Daim Mubashar's banner
Daim Mubashar's profile picture

Daim Mubashar

@Pmln_Pak0016,142 subscribers

#Pmln_District_President_Pakpattan

Shorts

مدرسہ طلباء زیادتی کیس راولپنڈی کی عدالت نے تھانہ پیرودھائی مدرسے کی طلباء سے زیادتی جھوٹے کیس میں مفتی شاہنواز کو باعزت بری کر دیا گیا جنھوں نے روتے ہوئے عدالت کے باہر سجدہ شکر ادا کیا !! مشہور کیس مفتی صاحب نے اپنے آپ کو وڈیو کے ذریعے صفائی دی میڈیکل کےلیے پیش کیا لیکن کسی نے نہیں مانا بیگم کی وڈیو بھی سامنے آٸی تھی کہ میرے شوہر پاک ہیں بے گناہ ہیں لیکن لوگ باٸیکاٹ کرتے رھے میڈیا بھی علماء کی پگڑی اچھالنے میں سرگرم رہا لیکن اب میڈیا بھی خاموش ہے سوشل میڈیا بھی خاموش

مدرسہ طلباء زیادتی کیس راولپنڈی کی عدالت نے تھانہ پیرودھائی مدرسے کی طلباء سے زیادتی جھوٹے کیس میں مفتی شاہنواز کو باعزت بری کر دیا گیا جنھوں نے روتے ہوئے عدالت کے باہر سجدہ شکر ادا کیا !! مشہور کیس مفتی صاحب نے اپنے آپ کو وڈیو کے ذریعے صفائی دی میڈیکل کےلیے پیش کیا لیکن کسی نے نہیں مانا بیگم کی وڈیو بھی سامنے آٸی تھی کہ میرے شوہر پاک ہیں بے گناہ ہیں لیکن لوگ باٸیکاٹ کرتے رھے میڈیا بھی علماء کی پگڑی اچھالنے میں سرگرم رہا لیکن اب میڈیا بھی خاموش ہے سوشل میڈیا بھی خاموش

300,497 просмотров

جھنگ ایشال فاطمہ کیس خصوصی رپورٹ کے مطابق 17/18 سالہ ایشال فاطمہ سلطان کالونی سے اغوا کے بعد قتل ہوئی۔ خلیل الرحمان نامی لڑکا فرسٹ ائیر کی طالبہ کو لے گیا۔ لڑکی کو خلیل حسیب خان نامی شخص کی قریبی عزیزہ کے گھر لے جایا گیا۔ گھر میں امیش جوگی اور حسن کوڑیانہ کو بھی بلایا گیا۔ سب نے مل کر لڑکی کو ڈانسنگ گولیاں اور نشہ آور ادویات دیں۔ بچی کی حالت غیر ہوئی، 2 دن تک ٹیکے لگاتے رہے مگر حالت نہ سنبھلی۔ حالت بگڑنے پر حسن اور امیش لڑکی کو مقامی ہسپتال چھوڑ گئے۔ خلیل گاڑی میں باہر بیٹھا رہا، تھوڑی دیر بعد لڑکی انتقال کر گئی۔ والد کی FIR کے بعد CCD اور پولیس متحرک ہوئی۔ سب انسپکٹر ملک علی رضا CCD نے امیش جوگی کو فوری گرفتار کیا۔ انچارج اسد دھولکہ، انسپکٹر حافظ عثمان ہراج ریڈ کر رہے ہیں۔ SHO سیٹلائٹ ٹاؤن ذیشان حیدر سیال نے گاڑی برآمد کی۔ باقی ملزمان حسیب، حسن، خلیل الرحمان کی تلاش جاری ہے۔ CCD کیس میں محنت سے کام کر رہی ہے، ایک ملزم گرفتار، باقیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

