Waseem Malik's banner
Waseem Malik's profile picture

Waseem Malik

@iwaseemmalik • 25,917 subscribers

Journalist | Covering Law & Supreme Court of Pakistan

Shorts

وزیر اعلیٰ پختونخواہ کا کورکمانڈر پشاور سے ملاقات کے حوالے سے ردعمل، کہتے ہیں کہ “کورکمانڈر صاحب مبارکباد کیلئے آئے تھے، آفیشلی کوئی گفتگو نہیں ہوئی ان سے” !!

وزیر اعلیٰ پختونخواہ کا کورکمانڈر پشاور سے ملاقات کے حوالے سے ردعمل، کہتے ہیں کہ “کورکمانڈر صاحب مبارکباد کیلئے آئے تھے، آفیشلی کوئی گفتگو نہیں ہوئی ان سے” !!

65,327 views

ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد سے ان کی بہنوں کی ملاقات روک دینا اور پھر سردیوں کے موسم میں رات کے اس پہر احتجاج کرتی خواتین پر ٹھنڈا پانی پھینکنا، یہ اختیار نہیں بلکہ غیر انسانی سلوک کی بدترین شکل ہے، جس شخص کو آپ خود قید میں رکھے ہوئے ہیں، اس سے اس قدر خوف کیوں؟ حالانکہ آپ تو خیراتی دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کرکے پورا آئینی ڈھانچہ ہی زمین بوس کرچکے ہیں۔

ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد سے ان کی بہنوں کی ملاقات روک دینا اور پھر سردیوں کے موسم میں رات کے اس پہر احتجاج کرتی خواتین پر ٹھنڈا پانی پھینکنا، یہ اختیار نہیں بلکہ غیر انسانی سلوک کی بدترین شکل ہے، جس شخص کو آپ خود قید میں رکھے ہوئے ہیں، اس سے اس قدر خوف کیوں؟ حالانکہ آپ تو خیراتی دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کرکے پورا آئینی ڈھانچہ ہی زمین بوس کرچکے ہیں۔

49,341 views

گزشتہ 72 گھنٹوں سے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ آئینی عدالت کے دروازے پر صرف ایک ہی استدعا لیے کھڑے رہے کہ انہیں ٹرائل کورٹ پیش ہونا ہے، راستے سے گرفتار کر لیا جائے گا، عدالت پیش ہونی کی ضمانت دی جائے۔ مگر ہائیکورٹ نے بات سننے سے انکار کیا۔ اسی دوران کچھ بے شرم عناصر یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ ملزمان کو غیر معمولی ریلیف دیا جا رہا ہے، انہیں گرفتار نہیں کیا جا رہا، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ تین دن سے پولیس کے حصار میں تھے۔ اور آج، جب وہ عدالت جانے لگے تو بغیر کسی ایف آئی آر دکھائے، بغیر کسی قانونی جواز کے، پولیس نے اغوا کے انداز میں انہیں اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ یہ غیر قانونی حرکت صرف ایک گرفتاری نہیں، بوکھلاہٹ کا اعلان ہے۔ یہ طاقت نہیں، انجام کی کہانی ہے۔ ایک اور شرمناک کارنامہ اس حکومت اور اس کے کاسہ لیسوں کے ماتھے پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو چکا ہے۔

گزشتہ 72 گھنٹوں سے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ آئینی عدالت کے دروازے پر صرف ایک ہی استدعا لیے کھڑے رہے کہ انہیں ٹرائل کورٹ پیش ہونا ہے، راستے سے گرفتار کر لیا جائے گا، عدالت پیش ہونی کی ضمانت دی جائے۔ مگر ہائیکورٹ نے بات سننے سے انکار کیا۔ اسی دوران کچھ بے شرم عناصر یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ ملزمان کو غیر معمولی ریلیف دیا جا رہا ہے، انہیں گرفتار نہیں کیا جا رہا، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ تین دن سے پولیس کے حصار میں تھے۔ اور آج، جب وہ عدالت جانے لگے تو بغیر کسی ایف آئی آر دکھائے، بغیر کسی قانونی جواز کے، پولیس نے اغوا کے انداز میں انہیں اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ یہ غیر قانونی حرکت صرف ایک گرفتاری نہیں، بوکھلاہٹ کا اعلان ہے۔ یہ طاقت نہیں، انجام کی کہانی ہے۔ ایک اور شرمناک کارنامہ اس حکومت اور اس کے کاسہ لیسوں کے ماتھے پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو چکا ہے۔

