
Sonia Khan khattak(SK)
@Soniakhan1pak • 33,467 subscribers
Actress | Poetess | Designer | The Voice of the Voiceless ✍️ 🇵🇰 Norway 🇳🇴
Shorts
Videos

ایک ڈراما صرف کہانی نہیں ہوتا۔ وہ اپنے کرداروں کے ذریعے معاشرے کے بارے میں ایک تصور بھی تشکیل دیتا ہے۔ اسی لیے جب ایک جدید، آزاد خیال معاشرے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو ذہنی اذیت، ڈپریشن، اینزائٹی اور فِٹس جیسی کیفیت سے گزرتے دکھایا جائے اور اس کے مقابل ایک ہارورڈ سے تعلیم یافتہ، مذہبی اور نیک کردار ابوبکر کو کھڑا کیا جائے تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ وہ لڑکی کی مدد کیسے کرتا ہے؛ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مصنف ناظر کو کس طرزِ فکر کی طرف لے جا رہی ہے؟ لڑکی کا ماضی اس ڈرامے میں ایک ایسے طرزِ زندگی کے طور پر سامنے آتا ہے جسے وہ خود بعد میں گناہ، پشیمانی اور ذہنی اذیت کے زاویے سے دیکھنے لگتی ہے۔ ایک رشتہ ختم ہوتا ہے، اس کے بعد اس کے اندر خود کو ’’خراب‘‘ اور ’’ گنہگار ‘‘ سمجھنے کا احساس شدت اختیار کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کی نفسیاتی کیفیت جسمانی علامات کی صورت اختیار کرتی دکھائی جاتی ہے۔ یہاں کہانی ایک نہایت حساس مقام پر پہنچتی ہے۔ کیونکہ اگر ایک نوجوان عورت ڈپریشن اور اینزائٹی اٹیک جیسی علامات سے گزر رہی ہے تو اسے سب سے پہلے مریضہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، ’’گناہ گار‘‘ کے طور پر نہیں۔ اور پھر آتا ہے ابوبکر۔ ایک ایسا کردار جو معمولی تعلیم یافتہ نہیں بلکہ ہارورڈ سے پڑھا ہوا ہے۔ یعنی مصنف نے اسے شعوری طور پر جدید دنیا، اعلیٰ تعلیم اور مذہبی وابستگی کے امتزاج کے طور پر پیش کیا ہے۔ لیکن جب یہی کردار زمین پر گری ہوئی، نیم بے ہوش لڑکی کو دم کیا ہوا پانی دیتا ہے اور پھر پوچھتا ہے کہ اب طبیعت ٹھیک ہے؟ تو یہاں ایک بہت بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا 2026 میں ڈپریشن، اینزائٹی اورگلٹ جیسی کیفیت کا جواب ایک ہارورڈ تعلیم یافتہ شخص کے ہاتھ میں دم کیا ہوا پانی ہونا چاہیے؟ روحانی دعا یا دم کسی فرد کے ذاتی مذہبی عمل کا حصہ ہو سکتا ہے۔ کسی شخص کا دعا کرنا یا کسی کے لیے قرآن پڑھ کر دعا کرنا بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک پیچیدہ نفسیاتی کیفیت کے سامنے روحانی عمل کو علاج کے متبادل کے طور پر پیش کیا جائے، خصوصاً ایسے کردار کے ذریعے جسے مصنف نے جدید تعلیم کی علامت بنا کر پیش کیا ہو۔ کیونکہ ڈراما دیکھنے والا صرف منظر نہیں دیکھتا، وہ اس منظر سے معنی بھی اخذ کرتا ہے۔ اگر ایک لڑکی ذہنی بیماری کی علامات میں مبتلا ہے تو اس کے لیے ہمدردی، نفسیاتی مدد، طبی تشخیص اور مناسب علاج کی بات ہونی چاہیے نا کہ احساس گناہ۔ ہمارے معاشرے میں یہ سوال معمولی نہیں۔ ہم پہلے ہی ایسے معاشرتی ماحول میں رہتے ہیں جہاں بیماری اور ذہنی پریشانی کو کبھی جادو، کبھی آسیب، کبھی نظرِ بد اور کبھی روحانی اثر سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ لوگ علاج کے بجائے پیروں، فقیروں، تعویذوں اور مختلف روحانی دعوے داروں کے پاس جاتے ہیں۔ اس پورے ماحول میں ایک مقبول ڈرامے کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اسلام میں دعا کی اپنی جگہ ہے، روحانی تسلی کی اپنی جگہ ہے؛ لیکن دعا کو طبی اور نفسیاتی علاج کا متبادل بنا دینا ۔ اور شاید ’’درِنجات‘‘ کے اس منظر کا سب سے بڑا سوال یہی ہے: کیا جدید تعلیم صرف ڈگری کا نام ہے یا جدید علم کے ساتھ جدید شعور بھی آتا ہے؟ اگر ابوبکر واقعی جدید تعلیم اور مذہبی شعور کا امتزاج ہے تو شاید اس کردار سے ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ ایک لڑکی کو گناہ گار سمجھتے اور اُس کے تمام گناہ معاف کرتے ہوئے اُس کا ہاتھ تھامے اور ایک فرمانبردار بیٹا اور عظیم مسلمان ثابت ہو ، اور دم والے پانی سے اُسے اللہ کا نیک بندہ بھی ثابت کیا جائے جس کے دم میں اثر ہے ۔ ڈرامہ کی ہیروئین کا ذہنی بیمار ہونا بھی اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے، جیسا کہ تاثر دیا جا رہا ہے۔ عورت کو نجات کے لیے کسی مرد کا محتاج بنا دینا بھی سوال طلب ہے، اور اس کی ذہنی بیماری کو روحانی کمزوری یا گناہ کے ساتھ جوڑ دینا بھی۔ یہاں تنقید عمیرہ احمد کے بیانیے پر ہونی چاہیے جو ناظر کے سامنے رکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ آج جب ہم ذہنی صحت کے بارے میں شعور پیدا کرنے کی بات کر رہے ہیں، تو ہمیں اپنے ڈراموں سے بھی یہ توقع رکھنی چاہیے کہ وہ ڈپریشن کو گناہ، اینزائٹی کو کردار کی کمزوری اور فِٹس کو محض روحانی مسئلہ بنا کر پیش کرنے کے بجائے انسانی تکلیف کے طور پر سمجھنے کی گنجائش پیدا کریں۔ ورنہ سوال پھر وہی رہ جاتا ہے: ہارورڈ سے پڑھ کر آنے والا ابوبکر، جب ایک ذہنی اذیت میں مبتلا لڑکی کو زمین پر گرتا دیکھتا ہے، تو اسے دم کیا ہوا پانی دیتا ہے—یا اس کا ہاتھ پکڑ کر علاج تک لے جاتا ہے؟ اور شاید اسی ایک سوال میں اس پورے منظر کی سب سے بڑی بحث چھپی ہوئی ہے۔ تحریر سونیا خان Umaira Ahmad
Sonia Khan khattak(SK)52,056 views • 11 days ago

