Waseem Malik's banner
Waseem Malik's profile picture

Waseem Malik

@iwaseemmalik25,223 subscribers

Journalist | Covering Law & Supreme Court of Pakistan

Shorts

جسٹس اعجاز اسحاق خان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل نے کاروائی کا فیصلہ کیا، معزز جج کیخلاف حالیہ عرصے میں دائر ہونے والی شکایات کی نوعیت دیکھئے: 21 اکتوبر 2025 کو مرکزی جنرل سیکریٹری تحریک تحفظ ناموس رسالت نے شکایت دائر کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے مقدس ہستیوں کیخلاف مہم کو تحفظ دیا،توہین کرنے والے افراد کیخلاف قانونی کاروائی روکنے کی کوشش کی گئی۔ 19ستمبر 2025 کو وکیل محمد وقاص ملک شکایت دائر کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز اسحاق نے ذاتی عناد اور تعصب کی بنیاد پر فیصلے دیے۔ مریم فیاض کیس میں 3 سال تک فیصلہ محفوظ رکھ کر عدالتی حلف کی خلاف ورزی کی جب کہ ’کٹ اینڈ ویلڈ گاڑیوں‘ کیس کا فیصلہ بھی غیر معمولی تاخیر کا شکار رہا، جس سے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے نظم و نسق میں رکاوٹ ڈالی، ساتھی ججوں کے ساتھ گروپ بنا کر عدالتی امور کو متاثر کیا، چیف جسٹس اور دیگر ججز کے خلاف محاذ آرائی کی، بطور جج پرائیویٹ لاء فرم چلاتے ہوئے عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے، عہدے سے ہٹایا جائے۔

جسٹس اعجاز اسحاق خان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل نے کاروائی کا فیصلہ کیا، معزز جج کیخلاف حالیہ عرصے میں دائر ہونے والی شکایات کی نوعیت دیکھئے: 21 اکتوبر 2025 کو مرکزی جنرل سیکریٹری تحریک تحفظ ناموس رسالت نے شکایت دائر کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے مقدس ہستیوں کیخلاف مہم کو تحفظ دیا،توہین کرنے والے افراد کیخلاف قانونی کاروائی روکنے کی کوشش کی گئی۔ 19ستمبر 2025 کو وکیل محمد وقاص ملک شکایت دائر کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز اسحاق نے ذاتی عناد اور تعصب کی بنیاد پر فیصلے دیے۔ مریم فیاض کیس میں 3 سال تک فیصلہ محفوظ رکھ کر عدالتی حلف کی خلاف ورزی کی جب کہ ’کٹ اینڈ ویلڈ گاڑیوں‘ کیس کا فیصلہ بھی غیر معمولی تاخیر کا شکار رہا، جس سے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے نظم و نسق میں رکاوٹ ڈالی، ساتھی ججوں کے ساتھ گروپ بنا کر عدالتی امور کو متاثر کیا، چیف جسٹس اور دیگر ججز کے خلاف محاذ آرائی کی، بطور جج پرائیویٹ لاء فرم چلاتے ہوئے عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے، عہدے سے ہٹایا جائے۔

136,413 次观看

پہلے مرحلے میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی نے وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا حلف لیا !

پہلے مرحلے میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی نے وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا حلف لیا !

82,976 次观看

وزیر اعلیٰ پختونخواہ کا کورکمانڈر پشاور سے ملاقات کے حوالے سے ردعمل، کہتے ہیں کہ “کورکمانڈر صاحب مبارکباد کیلئے آئے تھے، آفیشلی کوئی گفتگو نہیں ہوئی ان سے” !!

وزیر اعلیٰ پختونخواہ کا کورکمانڈر پشاور سے ملاقات کے حوالے سے ردعمل، کہتے ہیں کہ “کورکمانڈر صاحب مبارکباد کیلئے آئے تھے، آفیشلی کوئی گفتگو نہیں ہوئی ان سے” !!

