Saqib Allyana's banner
Saqib Allyana's profile picture

Saqib Allyana

@msaalyana1,428 subscribers

گونگوں کو تکلم کے مواقع ہیں میسّر ہم ماہرِ گفتار بڑی دیر سے چپ ہیں

Videos

msaalyana's profile picture

یہ 35 سیکنڈ کی وڈیو سب کو ہر حالت مین دیکھنا ہے جو مجھے پڑھتے ہین ۔ ہمت کر کے ۔ جن کو مان باپ اور رب سے اختلاف ہے ۔ جن کی خواہشات ہین ۔ ۔۔۔۔۔۔ اپنی بیٹیوں کو ضرور دکھائیں کے ایسے بھی شادیاں طے ہوتی ہین ۔ 13 تاریخ کو شادی ہے ۔ اور جہیز کیا ہے ۔ ہوش حواس اڑ جائیں گے اپ کے ماں اور باپ کی بات سن کر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کو پنجابی زبان کی سمجھ نہ لگے وہ پوسٹ پڑھ لے۔ کل شام میں اس گھر پہنچا بہت دیر سے پتا چلا۔ ان کی چھت اور کمرے کے حالات دیکھیں۔ 35 سیکینڈ کی یہ وڈیو میرا سب کچھ ایک امتحان تھی۔ بس ان سے پوچھا آپ کی تو بچی کی شادی بھی ہے کب ہے۔ تو باپ بولا 13 تاریخ کو ہے۔ میں بولا کچھ بنایا ہے بچئ کا۔ اس پر ماں بولی۔ کائی شے نہین بنائی ہیک کولی وی کائی نہین ساڈے کولی دھی دی۔ بس بچی کی بازو پکڑ کر اگلے گھر والون کو دینی ہے ۔ ترجمہ کوئی چیز نہیں بنائی ایک سالن ڈالنے والی پیالی بھی نہین ہے ہمارے پاس ایک چارپائی بنوائی تھی وہ بھی یہ کمرے مین بارش کیوجہ سے ختم ہو گئی ہے بس بچی کو بازو سے پکڑ کر لڑکے والون کے حوالے کر دینا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس اتنا سا سوال ہے ۔ اب آپ کر کے دیکھاو ناشکری ۔ کیا اپ کے حالات اس گھر سے بھی بدتر ہین ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل کر رہا ہے یہ 35 سیکنڈ کی وڈیو کالجز اور یونیورسٹیوں کے اوڈیٹوریم میں پروجیکٹر پر دیکھاون اور وہاں موجود لڑکیوں سے سوال کرون ۔ دس پندرہ ہزار کے سنیکرز 4 لاکھ کا آئی فون ہاتھ میں جس جس بچی کے ہے اس کو ہم کیا تربیت دے رہے ہین گھر بسانے کو۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ آج دوپہر کو اس بچئ کا جہیز کپڑے برتن پنکھا میک اپ کا سامان چارپائیان بستر سب خرید کر اس گھر مین پہنچانا ہین انشاءاللہ۔ ۔ ۔ #SaqibAllyana #Punjab

Saqib Allyana

164,719 次观看 • 1 个月前

msaalyana's profile picture

مان نے واجد کے گھر جا کر بس اتنا بولا میری بیٹی کی کل شادی ہے۔ اور ہمارے گھر آٹا بھئ نہین ہے ۔ بیٹی کی رخصتی پر دینے کو کھانا یا جلیبی تو بس ایک خواہش ہی رہ جائے گی ۔ واجد کا فون ایا کل رات 10 بجے کے بعد مہر جی عورت دروازے پر کھڑی ہے ۔ مین نے بولا حقدار ہیں ۔ بولا ہان یہ کنفرم ہے 30 سال سے جانتا ہون اس خاندان کو۔ ساتھ والے گاون کے ہین رات کی تاریکی مین آئے ہین تاکہ کسی کو خبر نہ ہو۔ تو اس گھر رات کو ہی واجد کی طرف ہر وقت رکھے ہوئے دو ایکسٹرا خریدے ہوئے جہیزون مین سے ایک واجد جا کر ان کے گھر چھوڑ آیا۔ ماں باپ نے جیسی دعائین دین بس عرش والا قبول فرمائے ۔ ۔۔۔۔۔۔ کھانا چیک کیا خود بہت مزے کا تھا ۔ دوپہر کے چند پل جتنے سکون سے گزرے ۔ شام کو وڈیوز پہنچنے پر کہاں کہاں چرکے لگے سینے مین یہ رب ہی جانتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کھانا دن کو ان تک پہنچا دیا ٹینٹ لگوا دئیے تھے صبح واجد نے ۔ جا کر ان کے گھر ۔ کسی گھر کے فرد کی تصویر مردوں مین سے بھی بنانا ممکن نہین تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔ عزت بچا کر بیٹی کو رخصت کرنا کتنا مشکل ہو چکا ہے ۔ جس نے دروازے پر ا کر صدا لگا دی اس کو خالی لوٹانا ظلم ہوتا ہے ۔ تمام کام احسن طریقہ سے طے پا گئے ۔ ۔ رب کعبہ ہم سب کو ہمت اور عزت عطا فرمائے احسن عمل کی ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل بیٹھ گیا اس وڈیو کو دیکھنے کے بعد جب دلہن کے کپڑے مجھے نظر آئے ۔ بچی نے دلہن بن کر بھی دلہن والا کچھ نہین پہن رکھا تھا۔ میرا دم گھٹ گیا۔ سانس رک گی۔ واجد کو کال کی پوچھا تو پتا چلا باپ نے منع کیا تھا کے کپڑے نہ بنا سکا ہون نہ مانگ کر پہناون گا۔ ۔ ۔ کبھی کبھی چیخیں مار کر رونے کو دل کرتا ہے ۔ ایسے معاشرے مین ایسے فرشتے سفید پوش افراد بھی موجود ہین ۔ ۔ ۔ جن کی ایسے حالات مین بھی بس نہین ہوتی ۔ #SaqibAllyana