میں سیاست پر تو بات نہیں کرونگی نا شادی کے اخراجات ، نہ دلہن کی ساس کا جوڑا بمقابلہ دلہن پر ۔۔ لیکن جس نے بھی اس خوبصورت گیت کو دُلہا کی گھوڑی کے ساتھ فلمایا ہے اتنی خوبصورت دُلہن کے ہوتے ہوئے بہت زہنی دھجکا پہنچا ہے مجھے 🙏😀 منجی پاوئیں دئیو نا دئیو ترتیب تے سدی کر لو 😄
Sonia Khan khattak(SK)144,623 views • 8 months ago

آج میں لیکر آئی ہوں بلاسفمی بزنس کے کُچھ ثبوتوں کی مختصر فلم جو 12 منٹ پر مشتمل ہے ۔آج کی اس فلم کے مرکزی کردار ہیں ایمان فاطمہ جس کا تعلق کشمیر سے بتایا جاتا ہے ۔اس بلاسفیمی بزنس میں ایمان بہت بُنیادی کردار ادا کرتی ہے جس کا ویکٹم سے فیس بُک پر رابطہ ہوتا ہے پھر اُسے وہ واٹس پر لیکر آتی ہیں اور آخری حدف ویکٹم کو گھر سے نکال کر راؤ گینگ تک پہنچنا ہوتا ہے ۔۔ پھر اُس موقعہ سے راؤ گینگ کا کام شروع ہوتا ہے جو وہاں سے ویکٹم کو اغوا کرتے ہیں جس میں شہزاد خان نُمایاں نظر آئے گا آپکو اس مختصر فلم میں ۔ انکے مزید تعارف اور باقی کرداروں کو میں آپکے سامنے لاتی رہونگی ۔ آپ سے گُزارش ہے اس فلم کو دیکھیے جس سے آپکو انکا طریقہ واردات سمجھ آئے گا اور اس کے پیچھے کے مقاصد ۔ آپ اس گینگ کو ایکسپوز کرنے میں ہمارا ساتھ دیں اور مزید جانوں کو انکی بلی چڑھنے سے بچائیں اور جتنا ممکن ہو سکے جو بے گناہ بچے انہوں نے قید خانوں میں ڈالے ہیں اُنکے لیے مل کر آواز اُٹھائیں 🙏
Sonia Khan khattak(SK)192,888 views • 2 years ago

