Ayyan's banner
Ayyan's profile picture

Ayyan

@AYYANWORLD55,837 subscribers

🕋 ماشاءاللہ الحمدللہ Blessed,Vegan,Patriotic,Supermodel,Singer-Songwriter,Producer,Entrepreneur,Environmentalist, Humanitarian✨👸🏻💫 [email protected]

Shorts

Zahid Farooq Malik وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ 🕋 ماشاءاللہ الحمدللہ ہم نے PMLN کے دور حکومت میں جعلی منی لانڈرنگ و قتل کیس جیتا پھر PTI کے دور حکومت میں ان ہی کیسز کی اپیلیں جیتیں✌️ سچائی کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا 🙂 ✨👸🏻💫

Zahid Farooq Malik وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ 🕋 ماشاءاللہ الحمدللہ ہم نے PMLN کے دور حکومت میں جعلی منی لانڈرنگ و قتل کیس جیتا پھر PTI کے دور حکومت میں ان ہی کیسز کی اپیلیں جیتیں✌️ سچائی کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا 🙂 ✨👸🏻💫

33,727 просмотров

Videos

کیا ہم نے غلط سنا: یا واقعی اس خاتون نے ایک سفید ریش، بالغ مرد (جو اُس کی اپنی عمر کا ہے یا اُس سے بھی بڑا) کو بار بار “بیٹا” کہا؟ #HowBizzare 🙄 اور پھر یہی کڑواہٹ بھری آوازیں ہماری نسوانیت کو سستے اور کھوکھلے نعروں کے نیلام گھر میں بیچ ڈالتی ہیں، جیسے #میرا_جسم_میری_مرضی۔ حقیقت یہ ہے: یہ نعرہ کبھی بھی حقیقی عورتوں کی آواز نہیں تھا: یہ صرف ایک چھوٹی، غیر محفوظ اور کمزور اقلیت کی چیخ تھی جو عزت کے بجائے شہرت اور ہجوم کی توجہ کے لیے ترس رہی تھی۔ جب تلخی، کڑواہٹ اور احساسِ کمتری کو “فیمینزم” اور “women empowerment” کا لبادہ پہنا دیا جائے، تو عورتیں آزاد نہیں ہوتیں: عورت ذات کا محض تماشا بنا دیا جاتا ہے۔ ہم بطور باوقار عورت پورے یقین سے مانتے ہیں: کوئی کیریئر، کوئی کاروبار، یا طاقت کا کوئی بھی عہدہ ہماری عزت، ہمارے وقار یا ہماری نسوانی اصل کو کبھی چھین نہیں سکتا۔ اسلام اور ہماری تہذیب اُن خواتین کو بلند مقام دیتے ہیں جو قیادت کرتی ہیں، تعمیر کرتی ہیں اور کامیاب ہوتی ہیں: اور پھر بھی توازن، احترام اور وقار کو محفوظ رکھتی ہیں۔ خود تاریخ گواہ ہے: محترم بی بی خدیجہؓ: اپنے وقت کی سب سے کامیاب تاجرہ: اور محترم بی بی فاطمہؓ: وقار، قربانی اور طاقت کی زندہ علامت۔ یہی ہیں ہمارے معیار: نہ کہ وہ عورتیں جو مرد بننے کے ناکام تماشے میں اپنی نسوانیت اور وقار کو بیچ ڈالتی ہیں۔ اصل طاقت مرد کا بھدا سایہ بننے میں نہیں: بلکہ ہم عورتوں کے اپنے قد، اپنی قابلیت، اپنی پہچان اور اپنے وقار پر اعتماد کے ساتھ کھڑے رہنے میں ہے۔ اسی لیے ہم نے کبھی اس جعلی“فیمینزم” یا “women empowerment” کی جعلی definition کی تعریف کو تسلیم اور support نہیں کیا: اور نہ ہی مستقبل میں کبھی کریں گے۔ یہ نہ عورتوں کو عزت دیتے ہیں، نہ معاشرے کو روشنی بخشتے ہیں: بلکہ یہ ہماری عقل کی توہین کرتے ہیں، ہمارے ایمان کا مذاق اُڑاتے ہیں، ہماری قابلیت کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، اور ہماری اجتماعی جدوجہد اور کامیابیوں کو سرکس کے نعروں میں بدل دیتے ہیں۔ #جعلی_نسوانیت #جھوٹی_طاقت #حقیقی_عورتوں_کی_طاقت #وقار_نہ_کہ_تماشا #عزت_نہ_کہ_شور #اسلامی_نسوانی_طاقت #حقیقی_اختیار #عزت_وقار_شرافت #تماشائی_نعروں_کو_نہ #میرا_جسم_میری_مرضی 🚫 ✨👸🏻💫
1:32

