Nida Ahmed's banner
Nida Ahmed's profile picture

Nida Ahmed

@NidaAhm1610529113,532 subscribers

Atheist ,Free thinker, Humanist, الحاد کر رہا ہے مرتب جہان نو دیر و حرم کے حیلۂ غارت گری کی خیر

Shorts

اکثر بڑی عمر کے مرد سے شادی کرنے کے پیچھے دو وجوہات اور لالچ ہوتی ہیں یا تو پیسے والا ہو گا دوسرا اس کی بقایا زندگی تھوڑی ہوتی ہے جلدی جان چھوٹ جائے گئی

Sensitive content

اکثر بڑی عمر کے مرد سے شادی کرنے کے پیچھے دو وجوہات اور لالچ ہوتی ہیں یا تو پیسے والا ہو گا دوسرا اس کی بقایا زندگی تھوڑی ہوتی ہے جلدی جان چھوٹ جائے گئی

98,414 просмотров

بچوں کی ٹوئیاں مارنے کی بجائے صنف نازک کا انتخاب کرنے پر ہم مولانا صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں.

Sensitive content

بچوں کی ٹوئیاں مارنے کی بجائے صنف نازک کا انتخاب کرنے پر ہم مولانا صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہیں.

201,894 просмотров

یہ کویت میں ہونے والی ایک شادی کی تقریب ہے، عرب بدو ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر خود مذہب کے کمبل سے جان چھڑا رہے ہیں

Sensitive content

یہ کویت میں ہونے والی ایک شادی کی تقریب ہے، عرب بدو ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر خود مذہب کے کمبل سے جان چھڑا رہے ہیں

