
Waseem Malik
@iwaseemmalik • 25,917 subscribers
Journalist | Covering Law & Supreme Court of Pakistan
Shorts
Videos

جہالت کے قطب مینار اس وقت ملک بالخصوص پنجاب پر مسلط ہیں، جہاں ماورائے عدالت کلچر کو سرکاری و ذرائع ابلاغ کی سطح پر خوب پذیرائی ملتی ہے۔ نیفے میں پستول چلنا، فل فرائی اور ہاف فرائی جیسی غیر قانونی اصطلاحات کو اس طرح گلوریفائی کیا جاتا ہے کہ کسی بھی واقعے پر فوری مطالبہ آتا ہے کہ "کہاں ہے سی سی ڈی؟ آئے اور انصاف کرے"۔ سی سی ڈی جیسے غیر آئینی اور غیر قانونی اسکواڈ کو پذیرائی خواتین سے زیادتی یا ہراساں کرنے جیسے گھناؤنے جرائم کے ملزمان کے ماورائے عدالت قتل سے دلائی گئی تھی۔ لیکن نہ جانے کتنے سو لوگ اس کی بھینٹ چڑھ گئے، جن میں چکوال کی ننھی ہانیہ احمد اور بھکر کی سات سالہ معصوم بچی بھی گولیوں کا نشانہ بنیں، اور بعد میں اسے محض "کولٹرل ڈیمج" (غلطی) قرار دیا گیا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، حال ہی میں بہاولپور کے چک 187/ای بی کے رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس سی سی ڈی کے اہلکاروں نے ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے کے دوران گھروں میں زبردستی گھس کر خواتین اور بچوں پر شدید تشدد کیا اور ایک لڑکی کو سول گاڑی میں اغوا کر کے لے گئے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی رپورٹ کے مطابق، سی سی ڈی کی اس پالیسی کے تحت صرف 2025 کے آٹھ ماہ میں 670 مقابلوں میں 924 افراد مارے گئے جبکہ اس دوران صرف دو پولیس اہلکار زخمی یا جاں بحق ہوئے۔ مذید بھی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں جہاں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اس سے متاثرہ اور انصاف کی دہائی دیتی نظر آتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اکثر اس ادارے کی تشکیل کو اپنا "محافظ پنجاب ویژن" قرار دیتے ہوئے اسے اپنی بڑی کامیابی مانتی ہیں۔ جب حکمران خود ماورائے عدالت قتل کی سرکاری سطح پر بھرپور اونرشپ لیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اپنی ہی عدالتوں سے اعتماد اٹھ چکا ہو، تو پھر عام آدمی سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ قانون اور عدالتوں پر اعتماد کرے گا؟ آخر کیوں معاشرے اور اس کے سوشل فیبرک کو مکمل طور پر تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ ماورائے عدالت قتل آئین، قانون، اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے کیونکہ کسی کو بھی بغیر منصفانہ ٹرائل کے سزا نہیں دی جا سکتی۔ اس ظالمانہ روش سے عدل کا نظام مفلوج اور جنگل کا قانون نافذ ہو جاتا ہے، جس سے معاشرے میں بے گناہوں کی جانوں کا خطرہ ہمیشہ کے لیے بڑھ جاتا ہے۔ خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم کی روک تھام کے نام پر اس ادارے کو گلوریفائی کیا گیا تھا، مگر دو سال اور سیکڑوں بلکہ ہزاروں ماورائے عدالت قتل کے بعد آج پنجاب کی حقیقی صورتحال کیا ہے؟ ڈان میں شائع ہونے والی ریاض الحق کی تحقیقاتی خبر کے مطابق، سال 2021 سے لے کر 2026 کے وسط تک ملک کے چاروں صوبوں میں جنسی تشدد اور زیادتی کے کل 47,452 کیسز درج کیے گئے، جن میں سے ملک بھر کے کل ریپ کیسز کا 89.7 فیصد اکیلے پنجاب سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ اجتماعی زیادتی کے کل ملکی کیسز کا 99.2 فیصد حصہ پنجاب میں درج ہوا۔ اگر فرضی طور پر اس غیر قانونی عمل سے معاشرے میں جرائم رک بھی رہے ہوتے، تب بھی یہ اخلاقی، آئینی، قانونی یا مذہبی حوالے سے قطعی طور پر جسٹیفائیڈ نہیں ہو سکتا؛ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ماورائے عدالت قتل اور درندگی کے اس کھیل سے جرم رکنے کی بجائے روز بروز مزید بڑھ رہے ہیں۔ جب بھی کوئی دلخراش یا انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوتا ہے تو بطور انسان دکھ، تکلیف اور اذیت میں مبتلا ہونا فطری امر ہے؛ لیکن اس کا ہرگز یہ تقاضا نہیں کہ انسان جذبات میں بہہ کر ماورائے عدالت قتل کو سپورٹ کرنے لگے۔ ہمیں اپنی توانائیاں قانون کی پامالی پر ضائع کرنے کی بجائے آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے صرف کرنی چاہئیں۔ نوٹ: ذیل میں پیش کی جانے والی ویڈیو اور تصویر بطورِ حوالہ شامل کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری و غیر سرکاری شخصیات اور زرائع ابلاغ سے وابستہ ایک بڑا حصہ اس غیرآئینی و غیر اخلاقی کلچر کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ مقصد کسی فردِ واحد کو ذاتی تنقید کا نشانہ بنانا ہرگز نہیں، بلکہ اس فکری انحراف اور خطرناک رویے پر دلیل کے ساتھ اختلاف کرنا ہے جو معاشرے کو مذید تاریکی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
Waseem Malik37,999 views • 14 days ago