جھنگ ایشال فاطمہ کیس خصوصی رپورٹ کے مطابق 17/18 سالہ ایشال فاطمہ سلطان کالونی سے اغوا کے بعد قتل ہوئی۔ خلیل الرحمان نامی لڑکا فرسٹ ائیر کی طالبہ کو لے گیا۔ لڑکی کو خلیل حسیب خان نامی شخص کی قریبی عزیزہ کے گھر لے جایا گیا۔ گھر میں امیش جوگی اور حسن کوڑیانہ کو بھی بلایا گیا۔ سب نے مل کر لڑکی کو ڈانسنگ گولیاں اور نشہ آور ادویات دیں۔ بچی کی حالت غیر ہوئی، 2 دن تک ٹیکے لگاتے رہے مگر حالت نہ سنبھلی۔ حالت بگڑنے پر حسن اور امیش لڑکی کو مقامی ہسپتال چھوڑ گئے۔ خلیل گاڑی میں باہر بیٹھا رہا، تھوڑی دیر بعد لڑکی انتقال کر گئی۔ والد کی FIR کے بعد CCD اور پولیس متحرک ہوئی۔ سب انسپکٹر ملک علی رضا CCD نے امیش جوگی کو فوری گرفتار کیا۔ انچارج اسد دھولکہ، انسپکٹر حافظ عثمان ہراج ریڈ کر رہے ہیں۔ SHO سیٹلائٹ ٹاؤن ذیشان حیدر سیال نے گاڑی برآمد کی۔ باقی ملزمان حسیب، حسن، خلیل الرحمان کی تلاش جاری ہے۔ CCD کیس میں محنت سے کام کر رہی ہے، ایک ملزم گرفتار، باقیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

200,646 просмотров

افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض افراد اخلاقی اقدار اور انسانی حدود کو پامال کرتے ہوئے ایسے اقدامات کے مرتکب ہوتے ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ جب قانون حرکت میں آتا ہے تو یہی عناصر یا ان کے حامی مظلومیت کا بیانیہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض افراد اخلاقی اقدار اور انسانی حدود کو پامال کرتے ہوئے ایسے اقدامات کے مرتکب ہوتے ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ جب قانون حرکت میں آتا ہے تو یہی عناصر یا ان کے حامی مظلومیت کا بیانیہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

45,066 просмотров

ملکوال عدم برداشت کا ایک اور کیس چک نظام کا رہائشی یتیم بچہ احمد جو کہ غزالی سکول کے ساتویں کلاس کا طالب علم ہے اس پر اوباش لڑکوں کا سرعام تش-دد یہ سلسلہ کب تک چلے گا سکول کے باہر یہ واقع پیش آیا تاحال سکول انتظامیہ کی جانب سے بھی کوئی ایکشن نہیں لیا گیا پولیس تھانہ ملکوال اور سکول انتظامیہ سے گزارش ہے کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے

ملکوال عدم برداشت کا ایک اور کیس چک نظام کا رہائشی یتیم بچہ احمد جو کہ غزالی سکول کے ساتویں کلاس کا طالب علم ہے اس پر اوباش لڑکوں کا سرعام تش-دد یہ سلسلہ کب تک چلے گا سکول کے باہر یہ واقع پیش آیا تاحال سکول انتظامیہ کی جانب سے بھی کوئی ایکشن نہیں لیا گیا پولیس تھانہ ملکوال اور سکول انتظامیہ سے گزارش ہے کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے

24,981 просмотров

ایک دفعہ کام کے سلسلے میں سیالکوٹ کے مضافات میں جانا ہوا، ہر گھر میں ایک چھوٹی فیکٹری تھی، مرد اور خواتین کو اپنے گھروں میں اسپورٹس کا سامان بناتے ہوئے دیکھا، کوئی وکٹ کیپر کے گلوز بنا رہا ہے تو کوئی فٹبال کے ریفری کے گلوز بنا رہا ہے اور کوئی کچھ اور۔ یہ ویڈیو دیکھ کر حیرانگی ہوئی ہے کہ افغانستان قلعہ عبداللہ میں جلیبی کے کارخانے بن چکے ہیں اور یہاں سے جلیبیاں پاکستان کے تمام اضلاع میں ترسیل ہوتی ہیں !!

ایک دفعہ کام کے سلسلے میں سیالکوٹ کے مضافات میں جانا ہوا، ہر گھر میں ایک چھوٹی فیکٹری تھی، مرد اور خواتین کو اپنے گھروں میں اسپورٹس کا سامان بناتے ہوئے دیکھا، کوئی وکٹ کیپر کے گلوز بنا رہا ہے تو کوئی فٹبال کے ریفری کے گلوز بنا رہا ہے اور کوئی کچھ اور۔ یہ ویڈیو دیکھ کر حیرانگی ہوئی ہے کہ افغانستان قلعہ عبداللہ میں جلیبی کے کارخانے بن چکے ہیں اور یہاں سے جلیبیاں پاکستان کے تمام اضلاع میں ترسیل ہوتی ہیں !!