142,414 просмотров

یہ 1960 کی بات ہے. کہ ایک جرمن خاتون جوکہ تیس سال کی عمر کی تھیں. نوجوان اور حسین تھیں. اور پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھیں. پاکستان آنکر یہیں کی ہو گئیں. یہاں آنے کی وجہ کیا تھی.؟؟؟ وجہ یہ تھی کہ ان خاتون نے پاکستان میں جذام( کوڑھ) کے مریضوں پر بننے والی ایک ڈاکو مینٹری فلم BBC لندن سے دیکھی. کہ پاکستان میں اس بیماری میں مبتلا مریضوں کی زندگی کس قدر عذاب ہوجاتی ہے. اس بیماری کو جوکہ اُسوقت تک لاعلاج سمحھی جاتی تھی. "عذابِ الہی" کہا جاتا تھا. اور ایسے مریضوں کو معاشرے سے الگ کردیا جاتا تھا. اُس زمانے میں کراچی میں آئ آئ چندریگر روڈ پر ایک جگہ بنائ گئ تھی. جہاں جذام کے مریضوں کو ڈال دیا حاتا تھا. اور کچھ دردمند افراد اس چار دیواری کے دوسری طرف سے ہی ان مریضوں کو روٹیاں پھینک کر چلے جاتے تھے. سخت ترین بیماری، اور اُس پر لوگوں کا رویہ جذام کے مریضوں کیلیے دہرا عذاب تھا. انکے اپنے ان سے منھ موڑ لیتے تھے. اور پھر سسک سسک کر مرجانا ہی انکا مقدرتھا یہ جرمن خاتون کا نام "ڈاکٹر رُتھ فاؤ" تھا. 1960 میں کراچی تشریف لائیں. آئ آئ چندریگر روڈ پر ایک جھونپڑی میں اُنھی جذام کے مریضوں کے درمیان ہی اپنا کلینک کھولا. اور ان مریضوں کا علاج کرنا شروع کیا. ڈاکٹر صاحبہ کو صرف تین سال کی سخت محنت لوگوں کو یہ سمجھانے پر لگے کہ جذام ایک بیماری ہے. ڈاکٹر صاحبہ نے جذام کے مریضوں کا جس محنت، محبت اور شفیق انداذ میں علاج کیا. وہ انسان دوستی کی ایک زندہ ترین مثال ہے. آپ خود ان مریضوں کی، کہ جن سے انکے اپنے دور بھاگتے تھے. انکے زخموں کی صفائ کرتیں. انکی مرہم پٹی کرتیں . انکو تسلی اور دلاسہ دیتیں. اور اپنے شفیق لفظوں سے انکو زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کرتیں. جو مشن آپنے اٹھایا تھا. اس میں کئ لوگ اب آپکے ساتھ شامل تھے. سو ضرورت اس بات کی تھی. کہ ایک بڑا اسپتال یہ سینی ٹوریم ان مریضوں کیلیے بنایا جائے. اس کام کا تخمینہ 1963 میں تقریباً نوے لاکھ روپے لگایا گیا۔ یوں آپ اس مقصد کیلیے دوبارہ جرمنی گئیں. اپنی عوام کو اس مقصد سے آگاہ کیا. اور انکے سامنے اپنی جھولی پھیلادی. اور مطلوبہ رقم کا بندوبست کرکے ہی آپ جرمنی سے لوٹیں. اور آخرکار 1965 میں"میری ایڈ لیپریسی سینٹر" کا قیام عمل میں لایا گیا. ا ڈاکٹر صاحبہ نے پوری محنت اور وقت اس اسپتال اور اس میں آنے والے مریضوں کو دیا. اتنا بڑا اسٹاف ہونے کے باوجود بھی آپ پاکستان سے وآپس نہیں گئیں. بلکہ انتھک محنت اور جانفشانی سے جذام کے خلاف لڑائ لڑتی رہیں.