65,327 次观看

ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد سے ان کی بہنوں کی ملاقات روک دینا اور پھر سردیوں کے موسم میں رات کے اس پہر احتجاج کرتی خواتین پر ٹھنڈا پانی پھینکنا، یہ اختیار نہیں بلکہ غیر انسانی سلوک کی بدترین شکل ہے، جس شخص کو آپ خود قید میں رکھے ہوئے ہیں، اس سے اس قدر خوف کیوں؟ حالانکہ آپ تو خیراتی دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کرکے پورا آئینی ڈھانچہ ہی زمین بوس کرچکے ہیں۔

ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد سے ان کی بہنوں کی ملاقات روک دینا اور پھر سردیوں کے موسم میں رات کے اس پہر احتجاج کرتی خواتین پر ٹھنڈا پانی پھینکنا، یہ اختیار نہیں بلکہ غیر انسانی سلوک کی بدترین شکل ہے، جس شخص کو آپ خود قید میں رکھے ہوئے ہیں، اس سے اس قدر خوف کیوں؟ حالانکہ آپ تو خیراتی دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کرکے پورا آئینی ڈھانچہ ہی زمین بوس کرچکے ہیں۔

49,341 次观看

گزشتہ 72 گھنٹوں سے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ آئینی عدالت کے دروازے پر صرف ایک ہی استدعا لیے کھڑے رہے کہ انہیں ٹرائل کورٹ پیش ہونا ہے، راستے سے گرفتار کر لیا جائے گا، عدالت پیش ہونی کی ضمانت دی جائے۔ مگر ہائیکورٹ نے بات سننے سے انکار کیا۔ اسی دوران کچھ بے شرم عناصر یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ ملزمان کو غیر معمولی ریلیف دیا جا رہا ہے، انہیں گرفتار نہیں کیا جا رہا، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ تین دن سے پولیس کے حصار میں تھے۔ اور آج، جب وہ عدالت جانے لگے تو بغیر کسی ایف آئی آر دکھائے، بغیر کسی قانونی جواز کے، پولیس نے اغوا کے انداز میں انہیں اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ یہ غیر قانونی حرکت صرف ایک گرفتاری نہیں، بوکھلاہٹ کا اعلان ہے۔ یہ طاقت نہیں، انجام کی کہانی ہے۔ ایک اور شرمناک کارنامہ اس حکومت اور اس کے کاسہ لیسوں کے ماتھے پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو چکا ہے۔

گزشتہ 72 گھنٹوں سے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ آئینی عدالت کے دروازے پر صرف ایک ہی استدعا لیے کھڑے رہے کہ انہیں ٹرائل کورٹ پیش ہونا ہے، راستے سے گرفتار کر لیا جائے گا، عدالت پیش ہونی کی ضمانت دی جائے۔ مگر ہائیکورٹ نے بات سننے سے انکار کیا۔ اسی دوران کچھ بے شرم عناصر یہ پروپیگنڈا کرتے رہے کہ ملزمان کو غیر معمولی ریلیف دیا جا رہا ہے، انہیں گرفتار نہیں کیا جا رہا، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ تین دن سے پولیس کے حصار میں تھے۔ اور آج، جب وہ عدالت جانے لگے تو بغیر کسی ایف آئی آر دکھائے، بغیر کسی قانونی جواز کے، پولیس نے اغوا کے انداز میں انہیں اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ یہ غیر قانونی حرکت صرف ایک گرفتاری نہیں، بوکھلاہٹ کا اعلان ہے۔ یہ طاقت نہیں، انجام کی کہانی ہے۔ ایک اور شرمناک کارنامہ اس حکومت اور اس کے کاسہ لیسوں کے ماتھے پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو چکا ہے۔