Saqib Allyana

61,294 次观看 • 14 天前

انسانوں کی خوشیاں کتنی معصوم اور چھوٹی چھوٹی ہوتی ہین۔ دو افراد کی زندگی میں آنے والی تبدیلی پر سب اتنے خوش کے سب جھوم رہے ہین خوش ہین ڈھول کی تھاپ پر کیسے ناچ رہے ہین ۔ کیسے سکون سے کھانا کھا رہے ہین ۔ مسکرا رہے ہین ۔ باتیں کر رہے ہین ۔ ایک بیٹی کیسے پورے گھر مین خوشیاں بانٹ کر خود کیسے اگلے گھر نئی تکلیفیں سمیٹنے چل دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہان ان گھروں کی بچیوں کو ہمارے گھروں کی بچیوں سے زیادہ شعور ہوتا ہے ۔ ان سے بات کریں تو ان کے جھکے سر اور چہرے پر رکھے دوپٹے کے پیچھے سے ایسی بات سننے کو ملتی ہے جو بڑے بڑے دانشوروں کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ مہر جی مین جانتی ہون وہاں جا کر مجھے باپ کے گھر سے زیادہ محنت اور تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔ لیکن مین خوش اس لئے ہون کے میرا باپ اب رات کو بار بار صحن مین اٹھ کر چکر نہین لگائے گا۔ ماں سے چھپ چھپ کر بات کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر یہ نہین بولے گا ۔ نسیم اس دا کی کرنا ہے چھوئیر ( لڑکی ) جوان دروازے تے بیٹھی ہے ۔ یہ ایک فقرہ ساری دنیا کی ذمہ واریوں پر بھاری ہے ۔ میں نے ایسے ماں باپ بھی دیکھے ہین جو میرے پاوں مین بیٹھ گئے سڑک کنارے بات کرتے کرتے ۔ مہر کچھ کر میری دھی نو پرناون ( شادی کروانے ) وچ مدد کر ۔ میں ہر گیا ہان ۔ ( مین ہار گیا ہوں ) بیٹی کیسا رشتہ ہے کے جس کے لئے گھر مین موجود ہر قیمتی چیز ہر باپ ہر ماں بیچ کر بس اس کا گھر بسانا چاہتے ہین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رب کعبہ کی قسم میں اگر ماں باپ سے ہوئی دو گفتگو یہان آپ لوگون کے سامنے لکھ دوں ان کی وڈیو شئیر کر دوں ۔ آپ میں سے جو بیٹیون کے ماں باپ ہین وہ دھاڑیں مار کر رونے لگین۔ اور جو ضمیر والے جوان لڑکے ہین وہ خواہشات مار دیں ۔ زندہ ضمیر جوان بیٹون کی مائین جھک جانے والی کمر والے ماں باپ سے ایک سوٹ تک نہ مانگیں۔ اپنی بہو کو ایسے ہی لے جائیں ۔ میں نے دلہنوں کو شادی سے 3 تین دن پہلے روتے گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے باپوں کے لہجے سنے ہین۔ مہر میری دھی دی شادی کروا چا ۔ میرے سے اشٹام پر سائن انگوٹھا لگوا لو۔ ساری زندگی روٹی کے علاوہ کچھ نہین لوں گا تمہاری غلامی کرون گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مین اکیلا یہ درد کیون سمیٹ رہا ہون ۔ میں اب ایک ایسی وڈیو لڑکی کے ماں باپ کی شکلیں دیکھائے بنا جو میرا اصول ہے ۔ ان کی وڈیو اپ کو دیکھاون گا مکمل ۔ آپ کو احساس ہو زندگی کس قدر تلخ ہے ۔ کسی ایک حرف کو کاٹے بنا دیکھاون گا۔ جب کوئی دلہن اپنی شادی سے 2 چار دن پہلے یہ دو کوڑی کا سامان جو ہم دیتے ہیں جس کی جگہ تک ہمارے گھروں میں نہین بن سکتی ۔ اس سامان کو میں نے ماوں کو سینے سے لگا کر روتے دیکھا ہے ۔ مین ایسے باپ دیکھ چکا ہون جو دو بستر دو چارپائی چند چیزوں والی چنگچی دروازے پر آن کھڑی ہونے پر ۔ دھاڑیں مار کر رونے لگتے ہین ۔ کے کیا ایسے بھی کوئی مدد کو پہنچتا ہے ۔ آپ مین سے کتنے لوگ ہین جن کے لئے یہ چند چیزیں ایک رتی برابر بھی اہمیت رکھتی ہین ۔ ہم جن خاندانوں جن گھروں سے ہیں ۔ کیا وقعت ہے ہمارے لئے ایک لاکھ روپے کی ۔ کچھ نہیں ہے ۔ ہم اپنی فیملی کے ساتھ ایک شاپنگ ایک لنچ پر ایک دن میں اپنے ماں باپ کو اور خود اس سے کہیں زیادہ پیسے لگا دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کوخوش کرنے واسطے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری جانب یہ ایک لاکھ نہ ہونے کی وجہ سے ان غربا کے گھروں میں ایک ایک گھر مین پانچ پانچ جوان بیٹیان بیٹھی ہین ۔ رنج اس بات کا ہے ۔ایسے درندہ صفت لوگون سے بھی ملنا پڑتا ہے جن کو ایسے غریب گھروں سے بھی سامان چائیے ۔ دس دس سال سے بیٹیان رشتے ہونے کے بعد باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہین ۔ اور انسان ہی جانور بن کر اپنی بہن کی بیٹی کوئی اپنے بھائی کی بیٹی ۔تو کوئی اپنی برادری کی لڑکی باپ کے دروازے پر بیٹھائے ہوئے ہے ۔ اور سننے کو ملتا ہے ۔ ہم پہنچ نہین پا رہے مہر علیانہ ہم زندگی لگا چکے ہین دھاڑی کرتے ہین ۔ پر روٹی پوری نہین ہوتی ۔ ہم بیٹی کا فرض کیسے ادا کریں ۔ میں نے سروں مین چاندی اترتی اور اتری ہوئی بیٹیون کی آنکھیں نم دیکھی ہین۔ ایسی پھوپھیان بھائی کے دروازے پر بیٹھی دیکھی ہین ۔ جو بولتی ہین ۔ مہر جی ہمارا وقت تو گزر چکا ہے ۔ خدا کا واسطہ ہے میرے بھائی کی بیٹی کو میری طرح بوڑھا مت ہونے دینا اس کی شادی کروا دو۔ یہ زندگی لکڑی کے مرد چارپائی پر پڑے فالج زدہ اپنے مرد کے ساتھ گزر جاتی ہے ۔ لیکن شادی کے بنا ماں باپ کے گھر جیتے جیتے بیٹی مر جاتی ہے اپنے باپ کا گھر کھانے کو دوڑتا ہے ۔ لوگ برادری ہنستے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
2:58