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

AYYANWORLD's profile picture

کیا ہم نے غلط سنا: یا واقعی اس خاتون نے ایک سفید ریش، بالغ مرد (جو اُس کی اپنی عمر کا ہے یا اُس سے بھی بڑا) کو بار بار “بیٹا” کہا؟ #HowBizzare 🙄 اور پھر یہی کڑواہٹ بھری آوازیں ہماری نسوانیت کو سستے اور کھوکھلے نعروں کے نیلام گھر میں بیچ ڈالتی ہیں، جیسے #میرا_جسم_میری_مرضی۔ حقیقت یہ ہے: یہ نعرہ کبھی بھی حقیقی عورتوں کی آواز نہیں تھا: یہ صرف ایک چھوٹی، غیر محفوظ اور کمزور اقلیت کی چیخ تھی جو عزت کے بجائے شہرت اور ہجوم کی توجہ کے لیے ترس رہی تھی۔ جب تلخی، کڑواہٹ اور احساسِ کمتری کو “فیمینزم” اور “women empowerment” کا لبادہ پہنا دیا جائے، تو عورتیں آزاد نہیں ہوتیں: عورت ذات کا محض تماشا بنا دیا جاتا ہے۔ ہم بطور باوقار عورت پورے یقین سے مانتے ہیں: کوئی کیریئر، کوئی کاروبار، یا طاقت کا کوئی بھی عہدہ ہماری عزت، ہمارے وقار یا ہماری نسوانی اصل کو کبھی چھین نہیں سکتا۔ اسلام اور ہماری تہذیب اُن خواتین کو بلند مقام دیتے ہیں جو قیادت کرتی ہیں، تعمیر کرتی ہیں اور کامیاب ہوتی ہیں: اور پھر بھی توازن، احترام اور وقار کو محفوظ رکھتی ہیں۔ خود تاریخ گواہ ہے: محترم بی بی خدیجہؓ: اپنے وقت کی سب سے کامیاب تاجرہ: اور محترم بی بی فاطمہؓ: وقار، قربانی اور طاقت کی زندہ علامت۔ یہی ہیں ہمارے معیار: نہ کہ وہ عورتیں جو مرد بننے کے ناکام تماشے میں اپنی نسوانیت اور وقار کو بیچ ڈالتی ہیں۔ اصل طاقت مرد کا بھدا سایہ بننے میں نہیں: بلکہ ہم عورتوں کے اپنے قد، اپنی قابلیت، اپنی پہچان اور اپنے وقار پر اعتماد کے ساتھ کھڑے رہنے میں ہے۔ اسی لیے ہم نے کبھی اس جعلی“فیمینزم” یا “women empowerment” کی جعلی definition کی تعریف کو تسلیم اور support نہیں کیا: اور نہ ہی مستقبل میں کبھی کریں گے۔ یہ نہ عورتوں کو عزت دیتے ہیں، نہ معاشرے کو روشنی بخشتے ہیں: بلکہ یہ ہماری عقل کی توہین کرتے ہیں، ہمارے ایمان کا مذاق اُڑاتے ہیں، ہماری قابلیت کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، اور ہماری اجتماعی جدوجہد اور کامیابیوں کو سرکس کے نعروں میں بدل دیتے ہیں۔ #جعلی_نسوانیت #جھوٹی_طاقت #حقیقی_عورتوں_کی_طاقت #وقار_نہ_کہ_تماشا #عزت_نہ_کہ_شور #اسلامی_نسوانی_طاقت #حقیقی_اختیار #عزت_وقار_شرافت #تماشائی_نعروں_کو_نہ #میرا_جسم_میری_مرضی 🚫 ✨👸🏻💫

