Ahsan Iqbal's banner
Ahsan Iqbal's profile picture

Ahsan Iqbal

@betterpakistan2,666,527 subscribers

I am Federal Minister Planning & Dev, Member National Assembly (Narowal), Sec Gen PMLN, Ex Minister Interior, Pakistan. RTs not endorsements.

Shorts

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر ۔۔۔سرفروشی کی تمنا ہے تو سر ڈبے میں بند کر

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر ۔۔۔سرفروشی کی تمنا ہے تو سر ڈبے میں بند کر

286,869 Aufrufe

نو منتخب وزیر اعظم بنگلہ دیش جناب طارق رحمان سے ملاقات: دوطرفہ تعلقات کو ہر شعبے میں مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان سے نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب کے بعد ملاقات کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں اور مبارکباد کا پیغام پہنچایا اور وزیر اعظم طارق رحمان کو پاکستان کے سرکاری دورے کی باضابطہ دعوت دی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان باہمی احترام، مشترکہ تاریخ اور ہم آہنگ معاشی مفادات کی بنیاد پر ایک مضبوط اور مستقبل بین شراکت داری کا خواہاں ہے۔ وزیر احسن اقبال نے بنگلہ دیش میں پُرامن جمہوری انتقالِ اقتدار کو جمہوری استحکام کی اہم پیش رفت قرار دیا۔ وزیر اعظم طارق رحمان نے پاکستان کی خیرسگالی کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعمیری اور مستقبل پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش نوجوان آبادی رکھنے والی ابھرتی ہوئی معیشتیں ہیں اور آبادی کا یہ تناسب ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ مہارتوں، کاروباری صلاحیتوں اور ڈیجیٹل معیشت میں سرمایہ کاری کے ذریعے نوجوانوں کو ترقی کا محرک بنایا جا سکتا ہے۔ میں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے، ساحلی بندرگاہوں کے ذریعے بحری روابط کے فروغ اور سپلائی چین کے انضمام پر زور دیا تاکہ علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔ انہوں نے صنعتی صلاحیتوں، ایس ایم ای سیکٹر اور برآمدی حکمت عملی میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی تجویز دی تاکہ دونوں ممالک عالمی ویلیو چینز میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ بنگلہ دیش–پاکستان نالج کاریڈور کے آغاز سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور نوجوانوں کے تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین جلد بنگلہ دیش کا دورہ کریں گے تاکہ جامعات کے درمیان ٹوئننگ پروگرامز اور طویل المدتی ادارہ جاتی شراکت داری کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ہم نے اتفاق کیا کہ تعلیمی اور تحقیقی روابط پائیدار تعاون کی بنیاد بنیں گے۔ مشترکہ ترقیاتی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کلیدی قومی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تعلیم، صحت، ماحولیاتی تبدیلی اور گورننس کے شعبوں میں بہتری لانے پر مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔ ثقافتی اور فکری روابط کو اجاگر کرتے ہوئے اقبال اکیڈمی کو ڈھاکہ میں دوبارہ فعال بنانے اور شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی 150 ویں سالگرہ آئندہ سال ڈھاکہ میں مشترکہ طور پر منانے کی تجویز پیش کی، تاکہ ان کے پیغامِ خودی، اتحاد اور روحانی جمہوریت کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ ثقافتی سفارت کاری اور عوامی روابط معاشی تعاون کو تقویت دیں گے۔ وزیر اعظم طارق رحمان نے پاکستان کے اپنے سابقہ دورے میں سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف سے اپنی والدہ مرحومہ خالدہ ضیاء کے ہمراہ اپنی ملاقاتوں کو نہایت خوشگوار اور یادگار قرار دیا اور وزیر اعظم شہباز شریف اور جناب نواز شریف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں ہم نے تعاون کے عملی فریم ورک کو تیز کرنے اور خیرسگالی کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سارک کو فعال بنانے اور جنوبی ایشیا کو جیوپولیٹکس کے بجائے جیو اکنامکس کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا دنیا کے کم ترین مربوط خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ بہتر رابطہ کاری، تجارتی سہولت کاری اور علاقائی ویلیو چینز کے فروغ کے ذریعے پاکستان اور بنگلہ دیش خطے کے تقریباً ایک چوتھائی انسانوں کے لیے خوشحالی اور مشترکہ ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں