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

msaalyana's profile picture

انسانوں کی خوشیاں کتنی معصوم اور چھوٹی چھوٹی ہوتی ہین۔ دو افراد کی زندگی میں آنے والی تبدیلی پر سب اتنے خوش کے سب جھوم رہے ہین خوش ہین ڈھول کی تھاپ پر کیسے ناچ رہے ہین ۔ کیسے سکون سے کھانا کھا رہے ہین ۔ مسکرا رہے ہین ۔ باتیں کر رہے ہین ۔ ایک بیٹی کیسے پورے گھر مین خوشیاں بانٹ کر خود کیسے اگلے گھر نئی تکلیفیں سمیٹنے چل دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہان ان گھروں کی بچیوں کو ہمارے گھروں کی بچیوں سے زیادہ شعور ہوتا ہے ۔ ان سے بات کریں تو ان کے جھکے سر اور چہرے پر رکھے دوپٹے کے پیچھے سے ایسی بات سننے کو ملتی ہے جو بڑے بڑے دانشوروں کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ مہر جی مین جانتی ہون وہاں جا کر مجھے باپ کے گھر سے زیادہ محنت اور تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔ لیکن مین خوش اس لئے ہون کے میرا باپ اب رات کو بار بار صحن مین اٹھ کر چکر نہین لگائے گا۔ ماں سے چھپ چھپ کر بات کرتے ہوئے میری طرف دیکھ کر یہ نہین بولے گا ۔ نسیم اس دا کی کرنا ہے چھوئیر ( لڑکی ) جوان دروازے تے بیٹھی ہے ۔ یہ ایک فقرہ ساری دنیا کی ذمہ واریوں پر بھاری ہے ۔ میں نے ایسے ماں باپ بھی دیکھے ہین جو میرے پاوں مین بیٹھ گئے سڑک کنارے بات کرتے کرتے ۔ مہر کچھ کر میری دھی نو پرناون ( شادی کروانے ) وچ مدد کر ۔ میں ہر گیا ہان ۔ ( مین ہار گیا ہوں ) بیٹی کیسا رشتہ ہے کے جس کے لئے گھر مین موجود ہر قیمتی چیز ہر باپ ہر ماں بیچ کر بس اس کا گھر بسانا چاہتے ہین۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رب کعبہ کی قسم میں اگر ماں باپ سے ہوئی دو گفتگو یہان آپ لوگون کے سامنے لکھ دوں ان کی وڈیو شئیر کر دوں ۔ آپ میں سے جو بیٹیون کے ماں باپ ہین وہ دھاڑیں مار کر رونے لگین۔ اور جو ضمیر والے جوان لڑکے ہین وہ خواہشات مار دیں ۔ زندہ ضمیر جوان بیٹون کی مائین جھک جانے والی کمر والے ماں باپ سے ایک سوٹ تک نہ مانگیں۔ اپنی بہو کو ایسے ہی لے جائیں ۔ میں نے دلہنوں کو شادی سے 3 تین دن پہلے روتے گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ میں نے باپوں کے لہجے سنے ہین۔ مہر میری دھی دی شادی کروا چا ۔ میرے سے اشٹام پر سائن انگوٹھا لگوا لو۔ ساری زندگی روٹی کے علاوہ کچھ نہین لوں گا تمہاری غلامی کرون گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مین اکیلا یہ درد کیون سمیٹ رہا ہون ۔ میں اب ایک ایسی وڈیو لڑکی کے ماں باپ کی شکلیں دیکھائے بنا جو میرا اصول ہے ۔ ان کی وڈیو اپ کو دیکھاون گا مکمل ۔ آپ کو احساس ہو زندگی کس قدر تلخ ہے ۔ کسی ایک حرف کو کاٹے بنا دیکھاون گا۔ جب کوئی دلہن اپنی شادی سے 2 چار دن پہلے یہ دو کوڑی کا سامان جو ہم دیتے ہیں جس کی جگہ تک ہمارے گھروں میں نہین بن سکتی ۔ اس سامان کو میں نے ماوں کو سینے سے لگا کر روتے دیکھا ہے ۔ مین ایسے باپ دیکھ چکا ہون جو دو بستر دو چارپائی چند چیزوں والی چنگچی دروازے پر آن کھڑی ہونے پر ۔ دھاڑیں مار کر رونے لگتے ہین ۔ کے کیا ایسے بھی کوئی مدد کو پہنچتا ہے ۔ آپ مین سے کتنے لوگ ہین جن کے لئے یہ چند چیزیں ایک رتی برابر بھی اہمیت رکھتی ہین ۔ ہم جن خاندانوں جن گھروں سے ہیں ۔ کیا وقعت ہے ہمارے لئے ایک لاکھ روپے کی ۔ کچھ نہیں ہے ۔ ہم اپنی فیملی کے ساتھ ایک شاپنگ ایک لنچ پر ایک دن میں اپنے ماں باپ کو اور خود اس سے کہیں زیادہ پیسے لگا دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کوخوش کرنے واسطے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری جانب یہ ایک لاکھ نہ ہونے کی وجہ سے ان غربا کے گھروں میں ایک ایک گھر مین پانچ پانچ جوان بیٹیان بیٹھی ہین ۔ رنج اس بات کا ہے ۔ایسے درندہ صفت لوگون سے بھی ملنا پڑتا ہے جن کو ایسے غریب گھروں سے بھی سامان چائیے ۔ دس دس سال سے بیٹیان رشتے ہونے کے بعد باپ کی دہلیز پر بیٹھی ہین ۔ اور انسان ہی جانور بن کر اپنی بہن کی بیٹی کوئی اپنے بھائی کی بیٹی ۔تو کوئی اپنی برادری کی لڑکی باپ کے دروازے پر بیٹھائے ہوئے ہے ۔ اور سننے کو ملتا ہے ۔ ہم پہنچ نہین پا رہے مہر علیانہ ہم زندگی لگا چکے ہین دھاڑی کرتے ہین ۔ پر روٹی پوری نہین ہوتی ۔ ہم بیٹی کا فرض کیسے ادا کریں ۔ میں نے سروں مین چاندی اترتی اور اتری ہوئی بیٹیون کی آنکھیں نم دیکھی ہین۔ ایسی پھوپھیان بھائی کے دروازے پر بیٹھی دیکھی ہین ۔ جو بولتی ہین ۔ مہر جی ہمارا وقت تو گزر چکا ہے ۔ خدا کا واسطہ ہے میرے بھائی کی بیٹی کو میری طرح بوڑھا مت ہونے دینا اس کی شادی کروا دو۔ یہ زندگی لکڑی کے مرد چارپائی پر پڑے فالج زدہ اپنے مرد کے ساتھ گزر جاتی ہے ۔ لیکن شادی کے بنا ماں باپ کے گھر جیتے جیتے بیٹی مر جاتی ہے اپنے باپ کا گھر کھانے کو دوڑتا ہے ۔ لوگ برادری ہنستے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔

