Sana Ullah BALOCH's banner
Sana Ullah BALOCH's profile picture

Sana Ullah BALOCH

@Senator_Baloch191,433 subscribers

Former Senator/MNA/MPA (Parliamentarian) | Democratic Governance Expert | UNDP Adviser 🇸🇱,🇸🇴 & 🇵🇰| Stanford CDRL Fellow | Balochistan, Pakistan

Shorts

خواجہ آصف Khawaja M. Asif غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں کہ #بلوچستان میں 35 یا 40مربع کلومیٹر میں صرف 1 شخص رہتا ہے۔ 📊 پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق یہ تعداد تقریباً 35 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔ ⚠️ اگست 2023 میں CCI نے بغیر کسی جواز کے بلوچستان کی آبادی سے 70 لاکھ افراد کم کر دیے۔ ➕ اگر یہ 70 لاکھ شامل کیے جائیں تو آبادی کی کثافت تقریباً 63 افراد فی مربع کلومیٹر بنتی ہے۔ حقائق مسخ کرنا پالیسی نہیں، ناانصافی کو بڑھاتا ہے۔

خواجہ آصف Khawaja M. Asif غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلا رہے ہیں کہ #بلوچستان میں 35 یا 40مربع کلومیٹر میں صرف 1 شخص رہتا ہے۔ 📊 پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق یہ تعداد تقریباً 35 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔ ⚠️ اگست 2023 میں CCI نے بغیر کسی جواز کے بلوچستان کی آبادی سے 70 لاکھ افراد کم کر دیے۔ ➕ اگر یہ 70 لاکھ شامل کیے جائیں تو آبادی کی کثافت تقریباً 63 افراد فی مربع کلومیٹر بنتی ہے۔ حقائق مسخ کرنا پالیسی نہیں، ناانصافی کو بڑھاتا ہے۔

28,909 views

پورے بلوچستان میں ایمبولینس و لوکل ٹریفک کو بی این پی کے کارکن از خود راہنمائی و راستہ دیتے رہے- خاتون کی جو ویڈیو ہے حب شہر کا ہے اور اس متعلق موقف نیچے بیان کیا گیا ہے-

پورے بلوچستان میں ایمبولینس و لوکل ٹریفک کو بی این پی کے کارکن از خود راہنمائی و راستہ دیتے رہے- خاتون کی جو ویڈیو ہے حب شہر کا ہے اور اس متعلق موقف نیچے بیان کیا گیا ہے-

22,132 views

Videos

Senator_Baloch's profile picture

مالک صاحب Mohammad Malick کی جانب سے مکالمے کے فروغ کے لیے یہ ایک قابلِ تحسین کوشش ہے۔ غالباً مجھے بھی اسی پروگرام میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ 19 اگست کو ریکارڈنگ طے تھی، تاہم ایک رات قبل مطلع کیا گیا کہ ’’ثناء صاحب، معذرت کے ساتھ، #بلوچستان اس پروگرام کا موضوع نہیں ہے؛ لہٰذا آپ کو چند ہفتوں بعد مدعو کیا جائے گا۔‘‘ ہمیں بخوبی اندازہ ہے کہ #بلوچستان، #سندھ اور #خیبرپختونخوا کے سیاسی، آئینی اور عوامی نقطۂ نظر اور مؤقف کو دانستہ طور پر وفاقی سطح کے ذرائع ابلاغ اور خود ساختہ ’’قومی‘‘ میڈیا میں غیر اعلانیہ طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔ ہمیں میڈیا سے وابستہ اپنے دوستوں کی مشکلات اور ان پر موجود ادارہ جاتی دباؤ کا بھی پورا ادراک ہے۔ تاہم حقیقی قومی مکالمہ اسی وقت ممکن ہے جب وفاق کی تمام اکائیوں کی آواز، مؤقف اور اختلافِ رائے کو مساوی جگہ دی جائے۔ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کو خاموش رکھ کر کوئی بھی مکالمہ نہ تو مکمل قومی مکالمہ کہلا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے وفاقی ہم آہنگی کو تقویت مل سکتی ہے۔

