
Sammi Deen Baloch
@SammiBaluch • 176,930 subscribers
First award-winner @FrontLineHRD from Balochistan. Fighting against enforced disappearances & for the safe release of my father #DrDeenMohd & others
Shorts
Videos

میرے بیٹے کو سی ٹی ڈی نے اٹھایا، سات دن نامعلوم جگہ پر رکھا گیا، عدالت میں لایا گیا دو دفعہ پیش کیا گیا۔ ہم انکی تیسری عدالت میں پیشی کے لئے انتظار کررہے تھے کہ ہم نے سنا کہ میرے بیٹے کو جعلی مقابلے میں مارا گیا ہے۔ یہ کیسا مقابلہ ہے کہ اور کیوں مارا گیا ہے؟ جب میرے بیٹے کو عدالت میں لایا گیا تو دس دس پولیس کی گاڑیاں انکے پیچھے تھے، کسٹڈی سے مقابلہ کرنے گیا تو یہ پولیس والے کہاں مرگئے تھے۔ میرے بیٹے کا قتل فیک انکاوئٹر ہے۔ #JusticeForHamdan
Sammi Deen Baloch200,726 görüntüleme • 8 ay önce

عورت مارچ کراچی کی جانب سے ماہ جبین اور نسرینہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف آج کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس ہونا تھی، مگر اسے روکنے کے لیے ریاستی جبر کی پوری مشینری کو حرکت میں لایا گیا۔ پہلے پولیس نے رابطہ کر کے پریس کانفرنس منسوخ کرنے کا دباؤ ڈالا اور اس کے بعد، 3:30 پر پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی کراچی پولیس نے پریس کلب کے تمام راستے سیل کر دیے، وہاں پہنچنے والے شرکاء کو روک کر ہراساں کیا، گرفتاریاں بھی کیں، اور عملاً پورے ایریا کو ایک گھیراؤ کی شکل دے دی۔ یہ کریک ڈاؤن اسی لیے کیا گیا کیونکہ یہ پریس کانفرنس دو بلوچ لڑکیوں، ایک پولیو سے متاثرہ ماہ جبین اور دوسری محض پندرہ سالہ بچی نسرینہ کی جبری گمشدگی کے خلاف تھی۔ اگر یہ معاملہ کسی اور کمیونٹی کا ہوتا تو شاید نہ پولیس کی یہ بےچینی دکھائی دیتی اور نہ انتظامیہ کی یہ جارحیت۔ مگر بلوچ اس ریاست میں آج بھی شہری تو دور، انسان سمجھنے کی حد تک بھی تسلیم نہیں کیے جاتے۔ اور جو ان کے دکھ، ان کے حق، اور ان کی آواز کے ساتھ کھڑا ہو، اسے بھی اسی جبر، اسی ہراسگی اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
Sammi Deen Baloch235,268 görüntüleme • 11 ay önce

This video should have been recorded tomorrow, on the seventeenth year of my Father’s enforced disappearance. Instead, I am recording it today because for the last month and as recently as yesterday, I am being threatened with imprisonment. Seventeen years after they disappeared my father, I am still being forced to live in the shadow of the repression that stole him from us.
Sammi Deen Baloch93,469 görüntüleme • 4 ay önce
1:00
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

“آپ نے انہیں کیمپ لگانے کی اجازت نہیں دی، وہ بارش میں بھیگتے اور جلتی دھوپ میں کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے۔ انہوں نے خود کو اذیت دی، مگر انتظامیہ کو ایک لمحے کے لیے بھی پریشان نہیں کیا۔” ہم دل کی گہرائیوں سے محترمہ ایمان مزاری Imaan Zainab Mazari-Hazir کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جو گزشتہ چار دنوں سے مسلسل مشکلات کے باوجود ان مظلوم لواحقین کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہیں ان کے اس بے لوث ساتھ نے امید اور مزاحمت کو طاقت دی ہے۔ ہم اسلام آباد کی باشعور اور حساس عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان سے آئے ان لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں، کیونکہ یہ صرف بلوچستان کا نہیں، انسانیت کا مسئلہ ہے۔
Sammi Deen Baloch194,638 görüntüleme • 1 yıl önce

