
Ahsan Iqbal
@betterpakistan • 2,666,527 subscribers
I am Federal Minister Planning & Dev, Member National Assembly (Narowal), Sec Gen PMLN, Ex Minister Interior, Pakistan. RTs not endorsements.
Shorts
Videos

امریکہ میں رہنے والے پاکستانیوں کی مہمان نوازی میں ایک ایسی لازوال گرمجوشی ہے جو کبھی کم نہیں ہوتی۔ اپنے وطن سے چاہے کتنا ہی دور کیوں نہ ہوں، اپنوں کا ساتھ اور برادری کا یہ احساس ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ اورلینڈو، فلوریڈا کی ایک پرسکون صبح کا آغاز ڈاکٹر عثمان صدیقی صاحب کی بے حد محبت اور شاندار مہمان نوازی کے ساتھ ہوا، جنہوں نے اپنے گھر پر ناشتے کا بہت ہی پیارا اہتمام کر رکھا تھا۔ وہ سادہ سی باتیں اور گپ شپ دیکھتے ہی دیکھتے خوبصورت اور دیرپا یادوں میں بدل گئیں۔ اس کے بعد اورلینڈو جھیل کے کنارے ایک پرسکون چہل قدمی نے دل کو ایک عجب سا سکون اور تازگی بخش دی۔ ایسی ہی صبحیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بہترین سفر صرف نئی جگہوں کو دیکھنے کا نام نہیں ہوتا، بلکہ اصل خوبصورتی تو ان بہترین لوگوں سے ملنے میں ہے جو آپ کو راستے میں ملتے ہیں۔ اس محبت، بہترین ساتھ اور ان خوبصورت یادوں کے لیے دل سے شکر گزار ہوں۔
Ahsan Iqbal21,607 просмотров • 1 день назад

Arrived in America—marking another decisive step forward in advancing Pakistan’s development agenda. This journey extends far beyond traditional diplomacy; it is a strategic pursuit of innovation, investment, and cutting-edge ideas. Over the coming days, I will be traveling across cities and institutions, sharing the story of Uraan Pakistan and our vision for a progressive, export-led, and resilient future. امریکہ آمد—پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اور اہم قدم۔ یہ سفر روایتی سفارت کاری سے بڑھ کر جدت، سرمایہ کاری اور نئے خیالات کے حصول کی ایک سٹرٹیجک کوشش ہے۔ آنے والے دنوں میں، میں مختلف شہروں اور اداروں کا دورہ کروں گا تاکہ "اڑان پاکستان" کا بیانیہ اور ایک ترقی پسند، مستحکم اور خود انحصار پاکستان کا وژن دنیا کے سامنے پیش کر سکوں۔
Ahsan Iqbal28,432 просмотров • 4 дней назад

یہ نہایت افسوسناک ہے کہ 7 دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم ایک ایکسپورٹ اورینٹڈ (برآمدات پر مبنی) معیشت نہ بن سکے اور ہمیشہ قرضوں، گرانٹس یا مارکیٹ بانڈز پر انحصار کیا۔ ترقی اور خود انحصاری کا واحد راستہ برآمدات کا فروغ ہے۔ اپنے حالیہ لائیو سیشن میں، میں نے اسی سیکٹر کے ترجیحی منصوبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ #Economy #Exports #SelfReliance #Pakistan
Ahsan Iqbal100,550 просмотров • 1 месяц назад

مجھے یہ گفتگو سن کر بے حد افسوس ہوا چونکہ یہ افراد خود کو اسلام اور ناموس رسالت ﷺ ککا محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ان کی زبان اور طرزِ کلام کو سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں پرکھیں تو ان کی حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ یہ دراصل جنرل فیض کا پراجیکٹ ہے، جس کا مقصد مسلم لیگ (ن) کے 2018 کے انتخابات میں بریلوی مکتبِ فکر کے ووٹ بینک کو پی ٹی آئی کو جتوانے کے لئے توڑنا مقصود تھا۔ ان سے مجھ پر، خواجہ آصف پر، اور نواز شریف پر بے بنیاد حملے کروائے گئے۔ یہ لوگ اپنی نفرت انگیز باتوں کے ذریعے معاشرے میں جنونیت کو فروغ دیتے ہیں، جس کا خمیازہ اکثر سادہ لوح عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کے اس رویے نے سیالکوٹ جیسے سانحہ کو جنم دیا، جہاں ایک بے گناہ سری لنکن شہری کو انتہائی سفاکانہ طریقہ سے قتل کیا گیا، اور بعد میں پوری قوم کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔اسی طرح ایک نوجوان نے انکی تقریروں سے متاثر ہو کر میری زندگی لینے کی کوشش کی تھی۔ اللہ کے رسول ﷺ سے محبت کی کوئی جماعت ٹھیکیدار نہیں ہو سکتی بلکہ ہر کلمہ گو مسلمان پوری امت ناموس رسالت ﷺ اور ختم نبوت ﷺ کی محافظ اور داعی ہے، کیونکہ اس عقیدے میں معمولی سا بھی انحراف ایمان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ میری رگوں میں اس ماں کا خون ہے جس نے ناموس رسالت ﷺ کا قانون بنایا، اور اس باپ کا خون ہے جو جنت البقیع، مدینہ میں مدفون ہے۔ مجھے سرکارِ دو عالم ﷺ سے اپنی نسبت پر فخر ہے، اور اس نسبت کے لیے مجھے کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔ آپ خود فیصلہ کریں یہ طرز کلام ہمارے دین کی کس حد تک علامت ہے؟
Ahsan Iqbal1,003,955 просмотров • 1 год назад

