Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اب کہاں گئی صلاح الدین ایوبی کی زرہ بکتر اور علم الدین کا چُھرا ۔۔۔ مجھے چھوٹے اور بڑے “ یک “ سے پوچھنا تھا۔۔ ؟ قبریں تم نے نہیں چھوڑیں مسجد مندر گرجا تم نہیں چھوڑے ، کفر کے فتوؤں سے کوئی بچا نہیں تُمہارے ، سروں کی...

42,280 просмотров • 11 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

نالائق راؤ عبدالرّحیم! میں نے کہا تھا تُمہیں خون کے آنسو رُلاؤں گی اور قبر تک تُمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گی۔ آج عدالت میں تُمہاری چیخیں سُنیں، جو میری ٹوئیٹس کے “pain” میں، روسٹرم پر کھڑے ہو کر تُمہارے وجود سے نکل رہی تھیں۔ تُمہارا چہرہ، تُمہاری آواز، تُمہارا لرزتا وجود—سب کچھ چیخ چیخ کر گواہی دے رہا تھا کہ تم جج کے سامنے میری سوشل میڈیا پوسٹ کی دُہائی دے رہے تھے اور وکیل کم، فریادی زیادہ لگ رہے تھے۔ میرے کانوں میں اُن ماؤں کی فریاد گونجنے لگی، جو پچھلے سال سے آج تک میں سُنتی آئی ہوں۔ جب وہ اپنے بچوں کی دُہائی دے کر تُمہیں دُنیا جہان کی بددعائیں دیتی ہیں—وہ بددعائیں جو تُمہارا پیچھا کر رہی ہیں۔ تم نے سینکڑوں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو، جن میں اکثریت بیس، اکیس، بائیس اور تئیس سال کے ہیں، ایف آئی اے کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا۔ اپنے کُتے بلوں کو مدعی بنا کر وہ ظلم کیے کہ اُن وکٹمز کی اکثریت زندہ تو بچ گئی، لیکن ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ ماؤں کے کلیجے پھٹ گئے، باپ مالی حالات کے ہاتھوں تھانے کچہری کے چکر میں پیسے پیسے کو محتاج ہو گئے، بہنیں سسرال سے واپس گھر لوٹا دی گئیں، گھر بیٹھی بیٹیاں رخصت نہ ہو سکیں کہ وہ “گستاخ” کی بہنیں ہیں۔ دودھ پیتے بچے باپ کے سائے سے محروم کر دیے گئے—یہ سب تُو نے کیا۔ اور آج، تُمہیں “pain” میں دیکھ کر دل کو جو راحت ملی، وہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ میں جانتی ہوں، ایک سال سے میری ٹوئیٹس، ویڈیو بیانات، اور انٹرویوز نے تُمہارا جینا حرام کر رکھا ہے۔ پر نالائق آدمی! اتنا بڑا ظلم کرنے سے پہلے کیا تُم نے اپنے بچوں کا سوچا تھا؟ اپنے ماں باپ کا سوچا تھا؟ اپنی بہنوں کا سوچا تھا؟ خبیث کی اولاد! تُمہارا کیا انجام ہونا ہے، اب وہ اُن بیچاروں کے سامنے آنے والا ہے- Rao Abdur Raheem adv Legal Commission On Blasphemy Pakistan

Sonia Khan khattak(SK)

124,983 просмотров • 1 год назад

“میں روسٹر پر کھڑا ہوں، جو میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے۔ مسجد اس کے آگے کچھ نہیں۔” راؤ عبدل رحم یہ الفاظ اُس شخص کے ہیں جس نے 400 سے زائد نوجوانوں پر “توہین مذہب ” “توہین رسالت ” اور توہین مقدسات “کے جھوٹے مقدمات بنائے۔ آج جب خود عدالت میں دفاع کرتے ہوئے اُن کے پاس دلیلیں ختم ہو گئیں، توبولا : “میں روسٹر پر کھڑا ہوں، جو میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے۔ مسجد اس کے آگے کچھ نہیں۔” تو پھر بتاؤ راؤ عبدل رحیم جو توہین مذہب کے پہریدار ہو اور 295 تُمہاری ریڈ لائن — کیا اب تم پر 295-A نہیں لگتی؟ کیا اب تم نے خود ہی مسجد کی حرمت کو “کچھ نہیں” کہہ کر بھری عدالت میں توہین نہیں کی؟ یا تو یہ قانون صرف غریبوں کے لیے ہے جن کی جانوں کی قیمت پر تم “بلاسفیمی بزنس “ چلاتے ہو ؟ یا تمہاری زبان سے گستاخی بھی مقدس جذبہ کہلائے گی ؟ ——- یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے: •400 سے زائد نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اُن کی زندگیاں تاریک کر دیں۔ •عدالتوں، تفتیشی افسران، اور ایف آئی اے میں اثرو رسوخ کا استعمال کیا۔ •سادہ لوح والدین، بیٹیوں، بیویوں کو خوف و ہراس میں رکھ کر چپ کروا دیا۔ •اور جب اب ان خاندانوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا، تو یہ خود عدالت میں کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں: “عدالت میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے، اس لیے میری بات پر یقین کریں۔” یہ بیان خود اُن کے پورے بیانیے کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اگر عدالت کو “مسجد سے زیادہ مقدس” کہنا صرف زبان کی لفاظی نہیں بلکہ یقین دہانی ہے تو اب یہی الفاظ ان پر توہینِ مقدسات کے قانون کے تحت کیوں لاگو نہ ہوں؟ سونیا خان خٹک— (انصاف کے طلبگار خاندانوں کی آواز)