16,627 просмотров

وقوعہ 67/ڈی پاکپتن نیا رخ اختیار کر گیا..... PFA Vs. Milk Adulteration Mafia محمد تنویر مجید، ڈائریکٹر جنرل پنجاب روڈ سیفٹی اتھارٹی کے مبینہ طور پر ملزم فخر جھیڈو کے ساتھ تعلقات نے عوام میں شدید غصہ اور سوالات پیدا کر دیے ہیں… 👈 سوشل میڈیا پر پولیس افسران کے ساتھ دکھائی دینے والے گہرے مراسم یہ واضح کرتے ہیں کہ بعض اعلیٰ عہدے دار اپنے منصب کی ذمہ داریوں سے ہٹ کر ذاتی تعلقات کے بھرم کو مقدم رکھتے ہیں… اس موقع پر خاص طور پر عاصم جاوید ڈی جی Punjab Food Authority کا کردار بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عاصم جاوید اپنے منصب کی عظمت اور عوامی توقعات کے مطابق کھڑے ہوں گے اور اس واقعے کو ایک مثال بنا کر انصاف کی راہ ہموار کریں گے یا پھر طاقتور تعلقات اور سرکاری پروٹوکول کی پناہ میں ملزمان کو دوام بخشیں گے؟ عوام کی نظر میں یہ فیصلہ صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے ادارے کی ساکھ کا امتحان ہے۔ شفافیت، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ہر عہدے دار، چاہے وہ محمد تنویر مجید ہوں یا ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید، اپنے منصب کی تقدیر کو ذاتی مفادات کے آگے مات نہ دے۔ آج اگر انصاف نہ ہوا، تو کل عوامی اعتماد بھی مٹ سکتا ہے… Maryam Nawaz Sharif Chief Minister’s Complaint Cell Salma Butt Deputy Commissioner Pakpattan

وقوعہ 67/ڈی پاکپتن نیا رخ اختیار کر گیا..... PFA Vs. Milk Adulteration Mafia محمد تنویر مجید، ڈائریکٹر جنرل پنجاب روڈ سیفٹی اتھارٹی کے مبینہ طور پر ملزم فخر جھیڈو کے ساتھ تعلقات نے عوام میں شدید غصہ اور سوالات پیدا کر دیے ہیں… 👈 سوشل میڈیا پر پولیس افسران کے ساتھ دکھائی دینے والے گہرے مراسم یہ واضح کرتے ہیں کہ بعض اعلیٰ عہدے دار اپنے منصب کی ذمہ داریوں سے ہٹ کر ذاتی تعلقات کے بھرم کو مقدم رکھتے ہیں… اس موقع پر خاص طور پر عاصم جاوید ڈی جی Punjab Food Authority کا کردار بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عاصم جاوید اپنے منصب کی عظمت اور عوامی توقعات کے مطابق کھڑے ہوں گے اور اس واقعے کو ایک مثال بنا کر انصاف کی راہ ہموار کریں گے یا پھر طاقتور تعلقات اور سرکاری پروٹوکول کی پناہ میں ملزمان کو دوام بخشیں گے؟ عوام کی نظر میں یہ فیصلہ صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے ادارے کی ساکھ کا امتحان ہے۔ شفافیت، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ہر عہدے دار، چاہے وہ محمد تنویر مجید ہوں یا ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی عاصم جاوید، اپنے منصب کی تقدیر کو ذاتی مفادات کے آگے مات نہ دے۔ آج اگر انصاف نہ ہوا، تو کل عوامی اعتماد بھی مٹ سکتا ہے… Maryam Nawaz Sharif Chief Minister’s Complaint Cell Salma Butt Deputy Commissioner Pakpattan