اس دوران ملک کے دیگر حصوں میں بھی میری ایڈ لیپریسی سینٹر کی شاخیں کھلتی چلی گئیں. آپنے ملک کے گوشے گوشے میں اس مہلک بیماری کا پیچھا کیا. اور آخرکار 1990 میں آپکو پاکستانی شہریت عطا کی گئ 1996 میں عالمی ادارہِ صحت نے پاکستان کو جذام سے 100% فیصد پاک ملک قرار دے دیا. اس وقت پاکستان ہی ایشیاء کا پہلا ملک تھا. جوکہ اس مہلک مرض سے مکمل طور پر پاک ملک تسلیم کیا گیا. اور10 اگست وہ دن بھی آیا. کہ اس دن ڈاکٹر صاحبہ اس جہان فانی سے منھ موڑ گئیں. انکے عقیدتمندوں نے یہ روح فرساء خبر سنی کہ انکا انتقال ہوگیا ہے. اور ڈاکٹر صاحبہ کی تدفین اور آخری رسومات 19 اگست کو ادا کی جائینگی. ڈاکٹر صاحبہ نے پوری زندگی اکیلے ہی گزاری. اپنے نفس کا گلا گھونٹ دیا. انھوں نے اپنے مشن کو ہر چیز اور ہر جذبے پر مقدم رکھا. آپنے پوری زندگی شادی نہیں کی تھی.. بالاآخر 19 اگست کا دن بھی آن پہنچا. ڈاکٹر صاحبہ کو انکی وصیت کے مطابق میری ایڈ لیپریسی سینٹر لایا گیا. اور جب آپکی میت لائ گئ. تو آپکے عقیدتمند اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے. شدت جذبات کے مارے لوگ زار و قطار رو پڑے. آپکی آخری رسومات و تدفین میں ملک کی تمام تر اعلی شخصیات نے شرکت کی. اور یوں وہ فرشتہ صفت عورت جس نے بلا کسی معاوضہ کے، بلا کسی غرض کے اس ملک کو اپنی زندگی کے 57 سال دئیے. جو جان لیوا بیماری کے مریضوں کیلیے اللہ تعالی کا پیغام شفاء بنی رہی۔ وہ خاتون 19 اگست 2017 کو آسودہِ خاک ہوئی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے تمام زندگی ایک کمرے میں گزار دی. اس ایک کمرے میں ایک چارپائ ایک طرف پانی کا کولر اور انکے مطالعہ کیلیے چند کتابیں.....یہ تھی انکی کل جمع پونجی ! انہون نے اسلام قبول کیا تھا یا نہیں اس کا علم نہیں مجھے. کچھ لوگ زندگی میں اتنا بڑا کام کر جاتے ہیں جو رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ رہتا ہے ہمارا مقصد لوگوں کو موٹیویٹ کرنا ہے کہ محلوں کو چھوڑ کر ایک اکیلی عورت ہمارے کچے مکانوں میں آ کر آباد ہو گئی ہمارے ہی لوگوں کے لیے. کیا ہمیں اس سے سبق نہیں سیکھنا چاہیے؟ کیا کہتے ہیں آپ. کیا ہمارے اپنے ملک کے ڈاکٹر بھی ایسا کام کرسکتے ہیں؟