Ayyan

167,586 просмотров • 11 месяцев назад

AYYANWORLD's profile picture

جب ہمارے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے میئر Murtaza Wahab Siddiqui ہر بات پر وفاقی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو وہ دراصل ہمارے کراچی کا دفاع نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ بطور ریاستی عہدیدار اپنی نااہلی یا اختیار سے محروم منصب کو عیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ قیادت اور سیاست الزام تراشی کا فن نہیں، مسائل کا حل پیش کرنے کی ذمہ داری ہے۔ محدود اختیارات کے باوجود، میئرز کا فرض ہے کہ وہ ڈلیور کریں، وسائل کے لیے لڑیں، اور اپنے شہر کا مقدمہ عزت، منطق اور حقائق کے ساتھ پیش کریں۔ اگر واقعی منصب سنبھالنے کے بعد ادا وہاب کو معلوم ہوا کہ کچھ بھی ان کے اختیار میں نہیں، تو واحد باعزت راستہ استعفیٰ تھا اور ہے: نہ کہ قومی انٹرویوز میں اپنی ناکامی دوسروں کے سر ڈالنے کی lame کوشش۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات اور وسائل وفاق سے صوبوں کو منتقل ہو گئے۔ تعلیم، صحت، ترقیاتی کام: سب کچھ اب صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہمارا کراچی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ حکومت نے کراچی کی بلدیاتی حکومت کو مکمل اختیارات کبھی نہیں دیے۔ ادارے جیسے #KDA، #واٹربورڈ اور #SBCA اب بھی #صوبائی_حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ میئرز کے پاس صرف صفائی اور بلدیاتی خدمات جیسے محدود اختیارات ہیں۔ لہٰذا جب ہمارے کراچی کے میئر یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس “اختیارات یا فنڈز نہیں” کیونکہ #وفاقی_حکومت رکاوٹ ہے، تو یہ محض گمراہ کن بیانیہ ہے۔ اصل ٹکراؤ #سندھ_حکومت بمقابلہ #کراچی_بلدیہ ہے، نہ کہ #اسلام_آباد بمقابلہ #کراچی 🙂 الزام تراشی شہر نہیں بناتی۔ ہمارے کراچی سمیت ہمارے پاکستان کے ہر صوبے کو باصلاحیت اور ذمہ دار قیادت چاہیے، مظلومیت کا ڈرامہ نہیں 🙏 #حقائق_نہ_کہ_بہانے #الزام_سے_شہر_نہیں_بنتے #ذمہ_داری_قیادت_ہے #مظلومیت_سیاست_نہیں #ہماری_ریڈلائن_پاکستان_تھا_ہے_اور_رہے_گا #پاکستان_فوج_زندہ_باد #پاکستان_عدلیہ_زندہ_باد #پاکستان_آئی_ایس_آئی_زندہ_باد #پاکستان_زندہ_باد 🇵🇰 💫👸🏻✨

Ayyan

34,686 просмотров • 11 месяцев назад

AYYANWORLD's profile picture

شاہد خاقان عباسی صاحب Shahid Khaqan Abbasi آپ محض محترم نواز شریف Nawaz Sharif کے ایک سیاسی ساتھی یا wingman کے طور پر ہی جچتے تھے: حقیقت یہ ہے کہ Leadership Qualities نہ آپ میں کبھی موجود رہی ہیں اور نہ آئندہ کبھی پیدا ہوں گی۔ یقیناً PMLN ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر آپ کا سیاسی کیریئر تاریخ کے اس موڑ پر آ کر دم توڑ چکا ہے! Leadership وہ زیور نہیں جو کتابوں سے رٹ کر یا سازشوں سے چرا کر پہنا جا سکے۔ یہ اللہ تعالی کی عطا کردہ وہ صفت ہے جو فطرت کے سانچے میں ڈھل کر انسان کے وجود میں رچ بس جاتی ہے: اور جس کے بغیر ہر منصب محض ایک خالی اور بیکار کرسی ہے، جو تاریخ کے کچرے دان میں ذلت کی علامت بن کر گل سڑ جاتی ہے۔ یاد رکھیں … خالی کرسی کبھی تخت نہیں بن سکتی، خاص طور پر جب وہ آپ کو اپنے محسن کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کے انعام کے طور پر دینے کا جھوٹا وعدہ ہو 🙂 #ہماری_ریڈلائن_پاکستان_تھا_ہے_اور_رہے_گا #پاکستان_فوج_زندہ_باد #پاکستان_عدلیہ_زندہ_باد #پاکستان_زندہ_باد 🇵🇰 💫👸🏻✨

