Namkeen Chai نمکین چائے's banner
Namkeen Chai نمکین چائے's profile picture

Namkeen Chai نمکین چائے

@enigmaakh25,467 subscribers

There is no power on earth that can undo PAKISTAN.

Shorts

قوم کے محسن کو قید میں رکھنا دراصل پوری قوم کی آزادی کو زنجیروں میں جکڑنے کے مترادف ہے۔ قوم کے محسن کو فوری آزاد کرو!!!

قوم کے محسن کو قید میں رکھنا دراصل پوری قوم کی آزادی کو زنجیروں میں جکڑنے کے مترادف ہے۔ قوم کے محسن کو فوری آزاد کرو!!!

12,658 просмотров

ہر پاکستانی کی ضد: عمران احمد خان نیازی 🔥

ہر پاکستانی کی ضد: عمران احمد خان نیازی 🔥

87,580 просмотров

خدا کی قسم رات سے آنسو ہیں کے رکنے کو نہیں، بڑا ظلم کر دیا ہے ہم نے قوم کے بچوں کے ساتھ، بڑا ظلم 💔

خدا کی قسم رات سے آنسو ہیں کے رکنے کو نہیں، بڑا ظلم کر دیا ہے ہم نے قوم کے بچوں کے ساتھ، بڑا ظلم 💔

17,264 просмотров

معافیاں تو غلطیوں کی ہوتی ہیں.. اذیتوں کا تو مکافاتِ عمل ہوتا ہے..

معافیاں تو غلطیوں کی ہوتی ہیں.. اذیتوں کا تو مکافاتِ عمل ہوتا ہے..

10,097 просмотров

دیکھتا جا اور شرماتا جا #ReleaseImranKhan #BushraBibi

دیکھتا جا اور شرماتا جا #ReleaseImranKhan #BushraBibi

14,810 просмотров

Videos

enigmaakh's profile picture

کچھ لمحے کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ برسوں پرانے زخم بھی اچانک تازہ ہو جاتے ہیں! وہ زخم جن پر وقت نے جیسے ایک ہلکی سی پٹی باندھ دی ہو، مگر اندر سے وہ کبھی بھرے ہی نہ ہوں۔ انڈیا میں یہ بچے پچھلے کئی دنوں سے بھرپور احتجاج کر رہے ہیں، لیکن آج جو دیکھا اور سنا، اس نے تو جیسے دل کے اندر دفن ہر درد کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ ایسا لگا جیسے کسی نے اپریل 2022 سے لے کر عمران خان کے جیل جانے تک کی پوری داستان آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلا دی ہو۔ الفاظ کم پڑ گئے ہیں یہ بتانے کے لیے کہ اس وقت دل پر کیا گزر رہی ہے! ہر ڈنڈا یاد آ گیا... ہر آنسو گیس کا شیل یاد آ گیا... ہر بھاگتا ہوا انسان.... ہر زخمی چہرہ.... ہر بے بسی.... ہر رات کی بے خوابی، سب کچھ ایک ایک کر کے لوٹ آیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے یہ زخم کبھی بھرے ہی نہیں تھے، بس خاموش تھے اور آج کسی نے انہیں پھر سے چھیڑ دیا ہے۔ سچ پوچھو تو ایسا لگتا ہے کہ ہم نے عمران خان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کر دی ہے۔

Namkeen Chai نمکین چائے

15,549 просмотров • 1 месяц назад

enigmaakh's profile picture

چچا کو قتل ہوتے دیکھنے والی ننھی بھتیجی نے وہ الفاظ خود کہے اور پھر وہ خود بھی موت کی وادی میں چلی گئی۔ یہ منظر کسی نظم کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے احساس مشترک کا زہر اگلا دردناک باب ہے۔ گھوٹکی کی سڑک پر وہ عام سا دن ایک لمحے میں بدل گیا۔ صحافی طفیل رند اپنے دو بچوں اور اپنی ننھی بھتیجی کو اسکول چھوڑنے جا رہے تھے کہ اچانک قاتلوں نے حملہ کر دیا۔ گولیوں کی آواز، چیخ و پکار اور پھر وہ لمحہ جب بچی نے اپنے چچا کو زمین پر گرتا دیکھا۔ چوٹ، خوف اور لا شعوری صدمے کے بیچ اس ننھی نے اپنی آواز نکالی اور کہا: "پہلے کبھی انصاف کیا ہے تو اب کرو گے؟ چلو، نکلو یہاں سے۔" یہ الفاظ طاقتور، تلخ اور بے باک؛ اس بچی کی زبانی ایک پوری قوم کا سوال! اس چھوٹی سی آواز میں شدید ناراضگی بھی تھی، ناکامی کا احساس بھی اور ایک عاجز مگر واضح طلب انصاف بھی۔ بعد ازاں وہی بچی، شدید صدمے اور زخموں کے اثر سے، چل بسی۔ ایک معصوم وجود نے اپنے چچا کے قتل کو براہ راست دیکھا، ظلم کا جواب سننے کی جرات کی اور پھر زندہ دفن ہو گئی۔ یہ چپ، یہ بے بسی ہمارے اجتماعی ضمیر پر سوالات چھوڑ گئی ہے: ہم کس کے لیے، کس طرح انصاف کا تقاضا کریں گے؟ ہم کب تک اپنی معصوم نسلوں کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت ادا کرتے رہیں گے؟ ید رکھنا، یہ پھول جیسے بچے قیامت والے دن ہمارا گریبان پکڑیں گے۔ ویڈیو: شاہ میر خان رند

Namkeen Chai نمکین چائے

49,759 просмотров • 10 месяцев назад

enigmaakh's profile picture

Some clips just hit too hard 💔💔

Namkeen Chai نمکین چائے

17,345 просмотров • 3 месяцев назад