نالائق راؤ عبدالرّحیم! میں نے کہا تھا تُمہیں خون کے آنسو رُلاؤں گی اور قبر تک تُمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گی۔ آج عدالت میں تُمہاری چیخیں سُنیں، جو میری ٹوئیٹس کے “pain” میں، روسٹرم پر کھڑے ہو کر تُمہارے وجود سے نکل رہی تھیں۔ تُمہارا چہرہ، تُمہاری آواز، تُمہارا لرزتا وجود—سب کچھ چیخ چیخ کر گواہی دے رہا تھا کہ تم جج کے سامنے میری سوشل میڈیا پوسٹ کی دُہائی دے رہے تھے اور وکیل کم، فریادی زیادہ لگ رہے تھے۔ میرے کانوں میں اُن ماؤں کی فریاد گونجنے لگی، جو پچھلے سال سے آج تک میں سُنتی آئی ہوں۔ جب وہ اپنے بچوں کی دُہائی دے کر تُمہیں دُنیا جہان کی بددعائیں دیتی ہیں—وہ بددعائیں جو تُمہارا پیچھا کر رہی ہیں۔ تم نے سینکڑوں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو، جن میں اکثریت بیس، اکیس، بائیس اور تئیس سال کے ہیں، ایف آئی اے کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا۔ اپنے کُتے بلوں کو مدعی بنا کر وہ ظلم کیے کہ اُن وکٹمز کی اکثریت زندہ تو بچ گئی، لیکن ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ ماؤں کے کلیجے پھٹ گئے، باپ مالی حالات کے ہاتھوں تھانے کچہری کے چکر میں پیسے پیسے کو محتاج ہو گئے، بہنیں سسرال سے واپس گھر لوٹا دی گئیں، گھر بیٹھی بیٹیاں رخصت نہ ہو سکیں کہ وہ “گستاخ” کی بہنیں ہیں۔ دودھ پیتے بچے باپ کے سائے سے محروم کر دیے گئے—یہ سب تُو نے کیا۔ اور آج، تُمہیں “pain” میں دیکھ کر دل کو جو راحت ملی، وہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ میں جانتی ہوں، ایک سال سے میری ٹوئیٹس، ویڈیو بیانات، اور انٹرویوز نے تُمہارا جینا حرام کر رکھا ہے۔ پر نالائق آدمی! اتنا بڑا ظلم کرنے سے پہلے کیا تُم نے اپنے بچوں کا سوچا تھا؟ اپنے ماں باپ کا سوچا تھا؟ اپنی بہنوں کا سوچا تھا؟ خبیث کی اولاد! تُمہارا کیا انجام ہونا ہے، اب وہ اُن بیچاروں کے سامنے آنے والا ہے- Rao Abdur Raheem adv Legal Commission On Blasphemy Pakistan
Sonia Khan khattak(SK)124,983 views • 1 year ago