نو منتخب وزیر اعظم بنگلہ دیش جناب طارق رحمان سے ملاقات: دوطرفہ تعلقات کو ہر شعبے میں مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان سے نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب کے بعد ملاقات کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں اور مبارکباد کا پیغام پہنچایا اور وزیر اعظم طارق رحمان کو پاکستان کے سرکاری دورے کی باضابطہ دعوت دی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان باہمی احترام، مشترکہ تاریخ اور ہم آہنگ معاشی مفادات کی بنیاد پر ایک مضبوط اور مستقبل بین شراکت داری کا خواہاں ہے۔ وزیر احسن اقبال نے بنگلہ دیش میں پُرامن جمہوری انتقالِ اقتدار کو جمہوری استحکام کی اہم پیش رفت قرار دیا۔ وزیر اعظم طارق رحمان نے پاکستان کی خیرسگالی کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعمیری اور مستقبل پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ ہم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش نوجوان آبادی رکھنے والی ابھرتی ہوئی معیشتیں ہیں اور آبادی کا یہ تناسب ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ مہارتوں، کاروباری صلاحیتوں اور ڈیجیٹل معیشت میں سرمایہ کاری کے ذریعے نوجوانوں کو ترقی کا محرک بنایا جا سکتا ہے۔ میں نے دوطرفہ تجارت میں اضافے، ساحلی بندرگاہوں کے ذریعے بحری روابط کے فروغ اور سپلائی چین کے انضمام پر زور دیا تاکہ علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔ انہوں نے صنعتی صلاحیتوں، ایس ایم ای سیکٹر اور برآمدی حکمت عملی میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی تجویز دی تاکہ دونوں ممالک عالمی ویلیو چینز میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ بنگلہ دیش–پاکستان نالج کاریڈور کے آغاز سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور نوجوانوں کے تبادلوں کو فروغ دینا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین جلد بنگلہ دیش کا دورہ کریں گے تاکہ جامعات کے درمیان ٹوئننگ پروگرامز اور طویل المدتی ادارہ جاتی شراکت داری کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ہم نے اتفاق کیا کہ تعلیمی اور تحقیقی روابط پائیدار تعاون کی بنیاد بنیں گے۔ مشترکہ ترقیاتی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کلیدی قومی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تعلیم، صحت، ماحولیاتی تبدیلی اور گورننس کے شعبوں میں بہتری لانے پر مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔ ثقافتی اور فکری روابط کو اجاگر کرتے ہوئے اقبال اکیڈمی کو ڈھاکہ میں دوبارہ فعال بنانے اور شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی 150 ویں سالگرہ آئندہ سال ڈھاکہ میں مشترکہ طور پر منانے کی تجویز پیش کی، تاکہ ان کے پیغامِ خودی، اتحاد اور روحانی جمہوریت کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ ثقافتی سفارت کاری اور عوامی روابط معاشی تعاون کو تقویت دیں گے۔ وزیر اعظم طارق رحمان نے پاکستان کے اپنے سابقہ دورے میں سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف سے اپنی والدہ مرحومہ خالدہ ضیاء کے ہمراہ اپنی ملاقاتوں کو نہایت خوشگوار اور یادگار قرار دیا اور وزیر اعظم شہباز شریف اور جناب نواز شریف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں ہم نے تعاون کے عملی فریم ورک کو تیز کرنے اور خیرسگالی کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سارک کو فعال بنانے اور جنوبی ایشیا کو جیوپولیٹکس کے بجائے جیو اکنامکس کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا دنیا کے کم ترین مربوط خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ بہتر رابطہ کاری، تجارتی سہولت کاری اور علاقائی ویلیو چینز کے فروغ کے ذریعے پاکستان اور بنگلہ دیش خطے کے تقریباً ایک چوتھائی انسانوں کے لیے خوشحالی اور مشترکہ ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں

17,104 Aufrufe

Had the great opportunity to watch the Australia vs. England match at Gaddafi Stadium last night. It was an incredible experience witnessing both teams in action in Lahore. Full marks to the Lahoris for their passionate energy and wholehearted appreciation of the game! #URAANPAKISTAN

