Jan Achakzai / جان اچکزئی's banner
Jan Achakzai / جان اچکزئی's profile picture

Jan Achakzai / جان اچکزئی

@Jan_Achakzai • 83,418 subscribers

CT Minister for Information and Public Relations, Government of Balochistan, Pakistan |Reader, Writer, and geopolitical Analyst | سب سے پہلے پاکستان 🇵🇰

Shorts

Never mess with your daddy.

Never mess with your daddy.

95,269 Aufrufe

Separatist #BLA Flag in #Mahrang Baloch's procession in #Quetta. She promotes the agenda of separatism.

Separatist #BLA Flag in #Mahrang Baloch's procession in #Quetta. She promotes the agenda of separatism.

173,343 Aufrufe

مہرنگ کے " پرامن مظاہرین" کویٹہ میں پوسٹ آفس ، دکانوں، کاروباری مرکز اور بلوچستان یونیورسٹی کے ریکارڈ روم کو جلا رہے ہیں ۔

مہرنگ کے " پرامن مظاہرین" کویٹہ میں پوسٹ آفس ، دکانوں، کاروباری مرکز اور بلوچستان یونیورسٹی کے ریکارڈ روم کو جلا رہے ہیں ۔

65,357 Aufrufe

95 فیصد پاکستانی جنرل عاصم منیر کو کیوں پسند کرتے ہیں؟

95 فیصد پاکستانی جنرل عاصم منیر کو کیوں پسند کرتے ہیں؟

69,852 Aufrufe

Interesting: "We are not #Afghans, we are #Khorasanis"—slogans chanted by non-Afghans who fled Afghanistan to escape Taliban repression and who definitely do not want to be identified with the tribalistic identity of the current Afghan construct. دلچسپ: "ہم افغان نہیں، ہم خراساني ہیں"—یہ نعرے ان غیر افغانوں کی طرف سے لگائے جاتے ہیں جو طالبان کی جبر سے بچنے کے لیے افغانستان سے فرار ہوئے ہیں اور جو بالکل نہیں چاہتے کہ انہیں موجودہ افغان کی قبائلی شناخت سے جوڑا جائے۔ Dr. Barmak Yasin Zia

Interesting: "We are not #Afghans, we are #Khorasanis"—slogans chanted by non-Afghans who fled Afghanistan to escape Taliban repression and who definitely do not want to be identified with the tribalistic identity of the current Afghan construct. دلچسپ: "ہم افغان نہیں، ہم خراساني ہیں"—یہ نعرے ان غیر افغانوں کی طرف سے لگائے جاتے ہیں جو طالبان کی جبر سے بچنے کے لیے افغانستان سے فرار ہوئے ہیں اور جو بالکل نہیں چاہتے کہ انہیں موجودہ افغان کی قبائلی شناخت سے جوڑا جائے۔ Dr. Barmak Yasin Zia

24,167 Aufrufe

Videos

Jan_Achakzai's profile picture

افغان طالبان اندرونی طور پر بکھرنے لگے ہیں۔ مسلح مزاحمت نہ صرف تیز ہو رہی ہے بلکہ ملک بھر میں پھیل رہی ہے۔ صرف ایک ہفتے میں کابل، سرِپل، قندھار، بدخشان، کنڑ، نورستان، پروان اور پکتیا میں 10 کارروائیاں ہوئیں، جن میں طالبان کی چوکیوں، گاڑیوں اور اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا۔ نتیجتاً 17 اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) نے نورستان اور سرِپل میں طالبان کو پیچھے دھکیلا، جبکہ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (جنرل سمیع سادات کی قیادت میں) نے کابل، قندھار اور بدخشان میں کمانڈ و انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنایا۔ نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ (NIF) نے پکتیا اور سالنگ میں طالبان کی عسکری گاڑیوں اور چوکیوں پر حملے کیے۔ ستمبر میں اب تک 39 مزاحمتی کارروائیوں میں 69 طالبان اہلکار ہلاک اور 30 زخمی ہو چکے ہیں۔ 📌 تاریخ یہی بتاتی ہے: جبر کے ذریعے قائم نظام بالآخر اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے، مزاحمت بڑھتی ہے اور گرفت کمزور ہو جاتی ہے۔

Jan Achakzai / جان اچکزئی

29,525 Aufrufe • vor 29 Tagen