Syed Zaighum Kazmi's banner
Syed Zaighum Kazmi's profile picture

Syed Zaighum Kazmi

@syedzaighum11018,282 subscribers

Truth seeker | deep interest in religious discussion and political debates|🇬🇧🇵🇰Gilgit Baltistan| social activist|Hussaini| #shiagenocide

Shorts

Manzoor Mangal, a Deobandi cleric, openly admits that he himself has sent Baloch militants to Iran for terrorism. Instead of arresting these hate-mongers and their policy of exporting terrorism, our security agencies are busy paving the way for Ladla Plus Nawaz Sharif, fixing him for the 4th time. This is the exact reason why #iranattack the base of these terrorists.

Manzoor Mangal, a Deobandi cleric, openly admits that he himself has sent Baloch militants to Iran for terrorism. Instead of arresting these hate-mongers and their policy of exporting terrorism, our security agencies are busy paving the way for Ladla Plus Nawaz Sharif, fixing him for the 4th time. This is the exact reason why #iranattack the base of these terrorists.

56,052 views

آیت اللہ تقی بہجت سے کسی نے پوچھا "آغا کیا ہم اپنے وقت کے امام کی زیارت کرسکے گے؟ آپ نے جواب دیا اپنے وقت کے امام کو تو شمر نے بھی دیکھا تھا لیکن معرفت نہیں تھی اسی لیے پہچان نہیں پایا۔" آب ایسا حال اس نوجوان کا بھی ہے، پیسے لگا کر عراق کربلا چلا تو گیا لیکن بغیر معرفت بصیرت شعور کے جس اِمام کی زیارت کو جارہا ہے اُس نے طاغوت وقت کے خلاف قیام کیا اپنی جان قُربان کردی طاغوت کی بیعت نہیں کی، لیکن تو وہاں جا کر بھی اپنی سیاسی وابستگی کو زیارت عبا عبدالله الحسین علیہ سلام پر فوقیت دے رہے ہو۔ افسوس یہ نوجوان کس طرف نکل پڑے ہیں!

آیت اللہ تقی بہجت سے کسی نے پوچھا "آغا کیا ہم اپنے وقت کے امام کی زیارت کرسکے گے؟ آپ نے جواب دیا اپنے وقت کے امام کو تو شمر نے بھی دیکھا تھا لیکن معرفت نہیں تھی اسی لیے پہچان نہیں پایا۔" آب ایسا حال اس نوجوان کا بھی ہے، پیسے لگا کر عراق کربلا چلا تو گیا لیکن بغیر معرفت بصیرت شعور کے جس اِمام کی زیارت کو جارہا ہے اُس نے طاغوت وقت کے خلاف قیام کیا اپنی جان قُربان کردی طاغوت کی بیعت نہیں کی، لیکن تو وہاں جا کر بھی اپنی سیاسی وابستگی کو زیارت عبا عبدالله الحسین علیہ سلام پر فوقیت دے رہے ہو۔ افسوس یہ نوجوان کس طرف نکل پڑے ہیں!

23,733 views

Shaheed Doctor Shah Nawaz was a true Malang of Ameer ul Momineen Ali Ibn Abitalib (AS). #JusticeForDrShahnawaz

Shaheed Doctor Shah Nawaz was a true Malang of Ameer ul Momineen Ali Ibn Abitalib (AS). #JusticeForDrShahnawaz

17,579 views

Arshad Malik, the PML N candidate for PP 200 Sahiwal, openly engaged in hate speech against the Shia community. Election Commission should take note and cancels his registration as soon as possible. All patriotic Pakistanis voice their protest against such behavior.

Arshad Malik, the PML N candidate for PP 200 Sahiwal, openly engaged in hate speech against the Shia community. Election Commission should take note and cancels his registration as soon as possible. All patriotic Pakistanis voice their protest against such behavior.

17,730 views

Videos

syedzaighum110's profile picture

17 مئی سانحہ 1988 گلگت شیعان علی پر لشکر کشی کے 36 سال مکمل۔۔! گلگت 1988 میں ملعون ضیاء الحق کی سرپرستی میں گلگت کے مومنین پر ہزاروں طالبان دہشت گردوں نے لشکر کشی کر کے متعدد مساجد و امام بارگاہوں کو شہید اور قرآن پاک کو جلایا گیا۔ اس معرقہ میں 100 سے زائد مومنین شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ امام زماں عج کی مدد سے مومنین نے ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے ہوئے سپاہ یذید کے حملوں کو پسپا کر کے واپس باگنے پر مجبور کر دیا۔ 17 سے 26 مئی 1988ء تک کے خون آشام واقعات میں شت نالہ، بٹکور، جلال آباد، بونجی، سئی جگلوٹ، شیر قلعہ، ھوپر شکیوٹ، سکوار اور مناور کے شیعہ اکثریتی علاقے مکمل تاراج ہوئے۔ اس دوران سب سے زیادہ تباہی اور ظلم و ستم جلال آباد میں ہوا۔ شہیدوں کی اس سرزمین میں 50 سے زائد افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ 1230 گھرانے جلائے گئے۔ 24 مساجد اور 4 امام بارگاہ جلائے گئے اور 2000 سے زائد قرآن مجید کے نسخے نذر آتش کئے گئے۔ آنسو ٹپک پڑے در و دیوار دیکھ کر، ان لشکریوں نے اسلام کے خلاف ایسا جہاد کیا کہ کربلا میں اپنے آبا و اجداد کے کیے گئے مظالم یاد دلائے۔ لاشیں بے گور و کفن پڑی رہیں، لاشوں پر گھوڑے تو نہیں دوڑائے گئے مگر شناخت کے قابل بھی تو نہ چھوڑا ۔ لاشوں پر لکڑیاں ڈال کرجلا دیا گیا یا تیزاب اور بھاری پتھروں سے مسخ کیا گیا، جو حملہ آوروں کے ہتھے چڑھ گئے انہیں پہلے نہایت سفاکی سے شہید کیا گیا، پھر چھریوں سے انکے بدن کا گوشت کاٹ کاٹ کر صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ تحفہ کے طور پر چھوڑ دیا۔ اک قیامت کی گھڑی تھی آل احمد ص کے مدح خوانوں پر، یا خدا، قہر کی بجلی گرا دو ان ظلم کے ایوانوں پر التماس سورہ فاتحہ شہدائے سانحہ 1988!

Syed Zaighum Kazmi

21,889 views • 2 years ago