Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan's banner
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan's profile picture

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

@TTAP_OFFICIAL • 26,154 subscribers

A united front of Pakistan’s political parties, committed to upholding and restoring the Constitution of Pakistan.

Shorts

"تکفیری گروہ کو تم نے پالا!" "دہشت گردوں کو تم نے پالا!" "ہماری نسل کشی تم لوگوں نے کی!" "ابھی بکواس کرتے ہوئے یہاں سے نکلو!" "شرم نہیں آتی تم لوگوں کو؟" وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین سید احمد اقبال رضوی

"تکفیری گروہ کو تم نے پالا!" "دہشت گردوں کو تم نے پالا!" "ہماری نسل کشی تم لوگوں نے کی!" "ابھی بکواس کرتے ہوئے یہاں سے نکلو!" "شرم نہیں آتی تم لوگوں کو؟" وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین سید احمد اقبال رضوی

102,277 views

پنجاب پولیس کے غنڈوں نےسینیئر رہنما تحریک تحفظ آئین پاکستان سینیٹر مشتاق احمد خان کو کشمیر سے واپسی پر اغوا کر لیا۔

پنجاب پولیس کے غنڈوں نےسینیئر رہنما تحریک تحفظ آئین پاکستان سینیٹر مشتاق احمد خان کو کشمیر سے واپسی پر اغوا کر لیا۔

19,859 views

حکومت سندھ کی آمرانہ حرکت آمری ٹول پلازہ پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قافلہ اور سید زین شاہ کا راستہ روک دیا۔

حکومت سندھ کی آمرانہ حرکت آمری ٹول پلازہ پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قافلہ اور سید زین شاہ کا راستہ روک دیا۔

57,917 views

آج پنجاب کی حکومت نے اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں کی ہیں، لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دی۔ ہم عصر اور مغرب کی نماز پڑھنے کے لیے مسجدوں میں گئے انہوں نے مسجدوں کو تالے لگا دیے ۔ یہ ہے پنجاب حکومت کا ووٹ کو عزت دو کا اصل چہرہ۔ میں پنجاب حکومت کو یہ بات باور کرانا چاہتا ہوں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی- ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

آج پنجاب کی حکومت نے اخلاق سے گری ہوئی حرکتیں کی ہیں، لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت بھی نہیں دی۔ ہم عصر اور مغرب کی نماز پڑھنے کے لیے مسجدوں میں گئے انہوں نے مسجدوں کو تالے لگا دیے ۔ یہ ہے پنجاب حکومت کا ووٹ کو عزت دو کا اصل چہرہ۔ میں پنجاب حکومت کو یہ بات باور کرانا چاہتا ہوں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی- ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

17,978 views

کیمیکل والا پانی چہرے پر بھی لگا، جسم پر بھی لگا اور سر پر بھی ، لوگ بھی وہاں گر رہے تھے وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس

کیمیکل والا پانی چہرے پر بھی لگا، جسم پر بھی لگا اور سر پر بھی ، لوگ بھی وہاں گر رہے تھے وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس

11,372 views

Videos

TTAP_OFFICIAL's profile picture

پنجاب کی وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ مجھے ہندوستان سے خطرہ نہیں ہے۔ جب وہ ایک وزیراعلیٰ کہہ سکتی ہے کہ مجھے ان صوبوں سے خطرہ ہے بلوچستان، سندھ یا خیبر پختونخوا ہے۔ اس سے کوئی یہ گلہ نہیں کر سکتا۔ اچھا یہ سرفراز جو ان کا اپنا ہوا ہے. اگر وہ یہ کہتا کہ مجھے پنجاب سے خطرہ ہے. تو آج شاید وہ اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ کہیں پہ بھی کسی بھی معصوم کا خون بہایا جاتا ہے، ہم نے اس کی مذمت کی ہے۔ ہم تو بلوچستان کے وہ لوگ جن کو کہا جاتا ہے نہ کہ قبائلی ہیں جاہل ہیں۔ دو بجٹ ہمارے دورِ حکومت میں پاس ہوئے ایک تھا ۱۴ ارب کا۔ اس ۱۴ ارب میں۱۲ ارب نان ڈیولپمنٹ کے تھے۔ قلات کالج ہمارے دورِ حکومت میں بنا۔ خاران میں کالج بنایا گیا، سوراب میں ہم نے کالج بنیاد رکھی۔ ہم اس دوران تو اس میں آپ تو بنیاد ہی رکھ سکتے ہیں نہ۔ پٹفڈر میں۔ ہم اسکول میں پڑھتے تھے، ہیڈ ماسٹر ہمارا پنجابی تھا۔ لوگوں کی یادداشت کمزور ہے۔ پہلے یہ دیکھا جائے کہ عمران خان اس وقت تو زیرِ عتاب ہیں، ہمیں یہ باتیں کرنی نہیں چاہئیں۔ افسوس ہوتا ہے جس انداز میں اس کو ٹریٹ کیا جا رہا ہے۔ لیکن ہم ایک معاہدے کے تحت ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔الحمدللہ مولانا سے ہمارے تعلقات اچھے ہیں وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان سردار اختر مینگل Akhtar Mengal

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

155,678 views • 6 days ago

TTAP_OFFICIAL's profile picture

میں نے اس وقت بھی یہ بات کہی تھی جب پشاور سکول پر اندوہناک حملہ ہوا تھا اور میاں نواز شریف بطور وزیراعظم فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا جس میں عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت موجود تھی۔ اس اجلاس میں میں نے مولانا فضل الرحمٰن سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ ایک عالمِ دین ہیں، میرا آپ سے یہ سوال ہے (جس کا تذکرہ میں نے بعد ازاں قومی اسمبلی کے فلور پر بھی کیا) کہ کیا کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف، بندوق یا ماضی کی طرح تلوار کی نوک پر، مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟ مولانا صاحب کا واضح جواب نفی میں تھا۔ اس پر میں نے اپنا دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہے، تو پھر آپ لوگ بندوق کی نوک پر ہم بلوچوں کو بھی زبردستی محبِ وطن یا اپنے تصور کے مطابق پاکستانی نہیں بنا سکیں گے۔ بندوق کی نوک پر حب الوطنی ہرگز مسلط نہیں کی جا سکتی، اس سے محض نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ ناانصافیاں، ظلم اور زیادتیاں ہمیشہ دوریاں اور بالآخر بغاوت کو جنم دیتی ہیں۔ آج کے حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو بلوچستان ایک 'نفرتستان' میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جس بے دردی سے بلوچستان کو قبرستان بنایا گیا ہے، اس کے نتیجے میں آج وہاں ریاستی پالیسیوں کے خلاف نفرت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ نفرت نہ ٹینکوں سے ختم ہو سکے گی، نہ عام بموں سے اور نہ ہی ایٹم بم کے استعمال سے۔ اگر طاقت کے زور اور بمباری سے نفرتوں کا خاتمہ ممکن ہوتا، تو ویتنام میں امریکہ کے خلاف، یا جاپان اور افغانستان میں روس، امریکہ اور نیٹو کے خلاف پنپنے والی نفرتیں کب کی دم توڑ چکی ہوتیں۔ زور زبردستی سے آپ کسی سے کچھ نہیں منوا سکتے۔ جہاں تک میرے ذاتی، سیاسی اور سماجی نظریات کا تعلق ہے، تو وہ نہایت واضح ہیں: سیاست اور مزاحمت: میں سنجیدہ سیاسی لوگوں کے ساتھ شائستہ سیاست، جبکہ بدمعاشوں اور غنڈہ عناصر کے خلاف بھرپور مزاحمت پر یقین رکھتا ہوں۔ بات چیت اور طاقت کا استعمال: عقلمندوں اور باشعور لوگوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جانا چاہیے، جبکہ سرپھروں سے نمٹنے کے لیے طاقت کا استعمال ہی واحد راستہ ہے۔ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ: میرے نزدیک بلوچستان کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ 'بلوچ قومی شناخت' کا تسلیم نہ کیا جانا ہے۔ ریاستی اور مقامی غلطیاں: ملکی سطح پر اگر ہم پاکستان کی غلطیوں کا جائزہ لیں، تو یہ کوئی ایک نہیں بلکہ ہزاروں، بلکہ شاید لاکھوں کی تعداد میں ہوں گی۔ دوسری جانب، اگر بلوچ قیادت کی سب سے بڑی خامی کی بات کی جائے تو وہ ان کی باہمی نااتفاقی ہے۔ اپنی فکری نشوونما کے حوالے سے بات کروں تو قید و بند کی صعوبتوں کے دوران میں نے متعدد کتب کا مطالعہ کیا۔ تاہم، بچپن میں پڑھی جانے والی پہلی کتاب جس نے میرے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے، وہ سوویت انقلاب کے موضوع پر لکھی گئی 'دارالرسن کی آزمائش' تھی۔ اسی طرح، جہاں تک کسی ایک شخصیت سے متاثر ہونے کا سوال ہے، تو ہر انسان کے نزدیک اس کا اپنا ایک منفرد معیار اور آئیڈیل ہوتا ہے۔ سربراہ بی این پی مینگل اختر جان مینگل Akhtar Mengal