27,668 views

آپ نے سوچا رات کے دو بجے، ٹھٹرتی سردی میں، پرامن مظاہرین پر جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے واٹر کینن کیوں چلایا جا رہا ہے؟ پتھراؤ، لاٹھی چارج اور گرفتاریاں کیوں کی جا رہی ہیں؟ یہ لوگ کسی انتشار کے لیے تو نہیں نکلے، یہ اس لیے باہر ہیں کہ ایک قیدی کی اس کے خاندان سے ملاقات نہیں ہونے دی جا رہی، حالانکہ ملاقات کی اجازت قانون، جیل رولز اور خود عدالتی فیصلوں میں واضح طور پر موجود ہے۔ سوال یہ ہے: کیوں نہیں ہونے دی جا رہی ملاقات؟ کیونکہ قیدی نے کہا ہے کہ وہ سرینڈر نہیں کرے گا، اس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ عوام نے جو مقدس امانت ووٹ کی صورت میں اس کے سپرد کی، اس پر ڈاکا کیوں ڈالا گیا؟ سوال کا جواب دینے کی بجائے یہ سب کرکے پیغام دیا جا رہا ہے کہ ہم دلیل سے نہیں، طاقت سے بات کرتے ہیں، لیکن تاریخ کا اصول تو واضح ہے، طاقت وقتی خاموشی تو خرید سکتی ہے، سچ کو دفن نہیں کر سکتی !!

آپ نے سوچا رات کے دو بجے، ٹھٹرتی سردی میں، پرامن مظاہرین پر جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے واٹر کینن کیوں چلایا جا رہا ہے؟ پتھراؤ، لاٹھی چارج اور گرفتاریاں کیوں کی جا رہی ہیں؟ یہ لوگ کسی انتشار کے لیے تو نہیں نکلے، یہ اس لیے باہر ہیں کہ ایک قیدی کی اس کے خاندان سے ملاقات نہیں ہونے دی جا رہی، حالانکہ ملاقات کی اجازت قانون، جیل رولز اور خود عدالتی فیصلوں میں واضح طور پر موجود ہے۔ سوال یہ ہے: کیوں نہیں ہونے دی جا رہی ملاقات؟ کیونکہ قیدی نے کہا ہے کہ وہ سرینڈر نہیں کرے گا، اس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ عوام نے جو مقدس امانت ووٹ کی صورت میں اس کے سپرد کی، اس پر ڈاکا کیوں ڈالا گیا؟ سوال کا جواب دینے کی بجائے یہ سب کرکے پیغام دیا جا رہا ہے کہ ہم دلیل سے نہیں، طاقت سے بات کرتے ہیں، لیکن تاریخ کا اصول تو واضح ہے، طاقت وقتی خاموشی تو خرید سکتی ہے، سچ کو دفن نہیں کر سکتی !!

