Sonia Khan khattak(SK)'s banner
Sonia Khan khattak(SK)'s profile picture

Sonia Khan khattak(SK)

@Soniakhan1pak33,445 subscribers

Actress | Poetess | Designer | The Voice of the Voiceless ✍️ 🇵🇰 Norway 🇳🇴

Shorts

📢 ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت — حسن معاویہ کی قانون شکنی بے نقاب! 🚨 آج ایک اور CCTV فوٹیج آپکے سامنے لا رہی ہوں ہے جس میں مولانا طاہر اشرفی کے بھائی حسن معاویہ کو صاف طور پر ایک نوجوان کو غیرقانونی طور پر گرفتار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 🙎‍♂️یہ لڑکا قصور سے اغواء کیا گیا تھا اور اس ویڈیو میں طاہر اشرفی کا بھائی حسن معاویہ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ ایف آئی اے سے مل کر بچوں کو گرفتار کرتے ہیں ۔۔۔ دائیں جانب لڑکے کو ہتھکڑی لگانے والا نوید اسلم سب انسپکٹر ایف آئی اے لاہور ہے۔۔۔ اس ویڈیو میں حسن معاویہ کے ساتھ موجود ہے ایف آئی اے کا تفتیشی افسر نوید اسلم — وہی نوید اسلم جو درجنوں جھوٹے بلاسفیمی مقدمات اور ملزمان پر تشدد کے الزامات کی زد میں ہے۔ ❗ سوال یہ ہے: 🔹 حسن معاویہ کس قانونی حیثیت سے نوجوانوں کو گرفتار کر رہا ہے؟ 🔹 کیا ایف آئی اے جیسے ریاستی ادارے طاہر اشرفی کے بھائی کے آڈر پر کام کر رہے ہیں؟ 🔹 ریاستی اداروں کو مذہبی کاروبار چلانے والے افراد کے ذاتی ایجنڈے پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ 📌 یہ ویڈیو صرف ایک لمحہ ہے اس پورے مکروہ نیٹ ورک کی جو معصوم شہریوں کو بلاسفیمی کے نام پر پھنساتا ہے، جھوٹی ایف آئی آرز کٹواتا ہے، اور پھر “مذہبی غیظ و غضب” کے نام پر ان کی زندگی برباد کرتا ہے۔ ⚖️ مزید کتنے ثبوت درکار ہیں قانون کو، اس گینگ کی گردن پکڑنے کے لیے؟ 📢 یہ ویڈیو عدالتوں میں پیش ہونی چاہیے۔ یہ گینگ — جسے “بلاسفیمی بزنس نیٹ ورک” کہا جاتا ہے — اب خاموشی سے مزید انسانوں کی زندگی تباہ نہ کر سکے —— از قلم سونیا خان خٹک Government of Pakistan Human Rights Council of Pakistan Prime Minister's Office UN Human Rights UN Human Rights Council TahirMahmoodAshrafi حافظ محمد طاهراشرفى