27,668 次观看

آپ نے سوچا رات کے دو بجے، ٹھٹرتی سردی میں، پرامن مظاہرین پر جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے واٹر کینن کیوں چلایا جا رہا ہے؟ پتھراؤ، لاٹھی چارج اور گرفتاریاں کیوں کی جا رہی ہیں؟ یہ لوگ کسی انتشار کے لیے تو نہیں نکلے، یہ اس لیے باہر ہیں کہ ایک قیدی کی اس کے خاندان سے ملاقات نہیں ہونے دی جا رہی، حالانکہ ملاقات کی اجازت قانون، جیل رولز اور خود عدالتی فیصلوں میں واضح طور پر موجود ہے۔ سوال یہ ہے: کیوں نہیں ہونے دی جا رہی ملاقات؟ کیونکہ قیدی نے کہا ہے کہ وہ سرینڈر نہیں کرے گا، اس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ عوام نے جو مقدس امانت ووٹ کی صورت میں اس کے سپرد کی، اس پر ڈاکا کیوں ڈالا گیا؟ سوال کا جواب دینے کی بجائے یہ سب کرکے پیغام دیا جا رہا ہے کہ ہم دلیل سے نہیں، طاقت سے بات کرتے ہیں، لیکن تاریخ کا اصول تو واضح ہے، طاقت وقتی خاموشی تو خرید سکتی ہے، سچ کو دفن نہیں کر سکتی !!

آپ نے سوچا رات کے دو بجے، ٹھٹرتی سردی میں، پرامن مظاہرین پر جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے واٹر کینن کیوں چلایا جا رہا ہے؟ پتھراؤ، لاٹھی چارج اور گرفتاریاں کیوں کی جا رہی ہیں؟ یہ لوگ کسی انتشار کے لیے تو نہیں نکلے، یہ اس لیے باہر ہیں کہ ایک قیدی کی اس کے خاندان سے ملاقات نہیں ہونے دی جا رہی، حالانکہ ملاقات کی اجازت قانون، جیل رولز اور خود عدالتی فیصلوں میں واضح طور پر موجود ہے۔ سوال یہ ہے: کیوں نہیں ہونے دی جا رہی ملاقات؟ کیونکہ قیدی نے کہا ہے کہ وہ سرینڈر نہیں کرے گا، اس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ عوام نے جو مقدس امانت ووٹ کی صورت میں اس کے سپرد کی، اس پر ڈاکا کیوں ڈالا گیا؟ سوال کا جواب دینے کی بجائے یہ سب کرکے پیغام دیا جا رہا ہے کہ ہم دلیل سے نہیں، طاقت سے بات کرتے ہیں، لیکن تاریخ کا اصول تو واضح ہے، طاقت وقتی خاموشی تو خرید سکتی ہے، سچ کو دفن نہیں کر سکتی !!

30,234 次观看

Islamabad these days: calm, cinematic & a little wild 🌫️ 🌧️

Islamabad these days: calm, cinematic & a little wild 🌫️ 🌧️

13,417 次观看

Videos

iwaseemmalik's profile picture

اہم ترین، قومی اسمبلی کے حلقے NA-148 ملتان ون کے ریٹرننگ آفس کی صورتحال! ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کے تینوں صاحبزادے ، موسی، حیدر اور قاسم گیلانی PTI کے حمایت یافتہ امیدوار Taimur Malik کے ساتھ کمرے میں موجود ہیں اور بحث و تکرار جاری ہے، موقع پر موجود صحافیوں کا بتانا ہے کہ کمرے کا دروازہ بند کردیا گیا، جبکہ RO آفس کے باہر سیکورٹی بھی سخت کردی گئی ہے، تیمور ملک صبح سے RO آفس موجود ہیں اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کرہے ہیں، اگر انہیں ہراساں یا گرفتار کرنے کی اطلاعات درست ہیں تو RO جو کہ ریاست کا ملازم ہے، منصفانہ گنتی کرکے فارم 45 کے مطابق رزلٹ دے نہ کہ اپنے آفس کو کسی خاندان کی جاگیر بنائے۔ اس حلقے سے سید یوسف رضا گیلانی صرف 293 ووٹس سے جیتے ہیں جبکہ بیرسٹر تیمور ملک کے 12,665 ووٹس مسترد ہوئے ہیں، اس طرح کے کیسز میں سپریم کورٹ نے 2013 اور 2018 میں یہ اصول طے کردیا تھا کہ جہاں کامیابی کا مارجن مسترد شدہ ووٹوں سے کم ہو وہاں پہلے گنتی اور بعدازاں پولنگ دوبارہ ہوگی۔ ریٹرننگ افسر کی کسی کی ذاتی ملازمت کی بجائے قانون کے مطابق NA-148 کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔

Waseem Malik

358,356 次观看 • 2 年前