Mudassar Saeed's banner
Mudassar Saeed's profile picture

Mudassar Saeed

@mudsays6,257 subscribers

Journalist, Senior Executive Producer North Geo News | Old Ravian

Shorts

سینیٹر راجا ناصر عباس پولیس سے کہہ رہے ہیں میں شوگر کا مریض ہوں اور 24 گھنٹے سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔ بطور کسٹوڈین آف پارلیمنٹ ہاؤس اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوٹس لیں، اپنے ارکان کو پارلیمان کی حدود میں کھانا پہنچانا یقینی بنائیں۔۔۔ احتجاج کو جرم مت بنائیں۔۔ اگر آپ اپنے ادارے سے لوگوں کا اعتماد چھین لیں گے تو پیچھے کیا بچے گا۔

سینیٹر راجا ناصر عباس پولیس سے کہہ رہے ہیں میں شوگر کا مریض ہوں اور 24 گھنٹے سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔ بطور کسٹوڈین آف پارلیمنٹ ہاؤس اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوٹس لیں، اپنے ارکان کو پارلیمان کی حدود میں کھانا پہنچانا یقینی بنائیں۔۔۔ احتجاج کو جرم مت بنائیں۔۔ اگر آپ اپنے ادارے سے لوگوں کا اعتماد چھین لیں گے تو پیچھے کیا بچے گا۔

81,742 views

آپ اندازہ لگائیں بس بندے کو ڈھیٹ ہونا چاہئے۔ جب شہباز گل جیل سے رہا ہو کر واپس آیا تو پی ٹی آئی لیڈر اس کے ساتھ کھڑے ہونا پسند نہیں کرتے تھے، بہت کوشش کی عمران خان تک رسائی کی مگر عمران خان کو پتہ تھا صاحب ایجنسیوں کو کئی کہانیاں سنا کر آئےہیں، فون چوری تو پہلے ہی پکڑی جا چکی تھی، تو نا صرف کپتان محتاط تھے بلکہ سیاسی لیڈران بھی۔ اس پریس کانفرنس میں بھی اپنا چورن بیچنے کی کوشش کی تو فواد چوہدری اور اسد عمر پریس کانفرنس ختم کر کے چلے گئے۔ مگر کمال ہے انہوں نے کبھی بے عزتی محسوس ہی نہیں کی۔

آپ اندازہ لگائیں بس بندے کو ڈھیٹ ہونا چاہئے۔ جب شہباز گل جیل سے رہا ہو کر واپس آیا تو پی ٹی آئی لیڈر اس کے ساتھ کھڑے ہونا پسند نہیں کرتے تھے، بہت کوشش کی عمران خان تک رسائی کی مگر عمران خان کو پتہ تھا صاحب ایجنسیوں کو کئی کہانیاں سنا کر آئےہیں، فون چوری تو پہلے ہی پکڑی جا چکی تھی، تو نا صرف کپتان محتاط تھے بلکہ سیاسی لیڈران بھی۔ اس پریس کانفرنس میں بھی اپنا چورن بیچنے کی کوشش کی تو فواد چوہدری اور اسد عمر پریس کانفرنس ختم کر کے چلے گئے۔ مگر کمال ہے انہوں نے کبھی بے عزتی محسوس ہی نہیں کی۔