30,234 views

Islamabad these days: calm, cinematic & a little wild 🌫️ 🌧️

Islamabad these days: calm, cinematic & a little wild 🌫️ 🌧️

13,417 views

Videos

iwaseemmalik's profile picture

جہالت کے قطب مینار اس وقت ملک بالخصوص پنجاب پر مسلط ہیں، جہاں ماورائے عدالت کلچر کو سرکاری و ذرائع ابلاغ کی سطح پر خوب پذیرائی ملتی ہے۔ نیفے میں پستول چلنا، فل فرائی اور ہاف فرائی جیسی غیر قانونی اصطلاحات کو اس طرح گلوریفائی کیا جاتا ہے کہ کسی بھی واقعے پر فوری مطالبہ آتا ہے کہ "کہاں ہے سی سی ڈی؟ آئے اور انصاف کرے"۔ سی سی ڈی جیسے غیر آئینی اور غیر قانونی اسکواڈ کو پذیرائی خواتین سے زیادتی یا ہراساں کرنے جیسے گھناؤنے جرائم کے ملزمان کے ماورائے عدالت قتل سے دلائی گئی تھی۔ لیکن نہ جانے کتنے سو لوگ اس کی بھینٹ چڑھ گئے، جن میں چکوال کی ننھی ہانیہ احمد اور بھکر کی سات سالہ معصوم بچی بھی گولیوں کا نشانہ بنیں، اور بعد میں اسے محض "کولٹرل ڈیمج" (غلطی) قرار دیا گیا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں بہاولپور کے چک 187/ای بی کے رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس سی سی ڈی کے اہلکاروں نے ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے کے دوران گھروں میں زبردستی گھس کر خواتین اور بچوں پر شدید تشدد کیا اور ایک لڑکی کو سول گاڑی میں اغوا کر کے لے گئے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی رپورٹ کے مطابق، سی سی ڈی کی اس پالیسی کے تحت صرف 2025 کے آٹھ ماہ میں 670 مقابلوں میں 924 افراد مارے گئے جبکہ اس دوران صرف دو پولیس اہلکار زخمی یا جاں بحق ہوئے۔ مذید بھی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں جہاں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اس سے متاثرہ اور انصاف کی دہائی دیتی نظر آتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اکثر اس ادارے کی تشکیل کو اپنا "محافظ پنجاب ویژن" قرار دیتے ہوئے اسے اپنی بڑی کامیابی مانتی ہیں۔ جب حکمران خود ماورائے عدالت قتل کی سرکاری سطح پر بھرپور اونرشپ لیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اپنی ہی عدالتوں سے اعتماد اٹھ چکا ہو، تو پھر عام آدمی سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ قانون اور عدالتوں پر اعتماد کرے گا؟ آخر کیوں معاشرے اور اس کے سوشل فیبرک کو مکمل طور پر تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ ماورائے عدالت قتل آئین، قانون، اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے کیونکہ کسی کو بھی بغیر منصفانہ ٹرائل کے سزا نہیں دی جا سکتی۔ اس ظالمانہ روش سے عدل کا نظام مفلوج اور جنگل کا قانون نافذ ہو جاتا ہے، جس سے معاشرے میں بے گناہوں کی جانوں کا خطرہ ہمیشہ کے لیے بڑھ جاتا ہے۔ خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم کی روک تھام کے نام پر اس ادارے کو گلوریفائی کیا گیا تھا، مگر دو سال اور سیکڑوں بلکہ ہزاروں ماورائے عدالت قتل کے بعد آج پنجاب کی حقیقی صورتحال کیا ہے؟ ڈان میں شائع ہونے والی ریاض الحق کی تحقیقاتی خبر کے مطابق، سال 2021 سے لے کر 2026 کے وسط تک ملک کے چاروں صوبوں میں جنسی تشدد اور زیادتی کے کل 47,452 کیسز درج کیے گئے، جن میں سے ملک بھر کے کل ریپ کیسز کا 89.7 فیصد اکیلے پنجاب سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ اجتماعی زیادتی کے کل ملکی کیسز کا 99.2 فیصد حصہ پنجاب میں درج ہوا۔ اگر فرضی طور پر اس غیر قانونی عمل سے معاشرے میں جرائم رک بھی رہے ہوتے، تب بھی یہ اخلاقی، آئینی، قانونی یا مذہبی حوالے سے قطعی طور پر جسٹیفائیڈ نہیں ہو سکتا؛ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ماورائے عدالت قتل اور درندگی کے اس کھیل سے جرم رکنے کی بجائے روز بروز مزید بڑھ رہے ہیں۔ جب بھی کوئی دلخراش یا انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوتا ہے تو بطور انسان دکھ، تکلیف اور اذیت میں مبتلا ہونا فطری امر ہے؛ لیکن اس کا ہرگز یہ تقاضا نہیں کہ انسان جذبات میں بہہ کر ماورائے عدالت قتل کو سپورٹ کرنے لگے۔ ہمیں اپنی توانائیاں قانون کی پامالی پر ضائع کرنے کی بجائے آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے صرف کرنی چاہئیں۔ نوٹ: ذیل میں پیش کی جانے والی ویڈیو اور تصویر بطورِ حوالہ شامل کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری و غیر سرکاری شخصیات اور زرائع ابلاغ سے وابستہ ایک بڑا حصہ اس غیرآئینی و غیر اخلاقی کلچر کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ مقصد کسی فردِ واحد کو ذاتی تنقید کا نشانہ بنانا ہرگز نہیں، بلکہ اس فکری انحراف اور خطرناک رویے پر دلیل کے ساتھ اختلاف کرنا ہے جو معاشرے کو مذید تاریکی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