“میں روسٹر پر کھڑا ہوں، جو میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے۔ مسجد اس کے آگے کچھ نہیں۔” راؤ عبدل رحم یہ الفاظ اُس شخص کے ہیں جس نے 400 سے زائد نوجوانوں پر “توہین مذہب ” “توہین رسالت ” اور توہین مقدسات “کے جھوٹے مقدمات بنائے۔ آج جب خود عدالت میں دفاع کرتے ہوئے اُن کے پاس دلیلیں ختم ہو گئیں، توبولا : “میں روسٹر پر کھڑا ہوں، جو میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے۔ مسجد اس کے آگے کچھ نہیں۔” تو پھر بتاؤ راؤ عبدل رحیم جو توہین مذہب کے پہریدار ہو اور 295 تُمہاری ریڈ لائن — کیا اب تم پر 295-A نہیں لگتی؟ کیا اب تم نے خود ہی مسجد کی حرمت کو “کچھ نہیں” کہہ کر بھری عدالت میں توہین نہیں کی؟ یا تو یہ قانون صرف غریبوں کے لیے ہے جن کی جانوں کی قیمت پر تم “بلاسفیمی بزنس “ چلاتے ہو ؟ یا تمہاری زبان سے گستاخی بھی مقدس جذبہ کہلائے گی ؟ ——- یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے: •400 سے زائد نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اُن کی زندگیاں تاریک کر دیں۔ •عدالتوں، تفتیشی افسران، اور ایف آئی اے میں اثرو رسوخ کا استعمال کیا۔ •سادہ لوح والدین، بیٹیوں، بیویوں کو خوف و ہراس میں رکھ کر چپ کروا دیا۔ •اور جب اب ان خاندانوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا، تو یہ خود عدالت میں کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں: “عدالت میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے، اس لیے میری بات پر یقین کریں۔” یہ بیان خود اُن کے پورے بیانیے کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اگر عدالت کو “مسجد سے زیادہ مقدس” کہنا صرف زبان کی لفاظی نہیں بلکہ یقین دہانی ہے تو اب یہی الفاظ ان پر توہینِ مقدسات کے قانون کے تحت کیوں لاگو نہ ہوں؟ سونیا خان خٹک— (انصاف کے طلبگار خاندانوں کی آواز)
Sonia Khan khattak(SK)73,736 views • 1 year ago

میں مبارکباد پیش کرنا چاہتی “ Case No 9 “ کے رائٹر Shahzeb Khanzada کو جنہوں نے انتہاہی حساس اور اہم مدعا “ توہین مذہب “ کے حوالے سے جو منظر کشی کی ہے وہ اس وقت پاکستان کا سب سے توجہ طلب مسلۂ ہے ۔ اس پر آپ کا قلم اُٹھانا واقعی حق ادا کرنا ہے ایک صحافی ہونے کا ، اس کاوش کو جتنا سراہا جاہے کم ہے ۔ میری گُزارش ہے سب سے کہ ڈرامے میں فلمائے گئے اس منظر کو جتنا ہو سکے شئر کریں اور اس مسلئے کو ہائی لائٹ کریں ، ہمیں مل کر اس “ بلاسفیمی “ کے آسیب سے لڑنا ہو گا اور سادہ عوام کو سمجھانا ہو گا کہ “ توہین “ اور “توہین کارڈ “ میں کیا گرق ہے ؟ “دین “اور “ دین فروشی “ میں کیا فرق ہے ؟ 🙏🌹 از قلم سونیا خان خٹک
Sonia Khan khattak(SK)52,701 views • 11 months ago

مطلب کہ کوئی” آئی ویٹنس “ ہے جس کا زکر خاتون کرنا چا رہی تھی کہ مریم صاحبہ نے مائیک بن کر کہ خود ہی گواہ بن کر بیان دے دیا کہ کوئی آئی ویٹنس ہے ہی نہیں یہ پوچھنے کہ بجائے کہ وہ آئی ویٹنس کون ہے جس نے آوازیں سُنی اُسے سامنے لایا جائے۔شرم ناک باتیں ہیں یہ اور اندھا نظام ۔ پریس کانفرنس بُلا کر گواہیاں دلوانی حد ہی ہو گئی ۔ اول تو سی ایم کا کیا کام اس مسلۓ میں پریس کانفرنس کرے یہ پاکستان میں ہی ہوتا ہے ۔سیدھا طریقہ یہ ہے کہ پولیس کو ایمانداری سے اپنی کاروائی کرنے دی جائے پر پاکستان میں اب سچ تک پہنچنا ایسے ہی ہے جیسے خدا تک پہنچنا جو ان زمینی خُداؤں کے ہوتے ممکن نہیں ۔
Sonia Khan khattak(SK)75,917 views • 1 year ago