آکسفورڈ یونین ڈیبیٹ میں بحث کا آغاز ایک طالبعلم کے ذریعے موضوع کے تعارف سے ہوتا ہے۔ میرے مخالف بحث کا آغاز ایک پی ٹی آئی کے حامی طالبعلم اسد نے کیا جو کہ عمران خان کو چانسلر بنانے کی ناکام مہم چلا چکا تھا۔ اس نے پاکستان کو ایک بدمعاش ریاست کے طور پر پیش کیا اور عمران خان کو لبرل جمہوریت کا چیمپئن بنا کر یہ تاثر دیا کہ انہیں انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی اپنے لیڈر کی کرپشن کا دفاع کرنے کے لیے بین الاقوامی فورمز پر اپنے ہی ملک کو بدنام کر رہے ہیں۔ میں نے تقریر کے آغاز سے قبل پی ٹی آئی کے حامی کے دلائل کا جواب دیا اور پی ٹی آئی کا بیانیہ جھاگ کی طرح بیٹھ کو زمین بوس ہو گیا میں نے کہا کہ: •کیا عمران خان لبرل جمہوریت کی علامت ہیں یا طالبان جمہوریت کی؟ کیونکہ وہ طالبان کے نظریے کے دلدادہ ہیں۔ •کس ملک میں سپریم کورٹ کی جانب سے ماورائے آئین اقدام کے مرتکب مجرم کو لبرل جمہوریت کی علامت تسلیم کیا جائے گا؟ • کیا ایسا شخص جس کی سیاست فقط نفرت کو فروغ دینا اور مذہب کے کارڈ سے کھیلنا ہو جسکا ثبوت میں کھڑا ہوں جس پر اسکے نتیجے میں قاتلانہ حملہ ہوا اور اس کی گولی میرے پیٹ میں موجود مجھے روزانہ عمران خان کے لبرل ازم کی یاد دلاتی ہے؟ •کیا برطانیہ میں کوئی وزیراعظم قومی خزانے سے 190 ملین پاؤنڈ تو کجا 90 پاؤنڈ بھی چوری کر کے لبرل جمہوریت کی علامت بن سکتا ہے یا اسے ہمیشہ کے لیے کرپٹ قرار دے کر سیاست کو خیر باد کہلوا دیا جائیگا؟ جمہوریت میں ایسے بددیانت شخص کو کرپٹ کہا جاتا ہے، نہ کہ لبرل جمہوریت کی علامت۔ ایوان نے تالیاں بجا کر اس مؤقف کو سراہا اور ہم نے یہ ڈیبیٹ 145 کے مقابلے میں 184 ووٹوں سے جیت لی۔
Ahsan Iqbal483,916 просмотров • 1 год назад

