
Khalid Yousaf Chaudry
@KhalidYChaudry • 78,606 subscribers
Representing @ImranKhanPTI in Courts as Lawyer | Member Core Committee @PTIOfficial | Ex Civil Servant |
Shorts
Videos

کل شام مجھے سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ کی آفس سے کال آئی کہ عمران خان صاحب کے وکالت نامے دستخط ہو گئے ہیں آج دفتری اوقات کار میں اڈیالہ جیل سے وصول کر لوں۔ آج میں اڈیالہ جیل گیا تو مجھے 6 اپریل کو میڈیکل پٹیشن کے لئے بھیجوایا گیا عزیر کرامت بھنڈاری سینئیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کا وکالت نامہ میرے حوالے کیا گیا جبکہ القادر کیس میں سپریم کورٹ کے لئے وکالت نامے بھی آج دن 01:30 بجے اڈیالہ جیل میں موصول ہو چکے ہیں جن کے لئے عید کے بعد آنے کا کہا گیا ہے۔ میڈیکل پٹیشن سپریم کورٹ میں وکالت نامہ نہ ہونے کے اعتراضات کے ساتھ دائر ہے اب اس کے ساتھ وکالت نامہ منسلک کر دیا جائے گا جبکہ القادر کیس میں وکالت نامے آنے کے بعد اپیلز دائر کی جائیں گی۔
Khalid Yousaf Chaudry94,362 просмотров • 1 месяц назад

سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لئے عمران خان صاحب کے اپیل دستاویزات و وکالت ناموں پر جیل حکام نے دستخط کروا کہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ عمران خان صاحب کو حق انصاف سے محروم رکھنے کی دانستہ کوشش ہے کیونکہ جب بھی مقدمات سماعت کے لئے مقرر ہوں نا انصافی کھل کہ سامنے آتی ہے۔
Khalid Yousaf Chaudry68,662 просмотров • 3 месяцев назад

میں، بطور ممبر لیگل ٹیم سابق وزیراعظم عمران خان ، یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے عمران خان صاحب کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں متعدد آئینی و قانونی درخواستیں دائر کرنی ہیں۔ اسی سلسلے میں کل دوسری مرتبہ اڈیالہ جیل پہنچا تاکہ عمران خان صاحب کے قانونی دستاویزات ، وکالت نامہ اور پاور آف اٹارنی پر دستخط حاصل کیے جا سکیں، جو کسی بھی پٹیشن کے دائر کرنے کے لیے ناگزیر قانونی تقاضا ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی درخواست اپیل برائے سماعت مقرر نہیں کی جاتی۔ مگر جیل انتظامیہ کی جانب سے ان قانونی دستاویزات پر عمران خان صاحب سے دستخط کروانے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے نہ صرف قانونی عمل میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے بلکہ عمران خان صاحب کے بنیادی حقِ رسائی برائے انصاف (Access to Justice) کو بھی سلب کیا جا رہا ہے۔ یہ قابلِ تشویش ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کے خلاف ہمیں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے بھی ضروری قانونی تقاضے پورے کرنے سے روکا جا رہا ہے تا کہ نہ کیس کی سماعت ہو گی اور نہ عمران خان صاحب کے ساتھ ہونے والی نا انصافی سامنے آئے گی۔ یہ طرزِ عمل دانستہ طور پر پٹیشنز کو مؤخر اور غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مقررہ مدت گزر جانے کے بعد انہیں زائد المیعاد (time-barred) قرار دے کر سماعت سے ہی محروم کر دیا جائے۔ کل جیل حکام نے پہلے نام نوٹ کر کے انتظار کروایا اور بعد ازاں وقت گزارنے کے بعد صاف انکار کر دیا، جو بدنیتی پر مبنی تاخیری حربہ ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی عمران خان صاحب کے مقدمات کو میرٹ پر اپیلٹ فورم پر سنا گیا، جیسے کہ سائفر کیس، عدت کیس اور توشہ خانہ کیس، ان میں عدالتی نا انصافی عیاں ہوئی اور سزائیں ختم ہوئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ نئی پٹیشنز دائر ہی نہ ہونے دی جائیں۔ ہم نے سپریم کورٹ میں میڈیکل بنیادوں پر بھی رجوع کرنا تھا، تاہم اس ضمن میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ بحیثیت وکیل، میں عمران خان صاحب کے تمام قانونی امور کی کوآرڈینیشن، مینجمنٹ اور فالو اپ کا ذمہ دار ہوں اور لیڈنگ کونسلز کو سہولت فراہم کرنا میری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ تمام امور غیر معمولی رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ قانونی دستاویزات پر دستخط نہ کروانے کا واحد مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی اپیل یا آئینی درخواست بروقت دائر نہ ہو سکے اور یوں عمران خان صاحب کو انصاف تک مؤثر رسائی سے محروم رکھا جائے، جو کہ نہ صرف آئین بلکہ قانون کی روح کے بھی منافی ہے
Khalid Yousaf Chaudry42,620 просмотров • 3 месяцев назад