65,380 views

Videos

mudsays's profile picture

کاشف عباسی کی یہ گفتگو سنی تو میرا ذہن ماضی میں چلا گیا۔ جولائی 2018 میں جب آج ٹی وی کی انتظامیہ نے عاصمہ شیرازی کو فون کر کے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز لندن سے گرفتاری دینے پاکستان آ رہے ہیں آپ کا ویزا لگا ہوا ہے کسی اور کے پاس نہیں آپ فوری لندن چلی جائیں کیونکہ سارا میڈیا اسی جہاز پر واپس آ رہا ہے، عاصمہ شیرازی نے لندن پہنچ کر نواز شریف اور مریم نواز کے انٹرویوز کیے جو چینل کے لیے ایکسکلوسیو تھے، چینل پر پروموشن چلتے ہی جنرل فیض نے مالکان کو فون کر کے کہا یہ انٹرویوز چلے تو اس کے بعد چینل نہیں چلے گا۔ انٹرویوز روک دیے گئے۔ ساری فلائیٹ اینکرز اور صحافیوںں سے فُل تھی مگر جب عاصمہ شیرازی واپس پہنچیں تو ان کے لینڈ کرنے سے پہلے "صرف ان کے" خلاف سوشل میڈیا پر کمپین کا طوفان آ چکا تھا، جیسے باقی میڈیا صحافتی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ٹھیک کر رہا تھا صرف عاصمہ شیرازی نے غلط کیا تھا۔ واپسی کے چند روز بعد عاصمہ شیرازی کو رابطہ کر کے بتایا گیا کہ آپ کے نام پر ادارے نے کراس لگا دیا ہے۔ اب آپ نہیں بچیں گی۔ الیکشن کے بعد عمران خان صاحب کی حکومت آئی تو بنک سے کال آئی کہ آپ کے بنک اکاؤنٹ اسٹیٹمنس نکلوائی گئی ہیں۔ عاصمہ شیرازی کا مکمل ٹیکس آڈٹ ہوا، ان کی والدہ، بہن بھائیوں کے اکاؤنٹس کے آڈٹ ہوئے۔ عاصمہ شیرازی کے ایک قریبی دوست کے دوست ایسٹ ریکوری یونٹ میں تھے، انہوں نے بتایا کہ ہم نے احکامات کے مطابق عاصمہ شیرازی کے خلاف پورا یورپ، یوکے، امریکا چھان مارا مگر ہمیں کچھ نہیں ملا۔ اسی دوران عاصمہ شیرازی کے گھر میں دو بار نامعلوم افراد گھسے، ایک شخص کی ساتھ والے گھر سے ریکی کرنے کی نشاندہی ہوئی، پولیس نے عاصمہ شیرازی اور محلے کے معتبر لوگوں کو جمع کیا اور کہا آپ کو معلوم ہے یہ کون لوگ تھے، ہم ان کا کچھ نہیں کر سکتے۔ سوشل میڈیا پر آئے روز کمپین کے بعد ایک کالم کو بے بنیاد بنیاد بنا کر نیشنل براڈ کاسٹ پر عاصمہ شیرازی کے خلاف پریس کانفرنسیں کی گئیں، پروگرام ہوئے، سوشل میڈیا پر حجاب میں لپٹی طوائف سات روز تک ٹرینڈ کرتا رہا۔ ایک وفاقی حکومت کی پوری وفاقی کابینہ نے عاصمہ شیرازی کی کردار کشی مہم میں فخریہ حصہ لیا۔ اس سے پہلے غداری کا ٹرینڈ حامد اور عاصمہ شیرازی کے خلاف چلا۔ اسد طور معاملے پر پریس کلب کے باہر تقریر کرنے پر عاصمہ شیرازی اور حامد میر کے خلاف بغاوت کے مقدمات۔ تضحیک، تذلیل، گالم گلوچ اور پتا نہیں کیا کیا اس دوران ہوا۔ یہاں تک کے بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ مگر تب سب ٹھیک تھا، کئی صحافی دوستوں کے گھر پی ٹی آئی کے راہنما بیٹھ کر پلاننگ کرتے تھے عاصمہ شیرازی کی کردار کشی کیسے کرنی ہے، الزام کیا لگانا ہے، ٹرینڈ کیا ہونا چاہیے۔ اسی دوران کئی صحافی دوستوں نے پی ٹی آئی کی قربت میں عاصمہ شیرازی کا سوشل بائیکاٹ شروع کر دیا۔ بات سمیٹتے ہوئے: جو آج غلط ہے تب بھی غلط تھا۔ مگر تب کئی دوستوں کی دوستیاں ان کی اخلاقیات کی راہ میں رکاوٹ تھیں، سب اچھا لگ رہا تھا، آج سب برا لگ رہا ہے مگر ہے تو وہی صورتحال۔ موجودہ صورتحال میں میری ہمدردیاں اور دعائیں کاشف عباسی اور ان کے فیملی کے ساتھ ہیں۔ ان پر پابندی اور سختیوں کا کوئی جواز نہیں۔

Mudassar Saeed

68,416 views • 6 months ago

mudsays's profile picture

محسن نقوی نے عمران خان کے علاج کے معاملے پر علیمہ خان کی سیاست اور بیرسٹر گوہر کی بیچارگی کو کھول کر رکھ دیا۔۔ 👇👇👇👇👇 ہم نے کہا عمران خان کا چیک اپ کرنا ہے، ساتھ جانے کے لیے آپ اپنے ڈاکٹر کا نام دے دیں جواب میں کہا گیا ڈاکٹر نہیں فیملی کا بندہ لے جائیں، پھر ہمیں قاسم زمان کا نام دیا گیا۔ ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر کہا گیا آپ پہلے ایک ہفتے کے لیے عمران خان کو اسپتال منتقل کر دیں تو ہم مانیں گے۔ میں نے جواب دیا ایک نہیں دو ہفتے کے لیے کر عمران خان کو اسپتال بھیج دیں گے اگر ڈاکٹرز کہیں گے تو۔۔ تین روز تک ان کی وجہ سے عمران خان کا چیک اپ ڈیلے ہوا۔۔ ہم نے چیک اپ کے دن بیرسٹر گوہر کو انفارم کیا کہ آپ جیل آ جائیں ڈاکٹرز کے ساتھ آپ اندر چلے جائیں اور خود چیک اپ کے دوران آپ وہاں رہیں،، اڑھائی بجے کا انہیں ٹائم دیا، ایک گھنٹہ اڈیالہ میں انتظار کرتے رہے مگر پھر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ پارٹی سے مشاورت ہوئی ہے میں نہیں آ سکتا۔۔ ان کے انکار اور چیک کے اپ کے بعد ہم نے پھر رابطہ کیا کہ قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی، قائد حزب اختلاف سینیٹ اور بیرسٹر گوہر تینوں آ جائیں اپنے ڈاکٹرز کو بھِی لے آئیں۔۔ جواب ملا کہ ڈاکٹرز تو لاہور میں ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر پمز آئے اور ان کے ڈاکٹرز فون پر تھے، ڈیڑھ گھنتہ بریفنگ ہوئی، ان کے ڈاکٹرز نے کہا بہترین علاج ہو رہا ہے ہم مطمئن ہیں۔ اس موقع پر میں نے پھر کہا کہ اپنے ڈاکٹرز سے پوچھیں کہ کوئی ایسا ٹیسٹ رہ گیا ہے جو آپ کے ڈاکٹرز کروانا چاہئیں ہم تیار ہیں۔۔ اس کے بعد جب سب واپس گئے تو علیمہ خان نے پارٹی کے لوگوں کو کہا اور یہ ہمارے پاس موجود ہے کہ اگر ہم سب کچھ مان گئے تو ایشو ختم ہو جائے گا۔۔ علیمہ خان کی وجہ سے تین دن تک عمران خان کا چیک اپ نہیں ہو سکا، پی ٹی آئی کے سیاسی لیڈر عمران خان کے علاج پر آن بورڈ ہوتے تھے مگر علیمہ خان ہر چیز کو ویٹو کر دیتی تھیں۔ ان کی اپنی نیت میں کھوٹ ہے۔

Mudassar Saeed

23,323 views • 4 months ago