنا ہے اسلئیے آج اتنا ہی تحریر ابھی باقی ہے کہ معاملہ ٹریگر کیسے ہوا؟ وہ اب کل جب آپ سب پڑھ لیں تو پراپیگنڈہ کرنے والے تو اپنی جگہ مگر انکے ڈھول پر ناچنے والے بیشرم اپنا گریبان ضرور جھانکئیے گا

کشمیر ایشو (حصہ اوّل) پہلے تو آپکو معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر ایک آزاد ریاست ہے جسکا پاکستان کیساتھ الحاق ہے ڈیفینس کرنسی اور خارجی معاملات حکومت پاکستان دیکھتی ہے داخلی اور دیگر معاملات مکمل حکومت کشمیر کے اپنے ہیں کشمیر کی عدلیہ سول انتظامیہ پولیس وغیرہ سب کا کشمیری ہونا لازم ہے کشمیر میں فوجی معاملات میں بھی حکومت کشمیر سے اجازت آئینی اور قانونی طور پر لازم ہے غیر کشمیری کشمیر میں جائداد نہیں خرید سکتا کشمیریوں کے شناخی کارڈ پر دو پرچم ہوتے ہیں ایک کشمیر کا دوسرا پاکستان کا 👆یہ میں مختصر خاکہ لکھ دیا اب آجائیے کہ گذشتہ دنوں کشمیر میں ہوا کیا؟ 👇👇👇 سب سے پہلی اور اہم بات یہ حکومت آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر کے باسی کشمیریوں کا مسئلہ ہے پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہ تو تھا اور نہ ہے بلکہ حکومت پاکستان نے یہ تمام معاملہ حل کروایا وزیزاعظم شہباز شریف نے اب ہم شروع کرتے ہیں کہ معاملہ ہے کیا؟ اور کب سے شروع ہے؟ معاملہ کشمیر میں مہنگائی اور کچھ دیگر معاملات پر گذشتہ دو سال سے شروع ہے جو تاجروں نے شروع کیا اس تحریک کے بانی کہہ لیں روح رواں کہہ لیں شوکت نواز میر صاحب مرکزی انجمن تاجران مظفر آباد کے چئیرمین ہیں پہلے یہ تحریک مظفر آباد میں شروع ہوئی پھر روالا کوٹ اس میں شامل ہوا اور پھیلتے پھیلتے پورے کشمیر کے تاجر اس تحریک میں شامل ہو گئے اور اس پلیٹ فارم کو ”جموں و کشمیر تاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی“ کا نام دے دیا گیا سب کشمیری تاجر اس پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے سو جو پہلے ہڑتالیں اپنے علاقوں یا شہروں میں ہو رہی تھیں وہ اب پورے کشمیر میں ایک ساتھ ہونے لگیں اور پھر اس تحریک میں سول سوسائٹی اور طلباء بھی شامل ہو گئے اور یہ پلیٹ فارم اب تاجروں سے آگے نکل کر سب کشمیریوں کا بن گیا یہاں یہ بات واضح رہے کہ دو سال سے جاری ان ہڑتالوں اور پہیہ جام میں کوئی گھیراؤ جلاؤ نہیں ہوا کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہوا ایک گلملا بھی نہیں ٹوٹا آپکو بھی یاد ہوگا کہ آج سے 8 ماہ پہلے کشمیریوں نے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا اعلان کیا تھا وہ اسی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ جب تک بجلی سستی نہیں کیجاتی ہم بجلی کے بلز نہیں دیں گے اب حکومت کشمیر کے اپنے اعداد شمار کے مطابق پچھلے آٹھ مہینے سے 80% کشمیریوں نے بجلی کے بلز دینا بند کر دئیے جبکہ سو فیصد تاجروں نے بجلی کے بلز دینے بند کر دئیے دسمبر میں حکومت کشمیر نے مذاکرات کی کمیٹی بنائی اور عین حکومت والی کاروائی ڈالی مذاکرات مذاکرات مذاکرات تے کم دھلے دا نئیں حکومتی ہٹ دھری دیکھ کر اس تحریک نے جنوری میں اعلان کیا کہ 5 فروری کو شٹر ڈاؤن پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاۓ گا 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر ہے کشمیر حکومت نے 3 فروری کو اسلام آباد میں جوائینٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کئیے اور دس مطالبات میں سے 7 مطالبات مان لئیے گئے یہ سات لوکل سطح کے چھوٹے معاملات تھے اور کہا گیا کہ ہم ابھی نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہیں اور تین اہم اور بڑے مطالبات پر مذید وقت مانگا گیا وہ تین مطالبات یہ تھے 👇👇👇 پہلا بجلی کی قیمت کم کی جاۓ دوسرا آٹا سستا کیا جاۓ ( براؤن آٹا، جو کھاتا ہی غریب ہے) تیسرا اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائیں 👆تین مطالبات پر جو ایک مہینے کا وقت مانگا گیا اُس میں بہانہ لگایا گیا کہ ان تین مطالبات کو پورا کرنے کے لئیے ہمیں پیسے کی ضرورت ہے اور پاکستان میں نگران سیٹ اپ ہے پیسے دینا نگران سیٹ اپ کے اختیار میں نہیں پاکستان میں 8 فروری کو الیکشن ہوجاۓ منتخب حکومت بن جاۓ تب ان معاملات پر حکومت پاکستان سے بات کر کے ہم یہ مطالبات حل کر دیں گے سو ہمیں ایک مہینے کا وقت دیں تحریک والوں نے 5 فروری کی احتجاج کی کال واپس لے لی پاکستان میں الیکشن ہوگئے منتخب حکومت بن گئی اور کشمیر حکومت وہی روائیتی ٹال مٹول کرتے ہوۓ مذاکرات سے بھاگتی رہی تاجران نے پریشر بڑھایا تو وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ایک یریس کانفرینس بلائی اور دھمکی آمیز بیان داغ دیا کلپ تھریڈ کے ساتھ لگا ہوا کہ سوشل میڈیا تے چاں چاں نہ کرو دم ہے تے بار نکلو اسی تُہانو نبڑ لواں گے یہ دھمکی وزراعظم دے گاٹے فٹ ہو گئی تحریک کا اجلاس ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ 11 مئی کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہوگا اور اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جاے گا وزیراعظم آزاد کشمیر نے دوبارہ پریس کانفرینس کی دوبارہ تڑیاں لگائیں اور ساتھ میں روائیتی گھسا پٹا ریکارڈ بجا دیا کہ جو کروا رہا ہے ہندوستان کروا رہا ہے اور کمیٹی والے غدار ہیں 😂😂😂 آج جمعہ ہے جمعہ کی تیاری کرنا ہے اسلئیے آج اتنا ہی تحریر ابھی باقی ہے کہ معاملہ ٹریگر کیسے ہوا؟ وہ اب کل جب آپ سب پڑھ لیں تو پراپیگنڈہ کرنے والے تو اپنی جگہ مگر انکے ڈھول پر ناچنے والے بیشرم اپنا گریبان ضرور جھانکئیے گا