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

91,944 views • 2 months ago

TTAP_OFFICIAL's profile picture

میں آپ کو بتاؤں عمران خان صاحب کے پاس جو پلان لے کے گئے تھے، میں ساتھ تھا اس میں۔ عمران خان صاحب نے اس سے پہلے کہ یہ لوگ، پانچ چھ لوگ تھے ہم۔ سلمان اکرم راجہ صاحب تھے، علی امین گنڈاپور صاحب تھے، صاحبزادہ حامد رضا میرا بھائی جو بے گناہ جیل میں ہے، تو خان صاحب نے بیٹھتے ہی کہا، "میں نے، پہلے میری بات سنو، میں نے بنی گالا نہیں جانا ہے۔" "میں نے کوئی کمپرومائز نہیں کرنا ہے۔ میرے ساتھ والے لوگ جو ایک جملہ لکھ کے دے دیتے باہر آ جاتے۔ وہ جیل میں رہیں اور میں جنابِ والا ڈیل کر کے تو جا کے ادھر بیٹھ جاؤں؟ میں نہیں جاؤں گا۔ اور یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔" "میں پہلے وقت نہیں ہوتا تھا، قرآن پڑھتا ہوں تو پہلے ایک ترجمہ ابھی میرے پاس کئی ترجمے ہیں یا تفسیریں ہیں، مجھے اب صحیح یاد نہیں ہے۔" چار پانچ کی انہوں نے بات کی تھی۔ "دعا کرتا ہوں، پہلے نماز جلدی جلدی پڑھتا تھا، اب اطمینان سے نماز پڑھتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں۔ یہ جیل میرے لیے اللہ کی نعمت ہے۔ قائد حزب اختلاف سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