📢 ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت — حسن معاویہ کی قانون شکنی بے نقاب! 🚨 آج ایک اور CCTV فوٹیج آپکے سامنے لا رہی ہوں ہے جس میں مولانا طاہر اشرفی کے بھائی حسن معاویہ کو صاف طور پر ایک نوجوان کو غیرقانونی طور پر گرفتار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 🙎‍♂️یہ لڑکا قصور سے اغواء کیا گیا تھا اور اس ویڈیو میں طاہر اشرفی کا بھائی حسن معاویہ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ ایف آئی اے سے مل کر بچوں کو گرفتار کرتے ہیں ۔۔۔ دائیں جانب لڑکے کو ہتھکڑی لگانے والا نوید اسلم سب انسپکٹر ایف آئی اے لاہور ہے۔۔۔ اس ویڈیو میں حسن معاویہ کے ساتھ موجود ہے ایف آئی اے کا تفتیشی افسر نوید اسلم — وہی نوید اسلم جو درجنوں جھوٹے بلاسفیمی مقدمات اور ملزمان پر تشدد کے الزامات کی زد میں ہے۔ ❗ سوال یہ ہے: 🔹 حسن معاویہ کس قانونی حیثیت سے نوجوانوں کو گرفتار کر رہا ہے؟ 🔹 کیا ایف آئی اے جیسے ریاستی ادارے طاہر اشرفی کے بھائی کے آڈر پر کام کر رہے ہیں؟ 🔹 ریاستی اداروں کو مذہبی کاروبار چلانے والے افراد کے ذاتی ایجنڈے پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ 📌 یہ ویڈیو صرف ایک لمحہ ہے اس پورے مکروہ نیٹ ورک کی جو معصوم شہریوں کو بلاسفیمی کے نام پر پھنساتا ہے، جھوٹی ایف آئی آرز کٹواتا ہے، اور پھر “مذہبی غیظ و غضب” کے نام پر ان کی زندگی برباد کرتا ہے۔ ⚖️ مزید کتنے ثبوت درکار ہیں قانون کو، اس گینگ کی گردن پکڑنے کے لیے؟ 📢 یہ ویڈیو عدالتوں میں پیش ہونی چاہیے۔ یہ گینگ — جسے “بلاسفیمی بزنس نیٹ ورک” کہا جاتا ہے — اب خاموشی سے مزید انسانوں کی زندگی تباہ نہ کر سکے —— از قلم سونیا خان خٹک Government of Pakistan Human Rights Council of Pakistan Prime Minister's Office UN Human Rights UN Human Rights Council TahirMahmoodAshrafi حافظ محمد طاهراشرفى