Had the great opportunity to watch the Australia vs. England match at Gaddafi Stadium last night. It was an incredible experience witnessing both teams in action in Lahore. Full marks to the Lahoris for their passionate energy and wholehearted appreciation of the game! #URAANPAKISTAN

15,659 Aufrufe

Planning meets ping pong! 🏓 Had a quick table tennis round with the Chief Statistician at PBS employees gymnasium — turns out precision and strategy work just as well off the table as they do on it. A healthy mind needs a healthy break! #WorkHardPlayHard #PBS #PlanningWithPurpose

Planning meets ping pong! 🏓 Had a quick table tennis round with the Chief Statistician at PBS employees gymnasium — turns out precision and strategy work just as well off the table as they do on it. A healthy mind needs a healthy break! #WorkHardPlayHard #PBS #PlanningWithPurpose

11,660 Aufrufe

Videos

betterpakistan's profile picture

مجھے یہ گفتگو سن کر بے حد افسوس ہوا چونکہ یہ افراد خود کو اسلام اور ناموس رسالت ﷺ ککا محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان کی زبان اور طرزِ کلام کو سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں پرکھیں تو ان کی حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ یہ دراصل جنرل فیض کا پراجیکٹ ہے، جس کا مقصد مسلم لیگ (ن) کے 2018 کے انتخابات میں بریلوی مکتبِ فکر کے ووٹ بینک کو پی ٹی آئی کو جتوانے کے لئے توڑنا مقصود تھا۔ ان سے مجھ پر، خواجہ آصف پر، اور نواز شریف پر بے بنیاد حملے کروائے گئے۔ یہ لوگ اپنی نفرت انگیز باتوں کے ذریعے معاشرے میں جنونیت کو فروغ دیتے ہیں، جس کا خمیازہ اکثر سادہ لوح عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کے اس رویے نے سیالکوٹ جیسے سانحہ کو جنم دیا، جہاں ایک بے گناہ سری لنکن شہری کو انتہائی سفاکانہ طریقہ سے قتل کیا گیا، اور بعد میں پوری قوم کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔اسی طرح ایک نوجوان نے انکی تقریروں سے متاثر ہو کر میری زندگی لینے کی کوشش کی تھی۔ اللہ کے رسول ﷺ سے محبت کی کوئی جماعت ٹھیکیدار نہیں ہو سکتی بلکہ ہر کلمہ گو مسلمان پوری امت ناموس رسالت ﷺ اور ختم نبوت ﷺ کی محافظ اور داعی ہے، کیونکہ اس عقیدے میں معمولی سا بھی انحراف ایمان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ میری رگوں میں اس ماں کا خون ہے جس نے ناموس رسالت ﷺ کا قانون بنایا، اور اس باپ کا خون ہے جو جنت البقیع، مدینہ میں مدفون ہے۔ مجھے سرکارِ دو عالم ﷺ سے اپنی نسبت پر فخر ہے، اور اس نسبت کے لیے مجھے کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ آپ خود فیصلہ کریں یہ طرز کلام ہمارے دین کی کس حد تک علامت ہے؟