میر صاحب ! پندرہ سال گزرنے کے باوجود ہمیں سنا نہیں جاتا مزاکرات کے نام پر وزرا آتے ہیں اور ایسے بات کرتے ہیں جیسے جبری گمشدگیوں مسلہ ریاستی نہیں بلکہ ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے ہمیں سننے کے بجائے اپنا سنا کر چلے جاتے ہیں سچ مانیں ان پندرہ سالوں میں بہت کچھ دیکھا ہے بہت کچھ سہا ہے لوگوں کے لیے پندرہ شاہد ایک نمبر ہو مگر ہمارے لیے پندرہ صدیوں کے برابر ہے اپنے ہی وطن میں خانہ بدوشوں کی طرح زندگی کررہے ہیں کھبی کوئٹہ پریس کلب تو کھبی کراچی اسلام آباد #EndEnforcedDisappearances #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch348,076 görüntüleme • 2 yıl önce

میری والدہ کہتی ہے کہ کاش میں پڑھی لکھی ہوتی اپنے شوہر ڈاکٹر دین محمد بلوچ کا مقدمہ خود لڑتی امی نے ہمیں مشکل حالات میں غربت کے باوجود ہم تین بچوں کو پالا بڑا کیا تعلیم دلوائی بہت سے لوگ امی سے سوال کرتے ہیں تم کیوں اپنے جوان بیٹیوں کو سڑکوں پر احتجاج کیلئے جانے دیتی ہو ؟ میری والدہ یہ جانتی ہے کہ ہمارے علاوہ انکااور کوئی نہیں ہے جب ہم احتجاج کیلئے گھر سے نکلتے ہیں تو پریشان و بے چین ہوتی ہے لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں ہے امی کی یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ شاید آپ میں بہت لوگوں کو سمجھ میں نہ ائیں لیکن انکی تکلیف لہجے اور آواز سے عیاں ہے میری والدہ کی زندگی کے وہ خوبصورت برس بغیر بابا کہ گزرئے ہیں پندرہ سال میری والدہ نہ بیوائوں میں شمار ہوتی ہے نہ شادی شدہ کی فہرست میں جگہ بنا سکتی ہے میری والدہ کا ازواجی اسٹیٹس کیا ہے یہ اس اسٹیٹ کو ہی پتا ہے
Sammi Deen Baloch320,613 görüntüleme • 2 yıl önce

وزیر اعظیم پاکستان انوار الحق یہاں کہنا کیا چاہتے ہیں ہمیں کوئی تشریح کرکے بتا سکتا ہے ؟ جبری گمشدگیوں کے شکار جتنے بھی لوگ جبری لاپتہ کیے گئے ہیں ہیں انکا یا تعلق سیاسی تنظیموں سے رہا ہے یا طلبا تنظیموں سے یا عام غریب لوگ جنکو بلوچ سمجھ کر اٹھایا گیا ہے وزیر اعظیم جتنی چرپ زبانی کرئے جتنا logical بننے کی کوشش کرئے تب بھی جبری گمشدگیوں کو justified نہیں کرسکتے اور اب تو حد یہ ہے ہم لواحقین کے ساتھ یکجہتی کرنے والوں کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں #EndEnforcedDisappearances #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch319,705 görüntüleme • 2 yıl önce

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔
Sammi Deen Baloch45,450 görüntüleme • 4 ay önce

وزیر اعظیم کے مطابق اسلام آباد میں جبری گمشدگیوں کے شکار لاپتہ افراد کے لواحقین کو دو ڈنڈے کیا پڑے تو دو ڈنڈوں سے سب کو تکلیف ہوئی کہ بلوچستان کا وزیر اعظم ہے اور لواحقین پر تشدد کیا گیا اس پر تکلیف نہیں ہونی چاہئے تھی وزیر اعظیم صاحب ! دو نہیں آپ ہمیں دس ڈنڈے ماریں ہماری زبان ہمارے حلق سے کھینچ لیں ہماری آنکھیں نکال لیں آپکا ہر ظلم سہہ لیں گے مگر تب بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبہ سے دستبردار نہیں ہونگے #EndEnforcedDisappearances #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch215,189 görüntüleme • 2 yıl önce

پاکستان میں آج تک نہ وکیلوں اور ججز کو احترام دیا گیا ہے اور نہ کہ سیاستدانوں جرنلسٹوں اور استادوں کو عزت دی گئی ہے اور آج یہی رویہ ہمارے معزز ساتھیوں کے ساتھ بھی روا رکھا گیا اسلام آباد میں ہمارے کانفرنس میں شرکت کے لیے ائے ہوئے محترم استاد پروفیسر منظور بلوچ کے ساتھ پولیس نے نہ صرف بدتمیزی اور دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتی رہی بلکہ انہیں زبردستی روک کر ہمارے پروگرام کیلئے انہیں آنے بھی نہیں دیا گیا معزز استاد ہمارے لیے سرمایہ کی حثیت رکھتے ہیں جنکے ساتھ کسی بھی قسم کی بے حرمتی ہم کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch197,678 görüntüleme • 2 yıl önce