42,623 görüntüleme

احمدیوں پر آئینی پابندیاں اپنی جگہ لیکن مذہبی انتہاپسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی ؟؟ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 260(3) کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، جبکہ آرڈیننس XX (1984) کے مطابق احمدی کوئی بھی اسلامی شعار اپنانے، خود کو مسلمان کہنے یا اپنے عبادتی مقامات کو مسجد کہنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) آئینی نقطہِ نظر : پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔آرٹیکل 20 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔آرٹیکل 14 انسانی عزت و وقار اور پرائیویسی کی حفاظت کرتا ہے۔کسی کی پرائیوٹ پرالرٹی میں زبردستی گھس کر ان کی عبادت میں مداخلت کرنا اور ہتک آمیز سلوک روارکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پرائیویسی اور انسانی حقوق: کسی بھی فرد یا گروہ کا کسی کی عبادت گاہ میں گھس کر انہیں نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دستخط کنندہ ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کا، جس کی آرٹیکل 18 ہرانسان کے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتی ہے،اور آرٹیکل 12 پرائیویسی کے حق کی حفاظت کرتی ہے یہ قوانین ریاستی سطح پر ایک مخصوص مذہبی گروہ کے عقیدے کو محدود کرتے ہیں، جبکہ احمدی خود کو غیر مسلم نہیں مانتے۔ یہی نکتہ بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو جاتا ہے۔مسلۂ یہی سے شروع ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی عبادت اپنے گھروں یا اپنی عبادت گاہوں میں کریں، تو وہاں ریاست یا عوام کا دخل دینا آئین کے آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) کے خلاف جاتا ہے۔ جنازہ اور تدفین کا حق/قبر اور کتبے کی روایت: مذہب یا انسانی ارتقا؟ کسی بھی انسان کو دفنانے کا حق محض ایک اسلامی فریضہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی قدر ہے۔ تدفین اور قبروں پر نشانات (کتبے) لگانے کی روایت صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے آغاز سے موجود ہے۔ قدیم ترین انسانی معاشروں، جیسے مصر، میسوپوٹیمیا، یونان،رومن سلطنت،اور وادیٔ سندھ میں تدفین ایک عام رواج تھا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے مُردوں کوعزت کے ساتھ دفنانے اوران کی قبروں کی نشاندہی کرنے کا طریقہ اپناتا آیا ہے، تاکہ وہ یادگار رہیں اورنسلیں بعد میں ان سے جُڑی رہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر: اسلام نے تدفین کو اہمیت دی اور اس میں سادگی پر زور دیا، مگر قبروں کی بےحرمتی اور لاشوں کی بےعزتی کو سختی سے منع کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دشمنوں کی لاشوں تک کی بےحرمتی سے منع فرمایا اور انہیں دفنانے کا حکم دیا۔ ٹی ایل پی کا کسی بھی فرد کی تدفین میں مداخلت، قبروں کو مسمار کرنا، یا لاشوں کی بےحرمتی کرنا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار، اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی کی قبر کو نقصان پہنچانا نہ صرف قرآن و حدیث کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک وحشیانہ اور غیر انسانی فعل بھی ہے، کُجا کہ تازہ قبریں کھول کر اسلام کی خدمت سمجھنا۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کی تدفین روکے یا قبروں کو نقصان پہنچائے۔یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بربریت اور قانون شکنی کا مظہر بھی ہے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ عام شہری کسی بھی گروہ کے خلاف خود عدالت، پولیس اور جلاد بن بیٹھتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے، کسی بھی جرم کی تحقیقات اور سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہجوم یاگروہ کے پاس۔ مگر ہوتا کیا ہے؟ •شدت پسند گروہ (جیسے TLP) ایک ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ •پولیس اکثر یا تو بے بس ہوتی ہے یا خود بھی ایسے گروہوں کے دباؤ میں آکر ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ •عدالتیں بھی اکثر ان معاملات میں فوری ایکشن نہیں لیتیں، جس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال ایک “موب جسٹس” کو فروغ دے رہی ہے،جس میں لوگ خود ہی جج، جیوری،اور جلاد بن جاتے ہیں، جو کہ ایک مکمل لاقانونیت (Anarchy) کی علامت ہے۔ •پولیس اکثر مذہبی انتہا پسند گروہوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے دباؤ میں آکر ان کے احکامات پر چلتی ہے۔ •TLP جیسے گروہوں کو ریاست کبھی کبھار اپنے مفادات کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔ •اگر ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کو کسی بڑے سیاسی یا سیکیورٹی معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانی ہو، تو ایسے مذہبی گروہوں کو فعال کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کا غصہ کسی اور طرف منتقل ہو جائے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ریاست مذہبی شدت پسندی کو اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ بلوچوں نے ٹرین پر حملہ کیا اور یرغمال بنایا، جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب میڈیا اور عوام کا فوکس بلوچ مسئلے پر ہونا چاہیے تھا،اچانک TLPاور مذہبی شدت پسندی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ تحریر :سونیا خان خٹک