Ahsan Iqbal

1,003,955 Aufrufe • vor 1 Jahr

betterpakistan's profile picture

آکسفورڈ یونین ڈیبیٹ میں بحث کا آغاز ایک طالبعلم کے ذریعے موضوع کے تعارف سے ہوتا ہے۔ میرے مخالف بحث کا آغاز ایک پی ٹی آئی کے حامی طالبعلم اسد نے کیا جو کہ عمران خان کو چانسلر بنانے کی ناکام مہم چلا چکا تھا۔ اس نے پاکستان کو ایک بدمعاش ریاست کے طور پر پیش کیا اور عمران خان کو لبرل جمہوریت کا چیمپئن بنا کر یہ تاثر دیا کہ انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی اپنے لیڈر کی کرپشن کا دفاع کرنے کے لیے بین الاقوامی فورمز پر اپنے ہی ملک کو بدنام کر رہے ہیں۔ میں نے تقریر کے آغاز سے قبل پی ٹی آئی کے حامی کے دلائل کا جواب دیا اور پی ٹی آئی کا بیانیہ جھاگ کی طرح بیٹھ کو زمین بوس ہو گیا میں نے کہا کہ: •کیا عمران خان لبرل جمہوریت کی علامت ہیں یا طالبان جمہوریت کی؟ کیونکہ وہ طالبان کے نظریے کے دلدادہ ہیں۔ •کس ملک میں سپریم کورٹ کی جانب سے ماورائے آئین اقدام کے مرتکب مجرم کو لبرل جمہوریت کی علامت تسلیم کیا جائے گا؟ • کیا ایسا شخص جس کی سیاست فقط نفرت کو فروغ دینا اور مذہب کے کارڈ سے کھیلنا ہو جسکا ثبوت میں کھڑا ہوں جس پر اسکے نتیجے میں قاتلانہ حملہ ہوا اور اس کی گولی میرے پیٹ میں موجود مجھے روزانہ عمران خان کے لبرل ازم کی یاد دلاتی ہے؟ •کیا برطانیہ میں کوئی وزیراعظم قومی خزانے سے 190 ملین پاؤنڈ تو کجا 90 پاؤنڈ بھی چوری کر کے لبرل جمہوریت کی علامت بن سکتا ہے یا اسے ہمیشہ کے لیے کرپٹ قرار دے کر سیاست کو خیر باد کہلوا دیا جائیگا؟ جمہوریت میں ایسے بددیانت شخص کو کرپٹ کہا جاتا ہے، نہ کہ لبرل جمہوریت کی علامت۔ ایوان نے تالیاں بجا کر اس مؤقف کو سراہا اور ہم نے یہ ڈیبیٹ 145 کے مقابلے میں 184 ووٹوں سے جیت لی۔

Ahsan Iqbal

483,916 Aufrufe • vor 1 Jahr

betterpakistan's profile picture

جو لوگ اس معاملے پر سیاست کر رہے ہیں کہ پاکستان میں قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا اور ہم آئی ایم ایف پروگرام میں کیوں ہیں، میں ان سے یہی کہوں گا کہ ذرا سوچیں کہ پاکستان کو اس نہج تک کس نے پہنچایا؟ ہم کیوں اس قدر معاشی طور پر کمزور ہو گئے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا؟ حقیقت یہ ہے کہ یکم اپریل 2022 کو پاکستان تقریباً ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا۔ آج جب ہم بڑی مشکل سے اس تباہی سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، تو ایک نیا عالمی بحران ہماری معیشت پر آ گرا ہے۔ اس کے باوجود ہماری پوری کوشش ہے کہ اس کے اثرات عوام پر کم سے کم منتقل ہوں۔ اسی لیے حکومت نے جہاں مجبوری میں قیمتیں بڑھائیں، وہیں وزیراعظم نے پٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر کمی بھی کی—لیکن یہ بوجھ کہیں نہ کہیں سے پورا کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ ہمارے پاس اضافی وسائل موجود نہیں۔ ہم نے شعوری طور پر “ٹارگیٹڈ سبسڈی” کا راستہ اپنایا تاکہ ریلیف صرف ان لوگوں تک پہنچے جنہیں واقعی ضرورت ہے۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ایک لینڈ کروزر والا بھی اتنا ہی فائدہ اٹھائے جتنا ایک موٹر سائیکل چلانے والا۔ اسی لیے دو پہیہ استعمال کرنے والے طبقات کے لیے خصوصی سبسڈی دی گئی۔ کسانوں کے لیے، جو ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں، صوبائی حکومتوں نے کسان کارڈ اور دیگر پروگرامز کے ذریعے مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ زرعی لاگت میں اضافہ نہ ہو۔ اسی طرح پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی ٹارگیٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ کرایوں میں بے تحاشا اضافہ نہ ہو اور مہنگائی پر قابو رکھا جا سکے۔ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتیں اپنے اپنے طور پر اقدامات کر رہی ہیں—یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت عوام کی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم سب اس صورتحال پر دلی رنجیدہ ہیں، کیونکہ اس نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کسی حکومتی پالیسی یا کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی بحران ہے، جو ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہوا۔ اسی لیے پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھرپور اور جارحانہ کردار ادا کیا تاکہ اس جنگ کو روکا جا سکے—اور الحمدللہ، دنیا بھر میں پاکستان کی اس کوشش کو سراہا گیا۔ مشکل وقت ضرور ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ قومیں آزمائشوں میں ہی مضبوط بنتی ہیں۔ اگر ہم حوصلہ، اتحاد اور امید کے ساتھ آگے بڑھیں، تو کوئی بحران ہمیں شکست نہیں دے سکتا—انشاءاللہ ہم اس مشکل سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے۔