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنی تقریر میں عمران خان کی جیل میں حالتِ زار اور ملاقاتوں پر پابندی کا شکوہ کیا۔ انہوں نے تقریر کے اختتام پر جب یہ کہا کہ "جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے"، تو ویڈیو کے 9ویں سیکنڈ پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی اس بات پر تالیاں بجا رہی ہیں۔ سہیل آفریدی کے خطاب کے بعد پورے 17 سیکنڈز تک ہال تالیوں سے گونجتا رہا، اور یہ سلسلہ تب رکا جب اسٹیج سیکریٹری نے تالیوں کی گونج میں ہی اگلے مقرر کا نام اناؤنس کیا۔
Waseem Malik157,480 views • 4 months ago

مجھ پر تو یزید کی بیت لازم نہیں ہے، یزید سے بھی دوستی، حسین کو بھی سلام، میں یہ نہیں کرسکتا سر !! ۲۶ویں ترمیم کی سماعت کے دوران سینئر وکیل اکرم شیخ نے جب آئینی ترمیم بینچ سے کہا کہ آپ یہ مقدمہ نہیں سن سکتے، آپ کیوں اسرار کرتے ہیں کہ یہی بینچ ہی مقدمہ سنے؟ تو جواب میں جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم اسرار نہیں کرہے، یہ ۲۶ویں ترمیم کی منشا ہے، آرٹیکل ۱۹۱ کے ہوتے ہوئے صرف آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے یہ مقدمہ، تو اکرم شیخ نے جواب دیا کہ “مجھ پر تو یزید کی بیت لازم نہیں ہے، یزید سے بھی دوستی، حسین کو بھی سلام، میں یہ نہیں کرسکتا سر”۔ اکرم شیخ کے دلائل پر جسٹس امین الدین خان برہم ہوگئے !!
Waseem Malik329,177 views • 1 year ago

جیو کا اعزاز !! 5:39 پر جیو نیوز نے اعزاز سید کی خبر بریک کی کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر، نوٹفکیشن جاری، 5:40 پر اعزاز سید کا بیپر لیا گیا اور 5:41 پر نیوز کاسٹر نے معذرت کی اور کہا کہ یہ فیک نوٹفکیشن تھا۔ تین منٹ میں ہی خبر بریک کرنے سے معزرت کرنے تک کا “اعزاز” بھی جیو نیوز کو حاصل ہوگیا۔
Waseem Malik266,018 views • 11 months ago