احمدیوں پر آئینی پابندیاں اپنی جگہ لیکن مذہبی انتہاپسندوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی ؟؟ پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 260(3) کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، جبکہ آرڈیننس XX (1984) کے مطابق احمدی کوئی بھی اسلامی شعار اپنانے، خود کو مسلمان کہنے یا اپنے عبادتی مقامات کو مسجد کہنے کے مجاز نہیں ہیں۔ آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) آئینی نقطہِ نظر : پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی، پرائیویسی اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔آرٹیکل 20 ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔آرٹیکل 14 انسانی عزت و وقار اور پرائیویسی کی حفاظت کرتا ہے۔کسی کی پرائیوٹ پرالرٹی میں زبردستی گھس کر ان کی عبادت میں مداخلت کرنا اور ہتک آمیز سلوک روارکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پرائیویسی اور انسانی حقوق: کسی بھی فرد یا گروہ کا کسی کی عبادت گاہ میں گھس کر انہیں نشانہ بنانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان دستخط کنندہ ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کا، جس کی آرٹیکل 18 ہرانسان کے مذہبی آزادی کے حق کو تسلیم کرتی ہے،اور آرٹیکل 12 پرائیویسی کے حق کی حفاظت کرتی ہے یہ قوانین ریاستی سطح پر ایک مخصوص مذہبی گروہ کے عقیدے کو محدود کرتے ہیں، جبکہ احمدی خود کو غیر مسلم نہیں مانتے۔ یہی نکتہ بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی، اور بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہو جاتا ہے۔مسلۂ یہی سے شروع ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنی عبادت اپنے گھروں یا اپنی عبادت گاہوں میں کریں، تو وہاں ریاست یا عوام کا دخل دینا آئین کے آرٹیکل 14 (پرائیویسی اور انسانی وقار کے تحفظ) کے خلاف جاتا ہے۔ جنازہ اور تدفین کا حق/قبر اور کتبے کی روایت: مذہب یا انسانی ارتقا؟ کسی بھی انسان کو دفنانے کا حق محض ایک اسلامی فریضہ نہیں بلکہ ایک عالمی انسانی قدر ہے۔ تدفین اور قبروں پر نشانات (کتبے) لگانے کی روایت صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے آغاز سے موجود ہے۔ قدیم ترین انسانی معاشروں، جیسے مصر، میسوپوٹیمیا، یونان،رومن سلطنت،اور وادیٔ سندھ میں تدفین ایک عام رواج تھا۔ انسان ہمیشہ سے اپنے مُردوں کوعزت کے ساتھ دفنانے اوران کی قبروں کی نشاندہی کرنے کا طریقہ اپناتا آیا ہے، تاکہ وہ یادگار رہیں اورنسلیں بعد میں ان سے جُڑی رہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر: اسلام نے تدفین کو اہمیت دی اور اس میں سادگی پر زور دیا، مگر قبروں کی بےحرمتی اور لاشوں کی بےعزتی کو سختی سے منع کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دشمنوں کی لاشوں تک کی بےحرمتی سے منع فرمایا اور انہیں دفنانے کا حکم دیا۔ ٹی ایل پی کا کسی بھی فرد کی تدفین میں مداخلت، قبروں کو مسمار کرنا، یا لاشوں کی بےحرمتی کرنا اسلامی تعلیمات، انسانی اقدار، اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ کسی کی قبر کو نقصان پہنچانا نہ صرف قرآن و حدیث کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک وحشیانہ اور غیر انسانی فعل بھی ہے، کُجا کہ تازہ قبریں کھول کر اسلام کی خدمت سمجھنا۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کی تدفین روکے یا قبروں کو نقصان پہنچائے۔یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بربریت اور قانون شکنی کا مظہر بھی ہے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کہ عام شہری کسی بھی گروہ کے خلاف خود عدالت، پولیس اور جلاد بن بیٹھتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے، کسی بھی جرم کی تحقیقات اور سزا کا اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے، نہ کہ کسی ہجوم یاگروہ کے پاس۔ مگر ہوتا کیا ہے؟ •شدت پسند گروہ (جیسے TLP) ایک ہجوم اکٹھا کرتے ہیں۔ •پولیس اکثر یا تو بے بس ہوتی ہے یا خود بھی ایسے گروہوں کے دباؤ میں آکر ان کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔ •عدالتیں بھی اکثر ان معاملات میں فوری ایکشن نہیں لیتیں، جس کی وجہ سے یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال ایک “موب جسٹس” کو فروغ دے رہی ہے،جس میں لوگ خود ہی جج، جیوری،اور جلاد بن جاتے ہیں، جو کہ ایک مکمل لاقانونیت (Anarchy) کی علامت ہے۔ •پولیس اکثر مذہبی انتہا پسند گروہوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے ان کے دباؤ میں آکر ان کے احکامات پر چلتی ہے۔ •TLP جیسے گروہوں کو ریاست کبھی کبھار اپنے مفادات کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔ •اگر ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کو کسی بڑے سیاسی یا سیکیورٹی معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانی ہو، تو ایسے مذہبی گروہوں کو فعال کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کا غصہ کسی اور طرف منتقل ہو جائے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ریاست مذہبی شدت پسندی کو اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے؟ بلوچوں نے ٹرین پر حملہ کیا اور یرغمال بنایا، جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے وقت میں جب میڈیا اور عوام کا فوکس بلوچ مسئلے پر ہونا چاہیے تھا،اچانک TLPاور مذہبی شدت پسندی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ تحریر :سونیا خان خٹک