Ahsan Iqbal

84,276 Aufrufe • vor 3 Monaten

betterpakistan's profile picture

تکبر کی بلند چوٹی پر بیٹھ کر اس شخص نے نہ صرف اپنے مخالفین کی پگڑیاں اچھالیں بلکہ ان کی کردار کشی کو سیاست کا ہتھیار بنایا۔ اُس تقریر کے بعد میں نے ایک دعا کے طور پر یہ الفاظ لکھے تھے کہ: “اے باری تعالیٰ! اگر میں نے اس ملک کے ساتھ خیانت کی ہے تو مجھے نیست و نابود کر دے، لیکن اگر مجھ پر بہتان باندھا گیا ہے تو بہتان تراش کو نشانِ عبرت بنا دے۔” میرا ایمان ہے کہ انصاف میں تاخیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔ اللہ کی گرفت خاموش ضرور ہوتی ہے مگر بے آواز نہیں۔ مجھے جس کہنی پر پی ٹی آئی کے مذہب کارڈ کھیلنے کی بدولت گولی لگی، اُس کی دوسری سرجری کے صرف تین دن بعد ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ ڈاکٹروں اور عدالت کے واضح احکامات کے باوجود مجھے فزیوتھراپی کی سہولت نہیں دی گئی۔ نتیجتاً میرا دایاں بازو مستقل طور پر متاثر ہو گیا۔ یہ محض جسمانی تکلیف نہیں تھی، یہ سیاسی انتقام کی ایک مثال تھی۔ آج وہ شخص جیل میں ہے مگر تمام سہولتوں کے ساتھ۔ میں اس پر خوشی نہیں مناتا، کیونکہ میرا مقدمہ کسی فرد سے نہیں، ایک سوچ سے ہے — تکبر، بہتان اور انتقام کی سیاست سے۔ وقت گواہ ہے کہ سچ کو دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔ اور جو لوگ کردار کشی کو سیاست سمجھتے ہیں، تاریخ انہیں عزت نہیں دیتی — عبرت دیتی ہے

Ahsan Iqbal

87,858 Aufrufe • vor 4 Monaten

betterpakistan's profile picture

Alhamdulillah! After months of dedicated effort, persistent follow-up, and close engagement with all stakeholders, the Punjab Assembly has today passed the bill upgrading UET Lahore Sub-Campus Narowal into an independent University of Engineering and Technology (UET) Narowal. This landmark achievement marks the beginning of a new era of growth, excellence, innovation, and opportunity for the youth of Narowal and the surrounding region. As an autonomous institution, UET Narowal will be better positioned to expand academic programs, strengthen research and innovation, forge industry linkages, and produce the highly skilled human capital required for the challenges and opportunities of the 21st century. The legislation has been carefully designed to meet the demands of the new technological age, incorporating modern governance, academic, and institutional frameworks that will enable the university to evolve into a centre of excellence in engineering, technology, entrepreneurship, and applied research. I congratulate the students, faculty, alumni, and people of Narowal on this historic milestone. This achievement reinforces our commitment to investing in education, empowering our youth, and building a knowledge-driven Pakistan in line with the vision of URAAN Pakistan. The journey has only begun. InshaAllah, UET Narowal will emerge as one of Pakistan’s leading innovation driven technological institutions and a catalyst for regional and national development.