Ayyan

24,502 просмотров • 1 год назад

AYYANWORLD's profile picture

بطورِ صحافی رضی دادا Rizwan Razi™ کی حب الوطنی یا ان کی نرم دل، محبت اور انسانیت سے بھرپور شخصیت پر شک کرنا non-negotiable ہے۔ Period! ہم یہ اُمید رکھتے ہیں کہ وہ اس شخص سے پہلے ہی حساب لے چکے ہوں گے جس نے ان کی واضح ہدایات کے برخلاف ویڈیو میں بدنیتی سے editing کی۔ کیونکہ یہ محض professional غفلت نہیں تھی، یہ تو سیدھی سیدھی conspiracy اور غداری تھی۔ یاد رکھیں! جب رضی دادا جیسا ایک ایسا صحافی: جو اپنے زورِ بازو سے مقام حاصل کرنے والا ہے، جو سینئر ہے، نیک دل ہے اور کسی طور منافق نہیں: اپنے وطنِ عزیز پاکستان کی محبت میں، انسانیت کے درد میں یا قوم کے مسائل کے حل کی بےچینی میں لب کشائی کرتا ہے، تو بعض اوقات الفاظ سخت لگ سکتے ہیں۔ لیکن یہی انسانی فطرت ہے۔ گہرے جذبات کے لمحوں میں لہجہ چبھ بھی سکتا ہے، چاہے دل میں ذرّہ برابر بھی بُرائی نہ ہو۔ یہ زندگی کا اصول ہے: کوئی انسان کامل نہیں، کوئی جان بےعیب نہیں۔ کامل تو صرف اللہ ربّ العالمین ہیں 🕋 مگر افسوس: ہمارے اسی پاکستان میں وہ سرٹیفائیڈ اور بدنامِ زمانہ anti-national عناصر آج بھی ڈھٹائی کے ساتھ، بغیر کسی شرمندگی کے آزاد گھومتے ہیں: جو صحافت، سیاست، حب الوطنی اور انسانی حقوق کی آڑ میں زہر اگلتے ہیں، جو صوبائی نفرت کے زہر سے ہماری یکجہتی کو کمزور کرتے ہیں، جو 1947 سے اب تک ہماری قوم کو کھوکھلا کر رہے ہیں: ان کے political posts اور work contracts کبھی منسوخ نہیں ہوتے، انہیں عارضی طور پر بھی معطل نہیں کیا جاتا، ان کے social platforms کبھی block نہیں کیے جاتے۔ ان کے زہریلے پروپیگنڈے کو نہ صرف برداشت اور celebrate کیا جاتا ہے، بلکہ انعام و اعزاز سے نوازا جاتا ہے۔ اور دوسری طرف، وہ لوگ جو سچ میں ہمارے پاکستان سے محبت کرتے ہیں، جو سچائی اور صلاحیت کے ساتھ ڈٹے رہتے ہیں: انہیں جھوٹے پروپیگنڈوں اور مقدمات میں ذلیل و خوار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر تاریخ کی گواہی ہے: سازش ہمیشہ دم توڑتی ہے، اور سچائی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ رہی بات ہمارے وجود کی: ہماری والدہ ایک فخر سے سرشار گکھڑ راجپوت (پنجابی) ہیں: ہمارے والد مغرب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم دبئی میں پیدا ہوئے، بچپن کا کچھ حصہ لاہور اور بیرونِ ملک میں گزرا، لیکن ہماری زندگی کا سب سے بڑا حصہ سندھ میں بسر ہوا۔ سندھ ہمارا گھر ہے، کراچی ہمارا شہر ہے۔ اتنا Diverse Family Background، مختلف ملکوں اور تہذیبوں میں پروان چڑھنے کے باوجود: یہی ہے ہمارے پاکستانی ہونے کا اصل حسن: ہماری جڑیں کئی سمتوں میں ہیں، لیکن ہمارا خون اور ہماری وفاداری ایک ہی دھرتی سے بندھی ہے: ہمارا پاکستان 🇵🇰 ہمارا پورے سندھ کی طرف سے اس موضوع پر رائے دینا unfair ہوگا، کیونکہ ہمارے بہت سے سندھی بھائی بہنوں کے جذبات اس بیان سے مجروح ہوئے ہیں … لیکن as an individual: چونکہ سندھ ہمارا بھی گھر ہے اور ہم سندھ کی ایک proud بیٹی اور resident ہیں: ہم یہ اعلان کرتے ہیں: نہیں! ہمیں رضی دادا کے الفاظ سے کوئی توہین محسوس نہیں ہوئی۔ اگر انہوں نے ہمیں “بندر” کہا تو کیا ہوا؟ ہم ایک Proud Pet-Parent ہیں، اور اگر کوئی ہمیں “B*tch” کہہ دے تو بھی ہم اسے وقار کے ساتھ قبول کریں گے: کیونکہ ہمارے نزدیک جانور گالی نہیں ہیں: وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے معصوم، سب سے وفادار اور سب سے رحمدل مخلوق ہیں۔ ہماری رائے میں جانوروں کے نام گالی نہیں ہوتے: یہ دراصل عظیم القاب ہیں: کیونکہ ہر جانور اپنے اندر کچھ نہ کچھ غیر معمولی خصوصیت سموئ ہوئے ہے، چاہے وہ بندر ہو، کُتا ہو، گدھا ہو، شیر ہو، بھیڑیا ہو یا سانپ: سب جانور اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوقات میں سے ہیں ❤️ ہمارے ملک میں اصل سخت الفاظ وہ ہیں جو unfairly ہر باعزت فرد پر برسائے گئے: چاہے وہ ہم ہوں یا اور بےشمار لوگ۔ یہ سب سیاسی اور ذاتی دشمنیاں نکالنے کے لئے کیے گئے وار ہیں۔ ہر ادارے پر، ہر صوبے پر: چاہے وہ سیاست میں ہوں، کسی اور پیشے میں یا ذاتی زندگی میں۔ تو کیا ہوا؟ الفاظ ہماری قیمت متعین نہیں کرتے۔ ہماری اصل قیمت ہماری سچائی، ہمارے اعمال اور ہمارے کردار سے طے ہوتی ہے ✅ /1