Saqib Allyana

86,228 次观看 • 1 个月前

msaalyana's profile picture

اس کیس کا (شادی ہونے والی تھی ) رات گئے پتا چلا تھا ہمین چند دن پہلے ۔ اور جتنا ہوسکا اس وقت رات اور اگلے دن میں کردیا ۔ اتنی جلدی جو جوجو ممکن تھا ۔ لڑکا کریانے کی دکان کرتا تھا تب دکان کو سرسری نظر سے دیکھا تھا ۔ شادی کے دو دن بعد پتا چلا کہ لڑکا لڑکی کے پاس اپنا کمرہ بھی نہیں ہے ۔ شادی کے وقت بڑے بھائ نے کمرہ دیا، جس میں رہائش پذیر ہیں ۔ اور یہ بھی کے بڑے بھائی کے پاس اور کوئی کمرہ نہین وہ ماں کے کمرے مین شیف ہوا ہوا ہے بیوی بچوں سمیت ۔ جو کمرہ لڑکے کے حصے میں ہے اسکی چھت سال سے زیادہ ہوگیا، مکمل نہیں ہوسکی دیواریں راولپنڈی میں محنت مزدوری کرکے، تعمیر کیں۔ لیکن چھت کے پیسے نہین بن پائے ۔ چھت اور دروازے کھڑکی کی گنجائش نہیں بن سکی کمرہ دیکھنے گئے تو دکان چیک کی ۔ گھر میں ہی ایک چھوڑے سے سٹور کو باہر کی طرف دروازہ لگا کر واشروم کے ساتھ دوکان بنائی ہوئی ہے ۔ ساری دکان خالی ہے۔ جو پہلی بار مجھے لگا ڈبے پڑے ہین ریکس کے اندر ۔ جو بھری چیزیں اور سامان نظر آرہا تھا وہ اصل میں خالی ڈبے ڈسپلے کیئے تھے لڑکا لڑکی اس دن جھنگ تھے، ان سے بات نا ہوسکی ۔ کسی ڈبے مین کوئی چیز نہین تھی۔ چینی والی بالٹی مین ادھا پاو چینی پڑی تھی۔ چند پیکٹ ساشے تار پر لٹک رہے تھے ۔ مسالہ جات کے ۔ یا ایک جار مین ادھا کلو چنے کی دال پڑی تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضعیف ماں، جس کے زیر کفالت ایک مطلقہ بیٹی اور اس کا بارہ سال کا بیٹا یے ماں نے درخواست کی کہ روزگار کا کچھ کردیں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب روزگار اور کمرے کا کہا تو بہت دعائیں دی کل دوبارہ گئے، لیکن جانے سے پہلے مستری کو کہا کہ چھت کے لیئے مطلوبہ سامان کی پیمائش کرو، وہ واجد کے ذمے سامان لگا دیا ۔ مستری نے پیمائش کر کے واجد کو کال کر دی۔ واجد بھوانہ سے جا کر سامان شام کو خرید لایا اور ان کے گھر پہنچا دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج انشاءاللہ ان کی چھت ڈل جائے گی ۔ کمرہ مکمل ہو جائے گا ۔ دروازہ کھڑی بھی لگ جائے گی اگر میرے رب کو منظور ہوا۔ ۔۔۔۔۔۔ لڑکا لڑکی سے بات ہوئی دکان کیسے ختم ہوئی چالیس ہزار کا سامان ڈالا ۔ خود مزدوری کر کے لڑکے نے۔ یا بڑے بھائی نے دس ہزار دئیے ۔ لیکن ادھار نے کام مشکل کردیا لوگوں کو کئ بار کہا لیکن کسی نے واپس نا کیئے سات ماہ دکان چلائی، اب پچیس ہزار کا ادھار لینا ۔ برادری کے گھر ہین اردگرد ۔ شادی سے چند دن پہلے لڑکے نے ادھار والے گھروں مین جا کر خدا واسطے کے منت ترلے کئے لیکن سب نے چند سو کے سوا اس کا دوکان سے لیا ادھار واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب وقت تھا تب چاول، چینی پتی سب بیچے اور اب صرف خالی ڈبے ہی پڑے ہین ریکس مین ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ لڑکا کام کرنا چاہتا دوبارہ شروع کرنا چاہتا اپنی غلطیاں جان چکا کہتا ادھار نہیں دینا اب اب کماؤں گا تو کھلاؤں گا پہلے اکیلا تھا تو گزارا ہو جاتا تھا ۔ اب بیوی بھی ہے اور بیوی کے ساتھ بیوی کا پہلی شادی سے ایا بیٹا بھی ساتھ ہے ۔ لڑکی کا پہلا شوہر نشہ کرتا تھا تبھی طلاق کی اس بچئ نے۔ لڑکی کا باپ تندور پر روٹیاں لگاتا ہے ۔ جہاں سے ہم شادیون کے کھانے بنوانے ہین اور روٹیاں لگواتے ہین ۔ انشاءاللہ جلد ہی اسکا کمرہ مکمل کردیں گے کمرے میں کھڑکی کا آپشن نہیں رکھا، کے ہمت ہی نہین تھی اس کے پاس۔ اسکا مستری کو کہ دیا ہے ۔ دکان کا بھی جلد کر دیتے دو چار دن میں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم وسائل سے اس کے لئے آسانیاں پیدا کر سکتے ہین باقی رب نے اصل آسانیاں پیدا کرنی ہین ۔ اپنے اردگرد ایسے غربا پر نظر رکھا کریں جن کے حالات ایسے ہو۔ دعاؤں مین یاد رکھا کرین۔ #SaqibAllyana #Punjab