شاہ زیب خانزادہ صاحب کے لکھے ہوئے ڈرامے کیس نمبر 9 کا جو کلپ انہوں نے شیئر کیا اُس میں ایک اہم سین ہے کہ جہاں وکیل صاحبہ جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں: “اگر فاضل وکیل کو ابھی بھی اعتراض ہے تو میں ان کی تسلی کے لیے چاہوں گی کہ سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا فیصلہ سامنے رکھا جائے، جو اس ملک کے چیف جسٹس ہوتے اگر 26ویں آئینی ترمیم منظور کرکے ان کا راستہ نہ روکا جاتا۔” مخالف وکیل فوری جواب میں کہتا ہے: “ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نا ہوتا میں تو کیا ہوتا، پارلیمنٹ ملک کا سپریم ترین ادارہ ہے اور وہ 26ویں ترمیم منظور کرچکا ہے۔” لیکن دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس سین کا اتنا اہم اور براہِ راست مکالمہ ہر پل جیو کے آفیشل یوٹیوب چینل پر موجود قسط نمبر 17 سے غائب ہے ! ریفرنس کیلئے لنک موجود ہے۔
Waseem Malik147,430 views • 11 months ago

اہم ترین، قومی اسمبلی کے حلقے NA-148 ملتان ون کے ریٹرننگ آفس کی صورتحال! ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کے تینوں صاحبزادے ، موسی، حیدر اور قاسم گیلانی PTI کے حمایت یافتہ امیدوار Taimur Malik کے ساتھ کمرے میں موجود ہیں اور بحث و تکرار جاری ہے، موقع پر موجود صحافیوں کا بتانا ہے کہ کمرے کا دروازہ بند کردیا گیا، جبکہ RO آفس کے باہر سیکورٹی بھی سخت کردی گئی ہے، تیمور ملک صبح سے RO آفس موجود ہیں اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کرہے ہیں، اگر انہیں ہراساں یا گرفتار کرنے کی اطلاعات درست ہیں تو RO جو کہ ریاست کا ملازم ہے، منصفانہ گنتی کرکے فارم 45 کے مطابق رزلٹ دے نہ کہ اپنے آفس کو کسی خاندان کی جاگیر بنائے۔ اس حلقے سے سید یوسف رضا گیلانی صرف 293 ووٹس سے جیتے ہیں جبکہ بیرسٹر تیمور ملک کے 12,665 ووٹس مسترد ہوئے ہیں، اس طرح کے کیسز میں سپریم کورٹ نے 2013 اور 2018 میں یہ اصول طے کردیا تھا کہ جہاں کامیابی کا مارجن مسترد شدہ ووٹوں سے کم ہو وہاں پہلے گنتی اور بعدازاں پولنگ دوبارہ ہوگی۔ ریٹرننگ افسر کی کسی کی ذاتی ملازمت کی بجائے قانون کے مطابق NA-148 کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔
Waseem Malik358,429 views • 2 years ago

ٹی ایل پی احتجاج پر بدترین کریک ڈاؤن کو 36 گھنٹے سے زائد گزر گئے، مگر سعد رضوی، انس رضوی، شہدا یا زخمیوں کی کوئی اطلاع نہیں، ہائبرڈ نظام سے تو یہی توقع تھی، مگر شرمناک کردار وہ طبقہ ادا کرہا ہے جو خود کو پروگریسیو اور لبرل کہلواتا ہے، جنہیں آئین، قانون اور انسانی آزادیوں کا علمبردار ہونا چاہیے تھا، وہ اپنے نظریاتی مخالفیں پر گولیوں کی بوچھاڑ سے خوش ہیں، انہیں کچلے جانے پر مبارکبادیں دے رہے ہیں، یہ تو ٹی ایل پی سے بھی زیادہ متشدد سوچ کے نکلے ہیں، یہ لبرل نہیں، خونی لبرلزم ہے!
Waseem Malik159,786 views • 1 year ago

میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جب سے اس حلقے میں الیکشن کی تاریخ دی گئی میرے یا میرے دفتر سے آپکو کوئی کال نہیں آئی، لیکن اگر 23 نومبر کو کوئی بدمزگی ہوئی، رات کو ووٹوں کے ساتھ ہیر پھیر ہوئی تو میں اپنی عوام کے سامنے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ صبح کی روشنی نہیں دیکھ پاؤ گے، صبح کچھ ہوا تو رات کا اندھیرا نہیں دیکھ پاؤ گے، وزیر اعلی پختونخواہ سہیل آفریدی کا عمر ایوب کے حلقے میں جلسے سے خطاب !
Waseem Malik118,149 views • 11 months ago