یہ 1960 کی بات ہے. کہ ایک جرمن خاتون جوکہ تیس سال کی عمر کی تھیں. نوجوان اور حسین تھیں. اور پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھیں. پاکستان آنکر یہیں کی ہو گئیں. یہاں آنے کی وجہ کیا تھی.؟؟؟ وجہ یہ تھی کہ ان خاتون نے پاکستان میں جذام( کوڑھ) کے مریضوں پر بننے والی ایک ڈاکو مینٹری فلم BBC لندن سے دیکھی. کہ پاکستان میں اس بیماری میں مبتلا مریضوں کی زندگی کس قدر عذاب ہوجاتی ہے. اس بیماری کو جوکہ اُسوقت تک لاعلاج سمحھی جاتی تھی. "عذابِ الہی" کہا جاتا تھا. اور ایسے مریضوں کو معاشرے سے الگ کردیا جاتا تھا. اُس زمانے میں کراچی میں آئ آئ چندریگر روڈ پر ایک جگہ بنائ گئ تھی. جہاں جذام کے مریضوں کو ڈال دیا حاتا تھا. اور کچھ دردمند افراد اس چار دیواری کے دوسری طرف سے ہی ان مریضوں کو روٹیاں پھینک کر چلے جاتے تھے. سخت ترین بیماری، اور اُس پر لوگوں کا رویہ جذام کے مریضوں کیلیے دہرا عذاب تھا. انکے اپنے ان سے منھ موڑ لیتے تھے. اور پھر سسک سسک کر مرجانا ہی انکا مقدرتھا یہ جرمن خاتون کا نام "ڈاکٹر رُتھ فاؤ" تھا. 1960 میں کراچی تشریف لائیں. آئ آئ چندریگر روڈ پر ایک جھونپڑی میں اُنھی جذام کے مریضوں کے درمیان ہی اپنا کلینک کھولا. اور ان مریضوں کا علاج کرنا شروع کیا. ڈاکٹر صاحبہ کو صرف تین سال کی سخت محنت لوگوں کو یہ سمجھانے پر لگے کہ جذام ایک بیماری ہے. ڈاکٹر صاحبہ نے جذام کے مریضوں کا جس محنت، محبت اور شفیق انداذ میں علاج کیا. وہ انسان دوستی کی ایک زندہ ترین مثال ہے. آپ خود ان مریضوں کی، کہ جن سے انکے اپنے دور بھاگتے تھے. انکے زخموں کی صفائ کرتیں. انکی مرہم پٹی کرتیں . انکو تسلی اور دلاسہ دیتیں. اور اپنے شفیق لفظوں سے انکو زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کرتیں. جو مشن آپنے اٹھایا تھا. اس میں کئ لوگ اب آپکے ساتھ شامل تھے. سو ضرورت اس بات کی تھی. کہ ایک بڑا اسپتال یہ سینی ٹوریم ان مریضوں کیلیے بنایا جائے. اس کام کا تخمینہ 1963 میں تقریباً نوے لاکھ روپے لگایا گیا۔ یوں آپ اس مقصد کیلیے دوبارہ جرمنی گئیں. اپنی عوام کو اس مقصد سے آگاہ کیا. اور انکے سامنے اپنی جھولی پھیلادی. اور مطلوبہ رقم کا بندوبست کرکے ہی آپ جرمنی سے لوٹیں. اور آخرکار 1965 میں"میری ایڈ لیپریسی سینٹر" کا قیام عمل میں لایا گیا. ا ڈاکٹر صاحبہ نے پوری محنت اور وقت اس اسپتال اور اس میں آنے والے مریضوں کو دیا. اتنا بڑا اسٹاف ہونے کے باوجود بھی آپ پاکستان سے وآپس نہیں گئیں. بلکہ انتھک محنت اور جانفشانی سے جذام کے خلاف لڑائ لڑتی رہیں.اس دوران ملک کے دیگر حصوں میں بھی میری ایڈ لیپریسی سینٹر کی شاخیں کھلتی چلی گئیں. آپنے ملک کے گوشے گوشے میں اس مہلک بیماری کا پیچھا کیا. اور آخرکار 1990 میں آپکو پاکستانی شہریت عطا کی گئ 1996 میں عالمی ادارہِ صحت نے پاکستان کو جذام سے 100% فیصد پاک ملک قرار دے دیا. اس وقت پاکستان ہی ایشیاء کا پہلا ملک تھا. جوکہ اس مہلک مرض سے مکمل طور پر پاک ملک تسلیم کیا گیا. اور10 اگست وہ دن بھی آیا. کہ اس دن ڈاکٹر صاحبہ اس جہان فانی سے منھ موڑ گئیں. انکے عقیدتمندوں نے یہ روح فرساء خبر سنی کہ انکا انتقال ہوگیا ہے. اور ڈاکٹر صاحبہ کی تدفین اور آخری رسومات 19 اگست کو ادا کی جائینگی. ڈاکٹر صاحبہ نے پوری زندگی اکیلے ہی گزاری. اپنے نفس کا گلا گھونٹ دیا. انھوں نے اپنے مشن کو ہر چیز اور ہر جذبے پر مقدم رکھا. آپنے پوری زندگی شادی نہیں کی تھی.. بالاآخر 19 اگست کا دن بھی آن پہنچا. ڈاکٹر صاحبہ کو انکی وصیت کے مطابق میری ایڈ لیپریسی سینٹر لایا گیا. اور جب آپکی میت لائ گئ. تو آپکے عقیدتمند اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے. شدت جذبات کے مارے لوگ زار و قطار رو پڑے. آپکی آخری رسومات و تدفین میں ملک کی تمام تر اعلی شخصیات نے شرکت کی. اور یوں وہ فرشتہ صفت عورت جس نے بلا کسی معاوضہ کے، بلا کسی غرض کے اس ملک کو اپنی زندگی کے 57 سال دئیے. جو جان لیوا بیماری کے مریضوں کیلیے اللہ تعالی کا پیغام شفاء بنی رہی۔ وہ خاتون 19 اگست 2017 کو آسودہِ خاک ہوئی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے تمام زندگی ایک کمرے میں گزار دی. اس ایک کمرے میں ایک چارپائ ایک طرف پانی کا کولر اور انکے مطالعہ کیلیے چند کتابیں.....یہ تھی انکی کل جمع پونجی ! انہون نے اسلام قبول کیا تھا یا نہیں اس کا علم نہیں مجھے. کچھ لوگ زندگی میں اتنا بڑا کام کر جاتے ہیں جو رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ رہتا ہے ہمارا مقصد لوگوں کو موٹیویٹ کرنا ہے کہ محلوں کو چھوڑ کر ایک اکیلی عورت ہمارے کچے مکانوں میں آ کر آباد ہو گئی ہمارے ہی لوگوں کے لیے. کیا ہمیں اس سے سبق نہیں سیکھنا چاہیے؟ کیا کہتے ہیں آپ. کیا ہمارے اپنے ملک کے ڈاکٹر بھی ایسا کام کرسکتے ہیں؟