Ayyan

21,679 просмотров • 11 месяцев назад

AYYANWORLD's profile picture

#TayyabBaloch: and the ugliest truth of all: dozens stood there, watching. Not to defend. Not to protect. But to film. To feed the fire. To turn a man’s agony into “content.” Cameras don’t lie: and this disgrace is 💯 undeniable. This evil dares to breathe because the traitors of 9th May were never erased from our nation’s chapter of shame. Certified anti-national Fraud Khan aka Imran Khan and his poisonous gang: men and women who should have been cast into the dustbin of history: were instead handed licenses to keep spitting venom at our Pakistan. Their survival has become oxygen for mobs, fuel for parasites, and courage for every coward who dreams of raising a hand against our State. The pre-planned mob lynching of journalist Tayyab Baloch طیب بلوچ outside #AdialaJail is not mere violence: it is open war against the sanctity of our Pakistan’s security and dignity, at home and before the world. To raise hands in return for a question, instead of replying with truth or no comments, is to strike at the very soul of our nation. Only the lowest of the low: parasites, traitors, and cowards: silence voices with abuses, fists, and threats instead of arguments. They fear truth because it burns them alive, so they try to bury the messenger. But let this be branded into history: “Truth neither bleeds nor dies: it multiplies.” — Ayyan #OriginalQuote The unfortunate incident that happened with Tayyab Baloch today is a reminder that will haunt those who pretend to lead yet shiver before a single journalist. Those who dare defile the sanctity of our Motherland’s reputation must face the full weight of justice. Because without it, our Pakistan does not remain a nation: it rots into a jungle crawling with thugs, traitors, and cowards! “Justice must never crawl in whispers: it must roar like thunder and burn like fire, shaking tyrants, breaking mobs, dismantling tyranny, and leaving behind only the ashes of cowardice.” — Ayyan #OriginalQuote #OurRedLineWasIsAndWillAlwaysBePakistan #LongLivePakistanArmy #LongLivePakistanJudiciary #LongLivePakistanISI #LongLivePakistan 🇵🇰