Waseem Malik

37,999 views • 14 days ago

iwaseemmalik's profile picture

اہم ترین، قومی اسمبلی کے حلقے NA-148 ملتان ون کے ریٹرننگ آفس کی صورتحال! ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کے تینوں صاحبزادے ، موسی، حیدر اور قاسم گیلانی PTI کے حمایت یافتہ امیدوار Taimur Malik کے ساتھ کمرے میں موجود ہیں اور بحث و تکرار جاری ہے، موقع پر موجود صحافیوں کا بتانا ہے کہ کمرے کا دروازہ بند کردیا گیا، جبکہ RO آفس کے باہر سیکورٹی بھی سخت کردی گئی ہے، تیمور ملک صبح سے RO آفس موجود ہیں اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کرہے ہیں، اگر انہیں ہراساں یا گرفتار کرنے کی اطلاعات درست ہیں تو RO جو کہ ریاست کا ملازم ہے، منصفانہ گنتی کرکے فارم 45 کے مطابق رزلٹ دے نہ کہ اپنے آفس کو کسی خاندان کی جاگیر بنائے۔ اس حلقے سے سید یوسف رضا گیلانی صرف 293 ووٹس سے جیتے ہیں جبکہ بیرسٹر تیمور ملک کے 12,665 ووٹس مسترد ہوئے ہیں، اس طرح کے کیسز میں سپریم کورٹ نے 2013 اور 2018 میں یہ اصول طے کردیا تھا کہ جہاں کامیابی کا مارجن مسترد شدہ ووٹوں سے کم ہو وہاں پہلے گنتی اور بعدازاں پولنگ دوبارہ ہوگی۔ ریٹرننگ افسر کی کسی کی ذاتی ملازمت کی بجائے قانون کے مطابق NA-148 کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔

Waseem Malik

358,429 views • 2 years ago

iwaseemmalik's profile picture

محسن نقوی کی سلطنت میں سال 2025 کے دوران پاکستان میں آف لوڈ کیے گئے کل 66 ہزار مسافروں میں سے 51 ہزار کو ایف آئی اے نے بیرونِ ملک سفر سے روکا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے فیصلے دستاویزات کی جانچ، ڈیٹا ویریفکیشن اور آن لائن تصدیق کی بنیاد پر کیے گئے؟ اس دعوے کی ایک کلاسک مثال شہری احتشام الحق کا واقعہ ہے، جو 13 جون کو باکو روانہ ہو رہا تھا۔ درست پاسپورٹ، ویزا اور ہوٹل بکنگ سمیت تمام سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود ایف آئی اے اہلکاروں نے پہلے اسے آف لوڈ کیا، پھر پاسپورٹ پر آف لوڈ اسٹیمپ لگا دی۔ اس کے بعد اہلکاروں نے سفر کی اجازت کے بدلے 80 ہزار روپے رشوت طلب کی۔ شہری نے رقم ادا کی تو اسی آف لوڈ اسٹیمپ کے ساتھ اسے بیرونِ ملک روانہ ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ شہری اپنا دورہ مکمل کر کے وطن واپس آیا تو اس نے ایف آئی اے کے اس غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز پر مبنی اقدام کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔اس پورے معاملے کی مزید تفصیلات سینئر صحافی نصرت جاوید اور عدنان حیدر کے پروگرام خبر نشر میں

Waseem Malik

59,016 views • 10 months ago