سپریم کورٹ کی جانب سے مختص کمرے کا قبضہ لے لیے جانے اور بے دخل کیے جانے کے باوجود صحافی برادری نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں جاری رکھنے کے لیے ایک منفرد حل تلاش کر لیا۔ سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر واقع گرین بیلٹ اب عملی طور پر ’’پریس روم‘‘ بن چکا ہے، جہاں صحافی شدید گرمی اور دیگر موسمی حالات کے باوجود عدالتی کارروائیوں کی کوریج اور رپورٹنگ کے فرائض انجام دے رہے ہیں، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی درخواست اور پرخلوص مطالبہ ہے کہ وہ اس نئے، منفرد اور غیر روایتی ’’پریس روم‘‘ کا افتتاح اپنے دستِ مبارک سے فرمائیں اور شکریہ کا موقع دیں۔
Waseem Malik46,825 views • 4 months ago

جنرل ضیاء الحق وردی میں بیٹھا بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ بھٹو کیس کی اپیل سپریم کورٹ میں ہے، عدلیہ آزاد ہے وہ جو فیصلہ دے گی قبول ہوگا، اور پھر عدلیہ نے بھٹو شہید کو سولی پر لٹکا دیا، اور اسی بینچ کے ججز نے بعد میں کہا دباؤ تھا، 40 سال بعد سپریم کورٹ نے بھٹو کیس میں اپنی غلطی تسلیم تو کی مگر سزا کسی کو نہیں ہوئی، اس وقت سزا صرف بھٹو کو نہیں ملی، اس کے ساتھ اس ملک کی عوام تھی جس کے ساتھ مل کر بھٹو شہید اشرافیہ سے لڑ رہے تھے اور ججز نے خوشی سے خود کو استعمال ہونے دیا، جسٹس اطہر من اللہ !!
Waseem Malik98,265 views • 1 year ago

گزشتہ 3 ماہ سے ہم ڈاکٹر ہنری کسنجر بنے ہوئے تھے آبنائے ہرمز کھلوا رہے تھے، مگر لوگ پاکستان کے حالات سننا چاہتے ہیں تو عید پر میں نے منجی توڑنے کی بجائے لوگوں سے ملاقاتیں کیں، حالات یہ تھے کہ میرا جس آدمی سے رابطہ ہوا، جنہوں نے عید قربان سے 3,4 مہینے پہلے منافعے کی غرض سے جانور اوسطاً 55 ہزار روپے میں خریدے پھر خرچ کیا، جانور پالے، تو عید پر وہ جانور اوسطاً 48 ہزار میں بکے، کئی لوگ تو ایسے تھے جن کے جانور بکے ہی نہیں، پھر بازاروں میں کئی دکانداروں سے ملاقات ہوئی، انہوں نے قسمیں کھا کھا کر بتایا کہ گزشتہ 50 سالوں میں ہم نے اتنی مندی نہیں دیکھی جتنی اس عید پر دیکھی، سینئر صحافی نصرت جاوید
Waseem Malik42,160 views • 5 months ago

محسن نقوی کی سلطنت میں سال 2025 کے دوران پاکستان میں آف لوڈ کیے گئے کل 66 ہزار مسافروں میں سے 51 ہزار کو ایف آئی اے نے بیرونِ ملک سفر سے روکا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے فیصلے دستاویزات کی جانچ، ڈیٹا ویریفکیشن اور آن لائن تصدیق کی بنیاد پر کیے گئے؟ اس دعوے کی ایک کلاسک مثال شہری احتشام الحق کا واقعہ ہے، جو 13 جون کو باکو روانہ ہو رہا تھا۔ درست پاسپورٹ، ویزا اور ہوٹل بکنگ سمیت تمام سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود ایف آئی اے اہلکاروں نے پہلے اسے آف لوڈ کیا، پھر پاسپورٹ پر آف لوڈ اسٹیمپ لگا دی۔ اس کے بعد اہلکاروں نے سفر کی اجازت کے بدلے 80 ہزار روپے رشوت طلب کی۔ شہری نے رقم ادا کی تو اسی آف لوڈ اسٹیمپ کے ساتھ اسے بیرونِ ملک روانہ ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ شہری اپنا دورہ مکمل کر کے وطن واپس آیا تو اس نے ایف آئی اے کے اس غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز پر مبنی اقدام کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔اس پورے معاملے کی مزید تفصیلات سینئر صحافی نصرت جاوید اور عدنان حیدر کے پروگرام خبر نشر میں
Waseem Malik59,016 views • 10 months ago