11,455 просмотров

Videos

پتوکی پھولنگر ایک اور قاری کا مدرسے کے بچے پر تشدد وڈیو منظر عام پر
0:44

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

نئے پاکستان کے بانی جناب اخیر الکوکین نے اس محترمہ کی گردن پر تل دیکھا اور سرکاری خزانے سے پچیس سو کروڑ اس پر وار دئیے، مختصر تھا مگر جنسی بے راہ روی کا دور تھا....!!😎 ماہ جبینوں سے اللہ بچائے : 6 شادیاں اور اربوں کے ڈالر و ریال ادھر سے ادھر کرنے والی ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے حوالے سے کچھ اور حقائق سامنے آگئے ۔۔۔ فضیلہ عباسی نے پہلی شادی نشتر میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کرتے وقت اپنے ایک کالج فیلو سے کی ۔ لیکن چند ماہ بعد ہی طلاق لے لی ، پھر انہوں نے چند ماہ گزارے اور شہزاد لطیف نامی ایک کاروباری شخص سے کی لیکن ایک سال کے اندر اندر اس شادی میں بھی طلاق ہو گئی اس طلاق کی وجہ یہ تھی کہ کالج دور کی شادی کو فضیلہ عباسی اور انکی فیملی نے چھپایا تھا ۔ اہم بات یہ ہے کہ شہزاد لطیف سے انکا بیٹا بھی ہے جو فضیلہ عباسی کے پاس ہی رہتا ہے ۔ سننے میں آیا ہے کہ جب فضیلہ اور شہزاد لطیف کے درمیان طلاق کا معاملہ چل رہا تھا تو ڈاکٹر فضیلہ کی والدہ اپنے داماد کو ڈرانے کے لیے اپنے بیگ میں ایک پستو۔ل بھی رکھا کرتی تھیں ، خیر دوسری شادی ختم ہونے کے بعد فضیلہ عباسی نے ڈاکٹر اکرام اللہ نامی ایک شخص سے شادی رچا لی ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کا بھی ڈراپ سین ہوا اور فضیلہ نے اگلی شادی ایک بریگیڈئیر صاحب کے بیٹے سے کی ۔ افسوس کہ ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے معیار کے مطابق شوہر اب بھی نہ ملا تو یہاں بھی طلاق ہو گئی مگر اب حیران کن طور پر فضیلہ عباسی نے دوبارہ ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کر لی ۔ چند ماہ گزارے اور ڈاکٹر اکرام اللہ سے پھر طلاق لے کر ان دنوں ایک ایسے شخص سے شادی کا پلان بنا رہی ہیں جو ملک کی ایک معروف کاروباری شخصیت ہے اور اسکے پاس دنیا کی بہترین کاروں کا فلیٹ موجود ہے ۔ اس وقت ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے بڑی مقدار میں ڈالرز اور ریالوں کی بیرون ملک بنکوں میں منتقلی کی ہے انہوں نے غیر قانونی طور پر بھاری رقوم بیرون ملک اکاؤنٹس میں منتقل کیں اور انکے پاس ذرائع آمدن کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ، یہ چیز البتہ سامنے آئی ہے کہ فضیلہ عباسی کو بڑی رقوم فیکٹری اونرز ، پولٹری فارم مالکان اور کپڑے کے تاجروں نے انکے اکاؤنٹ میں بھیجی ہیں ان کاروباری شخصیات کے ساتھ فضیلہ عباسی کا بظاہر کوئی کاروباری تعلق بھی نہیں تو پھر وہ انہیں اتنی بڑی رقوم کیوں بھیجتے رہے ۔ تفتیش میں اہم سوالات یہ ہیں کہ فضیلہ عباسی کے پاس اتنی رقم کیسے آئی انکا ذریعہ آمدن کیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے جو کاروبار شو کررکھے ہیں وہ محض لاکھوں روپے کی آمدن دیتے ہیں ، فضیلہ عباسی اور انکی والدہ کے حوالے سے ایک حیران کن بات اور سامنے آئی ہے کہ کچھ سال قبل امریکہ میں ایک سٹور سے چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں اور انہیں ہتھکڑی بھی لگی دوسری بار بھی امریکہ مین قانون نافذکرنے والے اداروں کے ساتھ تفتیش میں تعاون نہ کرنے پر ڈاکٹر فضیلہ کو ہتھکڑی لگائی گئی۔ اس کیس میں تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فضیلہ عباسی کی گرفتاری کے لیے کوشاں ہیں جبکہ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل فضیلہ عباسی کو بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا گیا تھا جب وہ ضمانت قبل از گرفتاری پر تھیں ۔۔۔ the Team Sultan کی وال سے اقتباس ۔۔
1:47

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Pmln_Pak00's profile picture