میں آج اڈیالہ جیل سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اور بشریٰ بیگم صاحبہ سے القادر ٹرسٹ کیس میں درخواست ضمانت بارےسپریم کورٹ اپیل کے لیے وکالت ناموں پر دستخط کروانے کی غرض سے گیا تھا۔ میں تقریباً چار گھنٹے انتظار کرتا رہا، مگر جیل حکام کی جانب سے وکالت ناموں پر دستخط نہ کروائے گئے ۔ القادر ٹرسٹ کیس سے متعلق وکالت نامے 25 مئی کو جیل حکام کو فراہم کر دیے گئے تھے، لیکن تاحال ان پر دستخط نہیں کروائے جا رہے۔ مجھے عید کے بعد دوبارہ آنے کا کہا گیا تھا۔ وکالت ناموں پر دستخط نہ کروانا سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بیگم صاحبہ کی انصاف تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ہم القادر ٹرسٹ کیس میں درخواستِ ضمانت بغیر فیصلہ نمٹائے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں، لیکن وکالت ناموں پر دستخط نہ ہونے کی وجہ سے قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اور بشریٰ بیگم صاحبہ کے عدالتوں تک رسائی کے آئینی اور قانونی حق کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ 25 مئی کو ایک وکالت نامہ میڈیکل پٹیشن کے سلسلے میں بھی دیا گیا تھا، جبکہ القادر ٹرسٹ کیس کے وکالت نامے اب تک دستخط کے لیے پیش نہیں کیے جا رہے۔ خالد یوسف چوہدری
Khalid Yousaf Chaudry15,753 просмотров • 1 месяц назад

عمران خان صاحب پر توشہ خانہ ٹو کیس میں نا حق سزا کے بعد اب عدالت میں سزا کے خلاف اپیل کا دروازہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اڈیالہ جیل میں سیاسی انتقام کی بدترین مثال قائم کی جا رہی ہے۔ عمران خان صاحب اور بشریٰ بی بی صاحبہ کو توشہ خانہ ٹو کیس میں دی گئی ناحق سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے سے دانستہ روکا جا رہا ہے تاکہ حقِ اپیل بھی چھین لیا جائے۔ اپیل کے لیے لازم و ملزوم وکالت ناموں پر دستخط اور انگوٹھے درکار ہیں جس کے بغیر اپیل دائر ہی نہیں کی جا سکتی، مگر جیل حکام نے مجھے کل تین گھنٹے انتظار کروایا اور آج 11 بجے بلانے کے باوجود چار گھنٹے انتظار کروا کر ملاقاتی شیڈ اور لیگل ڈیسک برائے وکالت نامہ اندرون جیل سے باہر نکال دیا اور انکار کر دیا۔ یہ محض انتظامی رکاوٹ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد انصاف تک رسائی بند کرنا ہے۔ یہ طرزِ عمل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل)، آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک)، آرٹیکل 9 (آزادیِ شخصی) اور آرٹیکل 25 (برابری) کے ساتھ ساتھ قیدیوں کے مسلمہ قانونی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وکالت نامہ ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔ اپیل کے دروازے بند کرنا صرف عمران خان نہیں بلکہ عدالتی نظام اور جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔
Khalid Yousaf Chaudry70,614 просмотров • 6 месяцев назад

نو مئی 2023 سے نو مئی 2026 — وقت نے اپنے کئی رنگ بدلے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت G-10 سے شاہراہِ دستور منتقل ہو گئی۔ راہداریاں بدل گئیں، کمرۂ عدالت بدل گئے، جج بدل گئے، تاریخیں اور سال بدل گئے۔ مگر اگر کچھ نہ بدلا تو وہ عمران خان کا اپنے مؤقف پر فولادی استقامت کے ساتھ کھڑا رہنا ہے۔ وہی عزم، وہی حوصلہ، وہی نظریے پر غیر متزلزل یقین۔ اور ایک چیز اور بھی ہے جو ان تین برسوں میں کبھی نہیں بدلی… وہ ہے میرا اپنے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عہد۔ نو مئی 2023 کو بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود تھا، اور آج نو مئی 2026 کو بھی انہی کے مقدمات کے سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں حاضر تھا۔ وقت گزر جاتا ہے، عمارتیں بدل جاتی ہیں، چہرے بدل جاتے ہیں، مگر سچ کے ساتھ کھڑے رہنے والے اپنے راستے نہیں بدلا کرتے۔
Khalid Yousaf Chaudry22,228 просмотров • 1 месяц назад