104,600 views • 2 months ago

TTAP_OFFICIAL's profile picture

#عہدوفا_27ستمبر ​سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی، وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان سردار اختر جان مینگل: 🔹​"اس کے علاوہ اور کوئی راستہ ہی نہیں بچتا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ صحیح کر رہے ہیں، لیکن دوسرا راستہ کون سا ہے؟ کون سا راستہ آپ لوگوں نے ان کے لیے چھوڑا ہے؟ 🔹​کنور محمد شریف صاحب اور اظہر خان ناہنگزی صاحب نے جو مثال… اسلام آباد میں جو عسکری قیادت نے ایک میلہ کھڑا کیا تھا، اس کی بات کی لیکن تمام باتیں انہوں نے نہیں کیں، کچھ انہوں نے جو ہے سنسر کر دیں۔ 🔹​ایک بات جو ان کے جنرل نے کہی تھی، میری زبان نہیں مانتی کہ وہ الفاظ میں بیان کروں۔ تمام لوگ بیٹھے تھے، پولیٹیکل پارٹیوں کے لوگ بیٹھے تھے، وہاں کے سردار بیٹھے ہوئے تھے، وہاں کے نواب بیٹھے ہوئے تھے، وہاں کے سو کالڈ پولیٹیکل ورکر بیٹھے ہوئے تھے۔ 🔹​جنرل صاحب ان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ: 'آپ لوگ بلوچ یہ چیز ہیں، آپ لوگوں میں غیرت نہیں رہی کہ آپ لوگوں کی عورتیں جو ہیں وہ جنگ لڑ رہی ہیں۔' 🔹​جنرل صاحب! آپ لوگوں کو یاد ہوگا—میری اکثر عادت ہے کہ آپ کو تاریخ یاد دلاؤں—1970 میں جب ہندوستان اور آپ کی جنگ چھڑ رہی تھی، اندرا گاندھی وہاں کی وزیراعظم تھیں اور آپ لوگ یہاں سے نعرہ لگاتے تھے: 'جنگ کھیل نہیں زنانی کا۔' یہ نعرہ آپ لوگوں نے لگایا تھا! اور اس زنانی نے جو آپ کا حال کیا، اگر آپ پڑھنا لکھنا جانتے ہیں تو حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ پڑھ لیں۔" Akhtar Mengal

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

20,094 views • 12 days ago

TTAP_OFFICIAL's profile picture

"پھر یہ میں نے 'افغانیہ' کے لیے کہا تھا۔ وہ پشتون وطن جو ڈیورنڈ لائن سے نیچے پاکستان کا حصہ ہے، کہ اس کو افغانیہ کا نام دیا جائے گا۔ ​افغانستان پر، پشتونوں کے مخالفین نے کتابیں لکھی ہیں۔ بڑے بڑے جاسوسوں نے کتابیں لکھی ہیں۔ الیگزینڈر برنس، موہن لال، چینی زائرین اور بدھ مت کے زائرین—ان میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ پشتون متعصب یا فرقہ پرست ہیں، یا لوگوں سے نفرت کرنے والے ہیں۔ سب نے یہی کہا ہے کہ ہم اس وطن میں بحیثیتِ جاسوس، بحیثیتِ مسافر، یا بحیثیتِ بدھ مت کے زائرین (چینی مسافروں) کے گئے؛ سب کا کہنا ہے کہ پشتون وطن یا افغان وطن میں مسافر کے لیے 'بیڈ اینڈ بریک فاسٹ' (Bed & Breakfast) والی بات نہیں، بلکہ بورڈنگ اور لاجنگ بالکل مفت ہے۔ ہر ایک نے لکھا ہے کہ جب ہم وہاں گئے، ہم نے مسجد میں بیٹھ کر بات کی، تو انہوں نے کہا: 'جی مسافرو! جی مسافرو! بسم اللہ'۔ کبھی ان سے نہیں پوچھا گیا کہ تم کس مذہب کے ہو؟ کس لیے آئے ہو؟ ہمیں گدی (نشست) دی گئی، بہترین روٹی دی گئی اور (عزت سے) رخصت کیا گیا۔ یہ دنیا کے تمام مؤرخین لکھتے ہیں۔ ​افغان وطن بہت بڑے اور طاقتور ہمسایوں کے درمیان ہے۔ ماوراء النہر کا مالک سوویت یونین، ایک طرف چین، نیچے ہندوستان، اور دوسری طرف پارس (ایران) اور عریبیہ۔ افغانوں یا پشتونوں نے اپنی اس حیثیت میں کبھی کسی کی ایجنٹی نہیں کی۔ پشتون افغان، نہ کبھی چین کے مفاد کے لیے روس کے خلاف استعمال ہوا ہے، اور نہ ہی روس کے مفاد کے لیے چین کے خلاف استعمال ہوا ہے۔ ​ہم اس بات کی شدید مذمت (Condemn) کرتے ہیں جب لوگ کہتے ہیں کہ پشتون دہشت گرد ہے۔ پشتون اپنی خود مختاری کے بارے میں انتہائی حساس ہیں (They are sensitive about their sovereignty)۔ اپنے استقلال کے بارے میں افغان پشتون انتہائی حساس ہے۔ وہ مہمان کی عزت کرتا ہے، لیکن جب اسے یہ شک پڑ جائے کہ یہ آدمی میری آزادی پر حملہ آور ہونے آیا ہے، تو پھر وہ ایک خطرناک دشمن بن جاتا ہے۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