Ayyan

18,099 просмотров • 11 месяцев назад

AYYANWORLD's profile picture

✨محترم میاں محمد نواز شریف - ایک نظریہ، ایک روشنی، حب الوطنی اور استقامت کا استعارہ✨ پاکستان کی خدمت کی جو مثال محترم میاں محمد نواز شریف Nawaz Sharif نے قائم کی، وہ محض سیاست نہیں، ایک سبق ہے۔ ان کا وقار اور بردباری ایک مثال ہے۔ بشر کامل نہیں ہوتا، لیکن محترم نواز شریف اُن شخصیات میں سے ہیں جنہیں ہم نے ہمیشہ عزت دی، سراہا، اور سراپا خلوص پایا۔ جب بھی محترم نواز شریف کی آواز کانوں سے نہیں، دل سے گزرتی ہے … تو دل بھر آتا ہے۔ ہمارے اور اُن کے زخم ایک جیسے تو نہیں، لیکن اُن کے درد میں کچھ ایسا ہے، جو ہمیں ہمارے اپنے دکھ یاد دلا دیتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں، ہم وہ محسوس کرتے ہیں۔ گویا اُن کے الفاظ اور ہماری آپ بیتی … کسی آئینے کی دو جھلکیاں ہوں - الگ الگ، پھر بھی ایک جیسی۔ جس بے انصافی، تعصب اور سیاسی انتقام کا وہ اور ان کا خاندان نشانہ بنے، وہ ایک ایسی تاریخ ہے جو معافی کی نہیں، شرمندگی کی مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ بیگم شمیم اختر اور بیگم کلثوم نواز کی لغزشوں کو معاف فرمائیں اور اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں آمین 🤲 لیکن سن لو ہر وہ آواز جو ان کے خلاف بولی: اگر فیصلے انسانوں کے اختیار میں ہوتے، تو نہ وہ ہوتے، نہ ہم✌️ فیصلہ صرف اللہ رب العزت کا ہے، جو أَحْكَمُ ٱلْحَـٰكِمِينَ ہیں - سب سے بڑا منصف 🕋❤️ محترم میاں محمد نواز شریف ان چند گنے چنے رہنماؤں میں سے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ہمارے مادر وطن پاکستان کو تعمیر کیا، بلکہ ترقی کی راہ پر گامزن بھی رکھا۔ اُن کی قیادت اور اُن کی خدمت کی مثال تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جاتی ہے۔ محترم نواز شریف ایک نام نہیں، ایک مثال ہے - ایسا نظریہ جو ہر دور کی دھول میں بھی چمکتا رہا۔ قوموں کو صرف خواب دکھانے والے نہیں، بلکہ اُن خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے والے رہنما یاد رہتے ہیں … اور محترم نواز شریف انہی میں سے ہیں۔ سچ یہ ہے، اور رہے گا: محترم نواز شریف صرف ایک ہیں، اور اُن جیسا کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا … چاہے وہ کوئی بھی ہو! حالات کچھ بھی ہوں، وقت جیسا بھی ہو … یہ وہ حقیقت ہے جو انکار سے نہیں مٹتی، بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اور نمایاں ہوتی ہے۔ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے۔ اور جو حق ہوتا ہے، وہ عارضی طور پر دب تو سکتا ہے، مگر فنا نہیں ہوتا! #NawazSharif #PMLN 💫👸🏻✨