31,678 görüntüleme

میں بتاؤں مشی خان ایسے مُلاؤں مولویوں زینبوں اور معصوم بچوں بچیوں کے قاتلوں اور زیادتی کرنے والے مذہبی درندوں کو سزاکیوں نہیں ملتی ؟ کیونکہ انکے پیچھے ماریہ بی آپ جیسے میڈیا پرسن ، فیصلی قُریشی جیسے اداکار ، علی محمد جیسے سیاستدان اور ماریہ بی کے سہولت کار قیصر راجہ اور راؤ عبدل رحیم، ابتسام الٰہی ، طاہر اشرفی اور مولانا فضلو جیسے دین فروش کھڑے ہیں ۔ معذرت کے ساتھ آپ کلیگ بھی ہیں اور دوست بھی پر یہی سچ ہے ہمارے معاشرے کا ۔ 🙏 Mishi khan

میں بتاؤں مشی خان ایسے مُلاؤں مولویوں زینبوں اور معصوم بچوں بچیوں کے قاتلوں اور زیادتی کرنے والے مذہبی درندوں کو سزاکیوں نہیں ملتی ؟ کیونکہ انکے پیچھے ماریہ بی آپ جیسے میڈیا پرسن ، فیصلی قُریشی جیسے اداکار ، علی محمد جیسے سیاستدان اور ماریہ بی کے سہولت کار قیصر راجہ اور راؤ عبدل رحیم، ابتسام الٰہی ، طاہر اشرفی اور مولانا فضلو جیسے دین فروش کھڑے ہیں ۔ معذرت کے ساتھ آپ کلیگ بھی ہیں اور دوست بھی پر یہی سچ ہے ہمارے معاشرے کا ۔ 🙏 Mishi khan

18,127 görüntüleme

Videos

Soniakhan1pak's profile picture

آج میں لیکر آئی ہوں بلاسفمی بزنس کے کُچھ ثبوتوں کی مختصر فلم جو 12 منٹ پر مشتمل ہے ۔آج کی اس فلم کے مرکزی کردار ہیں ایمان فاطمہ جس کا تعلق کشمیر سے بتایا جاتا ہے ۔اس بلاسفیمی بزنس میں ایمان بہت بُنیادی کردار ادا کرتی ہے جس کا ویکٹم سے فیس بُک پر رابطہ ہوتا ہے پھر اُسے وہ واٹس پر لیکر آتی ہیں اور آخری حدف ویکٹم کو گھر سے نکال کر راؤ گینگ تک پہنچنا ہوتا ہے ۔۔ پھر اُس موقعہ سے راؤ گینگ کا کام شروع ہوتا ہے جو وہاں سے ویکٹم کو اغوا کرتے ہیں جس میں شہزاد خان نُمایاں نظر آئے گا آپکو اس مختصر فلم میں ۔ انکے مزید تعارف اور باقی کرداروں کو میں آپکے سامنے لاتی رہونگی ۔ آپ سے گُزارش ہے اس فلم کو دیکھیے جس سے آپکو انکا طریقہ واردات سمجھ آئے گا اور اس کے پیچھے کے مقاصد ۔ آپ اس گینگ کو ایکسپوز کرنے میں ہمارا ساتھ دیں اور مزید جانوں کو انکی بلی چڑھنے سے بچائیں اور جتنا ممکن ہو سکے جو بے گناہ بچے انہوں نے قید خانوں میں ڈالے ہیں اُنکے لیے مل کر آواز اُٹھائیں 🙏

Sonia Khan khattak(SK)