جو لوگ اس معاملے پر سیاست کر رہے ہیں کہ پاکستان میں قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا اور ہم آئی ایم ایف پروگرام میں کیوں ہیں، میں ان سے یہی کہوں گا کہ ذرا سوچیں کہ پاکستان کو اس نہج تک کس نے پہنچایا؟ ہم کیوں اس قدر معاشی طور پر کمزور ہو گئے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا؟ حقیقت یہ ہے کہ یکم اپریل 2022 کو پاکستان تقریباً ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا۔ آج جب ہم بڑی مشکل سے اس تباہی سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، تو ایک نیا عالمی بحران ہماری معیشت پر آ گرا ہے۔ اس کے باوجود ہماری پوری کوشش ہے کہ اس کے اثرات عوام پر کم سے کم منتقل ہوں۔ اسی لیے حکومت نے جہاں مجبوری میں قیمتیں بڑھائیں، وہیں وزیراعظم نے پٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر کمی بھی کی—لیکن یہ بوجھ کہیں نہ کہیں سے پورا کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ ہمارے پاس اضافی وسائل موجود نہیں۔ ہم نے شعوری طور پر “ٹارگیٹڈ سبسڈی” کا راستہ اپنایا تاکہ ریلیف صرف ان لوگوں تک پہنچے جنہیں واقعی ضرورت ہے۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ایک لینڈ کروزر والا بھی اتنا ہی فائدہ اٹھائے جتنا ایک موٹر سائیکل چلانے والا۔ اسی لیے دو پہیہ استعمال کرنے والے طبقات کے لیے خصوصی سبسڈی دی گئی۔ کسانوں کے لیے، جو ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں، صوبائی حکومتوں نے کسان کارڈ اور دیگر پروگرامز کے ذریعے مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ زرعی لاگت میں اضافہ نہ ہو۔ اسی طرح پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی ٹارگیٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ کرایوں میں بے تحاشا اضافہ نہ ہو اور مہنگائی پر قابو رکھا جا سکے۔ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتیں اپنے اپنے طور پر اقدامات کر رہی ہیں—یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت عوام کی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم سب اس صورتحال پر دلی رنجیدہ ہیں، کیونکہ اس نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کسی حکومتی پالیسی یا کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی بحران ہے، جو ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہوا۔ اسی لیے پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھرپور اور جارحانہ کردار ادا کیا تاکہ اس جنگ کو روکا جا سکے—اور الحمدللہ، دنیا بھر میں پاکستان کی اس کوشش کو سراہا گیا۔ مشکل وقت ضرور ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ قومیں آزمائشوں میں ہی مضبوط بنتی ہیں۔ اگر ہم حوصلہ، اتحاد اور امید کے ساتھ آگے بڑھیں، تو کوئی بحران ہمیں شکست نہیں دے سکتا—انشاءاللہ ہم اس مشکل سے بھی سرخرو ہو کر نکلیں گے۔
Ahsan Iqbal84,276 просмотров • 3 месяцев назад

تکبر کی بلند چوٹی پر بیٹھ کر اس شخص نے نہ صرف اپنے مخالفین کی پگڑیاں اچھالیں بلکہ ان کی کردار کشی کو سیاست کا ہتھیار بنایا۔ اُس تقریر کے بعد میں نے ایک دعا کے طور پر یہ الفاظ لکھے تھے کہ: “اے باری تعالیٰ! اگر میں نے اس ملک کے ساتھ خیانت کی ہے تو مجھے نیست و نابود کر دے، لیکن اگر مجھ پر بہتان باندھا گیا ہے تو بہتان تراش کو نشانِ عبرت بنا دے۔” میرا ایمان ہے کہ انصاف میں تاخیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔ اللہ کی گرفت خاموش ضرور ہوتی ہے مگر بے آواز نہیں۔ مجھے جس کہنی پر پی ٹی آئی کے مذہب کارڈ کھیلنے کی بدولت گولی لگی، اُس کی دوسری سرجری کے صرف تین دن بعد ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ ڈاکٹروں اور عدالت کے واضح احکامات کے باوجود مجھے فزیوتھراپی کی سہولت نہیں دی گئی۔ نتیجتاً میرا دایاں بازو مستقل طور پر متاثر ہو گیا۔ یہ محض جسمانی تکلیف نہیں تھی، یہ سیاسی انتقام کی ایک مثال تھی۔ آج وہ شخص جیل میں ہے مگر تمام سہولتوں کے ساتھ۔ میں اس پر خوشی نہیں مناتا، کیونکہ میرا مقدمہ کسی فرد سے نہیں، ایک سوچ سے ہے — تکبر، بہتان اور انتقام کی سیاست سے۔ وقت گواہ ہے کہ سچ کو دبایا جا سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا۔ اور جو لوگ کردار کشی کو سیاست سمجھتے ہیں، تاریخ انہیں عزت نہیں دیتی — عبرت دیتی ہے
Ahsan Iqbal87,858 просмотров • 4 месяцев назад