Ayyan

13,468 просмотров • 1 год назад

AYYANWORLD's profile picture

ایک سپہ سالار (چیف آف آرمی اسٹاف) اور ایک وزیرِاعلیٰ (چیف منسٹر): دونوں عہدے اپنی عظمت، اپنے فرض اور اپنی خدمتِ وطن سے پہچان رکھتے ہیں، نہ کہ“مرد” یا “عورت” کے تعارف سے، اور نہ ہی “بھائی” یا “بہن” جیسے نمائشی القاب سے۔ ایسے القاب قیادت کے تاج نہیں بنتے، بلکہ معاشرتی دباؤ کے خاموش اقرار اور دشمن کے پروپیگنڈے کی مدھم سرگوشی کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اگر ایک عورت کو، اقتدار کے تخت پر بیٹھ کر بھی، مردانہ ارینا میں اپنی جائزیت کو پروپیگنڈے اور تعصب کا مقابلہ کرنے کے لیے “بھائی چارے” کے سکے سے خریدنا پڑے: تو یہ جیت نہیں، بلکہ شائستگی میں لپٹی ہوئی شکست ہے، جس کا ہر دھاگہ کمزوری اور سمجھوتے کے کپڑے سے بُنا گیا ہو۔ ایک خود ساختہ اور باوقار عورت ہونے کے ناطے ہمیں یہ دیکھ کر گہرا دکھ ہوا کہ مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نہ صرف ایک عورت کے طور پر بلکہ بطور وزیرِاعلیٰ پنجاب: دشمنوں اور جاہل لوگوں کی گھٹیا افواہوں کا جواب دینے کے لیے اس حد تک جھکنے پر مجبور ہو گئیں💔 ہمارے محترم چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل #جنرل_عاصم_منیر نے آج تک کبھی سیاسی گندگی یا ذاتی سازشوں کے بوجھ تلے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے اپنی قابلیت، بصیرت، حب الوطنی اور فتوحات کو بولنے دیا: اور یوں اپنے دشمنوں، ناقدین اور پوری دنیا کو دلیل سے نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت سے خاموش کر دیا 💐 یہ اس دنیا کی تلخ حقیقت ہے، (کم از کم ابھی تک)، اور ہم اس کی سب سے بڑی مثال ہیں: جب کسی عورت کا کیریئر: چاہے وہ سیاست کا ہو یا کسی اور میدان کا: بلندی کو چھونے لگتا ہے، تو کامیابی کی روشنی کے ساتھ ساتھ صدیوں سے جمی تعصب کی جڑیں بھی ہل جاتی ہیں۔ ایسے وقت میں مخالفین اُس کے منصوبوں یا قابلیت پر نہیں، بلکہ اُس کے کردار پر وار کرتے ہیں۔ گرد اور کیچڑ اُچھالتے ہیں: حقیقت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اُس پرانے اور آزمودہ ہتھیار سے جو ہمیشہ عورت کی کامیابی اور قیادت سے ڈرتے دماغوں کے ہاتھ میں رہا ہے۔ پھر بھی، ہماری نظر میں ناانصافی کا مقابلہ کرنے کا طریقہ جنس سے بہت کم اور انسان کے خود سکھائے ہوئے بنیادی اصولوں، اخلاقی جرات، ذہنی ضبط، صلاحیت اور کسی حد تک پرورش سے تشکیل پاتا ہے۔ بطور عورت، ہم نسوانیت کو برتری کا شور نہیں بلکہ مرد و عورت کے برابر حقوق پر غیر متزلزل ایمان سمجھتے ہیں۔ اسی یقین کے ساتھ، ہماری توقع ہے کہ #مریم_نواز صاحبہ: ایک سیاستدان کے طور پر، نہ کہ بطور عورت: اپنے نظریے کی خدمت جرات، بصیرت اور استقلال سے کریں، اور تنقید کو صرف اس وقت سنجیدگی سے لیں جب وہ ان کی کارکردگی کو بطور وزیرِاعلیٰ پرکھے، نہ کہ اس جنس کو جو قدرت نے ان کے وجود میں رکھی ہے۔ اصل عزت مستعار رشتوں سے نہیں جنم لیتی، بلکہ کردار اور عمل کی سچائی، صلاحیت کی روشنی، انفرادیت کی خوشبو، عدل کی پاسداری اور فرض کی بے لوث تکمیل کے ہاتھوں تراشی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں فرماتے ہیں: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ (سورۃ الحجرات، آیت 13) یہی اسلام کا معیار ہے: عزت نہ جنس کی بنیاد پر ہے، نہ رشتوں کے سہارے پر، بلکہ تقویٰ، کردار اور عمل کی بنیاد پر✌️ #ہماری_ریڈلائن_پاکستان_تھا_ہے_اور_رہے_گا #پاکستان_فوج_زندہ_باد #پاکستان_عدلیہ_زندہ_باد #پاکستان_زندہ_باد 🇵🇰 💫👸🏻✨

Ayyan

11,091 просмотров • 1 год назад

Больше нет контента для загрузки