17,376 просмотров

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ عورت نہ ہوتی تو یہ جہاں نہ ہوتا بہت خوب صورت جوڑی ہمیشہ خوش رہیں 🌹❤️

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ عورت نہ ہوتی تو یہ جہاں نہ ہوتا بہت خوب صورت جوڑی ہمیشہ خوش رہیں 🌹❤️

76,942 просмотров

ہم جنس پرستی کوئی بیماری نہیں ہے یہ ایک فطری عمل ہے

ہم جنس پرستی کوئی بیماری نہیں ہے یہ ایک فطری عمل ہے

72,528 просмотров

یاسین ملک دہلی کی تہاڑ جیل میں سڑ رہا ہے، اور پاکستان میں اس کی بیوی کے ٹشن اور عیاشیاں دیکھیں

یاسین ملک دہلی کی تہاڑ جیل میں سڑ رہا ہے، اور پاکستان میں اس کی بیوی کے ٹشن اور عیاشیاں دیکھیں

27,149 просмотров

کرسمس ٹری حرام ہے۔۔ مسلمان جنونی عورت، آپ کے مذہب میں حرام ہو گی، دنیا کے سب سے بڑے مذہب کے ماننے والے اس کو مقدس مانتے ہیں، دوسروں کے مذہبی معاملات میں ٹانگ اڑانے والے یہ عربی بدو اس وقت سمجھیں گے جب ان کی تشریف پر لات مار کر یورپ سے نکالا جائے گا

کرسمس ٹری حرام ہے۔۔ مسلمان جنونی عورت، آپ کے مذہب میں حرام ہو گی، دنیا کے سب سے بڑے مذہب کے ماننے والے اس کو مقدس مانتے ہیں، دوسروں کے مذہبی معاملات میں ٹانگ اڑانے والے یہ عربی بدو اس وقت سمجھیں گے جب ان کی تشریف پر لات مار کر یورپ سے نکالا جائے گا

41,986 просмотров

درود بر ابراہیم ؤ اولاد ابراہیم تایا چاچا کی لڑکیاں ان کے ساتھ جنگ بنتی نہیں

Sensitive content

درود بر ابراہیم ؤ اولاد ابراہیم تایا چاچا کی لڑکیاں ان کے ساتھ جنگ بنتی نہیں

54,357 просмотров

مذہب کے نام پر برصغیر کے درمیان جو بٹوارے کی لکیر کھینچی گئی تھی، نفرتوں کے بیج بوئے گئے اس کا سب سے زیادہ نقصان پنجابیوں نے اٹھایا، آج ان دو لڑکیوں کو دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے کہ نئی نسل ان نفرتوں کو بھلا کر محبتیں بانٹ رہی ہے

مذہب کے نام پر برصغیر کے درمیان جو بٹوارے کی لکیر کھینچی گئی تھی، نفرتوں کے بیج بوئے گئے اس کا سب سے زیادہ نقصان پنجابیوں نے اٹھایا، آج ان دو لڑکیوں کو دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے کہ نئی نسل ان نفرتوں کو بھلا کر محبتیں بانٹ رہی ہے

52,206 просмотров

A, Public service message for Pakistanis from Laiba Abdul Latif

A, Public service message for Pakistanis from Laiba Abdul Latif

20,985 просмотров

مولوی، پیر، پادری اور پنڈت سے دھوکہ کھانے سے بہتر ہے کہ بندہ کسی حسین عورت سے دھوکہ کھائے۔🤩

Sensitive content

مولوی، پیر، پادری اور پنڈت سے دھوکہ کھانے سے بہتر ہے کہ بندہ کسی حسین عورت سے دھوکہ کھائے۔🤩

26,356 просмотров

اگر یہ کسی پڑھے لکھے ملک میں ہوتا تو سب سے پہلے والدین کو جیل میں ڈالا جاتا اور پھر اس بچے کو سکول بھیجا جاتا اور اسے سجدے کرنے والوں کو عقل کے ٹیکے لگائے جاتے