187,149 görüntüleme • 2 yıl önce

Soniakhan1pak's profile picture

نالائق راؤ عبدالرّحیم! میں نے کہا تھا تُمہیں خون کے آنسو رُلاؤں گی اور قبر تک تُمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گی۔ آج عدالت میں تُمہاری چیخیں سُنیں، جو میری ٹوئیٹس کے “pain” میں، روسٹرم پر کھڑے ہو کر تُمہارے وجود سے نکل رہی تھیں۔ تُمہارا چہرہ، تُمہاری آواز، تُمہارا لرزتا وجود—سب کچھ چیخ چیخ کر گواہی دے رہا تھا کہ تم جج کے سامنے میری سوشل میڈیا پوسٹ کی دُہائی دے رہے تھے اور وکیل کم، فریادی زیادہ لگ رہے تھے۔ میرے کانوں میں اُن ماؤں کی فریاد گونجنے لگی، جو پچھلے سال سے آج تک میں سُنتی آئی ہوں۔ جب وہ اپنے بچوں کی دُہائی دے کر تُمہیں دُنیا جہان کی بددعائیں دیتی ہیں—وہ بددعائیں جو تُمہارا پیچھا کر رہی ہیں۔ تم نے سینکڑوں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو، جن میں اکثریت بیس، اکیس، بائیس اور تئیس سال کے ہیں، ایف آئی اے کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا۔ اپنے کُتے بلوں کو مدعی بنا کر وہ ظلم کیے کہ اُن وکٹمز کی اکثریت زندہ تو بچ گئی، لیکن ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ ماؤں کے کلیجے پھٹ گئے، باپ مالی حالات کے ہاتھوں تھانے کچہری کے چکر میں پیسے پیسے کو محتاج ہو گئے، بہنیں سسرال سے واپس گھر لوٹا دی گئیں، گھر بیٹھی بیٹیاں رخصت نہ ہو سکیں کہ وہ “گستاخ” کی بہنیں ہیں۔ دودھ پیتے بچے باپ کے سائے سے محروم کر دیے گئے—یہ سب تُو نے کیا۔ اور آج، تُمہیں “pain” میں دیکھ کر دل کو جو راحت ملی، وہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ میں جانتی ہوں، ایک سال سے میری ٹوئیٹس، ویڈیو بیانات، اور انٹرویوز نے تُمہارا جینا حرام کر رکھا ہے۔ پر نالائق آدمی! اتنا بڑا ظلم کرنے سے پہلے کیا تُم نے اپنے بچوں کا سوچا تھا؟ اپنے ماں باپ کا سوچا تھا؟ اپنی بہنوں کا سوچا تھا؟ خبیث کی اولاد! تُمہارا کیا انجام ہونا ہے، اب وہ اُن بیچاروں کے سامنے آنے والا ہے- Rao Abdur Raheem adv Legal Commission On Blasphemy Pakistan

Sonia Khan khattak(SK)

124,983 görüntüleme • 1 yıl önce

Soniakhan1pak's profile picture

“میں روسٹر پر کھڑا ہوں، جو میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے۔ مسجد اس کے آگے کچھ نہیں۔” راؤ عبدل رحم یہ الفاظ اُس شخص کے ہیں جس نے 400 سے زائد نوجوانوں پر “توہین مذہب ” “توہین رسالت ” اور توہین مقدسات “کے جھوٹے مقدمات بنائے۔ آج جب خود عدالت میں دفاع کرتے ہوئے اُن کے پاس دلیلیں ختم ہو گئیں، توبولا : “میں روسٹر پر کھڑا ہوں، جو میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے۔ مسجد اس کے آگے کچھ نہیں۔” تو پھر بتاؤ راؤ عبدل رحیم جو توہین مذہب کے پہریدار ہو اور 295 تُمہاری ریڈ لائن — کیا اب تم پر 295-A نہیں لگتی؟ کیا اب تم نے خود ہی مسجد کی حرمت کو “کچھ نہیں” کہہ کر بھری عدالت میں توہین نہیں کی؟ یا تو یہ قانون صرف غریبوں کے لیے ہے جن کی جانوں کی قیمت پر تم “بلاسفیمی بزنس “ چلاتے ہو ؟ یا تمہاری زبان سے گستاخی بھی مقدس جذبہ کہلائے گی ؟ ——- یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے: •400 سے زائد نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر اُن کی زندگیاں تاریک کر دیں۔ •عدالتوں، تفتیشی افسران، اور ایف آئی اے میں اثرو رسوخ کا استعمال کیا۔ •سادہ لوح والدین، بیٹیوں، بیویوں کو خوف و ہراس میں رکھ کر چپ کروا دیا۔ •اور جب اب ان خاندانوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا، تو یہ خود عدالت میں کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں: “عدالت میرے لیے مسجد سے زیادہ مقدس ہے، اس لیے میری بات پر یقین کریں۔” یہ بیان خود اُن کے پورے بیانیے کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اگر عدالت کو “مسجد سے زیادہ مقدس” کہنا صرف زبان کی لفاظی نہیں بلکہ یقین دہانی ہے تو اب یہی الفاظ ان پر توہینِ مقدسات کے قانون کے تحت کیوں لاگو نہ ہوں؟ سونیا خان خٹک— (انصاف کے طلبگار خاندانوں کی آواز)