27,471 views

Videos

awarahgard's profile picture

نپیال کے سیلابی کلپس اور تباہی دیکھی تو حقائق جاننے کیلیے گوگل میٹا وغیرہ پڑھا معلوم ہوا کہ نیپال اور تبت کی گلیشئرز اور پہاڑوں والی سرحد پر کہیں 5200 میٹر کی بلندی پر کسی گلیشئیر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر 1200 میٹر نیچے تک گرا جو دریا کا رستہ تھا اُسنے دریا کا رستہ روک دیا رستہ رُکنے سے زمین سے 4000 میٹر اوپر کہیں پانی جمع ہوکر جھیل کی صورت اختیار کر گیا پانی کا پریشر بڑھتا گیا کہ کہ رکاوٹ ہٹ گئی اور اُس جھیل کا پانی 4000 میٹر سے کئی گنا پریشر کساتھ جٹانیں پتھر گارا درخت سب کُچھ ساتھ لیکر دریائی رستے سے نیچے آگیا جس سے آبادی میں بہتے دریا میں پانی کی سطح صرف 6 منٹ میں 30 فٹ تک بلند ہوگئی😳 30 فٹ کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ نئی سوسائٹیز میں گھروں کی اونچائی کی حد 30 فٹ ہوتی ہے گلیشیر گرنے سے گڑگڑاھٹ اور زمین کی تھرتھراہٹ کُچھ ایسی تھی جیسے 5.2 میگنیچیوٹ کا زلزلہ آیا ہو مگر یہ زلزلہ نہیں تھا آپ Flood in nepal سرچ کریں بہت کُچھ دیکھنے کو ملے گا نیپال 👇

کاشف چوہدری

53,018 views • 10 days ago

آپ مسکرائیے جمعہ تو بعد ملاقات ہوۓ گی 😝😝👇🤣🤣🤣
1:34

Sensitive content

This media may contain sensitive content.