60,133 views • 3 months ago

TTAP_OFFICIAL's profile picture

میں کیا کہوں؟ پھر وہی عمران خان، کہتے کہتے ہم تھک گئے۔ آج تک اس کی ملاقات پر پابندی ہے! خطرناک؟ جب وہ خطرناک تھا تو پھر آپ نے اسے اپنا وزیرِاعظم کیوں بنایا؟ اور اب یہ غلطی کر رہے ہیں۔ جتنے دن آپ اسے رکھیں گے، اس کی پاپولرٹی آسمان تک پہنچ گئی ہے۔ ​جب عمران نے استعفیٰ دیا تھا یا عدم اعتماد (No-confidence) کی تحریک آئی تھی، تب پارٹی چھوڑنے پر تیار لیڈرز کا گراف نیچے آ گیا تھا۔ پھر خدا بھلا کرے ہمارے دوستوں کا، شہباز شریف اور ان کے دوسرے ساتھی کا؛ ان کو حکمرانی کا بڑا شوق تھا، انہوں نے حکمرانی لمبی کر دی اور عمران خان کی پاپولرٹی واپس بحال ہو گئی۔ ​اب جتنا اسے تنگ کیا جائے گا... آج انتخابات کروا لیں، کسی کو اچھا لگے یا برا، عمران خان پورے پاکستان کو سویپ (Sweep) کر جائے گا۔ پورا پاکستان! وہ بیمار ہے، قیدی ہے، اس کا مطالبہ بھی اتنا بڑا نہیں ہے۔ آپ اسے رات کو پمز ہسپتال لے آتے ہیں؛ وہ خود یا اس کی بہنیں کہتی ہیں کہ فلاں ہسپتال لے جاؤ، تو کسی کو بتائے بغیر لے جائیں، یہ پریشر کم ہو جائے گا۔ بہنیں ملنا چاہتی ہیں، کوئی دوست یا بچے ملنا چاہتے ہیں، بس یہ سختیاں لگی ہوئی ہیں۔ ​انہوں نے کوشش کی کہ وہ شریف آدمی ٹوٹ جائے، لیکن اگر ٹوٹ جاتا تو پتا نہیں کیا ہو جاتا! وہ نہیں ٹوٹا۔ جب نہیں ٹوٹا، تو اب مہربانی کریں اور اس سے بات کریں۔ "مائنس عمران خان" کا فارمولا کوئی قبول نہیں کرے گا۔ یا پھر دوسرا راستہ وہی ہے جو آپ لوگوں نے بھٹو کے ساتھ اپنایا تھا۔ بھٹو غریب ۱۲ مہینے جیل میں رہا، ملاقات کے لیے کم لوگ ملتے تھے، آپ نے جا کر اسے پھانسی چڑھا دیا۔ اب وہ، اس کی بیٹی، اس کا ایک بیٹا، وہ ایک مزارِ شہدا بن گیا جو سندھ کے تمام پیروں سے اوپر چلا گیا۔ اگر عمران خان کے ساتھ بھی یہی رویہ رکھنا ہے، تو پھر پاکستان کو خدا ہی خیر کرے۔ پاکستان، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ ​میں اپنے دوستوں سے اپیل کرتا ہوں، یہاں بھی اور اپنے بلوچ بھائیوں سے بھی، کہ مہربانی کریں، آئیں بھائی بندی کی طرح اس صوبے کو چلائیں، گزارا کریں۔ سرفراز، میں کیا کروں؟ مجھے دکھ ہوتا ہے اس کا نام لیتے ہوئے بھی۔ سب کچھ بک رہا ہے؛ نوکریاں بک رہی ہیں، پوسٹیں بک رہی ہیں، پتا نہیں اور کیا کیا بک رہا ہے۔ کہتے ہیں "مجھے وہاں لگا دو، اس کے کروڑ لے لو"، اور پھر ہم ایسے... قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