Sonia Khan khattak(SK)

73,736 görüntüleme • 1 yıl önce

Soniakhan1pak's profile picture

اب کہاں گئی صلاح الدین ایوبی کی زرہ بکتر اور علم الدین کا چُھرا ۔۔۔ مجھے چھوٹے اور بڑے “ یک “ سے پوچھنا تھا۔۔ ؟ قبریں تم نے نہیں چھوڑیں مسجد مندر گرجا تم نہیں چھوڑے ، کفر کے فتوؤں سے کوئی بچا نہیں تُمہارے ، سروں کی قیمتیں تم لگاتےرہے ہو ۔۔ سڑکوں پر زندہ انسان جلانا اور گردنیں اُتارنا تُمہارا جنونی کھیل ہے ۔ اب جب مالک پر بھونکوں گے اور کاٹوں گے تو وہ تُمہیں کُچلہ تو کھلائے گا ۔ لیکن اب سعد رضوی کو اللہ رسول کے واسطے دلانا یاد آگیا ۔یاد کرو اُس جلتے ہوئے انسان نے کیا کیا فریاد نہ کی ہو گی کیا کیا واسطہ نہ دیا ہو گا ؟ جن کے سر تن سے جُدا کیے تم لوگوں نے عرش تک اُس کی درد ناک چیخ نا گئی ہو گی ؟ وہ جو ہزاروں ماؤں کے لال توہین مذہب کی بلی چڑھائے تم نے اُن بچوں اور ماؤں کی سالوں سے پیچھا کرتی بدُعاؤں کو کیا کبھی تُمہارے کانوں نے سُنا ہو گا جن کے لیے علم الدین کا چھرا لئے پھرتے ہو کہ اگر قانون نے اپنا کام نا کیا تو وہ تُمہارا چھرا کام دیکھائے گا اُن کے سر تن سے جُدا کر کے۔ تم جیسوں کو کبھی کسی پر رحم آیا ہو گا جب وہ تُمہیں اپنے اللہ رسول کا🤲 واسطہ دیتا ہو گا ، اپنے ایمان کی قسمیں کھاتا ہو گا ۔ آج تُمہاری یہ حالت دیکھ کر کئی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے کلیجے ٹھنڈے پڑیں ہونگے اور پاکستان کی عوام کو ایک سکون کی سانس نصیب ہوئی ہوگی ۔ سُنا ہے تُمہارے گھر سے کروڑوں روپیہ اور کروڑوں کا زیور بھی ضبط ہو گیا جو منتیں کر کے واپس مانگ رہے ہو۔ اب پولیس کو حرامی حلالی ہونے کا سوال نا کرو ، راؤ عبدل رحیم کو بلاؤں ، اپنے ابا حضور اور اپنے روحانی باپوں علم الدین اور ممتاز قادری سے مدد مانگو اور اپنے اُن زمینی خُداؤں کو پُکارو ۔ #Ban_TLP از قلم سونیا خان

Sonia Khan khattak(SK)

42,280 görüntüleme • 10 ay önce