اگر یہ کسی پڑھے لکھے ملک میں ہوتا تو سب سے پہلے والدین کو جیل میں ڈالا جاتا اور پھر اس بچے کو سکول بھیجا جاتا اور اسے سجدے کرنے والوں کو عقل کے ٹیکے لگائے جاتے

21,066 просмотров

ٹرمپ نے عرب ملکوں سے ملنے والے ذاتی تحائف جن کی مالیت اربوں میں تھی امریکہ کے خیراتی اداروں کو دے دیے زرداری ، نواز شریف، خاقان عباسی، پرویز اشرف اور عمران خان نے بھی بیرونی ممالک سے ملے تحائف 5/% پر حاصل کرکے اربوں کا فائدہ حاصل کیا ۔ یہی ہے کافر اور مسلمان حکمرانوں میں فرق

ٹرمپ نے عرب ملکوں سے ملنے والے ذاتی تحائف جن کی مالیت اربوں میں تھی امریکہ کے خیراتی اداروں کو دے دیے زرداری ، نواز شریف، خاقان عباسی، پرویز اشرف اور عمران خان نے بھی بیرونی ممالک سے ملے تحائف 5/% پر حاصل کرکے اربوں کا فائدہ حاصل کیا ۔ یہی ہے کافر اور مسلمان حکمرانوں میں فرق

24,386 просмотров

فرائی ڈے اسپیشل جمعہ مبارک مومنوں

فرائی ڈے اسپیشل جمعہ مبارک مومنوں

12,866 просмотров

قومیں رقص،موسیقی یا محبت کرنے سے تباہ نہیں ہوتی نہ ہی کوئی عذاب آتا ہے. قومیں ظلم،ناانصافی،حق تلفی کم علمی اور شدت پسندی سے تباہ ہوتی ہیں،

قومیں رقص،موسیقی یا محبت کرنے سے تباہ نہیں ہوتی نہ ہی کوئی عذاب آتا ہے. قومیں ظلم،ناانصافی،حق تلفی کم علمی اور شدت پسندی سے تباہ ہوتی ہیں،

13,054 просмотров

Videos

Porn is a movie.
1:06

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

NidaAhm16105291's profile picture

Porn is a movie.

Nida Ahmed

84,832 просмотров • 2 дней назад

Sex Education Condom Sizes
1:09

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

NidaAhm16105291's profile picture

Sex Education Condom Sizes

Nida Ahmed

272,764 просмотров • 8 дней назад

Best Sex Position for Conceive.
2:19

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

NidaAhm16105291's profile picture

Best Sex Position for Conceive.

Nida Ahmed

150,724 просмотров • 5 дней назад

Side Effects of Viagra.
1:50

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

NidaAhm16105291's profile picture

Side Effects of Viagra.

Nida Ahmed

177,856 просмотров • 7 дней назад

Should a condom be used or not?
1:39

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

NidaAhm16105291's profile picture

Should a condom be used or not?

Nida Ahmed

221,983 просмотров • 10 дней назад

Sex Education, Hidden Truth.
1:35

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

NidaAhm16105291's profile picture

Sex Education, Hidden Truth.

Nida Ahmed

128,832 просмотров • 11 дней назад

Sex less Marriage
1:07

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

NidaAhm16105291's profile picture

Sex less Marriage

Nida Ahmed

34,913 просмотров • 3 дней назад

NidaAhm16105291's profile picture

Sex Education for everyone

Nida Ahmed

105,888 просмотров • 12 дней назад

NidaAhm16105291's profile picture

ملتانی سب پر بازی لے گئے

Nida Ahmed

113,807 просмотров • 23 дней назад

توبہ توبہ یہ مولوی کیسی باتیں کر رہا ہے
0:59

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

NidaAhm16105291's profile picture

توبہ توبہ یہ مولوی کیسی باتیں کر رہا ہے

Nida Ahmed

281,161 просмотров • 3 месяцев назад

NidaAhm16105291's profile picture

میں ملحد کیسے بنا، ڈاکٹر فراز صدیقی

Nida Ahmed

20,373 просмотров • 6 дней назад