Saqib Allyana

43,781 次观看 • 23 天前

msaalyana's profile picture

زندگی کی مشکلات کہاں سانس لینے دیتی ہیں انسان کو۔ آج آپ کے سامنے ایک گھر کی وڈیو لگا رہا ہوں ۔ تین بہنیں ہیں کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے ۔ علاقے کے پٹواری نے اپنا ایک پرانا گھر جو جیسا بھی ہے تین یتیم بہنوں کو دے رکھا ہے۔ اس گھر کا لیول گلی سے 6 فٹ سے زیادہ نیچے ہے۔ جی بارش ہو جائے تو موٹر لگا کر پانی گھر سے نکالا جاتا ہے ۔ کیسی زندگی کے بارش نہ ہونے کی دعا کرتے ہوئے ان بہنوں کی پچھلی 18 سال کی زندگی گزری ہے ۔ لوگ ابھی زندگی ۔ معاشی حالات درست ہونے کی۔ دعا کرتے ہین ۔ ان بچیوں کی زندگی بارش نہ ہو کرتے گزر رہی ہے ۔ ۔۔۔۔ بس ایک بار پوچھا وہاں بیٹھے کے بہن جی اگر یہ گھر واپس لے لیا مالک نے تو پھر کیا کریں گی آپ۔ تو بولین رب ہی سہارا ہے ۔ اور کون ہے بھائی ہمارا۔ آنکھوں کی نمی چھپانےکو منہ دوپٹے سے صاف کرنے لگیں یہ بات کرتے ہوئے ۔ ۔۔۔۔ ایک بہن گھر میں کپڑے سی کر گزارا کرتی ہے۔ دوسری ایک پرائیوٹ سکول میں پڑھا رہی ہے۔ تیسری جو سب سے چھوٹی ہے 18 سال کی وہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہے۔ پیدائشی ۔ اس کے دو آپریشن ہو چکے ہیں جھلی ڈل چکی ہے دل میں لیکن حالات ایسے مشکل اور تکلیف دہ ہیں کے اکثر وہ میڈیسن خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے جو اس کی زندگی کا حصہ ہے۔ مجھے میرے پیارے دوست بھائی نعیم گلزار نے جب ان کے بارے بتایا تو سب سے پہلے ان کے لئے سلائی مشین چائیے تھی وہ ساتھ لے کر گیا ۔ پہلی مشین جس سے یہ سلائی کر رہی ہیں آدھا ماہ دوکانوں پر دھکے کھاتی ہے۔ ۔۔۔۔ چھوٹی بہن جو دل کے عارضے میں مبتلا ہے اس کے الفاظ نے وہاں موجودگی میں دل چیر دیا۔ بھائی میری زندگی کا کیا مقصد ہو سکتا ہے ۔ گھر اپنا نہیں بھائی سگے دونوں کبھی پوچھنے نہیں آئے دل کا عارضہ ایسا کے اکثر ایک جگہ سے دوسری جگہ قدم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ پلپٹیشن اور چکر شروع ہو جاتے ہیں ایسے لگتا ہے ابھی جان نکلی کے ابھی نکلی۔ ۔۔۔۔ وڈیو میں موجود آخری کلیپ میں اسی بچی کا پاوں ہے جس میں دو ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں۔ 6 دن پہلے گھبراہٹ شروع ہوئی تو خود کو سنبھال نہیں پائی گلی میں گری تو پاس کھڑی ریڑھی پاوں پر سے گزر گئی ۔ سگے بھائی کو کال کی تو گلی سے اٹھا کر گھر تو لایا۔ لیکن بولا کچھ نہیں ہوا اس کو سب ٹھیک ہے اور چلا گیا۔ معاشی مسائل رشتوں کو بھی کھا جاتے ہیں۔ بچی کو ارتھوپیڈک سے بھی چیک کروا کر اس کی ہڈیوں کو پراپر جڑوا دیا ہے۔ ۔ اس دل کے عارضہ میں ہر چھ ماہ میں معالج سے چیک اپ کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اور ڈیڑھ سال ہو چکا ہے ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کے ویگن پر فیصل آباد جا کر چیک اپ کروا لیتے سرکاری کارڈیو ہسپتال سے ۔ ۔۔۔۔ میں نے یہ پہلا گھر ہے جس کو ساتھ گاون میں زمین 3 مرلے لے کر دینے کا وعدہ بھی کیا ہے اور اوپر ایک کمرہ واشروم۔ اور کچن کر دینا ہے۔ انشاءاللہ یہ کرنا ہے۔ 3 کمروں کے پیسوں میں ان کا گھر مکمل ہو جائے گا بجلی کے کنکشن سمیت سارا حساب کر لیا ہے۔ اور نعیم بھائی نے زمین کی بات کر لی ہے۔ وہیں جہاں۔ شاہد ( مخنث کھسرے ) کا گھر۔ بن رہا ہے وہیں پاس یہ گھر بنے گا تاکہ ان کو تحفظ کا۔ بھئ مسلہ نہ ہو ۔ نعیم بھائی کا گاون ہے وہاں مشکل نہیں ہو گی ان کو ۔ ۔۔۔۔ بہت کچھ ہے جو لکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن الفاظ ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ اس کیس بارے میں لکھنا نہیں چاہتا تھا۔ بس اس کو مکمل کرنا تھا بنا کسی کوبتائے۔ لیکن مبشر اور نعیم کی سخت ہدایت پر لکھنا پڑا کے ۔ اس کو بیان کرنے سے وہ لوگ ھدایت پائیں گے جو ناشکری کرتے ہیں۔ جو متعصب ہو کر سوچتے ہیں۔ جو ہوتے سوتے کہتے ہیں ہمارے پاس کیا ہے ۔ ایک بہن کی ان میں سے شادی ہوئی ہوئی ہے۔ اس کا شوہر بھئ مزدوری کرتا ہے ۔ لیکن جسمانی طور پر کمزور ہے تو مزدوری بھئ بس گزارے لائق ہی ملتی ہے اس کو ۔ ۔۔۔۔ کیا اس سب کو پڑھ کر بھی آپ آئندہ ناشکری کریں گے ۔ کیا آپ کے پاس اب بھی ناشکری کا جواز موجود ہے ۔ خدا کا شکر ادا کریں آپ کو کیا نہیں۔ دیا ہوا رب نے ۔ #SaqibAllyana