50,743 views • 3 months ago

TTAP_OFFICIAL's profile picture

"گاڑی روک دی گئی۔ ہمارے ہی روڈ پر ہمارے غریب پشتون بھائیوں کو گاڑیوں سے اتار کر راستے میں قتل کر دیا جاتا ہے، لیکن کوئی اس پر سوال نہیں اٹھاتا۔ کوئی اور آواز اٹھائے نہ اٹھائے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اپنے کارکنوں اور عوام کے تحفظ کے لیے کھڑی ہوگی اور اس ظلم پر سوال کرے گی۔ کیا ہم پشتون نہیں ہیں؟ کیا ہمارے بچوں کی کوئی قیمت نہیں کہ انہیں اس طرح گاڑیوں سے اتار کر مار دیا جائے؟ ​اس دن کچا گاؤں سے ایک خاندان روانہ ہوا، جس میں بچے، ماں اور دیگر خواتین شامل تھیں۔ بلوچستان کے علاقے 'چھاپ' میں سڑک پر پانچ چھ گاڑیاں کھڑی تھیں۔ یہ خاندان وہاں سے تیز رفتاری کے باعث بغیر رکے گزر رہا تھا کہ راستے میں ایک اور گاڑی نے ان کا راستہ روک کر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 6 پشتون مارے گئے۔ انہوں نے خواتین سمیت سب کو گاڑی سے اتارا، ان کا سامان اور پیسے چھین لیے اور ہمارے کچھ لوگوں کی گاڑیاں بھی لے گئے۔ ​ہم بلوچ بھائیوں سے کہتے ہیں کہ 'بلوچ ماما!' آپ کے نام پر لوگ ہماری خواتین کو لوٹ رہے ہیں اور آپ کے علاقوں کے پاس ہماری گاڑیوں سے لوگوں کو اتارا جا رہا ہے۔ اس صورتحال پر غور کریں۔ اگر یہ کارروائیاں آپ کی طرف سے ہیں تو ہمیں بتا دیں، اور اگر آپ اس میں شامل نہیں ہیں تو معلوم کریں کہ آپ کے نام پر کون ہمارے بچوں کو مار رہا ہے اور تاوان کے لیے اغوا کر رہا ہے۔ ​بلوچ ماما! آپ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، شوق سے لڑیں، لیکن ہمارے گھروں کے سامنے ہمارے عزیزوں کو اس طرح نشانہ نہ بنائیں۔ جنگ کے وقت صرف باتیں نہیں چلتیں، بلکہ حوصلہ رکھنا پڑتا ہے۔ اگر میدانِ جنگ میں صفیں درست نہ ہوں اور دفاع کے لیے ہتھیار نہ ہوں، تو دشمن آپ کی جان لینے میں دیر نہیں کرے گا۔ ​اس لیے میرے ساتھ وعدہ کریں۔ میں قرآن کا بھاری واسطہ نہیں دوں گا، بس ایک عام وعدہ کریں کہ ہر گھر سے ایک مرد دیں تاکہ ہم اپنی حفاظت کے لیے ایک لشکر تیار کر سکیں۔ یہ لشکر کسی کو گالی دے گا نہ کسی پر ظلم کرے گا، ہم پاکستان کے قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا دفاع کریں گے..." قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

51,044 views • 3 months ago