اب کہاں گئی صلاح الدین ایوبی کی زرہ بکتر اور علم الدین کا چُھرا ۔۔۔ مجھے چھوٹے اور بڑے “ یک “ سے پوچھنا تھا۔۔ ؟ قبریں تم نے نہیں چھوڑیں مسجد مندر گرجا تم نہیں چھوڑے ، کفر کے فتوؤں سے کوئی بچا نہیں تُمہارے ، سروں کی قیمتیں تم لگاتےرہے ہو ۔۔ سڑکوں پر زندہ انسان جلانا اور گردنیں اُتارنا تُمہارا جنونی کھیل ہے ۔ اب جب مالک پر بھونکوں گے اور کاٹوں گے تو وہ تُمہیں کُچلہ تو کھلائے گا ۔ لیکن اب سعد رضوی کو اللہ رسول کے واسطے دلانا یاد آگیا ۔یاد کرو اُس جلتے ہوئے انسان نے کیا کیا فریاد نہ کی ہو گی کیا کیا واسطہ نہ دیا ہو گا ؟ جن کے سر تن سے جُدا کیے تم لوگوں نے عرش تک اُس کی درد ناک چیخ نا گئی ہو گی ؟ وہ جو ہزاروں ماؤں کے لال توہین مذہب کی بلی چڑھائے تم نے اُن بچوں اور ماؤں کی سالوں سے پیچھا کرتی بدُعاؤں کو کیا کبھی تُمہارے کانوں نے سُنا ہو گا جن کے لیے علم الدین کا چھرا لئے پھرتے ہو کہ اگر قانون نے اپنا کام نا کیا تو وہ تُمہارا چھرا کام دیکھائے گا اُن کے سر تن سے جُدا کر کے۔ تم جیسوں کو کبھی کسی پر رحم آیا ہو گا جب وہ تُمہیں اپنے اللہ رسول کا🤲 واسطہ دیتا ہو گا ، اپنے ایمان کی قسمیں کھاتا ہو گا ۔ آج تُمہاری یہ حالت دیکھ کر کئی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے کلیجے ٹھنڈے پڑیں ہونگے اور پاکستان کی عوام کو ایک سکون کی سانس نصیب ہوئی ہوگی ۔ سُنا ہے تُمہارے گھر سے کروڑوں روپیہ اور کروڑوں کا زیور بھی ضبط ہو گیا جو منتیں کر کے واپس مانگ رہے ہو۔ اب پولیس کو حرامی حلالی ہونے کا سوال نا کرو ، راؤ عبدل رحیم کو بلاؤں ، اپنے ابا حضور اور اپنے روحانی باپوں علم الدین اور ممتاز قادری سے مدد مانگو اور اپنے اُن زمینی خُداؤں کو پُکارو ۔ #Ban_TLP از قلم سونیا خان
Sonia Khan khattak(SK)42,280 views • 11 months ago

بڑے بے آبرو ہو کر تیرے روسٹرم سے ہم نکلے 😄 حسن معاویہ محمدحسن اتنی بستی 😄 پولیس والے کو دھکا اتنی زور سے نہیں مارنا چاہیے ۔۔😄 پر ویکٹم کے ماں باپ کے کلیجے میں ٹھنڈ سی پڑ گئی یہ دیکھ کر کہ آج اس صدی کا “پاکستانی فرعون “ اُسی عدالت میں دھکے مار کر نکالا جا رہا ہے ، جن عدالتوں کے چکر کاٹ کاٹ یہ غریب خاندان ُرل گئے اور آنکھیں آنسو بہاتی بہاتی گل گئی۔۔ ہاتھ انکے لیے بُدعائیں کرتے نہیں تھکے ۔ ابھی تو شروعات ہے ۔۔ حساب بہت زیادہ ۔۔ تم لوگوں کی زلت زمانہ دیکھے گا ۔۔ اور اس راؤ چول کی بے بسی دیکھو ۔۔ اقرا اُنگلی دانتوں میں دبائے کھڑی ہے ابھی تو بستی شروع ہوئی ہے ۔ 😄🙏 لیگل کمیشن آن بستی پروگرام
Sonia Khan khattak(SK)40,414 views • 1 year ago

جُنید حفیظ اور اُن کے والد کا پیغام، ہم سب کے نام — اُن سب کے لیے جو جُنید کی آواز بنے۔ میں ذاتی طور پر محمد حفیظ صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں، جو ایک باہمت اور باوقار والد ہیں۔ چند روز قبل وہ میری اسپیس میں تشریف لائے، جو ہم نے جُنید حفیظ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقد کی تھی۔ آئیے اس پیغام کا خیرمقدم کریں، اور ایک امید سے لبریز والد کی آواز کو آگے بڑھائیں تاکہ یہ ہر دل تک پہنچے۔ خدا کرے یہ امید کی کرن ایک چمکتے سورج میں بدل جائے، اور ایک بےگناہ جان آزاد فضا میں سانس لے — جبکہ شرپسند عناصر کا احتساب ہو۔ دعاگو: سونیا خان خٹک Saira Wasim
Sonia Khan khattak(SK)27,195 views • 10 months ago