Sonia Khan khattak(SK)

73,736 просмотров • 1 год назад

جیسے کہ ہم سب کو بولا گیا تھا کہ بدھ کو بہت بڑا پلان دیا جائے گا۔۔ اور وہ پلان آپ سب کے سامنے آگیا ہے کہ پانچ اگست کو پشاور میں جلسہ کیا جائے گا اور اس میں لائحہ عمل دیا جائے گا تم کفار سے بڑے منافق ہو تم لوگوں نے بہت بات جھوٹ بولا۔۔۔۔ پہلے بھی تم لوگوں نے بہت جھوٹ بولے اور اب ایک اور چورن تم لوگ بیچ رہے ہو خان صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ تم لوگ خان صاحب کی زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہو۔۔۔۔ خان صاحب کی ایک آنکھ تقریباً ضائع ہوچکی ہے۔۔۔ خان صاحب کی صحت خراب ہے۔۔۔۔ خان صاحب نے ایک ایک لائحہ عمل تم لوگوں کو دیا ہوا تھا۔۔۔ تم لوگوں نے خان صاحب کو دھوکہ دیا ہے۔۔۔۔ جب میں راجہ صاحب سے سوال کروں تو بولتے ہیں فکر نہ کریں۔۔۔۔ ہم کیوں نہ فکر کریں؟ تم لوگ چاہتے ہو خان صاحب کو کچھ ہو جائے اور تم لوگ ان کو بھٹو بنا کر ان کے نام پر ووٹ لو۔۔۔۔ خان صاحب نے تم لوگوں کو ملک گیر تحریک چلانے کا کہا تھا لیکن تم لوگ جلسہ جلسہ کر کے خان صاحب کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر سائن کر رہے ہو۔۔۔۔ بہت مشکل ہے چکیوں میں مکمل آئسولیشن میں رہنا۔۔۔ خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنا سب سے ضروری ہے۔۔۔ شفیع جان نے جو پریس کانفرنس کی ہے اس میں ایسا کوئی لائحہ عمل نہیں دیا گیا کہ خان صاحب کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔۔۔۔ ہم نے اپ لوگوں کو خان صاحب کی رہائی کے لیے ووٹ دیا تھا۔۔۔۔ نا ہی خان صاحب آپ کو معاف کریں گے۔۔۔ نا ہی عوام آپ کو معاف کرے گی۔۔ نا ہی میرا ﷲ آپ کو معاف کرے گا۔۔۔۔ 9 مہینے سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔۔ اخری ملاقات عظمیٰ آپا کی ہوئی تھی اس میں ان کی انکھیں بتا رہی تھیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کو کس حالت میں دیکھا ہے۔۔۔۔ خان صاحب بہت کمزور ہوچکے ہیں۔۔۔۔ لیکن ابھی بھی وہ وقت کے یزید کی بیعت نہیں کر رہے۔۔۔۔ وہ ڈیل نہیں کر رہے صرف اور صرف اس عوام کی خاطر۔۔۔۔ اب یہ سوچنا ہوگا کہ آپ لوگ پانچ اگست کے جلسے کے چورن کے ٹرک کے پیچھے لگتے ہیں یا اس غدار قیادت کے سامنے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں۔۔۔۔ شکریہ

Haider Saeed

16,047 просмотров • 2 месяцев назад

آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔ پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں: پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔ یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟ تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔ تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟ مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔ معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ #چوکیدار_وڑگیا #BroadcastMaulanaNow #LawyersStandWithMaulana

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

24,775 просмотров • 2 месяцев назад

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 просмотров • 2 месяцев назад

اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟ تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟ اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔" لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔ اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟ دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔ تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔ میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں: سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔ لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے.... کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

36,672 просмотров • 2 месяцев назад