Saqib Allyana

24,358 次观看 • 2 个月前

msaalyana's profile picture

میں کل شادی والے گھر کیوں گیا۔ مجھے پتا چلا بچی کا باپ پریشان ہے ایک زمیندار کی وجہ سے اس نے دو سال پہلے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا جس کو باپ نے انکار کر دیا۔ وجہ وہی 85 سال کا بزرگ 18 سال کی لڑکی سے ہمارے معاشرے میں شادی کرتا ہے تو صرف عیاشی کے لئے کرنا چاہتا ہے ۔ اس نے پیغام بھیجا تھا کے مین دیکھ لونگا شادی کیسے ہوتی ہے۔ پھر شادی ہو بھی گئی اور وہاں چڑیا نے پر نہین مارا۔ ۔۔ اس ملاح باپ کی بڑی بیٹی کے ساتھ ایسا ہی حادثہ ہو چکا ہے دو سال پہلے اس پر الگ سے پوسٹ لکھوں گا کے لوگ کیسے درندے ہین غریب انسان کو بیٹی کی بربادی کے بعد بھی کیسے کیسے لوٹنے کے رستے نکال لیتے ہین۔ مین اس شخص کی زندگی کے بہت سارے پہلو سامنے نہین لا رہا ورنہ معاشرہ اپنے گریبان مین جھانکنے کے قابل نہین رہ جائے گا۔ ۔۔ دوسری وجہ دلہن کے باپ کا کوئی قریبی رشتے دار موجود حیات نہین ہے ۔ تو ہر انسان ایسے موقع پر بار بار ہمت ہارتا ہے۔ میری موجودگی مین دو بار باپ نے منہ پر کپڑا رکھا اس کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں بار بار۔ پھر مین وہاں 3 لوگ چھوڑ کر ایا۔ ایک واجد کو جس نے دیگوں کا تمام کام ٹینٹ اور تمام گھر سے باہر کے کام سنبھال رکھے تھے۔ جو وڈیو مین بول رہا ہے۔ دوسرا اختر ماچھی اس کے ذمہ کھانا تقسیم کرنا اور روٹی کم نہ ہو جائے وہ سب انتظام تھا۔ پھر وہاں مین بندا جعفر موجود رہا بچی کی رخصتی تک ۔ تاکہ وہاں وہ دھمکی دینے والا کوئی آئے تو میری غیر موجودگی مین وہ خود اس کو سیدھا کرے اس کے دو بندے سائیڈ پر بیٹھے تھے تیار اگر کوئی آئے تو طبعیت فریش کرنے واسطے موقع پر۔ مین بول کر ایا تھا تھانہ کچہری مین دیکھ لوں گا تم لوگوں نے 17 کلومیٹر دور چنیوٹ روڈ تک بارات کو واپس پہنچا کر آنا ہے چاے جو ہو جائے۔ لوگ برے لوگوں سے برا سلوک رکھتے ہین لیکن مین ان سے پیار اس لئے کرتا ہون کے۔ جہاں یہ کسی کی مشکل مین مدد کرتے ہین اور کسی مئن اتنی ہمت نہین ہوتی۔ ۔۔ تندور دیگیں اور تنبو کناتین صبح 6 بجے بندے چنگچئ 4 تھین جن پر لوڈ کر کے نکلے تھے ۔ رستے کی وجہ سے 9 بجے کے قریب 17 کلومیٹر کا رستہ طے ہوا جگہ جگہ چنگچی پھنسے ۔ ہر جگہ اردگرد موجود علاقے کے لوگ کام آئے۔ ۔۔ ایک چیز کھانے مئن بڑھا دی۔ زردے کی دیگ۔ اس کی وجہ تھی دلہن کےباپ نے مجھ سے صبح سویرے بس اتنا بولا مہر علیانہ میرے جوڑے ہاتھ دیکھ لے کچھ میٹھا بھی کر دو میرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔ مین مجبور ہر گیا تھا اپنے سارے اصول اس ایک شادی کے لئے توڑ دئیے۔ ۔۔ باپ نے ہمارا دیا سامان اپنے پاس واحد پڑی چیز جو سیلاب مین بچ گئی تھی 6 سال پرانی پیٹی ۔ مین سامان رکھ کر دے دیا۔ ۔۔ کیسا باپ ہے۔ اب بیٹی کے رخصت ہو جانے کے بعد اس بندے کی جھونپڑی میں بس دو چارپائیان چند کھانے پکانے کے برتن 4 چائے والے کپ ایک نلکا پانی والا بچے ہین۔ ۔۔ بارات آنے سے کچھ دیر پہلے شدید اندھیری شروع ہو گئی۔ بارات کے لوگ ویگن مین سے اتر کر ساتھ دھکے لگاتے رہے پھر بھی گھر سے ادھا کلومیٹر دور ویگن والا ڈرائیور جواب دے گیا اس سے آگے گاڑی لے جانا ممکن نہین۔ ۔۔ پھر آندھی اور طوفان شروع ہوا ۔ کھانا کھانے کو جگہ نہ۔ بچئ نکاح ہوتے ہی لڑکی کو ویگن مین بیٹھا دیا گیا۔ دلہا دلہن نے کھانا وہاں بیٹھ کر کھایا۔ تنبو کناتین گر گئیں تیز بارش اور آندھی سے۔ باقی ماندہ لوگ جو جھونپڑی مین بیٹھے تھے خواتین بھی انہوں نے برستی بارش میں وہاں اوپر شاپر اور ٹینٹ اوپر ڈال کر جیسے تیسے بارش والا وقت نکالا۔ کھانا وہیں کھایا۔ ۔۔ 8 بجے بارات رخصت ہوئی ۔ کل اندھی اس قدر تیز تھی کے ہم خود کئی بار واپسی پر موٹر سائیکل سے گرتے گرتے بچے ۔ واجد کا رکشہ کی سیٹیں دور جا گرین ۔ شیشے ٹوٹ گئے ۔ اسکا نقصان آج پورا ہو جائے گا۔ ۔۔ اس شادی نے باقی 153 شادیاں جو آج تک مین کروا چکا ہون سے بلکل الگ احساسات دئیے۔ گھر پہنچ کر دو نفل ادا کئے جب رخصتی ہو گئی مجھے فون ا گیا۔ نصیب رب لکھتا ہے ہم صرف محنت کر سکتے ہین ۔ نتائج کسی انسان کے ہاتھوں میں نہین ہین۔ ۔۔ رخصتی کے وقت سے پہلے دلہن کے پانچ ہزار اس کو پہنچا دئیے اور دلہا کے واجد ہمارے بعد جب بارات آئی تک دے اس نے دلہا کے ہاتھ مین۔ لڑکا بھی ایک مستری کے ساتھ مزدوری کرتا ہے۔ کتنا کماتا ہو گا بس زندگی گزرنی ہے اس بچاروں نے۔ یہ دس ہزار ان کو کم سے کم 15 دن گھر پر رہنے کی ہمت دین گے ساتھ ۔ مزدوری پر جانے تک سہارا رہے گا ان کا۔ روٹی پانی کا۔ ۔۔ کھانا بہت اچھا پکا ہوا تھا۔ اور میٹھا مین کھاتا نہیں مجھے شروع سے پسند نہین آج تک مین نے میٹھا دودھ تک نہین پیا تو وہ دوسرے ساتھیوں۔ مبشر اور خان نے بتایا کے اچھا بنا ہوا ہے۔ ۔۔ دعا مین یاد رکھئیے گا جو ہمت تھی جو اوقات تھی وہ کیا ہے اس بندے کے واسطے #SaqibAllyana

Saqib Allyana

10,548 次观看 • 1 个月前

没有更多内容可加载