Alhamdulillah! After months of dedicated effort, persistent follow-up, and close engagement with all stakeholders, the Punjab Assembly has today passed the bill upgrading UET Lahore Sub-Campus Narowal into an independent University of Engineering and Technology (UET) Narowal. This landmark achievement marks the beginning of a new era of growth, excellence, innovation, and opportunity for the youth of Narowal and the surrounding region. As an autonomous institution, UET Narowal will be better positioned to expand academic programs, strengthen research and innovation, forge industry linkages, and produce the highly skilled human capital required for the challenges and opportunities of the 21st century. The legislation has been carefully designed to meet the demands of the new technological age, incorporating modern governance, academic, and institutional frameworks that will enable the university to evolve into a centre of excellence in engineering, technology, entrepreneurship, and applied research. I congratulate the students, faculty, alumni, and people of Narowal on this historic milestone. This achievement reinforces our commitment to investing in education, empowering our youth, and building a knowledge-driven Pakistan in line with the vision of URAAN Pakistan. The journey has only begun. InshaAllah, UET Narowal will emerge as one of Pakistan’s leading innovation driven technological institutions and a catalyst for regional and national development.
Ahsan Iqbal19,509 просмотров • 26 дней назад

آج ڈھاکہ میں وزیر اعظم بنگلہ دیش طارق رحمان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ حلف اٹھانے کے بعد ان سے ملاقات ہوئی جہاں میں نے وزیر اعظم پاکستان **شہباز شریف** کی نمائندگی کرتے ہوئے نیک تمنائیں اور مبارکباد کا پیغام پہنچایا۔ ہم نے دوطرفہ تعلقات کو تجارت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کے تبادلوں سمیت ہر شعبے میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 🇵🇰🇧🇩 پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک نئے دورِ شراکت داری کی جانب پیش قدمی۔
Ahsan Iqbal78,511 просмотров • 4 месяцев назад

آج اعزازی رہنماں پرویز رشید صاحب، اٹا اللہ تارڑ صاحب اور سینیٹر زاہد خان صاحب سے انتہائی مفید اور قیمتی اجلاس کیا۔ قومی ترقی، حکمت عملی اور عوامی فلاح کے حوالے سے گہری بحث کی گئی۔ ان کی بصیرت اور تعاون سے ہمارے منصوبوں کو مزید تقویت ملے گی۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی خدمت میں ہمیں کامیابی عطا فرمائے۔ #AhsanIqbal #PakistanZindabad #NationalDevelopment
Ahsan Iqbal42,591 просмотров • 2 месяцев назад

Touched down Madrid, Spain to participate in Global Caregiver Forum organized by UNICEF and WHO
Ahsan Iqbal84,862 просмотров • 5 месяцев назад

PTI کے امیدواروں کا 8 فروری کی شب اس سے ملتا جلتا ردعمل ہو گا انشاءاللہ!
Ahsan Iqbal350,769 просмотров • 2 лет назад

یا باری تعالی اگر میں نے پاکستان کے خزانے پہ ڈاکہ ڈالا ہے اور تجوریاں بھری ہیں تو مجھے برباد کر دے اور اگر یہ فسادی بہتان بازی اور کردار کشی کر رہا ہے تو اسے نشان عبرت بنا دے آمین ثم آمین! اس شخص نے بہتان بازی کر کر کے لوگوں کی پگڑیاں اچھالی ہیں میرا یقین ہے یہ نشان عبرت بنے گا۔
Ahsan Iqbal422,667 просмотров • 3 лет назад

یہ سن کر دل کو خوشی ہوئی کہ ہسپانیہ کی ملکہ، عالی جناب کوئین لیٹیزیا نے ابتدائی بچپن کی نشوونما کے لیے پاکستان کے عزم اور اسے اُڑان پاکستان وژن میں شامل کرنے کا اعتراف کیا۔ میں نے انہیں بچوں کی نشوونما پر مرکوز اپنی نوعیت کے پہلے عالمی نگہداشت کنندگان فورم کے انعقاد پر مبارک باد دی اور یہ بھی بتایا کہ پاکستان آئندہ اس فورم کے مزید اجلاس اپنے ملک میں منعقد کرنے کا خواہاں ہے۔ It was heartening to hear Her Excellency Queen Letizia of Spain to acknowledge Pakistan’s commitment to early childhood development and its incorporation in Uraan Pakistan Vision I congratulated her on organizing first of its kind Global Caregiver Forum focusing on child development and mentioned that Pakistan will be looking forward to host further episode of this forum on its soil
Ahsan Iqbal81,165 просмотров • 5 месяцев назад