Sana Ullah BALOCH

154,873 views • 20 days ago

Senator_Baloch's profile picture

فواد بھائی انسان کا علم کسی بھی موضوع پر کم ہو یا تو اس موضوع پر مکالمہ (جو اب پاکستان میں تہذیب و اخلاق سے عاری بحث و گالی گلوچ میں تبدیل ہوگیا ہے ) سے گریز کرے- یا پھر کوشش کرے کہ کچھ وقت مطالعہ کو دے دے تاکہ معاملہ سمجھ میں آسکے - میں کم عمر رکن اسمبلی بنا 1997 میں - میاں نواز شریف کی حکومت تھی - اس عرصہ میں بلوچستان میں کوئی مسلح مزاحمت نہیں تھی تاہم بوچستان کے ہر گھر میں بے روزگاری، بھوک، مایوسی، اندھیرا اور خوشحال مستقبل کے حوالے سے امکانات مسدود ہوتے جارہے تھے - میں نے تاریخی تناظر میں ، جسمیں پاکستان کے پہلے مارشل لاء کیخلاف بابو #نوروز_خان کی مزاحمت کا حوالہ بھی دیا - انکی مزاحمت ون یونٹ اور مارشل لاء کیخلاف تھا- انکی جدوجہد #بلوچوں کے وقار کےساتھ کلواڑ کیخلاف تھی، بلوچستان کی شناخت کے خاتمے کیخلاف - اس بزرگ شخص کو پاکستان میں مارشلاء کے خلاف مزاحمت کے استعارے کے طور پر پڑھانے کی بجائے آپ اسے بھارت کا ایجنٹ اور بیرونی سازش کی بنیاد پر مزاحمت کرنے والا کردار بتاتے ہیں - یہی سے وہ زہنی اور شعوری فا صلہ جہاں آپ مارشل لاء کیخلاف مزاحمت کو بیرونی سازش اور ھم آہین و قانون کیلے جدوجہد قرار دیتے ہیں - مجھے اندازہ ہے کہ آپ اور ۂزاروں قارئین #بلوچستان کو بغیر سنے اور بغیر پڑھے سمجھنا چاہتے ہیں جو ممکن نہین - اگر وقت ملے تو تقریر کا یہ حصہ ضرور سنیں اگر مکمل تقریر سننے سے دلچسپی ہے تو لنک 👇

Sana Ullah BALOCH

38,479 views • 6 months ago

Senator_Baloch's profile picture

بلوچستان میں ملک کے سب سے زیادہ قانون نافذ کرنے والے اداروں (LEAs) کی چیک پوسٹیں قائم ہیں، جن میں فرنٹیئر کور، پولیس، لیویز، ایکسائز اور کسٹمز شامل ہیں۔ ان چیک پوسٹوں کی بھرمار نے ایک غیر رسمی، غیر دستاویزی معیشت کو جنم دیا ہے، جو جبر اور غیر قانونی ٹیکس وصولی پر مبنی ہے۔ تخمینہ ہے کہ ان چیک پوسٹوں پر ہر سال تقریباً 300 ارب روپے جمع کیے جاتے ہیں—جو کہ بلوچستان کے سرکاری ترقیاتی بجٹ سے تین گنا زیادہ ہے۔ یہ رقم کسی رسمی نظامِ احتساب سے نہیں گزرتی بلکہ مختلف غیر مجاز حلقوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ اس نظام نے مقامی آبادی پر گہرے سماجی و نفسیاتی اثرات مرتب کیے ہیں، جن میں تذلیل، خوف، اور بداعتمادی کا ماحول شامل ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے رویے اور چیک پوسٹوں کی کثرت نے عوام میں LEAs کے خلاف شدید نفرت اور ناراضگی پیدا کی ہے۔ یہ سلسلہ بلوچستان اور اسلام آباد کے درمیان سیاسی بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔ یہ تلار چیک پوسٹ کی صورتحال ہے جو گوادر اور ضلع کیچ کے مابین واقع ہے- #Balochistan

Sana Ullah BALOCH

13,742 views • 1 year ago