Ahsan Iqbal

19,509 Aufrufe • vor 26 Tagen

betterpakistan's profile picture

دنیا کی کامیاب معیشتوں کو دیکھ لیں—جاپان سے لے کر امریکہ تک، انڈونیشیا سے لے کر ملائیشیا تک—کہیں بھی شام کے بعد دیر رات تک مارکیٹیں کھلی نہیں ہوتیں۔ لیکن ہم شاید دنیا کی واحد مثال ہیں جہاں بازار دوپہر کو کھلتے ہیں اور رات گئے، بلکہ کئی جگہوں پر دو دو بجے تک کھلے رہتے ہیں۔ مجھے اپنا زمانہ یاد ہے، جب میں گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا (1974-75)، تو صبح 9 بجے انارکلی کی مارکیٹیں کھل جاتی تھیں۔ دکانیں صاف ہو رہی ہوتیں، تلاوت چل رہی ہوتی، اور برکت کا ایک الگ ماحول ہوتا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بارہ یا ایک بجے سے پہلے مارکیٹیں نہیں کھلتیں اور رات گئے تک بجلی جلتی رہتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رات کو استعمال ہونے والی بجلی زیادہ تر امپورٹڈ فیول سے پیدا ہوتی ہے، اور فرنس آئل سے بننے والی بجلی قوم کو 60 سے 80 روپے فی یونٹ تک پڑتی ہے۔ ایسے معاشی بحران میں، کیا ہمیں یہ طرزِ عمل زیب دیتا ہے؟ کیا واقعی ہمیں رات دیر تک دکانیں کھول کر کوئی ایسی اضافی برکت یا منافع مل رہا ہے جو اس نقصان کا جواز بن سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ بحران صرف چیلنج نہیں ہوتے، بلکہ وہ مواقع بھی ہوتے ہیں—اپنے رویے بدلنے کے، بہتر فیصلے کرنے کے، اور ایک ذمہ دار قوم بننے کے۔ اسی لیے حکومت نے صوبوں سے کہا ہے کہ تاجر تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ مارکیٹوں کی جلد بندش کو یقینی بنایا جا سکے، اور ہم اربوں روپے کے اس غیر ضروری بوجھ سے بچ سکیں۔ میں اپنے تمام تاجر بھائیوں سے دل سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس قومی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اگر آپ اوقات بدلیں گے تو عوام خود کو اس کے مطابق ڈھال لیں گے۔ ہم سب کو مل کر ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں ہوں۔ یاد رکھیں، قومیں اپنی عادات بدل کر ہی ترقی کرتی ہیں۔ اگر ہم آج نظم و ضبط، ذمہ داری اور اجتماعی مفاد کو اپنائیں گے، تو کل ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال پاکستان ہماری پہچان ہوگا—انشاءاللہ۔

Ahsan Iqbal

44,906 Aufrufe • vor 3 Monaten

betterpakistan's profile picture

الحمدللہ، یہ میرے لیے بے حد باعثِ مسرت اور قلبی اطمینان کی بات ہے کہ نارووال میں یونیورسٹیوں کے قیام سے سب سے زیادہ فائدہ ہماری بیٹیاں اٹھا رہی ہیں۔ آج یہی بیٹیاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر نہ صرف اپنی زندگی بدل رہی ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کے مستقبل کو بھی روشن کر رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک قابل، باہمت اور محنتی بیٹی سامیہ عباس ہیں، جنہوں نے یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی اور آج نارووال گرلز کالج میں بطور ٹیچر اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ آج نارووال میں ٹیچر ٹریننگ کے فائنل سیشن میں شرکت کے دوران جب سامیہ عباس نے یونیورسٹی آف نارووال کے قیام پر خصوصی شکریہ ادا کیا تو مجھے دلی خوشی ہوئی۔ وہ لمحہ میرے لیے اس احساس سے بھرپور تھا کہ قوم کی بیٹیوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھولنا دراصل ایک روشن، باوقار اور خودمختار مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔ یہی میری محنت کا اصل صلہ ہے۔ میں اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جو پنجاب کے کالجز میں اصلاحات، معیارِ تعلیم میں بہتری، اور طلبہ و طالبات کے لیے بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے قابلِ قدر کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں تعلیمی شعبے میں جو مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں، وہ یقیناً ہماری نئی نسل کے بہتر مستقبل کی ضمانت بنیں گی۔ میرا پختہ یقین ہے کہ تعلیم وہ طاقت ہے جو کمزور کو مضبوط، محروم کو بااختیار، اور خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتی ہے۔ جب ایک بیٹی پڑھتی ہے تو صرف ایک فرد نہیں، پوری نسل سنورتی ہے۔ نارووال کی بیٹیوں کی کامیابی میرے لیے امید، فخر اور پاکستان کے روشن مستقبل کی علامت ہے

Ahsan Iqbal

31,645 Aufrufe • vor 2 Monaten