Namkeen Chai نمکین چائے's banner
Namkeen Chai نمکین چائے's profile picture

Namkeen Chai نمکین چائے

@enigmaakh24,713 subscribers

There is no power on earth that can undo PAKISTAN.

Shorts

ہر پاکستانی کی ضد: عمران احمد خان نیازی 🔥

ہر پاکستانی کی ضد: عمران احمد خان نیازی 🔥

87,580 Aufrufe

خدا کی قسم رات سے آنسو ہیں کے رکنے کو نہیں، بڑا ظلم کر دیا ہے ہم نے قوم کے بچوں کے ساتھ، بڑا ظلم 💔

خدا کی قسم رات سے آنسو ہیں کے رکنے کو نہیں، بڑا ظلم کر دیا ہے ہم نے قوم کے بچوں کے ساتھ، بڑا ظلم 💔

17,264 Aufrufe

معافیاں تو غلطیوں کی ہوتی ہیں.. اذیتوں کا تو مکافاتِ عمل ہوتا ہے..

معافیاں تو غلطیوں کی ہوتی ہیں.. اذیتوں کا تو مکافاتِ عمل ہوتا ہے..

10,097 Aufrufe

دیکھتا جا اور شرماتا جا #ReleaseImranKhan #BushraBibi

دیکھتا جا اور شرماتا جا #ReleaseImranKhan #BushraBibi

14,810 Aufrufe

Videos

enigmaakh's profile picture

چچا کو قتل ہوتے دیکھنے والی ننھی بھتیجی نے وہ الفاظ خود کہے اور پھر وہ خود بھی موت کی وادی میں چلی گئی۔ یہ منظر کسی نظم کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے احساس مشترک کا زہر اگلا دردناک باب ہے۔ گھوٹکی کی سڑک پر وہ عام سا دن ایک لمحے میں بدل گیا۔ صحافی طفیل رند اپنے دو بچوں اور اپنی ننھی بھتیجی کو اسکول چھوڑنے جا رہے تھے کہ اچانک قاتلوں نے حملہ کر دیا۔ گولیوں کی آواز، چیخ و پکار اور پھر وہ لمحہ جب بچی نے اپنے چچا کو زمین پر گرتا دیکھا۔ چوٹ، خوف اور لا شعوری صدمے کے بیچ اس ننھی نے اپنی آواز نکالی اور کہا: "پہلے کبھی انصاف کیا ہے تو اب کرو گے؟ چلو، نکلو یہاں سے۔" یہ الفاظ طاقتور، تلخ اور بے باک؛ اس بچی کی زبانی ایک پوری قوم کا سوال! اس چھوٹی سی آواز میں شدید ناراضگی بھی تھی، ناکامی کا احساس بھی اور ایک عاجز مگر واضح طلب انصاف بھی۔ بعد ازاں وہی بچی، شدید صدمے اور زخموں کے اثر سے، چل بسی۔ ایک معصوم وجود نے اپنے چچا کے قتل کو براہ راست دیکھا، ظلم کا جواب سننے کی جرات کی اور پھر زندہ دفن ہو گئی۔ یہ چپ، یہ بے بسی ہمارے اجتماعی ضمیر پر سوالات چھوڑ گئی ہے: ہم کس کے لیے، کس طرح انصاف کا تقاضا کریں گے؟ ہم کب تک اپنی معصوم نسلوں کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت ادا کرتے رہیں گے؟ ید رکھنا، یہ پھول جیسے بچے قیامت والے دن ہمارا گریبان پکڑیں گے۔ ویڈیو: شاہ میر خان رند

Namkeen Chai نمکین چائے

49,759 Aufrufe • vor 9 Monaten

enigmaakh's profile picture

عمران خان کے بیٹوں، قاسم اور سلیمان نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا: Our father is a funny man اور اب آہستہ آہستہ یہ احساس ہو رہا ہے کہ صرف خان ہی نہیں انکی بہن علیمہ خانم بھی مزاح کا بھرپور عنصر رکھتی ہیں! یہ جو حالیہ ویڈیو ہے، اسے کم از کم پانچ بار دیکھنے کی ضرورت ہے اور ہر بار ایک نیا زاویہ سامنے آتا ہے۔ پہلی بار: صرف علیمہ خان کی بات سنیں جب وہ کہتی ہیں: "بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ عمران خان 5 جون تک آزاد ہو جائیں گے.....تو وہ ہی بتا دیں کہ کیوں کہا تھا؟" یہ بات وہ جس معصوم مگر چبھتے ہوئے لہجے میں کہتی ہیں، وہی اصل فن ہے! دوسری بار: گوہر صاحب کا چہرہ دیکھیں ایسا لگتا ہے جیسے دماغ میں WiFi سگنل ایک دم ڈراپ ہو گیا ہو! ایک پل کو وہ خود بھی کنفیوژ ہو جاتے ہیں کہ علیمہ آپا طنز کر رہی ہیں، مزاق اڑا رہی ہیں، یا عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہیں۔ آنکھوں میں سوال، ماتھے پر حیرت اور دل میں شاید صرف ایک دعا: "یا اللہ، یہ کلپ وائرل نہ ہو!" تیسری بار: علی امین گنڈاپور کو دیکھیے نروس ہو کر ایسے تھوک نگلتے ہیں جیسے کسی نے اچانک "پی ٹی آئی فارنزک رپورٹ" تھما دی ہو، پھر ہلکی سی کھانسی کے بہانے گلا صاف کرتے ہیں اور جونہی گوہر صاحب کا نام آتا ہے، نظریں ایسے چرا لیتے ہیں جیسے وائٹ پیپر میں غلطی پکڑی گئی ہو! چوتھی بار: سینیٹر فیصل کے تاثرات دیکھیں جیسے دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں: "یہ بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی!" پانچویں بار: لطیف کھوسہ صاحب کے بچوں جیسے تاثرات دیکھیں، وہ بے ساختہ ہنس پڑتے ہیں۔ کیونکہ سچ جب مزاح کے پردے میں آئے، تو وہ دل میں سیدھا اترتا ہے۔ یہ ویڈیو صرف ہنسی کا لمحہ نہیں.. یہ ہمیں بتاتا ہے کہ بات اگر تلخ بھی ہو، مگر لہجہ باوقار ہو، تو سچ چپتا نہیں…سمجھ آ جاتا ہے۔ احتساب ہو، مگر تضحیک کے بغیر۔ سوال ہو، مگر عزت کے دائرے میں۔ اور سب سے اہم بات: جواب دینا ضروری ہوتا ہے، چاہے وہ سوال مسکرا کے پوچھا جائے۔ Aleema Khanum Ali Amin Khan Gandapur Barrister Gohar Khan

Namkeen Chai نمکین چائے

49,548 Aufrufe • vor 1 Jahr