
Abdul Qayyum Siddiqui
@QayyumReports • 305,575 subscribers
Special Correspondent @geonews_urdu , writes for @thenews_intl CHEVENING SCHOLAR. Ex President Press Association of Supreme Court. Judiciary, Politics & HR
Shorts
Videos

جناب شفیع جان Shafi Jan صاحب کے ایکس اکاؤنٹ پر لانگ مارچ کی وڈیو اپ لوڈ ہوئی میں نے اے آئی سے اس وڈیو میں موجود گاڑیوں کی تعداد کے بارے پوچھا اے آئی کے نتائج نے حیران کن انکشاف کیا مجھے تو یقین ہی نہیں آیا یہ مصنوعی ذہانت بھی کیا چیز ہے۔ اس نے بتایا وڈیو میں 10موٹر سائیکلز ، کار، وین ، ایس یو وی کی تعداد 80ہے جو 70میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہیں ٹوٹل تعداد ملا جلا کر 90 ,وقار ستی Waqar Satti 🎖️🇵🇰 آپ کا کیا اندازہ ہے
Abdul Qayyum Siddiqui74,262 次观看 • 22 天前

مشاہد حسین صاحب کا یہ دعویٰ کہ “پاکستان نے سی آئی اے کے کہنے پر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت دی” بالکل بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ سوویت افغان جنگ کے دوران سی آئی اے نے مسلح افغان مجاہدین کو مالی معاونت فراہم کی اور پاکستان اس امداد کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ تھا۔ یہ ایک دستاویزی حقیقت ہے۔ لیکن اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو پاکستان نے تربیت نہیں دی تھی۔ اسامہ بن لادن ایک الگ عرب رضاکار نیٹ ورک کے ذریعے سرگرم تھا، جو عبداللہ عزام اور مکتب الخدمات سے وابستہ تھا اور جس کی مالی معاونت بڑی حد تک نجی عرب ذرائع سے ہوتی تھی۔ نائن الیون کمیشن کی رپورٹ اور دیگر مواد میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ بن لادن اور اس کے ساتھیوں کو امریکہ کی جانب سے “کوئی معاونت” نہیں ملی، اور نہ ہی پاکستان نے انہیں تربیت دی۔ ایمن الظواہری مصر کے اسلام پسند حلقوں اور طبی امدادی نیٹ ورکس کے ذریعے افغانستان پہنچا تھا، نہ کہ پاکستان میں یا پاکستان کے ذریعے تربیت حاصل کرنے کے لیے۔ یہ درست ہے کہ “افغان جہاد” نے وہ وسیع تر ماحول ضرور پیدا کیا جس میں یہ افراد افغانستان میں سرگرم رہے، لیکن یہ بات اس دعوے سے بالکل مختلف ہے کہ پاکستان نے انہیں سی آئی اے کی ہدایات پر تربیت دی تھی۔ مشاہد حسین صاحب جیسے افراد کو اس نوعیت کے حساس معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انتہائی احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان کے مؤقف اور بیانیے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور مخالف فریق کے مؤقف کو غیر ضروری طور پر تقویت دے سکتے ہیں
Abdul Qayyum Siddiqui41,170 次观看 • 1 个月前

یہ منظر شاہراہ دستور کا ہے ایک جانب آڈیٹر جنرل پاکستان کا آفس ہے جو سارے پاکستان کا آڈٹ کرتا ہے دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت جو آئینی مقدمات کے فیصلے کرتی ہے ان دونوں کے درمیان واقع یہ گٹرگندے پانی سے ابل رہا ہے اور تعفن پھیلا رہا ہے یہ ہمارے سی ڈی اے کی کارکردگی ہے
Abdul Qayyum Siddiqui23,294 次观看 • 1 个月前

یہ وہ شخصیت ہیں کہ جن کے دور انصاف کو باریک بینی سے دیکھا اور انہیں آئین و قانون پر ایسے چلتے پایا کہ جسے دیکھ کر پچھلے 75 سالہ اداوار کے گزرے ہوئے 90 فیصد چیف جسٹس کی کارکردگی پر ۔۔۔بھیجنی پڑی اندرونی سازشوں ، گروپ بندیوں ، مفاد پرستوں کی چالوں کے باوجود ایک عہد منصف وہ تمام ہوا جو کہ مسند انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق تھا 💖💖💖
Abdul Qayyum Siddiqui200,340 次观看 • 2 年前