توشہ خانہ کیس میں آج عمران خان کو 17 سال سزا سنانے کے بعد انھیں انسانی عمر کے برابر 65 سال کی قید کی سزا پوری سنا دی گئی ہے۔ جج ہمایوں دلاور نے 5 اگست 2023 کو تین سال کی سزا سنائی ، سائفر کیس میں 10 دس قید کی سزا سنائی گئی اور ہھر جج بشیر احتساب جج نے30 جنوری 2024 کو 14 سال کی سزا جبکہ جج عدت کیس ٹرائل کورٹ نے 7 سال کی سزا 3 فروری 2024 کو سنائی۔ سلسلہ جاری رہا 17 جنوری 2025 کو القادر کیس میں 14 سال اور اب 17 سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عمران خان کو کل 65 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔
Khalid Yousaf Chaudry60,188 просмотров • 6 месяцев назад

عمران خان نے 26 سال جن کے بڑے ہونے کا انتظار کیا اب وہ میدان میں مقابلہ کر رہے ہیں۔
Khalid Yousaf Chaudry55,642 просмотров • 8 месяцев назад

آج میں عمران خان صاحب اور بشری بیگم صاحبہ کے القادر کیس میں ضمانت کو بغیر فیصلہ نمٹائے جانے کے خلاف اپیل سے متعلق قانونی دستاویزات کی تکمیل کے لیے جیل پہنچا، تاہم جیل حکام نے نہ تو وکالت ناموں پر دستخط کروانے میں تعاون کیا اور نہ ہی متعلقہ دستاویزات وصول کیے، جس کے باعث سپریم کورٹ سے رجوع کا عمل متاثر کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بشریٰ بی بی صاحبہ کی صاحبزادی کی درخواست پر نہ ذاتی سماعت کی گئی اور نہ ہی ملاقات و میڈیکل سے متعلق کوئی حکم جاری کیا گیا۔ یہ تمام صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عمران خان صاحب اور ان کی اہلیہ کو انصاف اور عدالت تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے، جو کہ آئینی و قانونی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
Khalid Yousaf Chaudry17,200 просмотров • 1 месяц назад

توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان صاحب اور بشری بی بی صاحبہ کی سزاؤں کے خلاف اپیلز دائر کر دی گئی ہیں۔
Khalid Yousaf Chaudry42,843 просмотров • 6 месяцев назад

آزاد کشمیر: راولپنڈی مظفر آباد شاہراہ کوہالہ انٹری پوائنٹس بند ۔۔
Khalid Yousaf Chaudry26,921 просмотров • 4 месяцев назад

نو مئی 2023 سے نو مئی 2025 تک کے دو سال کے سفر کا آنکھوں دیکھا احوال۔
Khalid Yousaf Chaudry57,019 просмотров • 1 год назад

عمران خان کو باوجود عدالتی حکم آج عدالت پیش نہ کیا گیا اور ویڈیو لنک کے عدالتی حکم پہ اڈیالہ جیل حکام نے انٹرنیٹ لنک ڈاؤںن ہونے کا گھسا پٹا جواب دہرایا ہے جبکہ سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک پہ پیش کیا گیا تھا۔ ۔ عمران خان کی جانب سے بغیر تاخیر درخواست ضمانت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ عدالت نے سرکار کو نوٹس کرتے ہوئے سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی ہے۔
Khalid Yousaf Chaudry55,819 просмотров • 1 год назад

بروز جمعہ مورخہ 21 نومبر 2025 کو یوم سیاہ کے حوالے سے پاکستانی عوام کے نام اہم پیغام۔
Khalid Yousaf Chaudry22,952 просмотров • 7 месяцев назад

پہلے عمران خان کے خلاف مقدمات میں پیش ہونے کا موقع دیا جاتا تھا مگر فیصلے خلاف کئے جاتے تھے۔ پھر مقدمات کی سماعت تو ہوتی عمران خان عدالت میں موجود ہوتے مگر دفاع کا حق چھین لیا گیا۔ اب تو درخواست دائر کرنے کا پہلا دستاویز وکالت نامہ ہی نہیں سائن ہونے دیا جا رہا تا کہ کوئی درخواست سرے سے دائر ہی نہ ہو سکے۔ نو مئی لاہور مقدمات میں عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کرنے لئے لئے وکالت نامے جیل حکام کی جانب سے سائن نہ کروا کہ دیئے جانے کے خلاف ہمشرہ عمران خان علیمہ خانم کی جانب سے انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں دائر درخواست میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ آج ہی عمران خان سے وکالت نامے سائن کروا کہ دیئے جائیں۔ عدالتی حکم جیل حکام کو پہنچا دیا گیا ہے۔
Khalid Yousaf Chaudry28,137 просмотров • 11 месяцев назад