دنیا کی کامیاب معیشتوں کو دیکھ لیں—جاپان سے لے کر امریکہ تک، انڈونیشیا سے لے کر ملائیشیا تک—کہیں بھی شام کے بعد دیر رات تک مارکیٹیں کھلی نہیں ہوتیں۔ لیکن ہم شاید دنیا کی واحد مثال ہیں جہاں بازار دوپہر کو کھلتے ہیں اور رات گئے، بلکہ کئی جگہوں پر دو دو بجے تک کھلے رہتے ہیں۔ مجھے اپنا زمانہ یاد ہے، جب میں گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا (1974-75)، تو صبح 9 بجے انارکلی کی مارکیٹیں کھل جاتی تھیں۔ دکانیں صاف ہو رہی ہوتیں، تلاوت چل رہی ہوتی، اور برکت کا ایک الگ ماحول ہوتا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بارہ یا ایک بجے سے پہلے مارکیٹیں نہیں کھلتیں اور رات گئے تک بجلی جلتی رہتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رات کو استعمال ہونے والی بجلی زیادہ تر امپورٹڈ فیول سے پیدا ہوتی ہے، اور فرنس آئل سے بننے والی بجلی قوم کو 60 سے 80 روپے فی یونٹ تک پڑتی ہے۔ ایسے معاشی بحران میں، کیا ہمیں یہ طرزِ عمل زیب دیتا ہے؟ کیا واقعی ہمیں رات دیر تک دکانیں کھول کر کوئی ایسی اضافی برکت یا منافع مل رہا ہے جو اس نقصان کا جواز بن سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ بحران صرف چیلنج نہیں ہوتے، بلکہ وہ مواقع بھی ہوتے ہیں—اپنے رویے بدلنے کے، بہتر فیصلے کرنے کے، اور ایک ذمہ دار قوم بننے کے۔ اسی لیے حکومت نے صوبوں سے کہا ہے کہ تاجر تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ مارکیٹوں کی جلد بندش کو یقینی بنایا جا سکے، اور ہم اربوں روپے کے اس غیر ضروری بوجھ سے بچ سکیں۔ میں اپنے تمام تاجر بھائیوں سے دل سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس قومی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اگر آپ اوقات بدلیں گے تو عوام خود کو اس کے مطابق ڈھال لیں گے۔ ہم سب کو مل کر ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں ہوں۔ یاد رکھیں، قومیں اپنی عادات بدل کر ہی ترقی کرتی ہیں۔ اگر ہم آج نظم و ضبط، ذمہ داری اور اجتماعی مفاد کو اپنائیں گے، تو کل ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال پاکستان ہماری پہچان ہوگا—انشاءاللہ۔
Ahsan Iqbal44,906 просмотров • 3 месяцев назад

الحمدللّٰہ! پاکستان کو قوم کی دعاؤں سے جنیوا کانفرنس میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
Ahsan Iqbal366,198 просмотров • 3 лет назад

الحمدللہ، یہ میرے لیے بے حد باعثِ مسرت اور قلبی اطمینان کی بات ہے کہ نارووال میں یونیورسٹیوں کے قیام سے سب سے زیادہ فائدہ ہماری بیٹیاں اٹھا رہی ہیں۔ آج یہی بیٹیاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر نہ صرف اپنی زندگی بدل رہی ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کے مستقبل کو بھی روشن کر رہی ہیں۔ ایسی ہی ایک قابل، باہمت اور محنتی بیٹی سامیہ عباس ہیں، جنہوں نے یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی اور آج نارووال گرلز کالج میں بطور ٹیچر اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ آج نارووال میں ٹیچر ٹریننگ کے فائنل سیشن میں شرکت کے دوران جب سامیہ عباس نے یونیورسٹی آف نارووال کے قیام پر خصوصی شکریہ ادا کیا تو مجھے دلی خوشی ہوئی۔ وہ لمحہ میرے لیے اس احساس سے بھرپور تھا کہ قوم کی بیٹیوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھولنا دراصل ایک روشن، باوقار اور خودمختار مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے۔ یہی میری محنت کا اصل صلہ ہے۔ میں اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جو پنجاب کے کالجز میں اصلاحات، معیارِ تعلیم میں بہتری، اور طلبہ و طالبات کے لیے بہتر تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے قابلِ قدر کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں تعلیمی شعبے میں جو مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں، وہ یقیناً ہماری نئی نسل کے بہتر مستقبل کی ضمانت بنیں گی۔ میرا پختہ یقین ہے کہ تعلیم وہ طاقت ہے جو کمزور کو مضبوط، محروم کو بااختیار، اور خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتی ہے۔ جب ایک بیٹی پڑھتی ہے تو صرف ایک فرد نہیں، پوری نسل سنورتی ہے۔ نارووال کی بیٹیوں کی کامیابی میرے لیے امید، فخر اور پاکستان کے روشن مستقبل کی علامت ہے
Ahsan Iqbal31,645 просмотров • 2 месяцев назад