لاہور : یہ وڈیو کلپ 27 اکتوبر 2023 کی ہے جب لاہور میں بھرے بازار میں ٹریفک کی روانی کے باوجود پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم فرید بلوچ کو پنجاب پولیس کی سہولت کاری میں سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار جبری طور پر لاپتہ کررہے ہیں یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو مجبورا فرید بلوچ کو منظر عام پر لایا گیا اور اس پر منشیات استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا ۔۔ ریاستی فورسز ایسے بلوچ نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں جب لاہور جیسے گنجان آبادی پر مشتمل شہر میں ایسا ہوسکتا ہے تو زرا سوچیں بلوچستان میں کیا کیا نہیں ہوتا ہوگا ۔۔ #MarchAgainstBalochGenoscide
Sammi Deen Baloch194,104 görüntüleme • 2 yıl önce

حمدان محمد علی کو 29 دسمبر 2025 کو کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ سے جبری حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان کی گرفتاری ظاہر کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔ آج ان کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونا تھا، مگر اس سے ایک دن قبل انہیں تین دیگر جبری طور پر لاپتہ افراد کے ہمراہ ایک جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ بلوچستان میں جعلی مقابلوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور اب ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ امر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سی ٹی ڈی اور پولیس قانون اور عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ان غیرقانونی کارروائیوں کے خلاف ریاستی اداروں اور عدلیہ کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے۔ آج حمدان کے لواحقین نے اس سنگین ناانصافی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ ریاستی جبر اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے تمام افراد، تنظیموں اور باشعور شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف بھرپور اور مؤثر آواز اٹھائیں، تاکہ جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کا یہ سلسلہ روکا جا سکے۔
Sammi Deen Baloch55,143 görüntüleme • 8 ay önce

I am honored to receive the Front Line Defenders Award for Human Rights Defenders at Risk. It has been a painful and hard journey; however, receiving this recognition makes my resolve stronger. I will continue to raise my voice for the voiceless and dedicate this award to the resilient people of Balochistan. Their unwavering courage in the face of all forms of suppression and human rights violations inspires me every day. This award is a testament to their strength and determination, and together, we will persist in our fight for justice. Front Line Defenders
Sammi Deen Baloch142,268 görüntüleme • 2 yıl önce

جنھیں نامعلوم مسخ شدہ لاشوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے تو یہ رپورٹ BBC News اردو کے صحافی Riaz Sohail Janjhi, ریاض سہیل रियाज़ सुहैल کی 4 سال قبل کی ہے ضرور دیکھیں بلوچستان میں مسخ شدہ لاشوں کا قبرستان جو ناقابل شناخت ہوتے ہیں اور بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کیے دفنا دیے جاتے ہیں #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch140,195 görüntüleme • 2 yıl önce

واجہ Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب کا شکریہ میرے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کے حوالے سے سینٹ میں آواز اٹھانے کیلئے ! وگرنہ چند selected لوگ بلوچستان کی طرف سے سینٹ اور پارلیمان میں بھیجے گئے ہیں جو ہماری آواز بننے کے بجائے ہمیں سازشی ایجنٹ قرار دے کر ہمارے ہی خلاف زہر افشانی کرتے ہیں ریاست کو ریاستی اداروں کو سمجھنا چاہیے کہ جبری گمشدگیوں کا مسلہ انہتائی سنگین اور انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے
Sammi Deen Baloch138,606 görüntüleme • 2 yıl önce

In Killi Yar Muhammad Sonaro, Wadh, FC firing killed four civilians and injured several others, including seven year old Shahzaib. Four civilians are dead. A seven year old child has been shot. This is the human cost of military operations being imposed on Baloch communities in the name of security. For Baloch people, this violence is neither new nor exceptional. Civilians are killed, people are forcibly disappeared, homes are raided, families are harassed, young men are arbitrarily detained, and entire communities are subjected to military force. Year after year, the same violence is repeated across Balochistan, while Baloch lives are treated as though they are expendable and entire populations can be punished for the actions of others. How many Baloch civilians must be killed before this can no longer be called a “security operation”? How many children must be shot before their lives are considered worth protecting? How many families must lose their children before the violence inflicted on Baloch communities is treated with the horror it deserves? Seven year old Shahzaib should never have been shot. Four civilians should not be dead. These are not acceptable costs of maintaining security. Baloch children cannot be made to grow up under guns, and Baloch civilians cannot continue to be killed, disappeared, detained and terrorised while their suffering is justified in the language of security. There is no security in making an entire people fear for their lives.
Sammi Deen Baloch13,653 görüntüleme • 1 ay önce