نئے پاکستان کے بانی جناب اخیر الکوکین نے اس محترمہ کی گردن پر تل دیکھا اور سرکاری خزانے سے پچیس سو کروڑ اس پر وار دئیے، مختصر تھا مگر جنسی بے راہ روی کا دور تھا....!!😎 ماہ جبینوں سے اللہ بچائے : 6 شادیاں اور اربوں کے ڈالر و ریال ادھر سے ادھر کرنے والی ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے حوالے سے کچھ اور حقائق سامنے آگئے ۔۔۔ فضیلہ عباسی نے پہلی شادی نشتر میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کرتے وقت اپنے ایک کالج فیلو سے کی ۔ لیکن چند ماہ بعد ہی طلاق لے لی ، پھر انہوں نے چند ماہ گزارے اور شہزاد لطیف نامی ایک کاروباری شخص سے کی لیکن ایک سال کے اندر اندر اس شادی میں بھی طلاق ہو گئی اس طلاق کی وجہ یہ تھی کہ کالج دور کی شادی کو فضیلہ عباسی اور انکی فیملی نے چھپایا تھا ۔ اہم بات یہ ہے کہ شہزاد لطیف سے انکا بیٹا بھی ہے جو فضیلہ عباسی کے پاس ہی رہتا ہے ۔ سننے میں آیا ہے کہ جب فضیلہ اور شہزاد لطیف کے درمیان طلاق کا معاملہ چل رہا تھا تو ڈاکٹر فضیلہ کی والدہ اپنے داماد کو ڈرانے کے لیے اپنے بیگ میں ایک پستو۔ل بھی رکھا کرتی تھیں ، خیر دوسری شادی ختم ہونے کے بعد فضیلہ عباسی نے ڈاکٹر اکرام اللہ نامی ایک شخص سے شادی رچا لی ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کا بھی ڈراپ سین ہوا اور فضیلہ نے اگلی شادی ایک بریگیڈئیر صاحب کے بیٹے سے کی ۔ افسوس کہ ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے معیار کے مطابق شوہر اب بھی نہ ملا تو یہاں بھی طلاق ہو گئی مگر اب حیران کن طور پر فضیلہ عباسی نے دوبارہ ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کر لی ۔ چند ماہ گزارے اور ڈاکٹر اکرام اللہ سے پھر طلاق لے کر ان دنوں ایک ایسے شخص سے شادی کا پلان بنا رہی ہیں جو ملک کی ایک معروف کاروباری شخصیت ہے اور اسکے پاس دنیا کی بہترین کاروں کا فلیٹ موجود ہے ۔ اس وقت ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے بڑی مقدار میں ڈالرز اور ریالوں کی بیرون ملک بنکوں میں منتقلی کی ہے انہوں نے غیر قانونی طور پر بھاری رقوم بیرون ملک اکاؤنٹس میں منتقل کیں اور انکے پاس ذرائع آمدن کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ، یہ چیز البتہ سامنے آئی ہے کہ فضیلہ عباسی کو بڑی رقوم فیکٹری اونرز ، پولٹری فارم مالکان اور کپڑے کے تاجروں نے انکے اکاؤنٹ میں بھیجی ہیں ان کاروباری شخصیات کے ساتھ فضیلہ عباسی کا بظاہر کوئی کاروباری تعلق بھی نہیں تو پھر وہ انہیں اتنی بڑی رقوم کیوں بھیجتے رہے ۔ تفتیش میں اہم سوالات یہ ہیں کہ فضیلہ عباسی کے پاس اتنی رقم کیسے آئی انکا ذریعہ آمدن کیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے جو کاروبار شو کررکھے ہیں وہ محض لاکھوں روپے کی آمدن دیتے ہیں ، فضیلہ عباسی اور انکی والدہ کے حوالے سے ایک حیران کن بات اور سامنے آئی ہے کہ کچھ سال قبل امریکہ میں ایک سٹور سے چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں اور انہیں ہتھکڑی بھی لگی دوسری بار بھی امریکہ مین قانون نافذکرنے والے اداروں کے ساتھ تفتیش میں تعاون نہ کرنے پر ڈاکٹر فضیلہ کو ہتھکڑی لگائی گئی۔ اس کیس میں تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فضیلہ عباسی کی گرفتاری کے لیے کوشاں ہیں جبکہ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل فضیلہ عباسی کو بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا گیا تھا جب وہ ضمانت قبل از گرفتاری پر تھیں ۔۔۔ the Team Sultan کی وال سے اقتباس ۔۔

Daim Mubashar

243,416 просмотров • 4 месяцев назад