
Dr Waqas Nawaz
@WaqasnawazMD • 43,416 subscribers
Assistant ProfessorGastroenterology#activist#Philanthropist#writer “قلم کی جسارت کالم سیریز #VicePresident CAPA #Voice of the Voiceless #words can bring CHANGE
Shorts
Videos

If Assoc. of Pakistani Physicians of North America is being criticized for blurring Imran Khan's face in his iconic 1992 picture, this criticism did not arise overnight. It has a history rooted in the perception that Assoc. of Pakistani Physicians of North America has been manipulated and influenced by the Pakistani establishment and government. As the largest association of Pakistani-American physicians in the USA, APPNA's silence regarding the negligence and denial of proper medical treatment to one of Pakistan's most iconic figures (regardless of the fact that he is a politician) and his wife has raised serious questions within the Pakistani-American community. Being doctors, it is their medico-ethical responsibility to raise questions about medical deprivation of any Pakistani regardless of his political affiliation. If we accept the APPNA president's explanation that he did not notice the error made by the decorators until he saw it on social media, then this reflects sheer incompetence on the part of the decoration committee. They were organizing APPNA's largest convention of the year, yet they failed to review the banners and display materials before they were put up. I am aware that the same banner also included another picture of Imran Khan holding the Pakistani flag. However, that image was not nearly as prominent as the iconic 1992 photograph that was altered. In light of the criticism and the reaction from the Pakistani-American community, APPNA should recognize that it needs to review its policies when it comes to Pakistan. The widespread reaction from the Pakistani-American community should serve as a wake-up call for APPNA. If APPNA claims to be non-political, then altering the face of someone who is not only a political figure but also a philanthropist, a sportsman, and the apple of the eye of millions of Pakistanis is, in itself, a political act. Whether APPNA's action was a mistake or a deliberate act, it is condemnable in either case. If it was a mistake, it reflects incompetence. If it was deliberate, it reinforces the perception that APPNA is playing into the hands of the establishment. Either way, APPNA owes the Pakistani-American community a transparent explanation and a commitment to ensuring that such an incident is never repeated. ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Dr. Shahbaz GiLL DrJalil
Dr Waqas Nawaz29,936 Aufrufe • vor 15 Tagen

ایک زمانہ تھا کہ لوگ راڈو گھڑی بہت فخر سے ہاتھ پر پہنتے تھے - پھر لوگوں نے یہ گھڑی جہیز میں دینا شروع کردی - شروع شروع میں لوگ ہاتھ میں پہن کر لہراتے تھے پر شعور کے ساتھ یہ شرمندگی کی علامت بن گئی کہ فلاں نے خود نہی لی بلکہ سسرال سے مانگی ہوگی -- ان ایوارڈز کے ساتھ بھی راڈو والا حال ہورہا ہے - یقین کریں کہ ان تمغوں اور ایوارڈز کو جن پیمانوں پر دیا جارہا ہے وہ وقت دور نہی جب لوگ ملنے والے تمغوں کو چھپایا کریں گے کیونکہ یہ قابلیت اور میریٹ کا مظہر نہی ہوگا بلکہ خوشامد ' دشنام طرازی اور شاہ کی وفاداری کی علامت بن جائیگا اور لوگ ٹھٹھا اڑنے کے ڈرسے اس کو الماریوں میں چھپاتے پھریں گے کیونکہ یہ میریٹ کی کمائی نہی ہوگا بلکہ کرپٹ کی بروکری (دلالی ) کی علامت سمجھا جائیگا -
Dr Waqas Nawaz87,654 Aufrufe • vor 2 Monaten

As a doctor, I feel ashmaed how one of our teachers Dr Javed Akram remained silent on the wrong interpretation of the postmortem report of Late Zil e Shah. Here I put my strongest condemnation words on this criminal silence and mutilation of the report. Being silent and advocate of the murder is being part of the murder.
Dr Waqas Nawaz1,080,456 Aufrufe • vor 3 Jahren

اس پورے معاملے کے بعد جو ایک نتیجہ نکلا ہے وہ یہ ہے کہ اقرار الحسن Iqrar ul Hassan Syed نے چاہتے نہ چاہتے اس بات پر مہر ثبت کردی ہے کہ کسی کا جواد احمد Jawad Ahmad سے موازنہ ہونا گالی' بد دعا اور تذلیل کی بات ہے اور یہ اس ریاست کیلئے بھی گالی کی بات ہے جس نے جواد احمد کو سیاست دان بنانے کی کوشش کی - یہ میں نہیں کہ رہا - مجھے تو یہ کلپ دیکھ کر یہی سمجھ آیا ہے ورنہ تو اس افسر نے اور کوئی گالم گلوچ نہی کیا اس کے مقابلے میں مجھے اقرار صاحب اس کو "بے شرم " کہتے دکھائی دیے- - اپنی نظر میں تو جواد احمد ملک کے سب سے انقلابی لیڈر اور اس ریاست کیلئے آخری آپشن ہیں ' پر اقرار صاحب کے اس اوور ری ایکشن نے یہ خوش فہمی بھی گمان میں بدل دی - اور اگر یہ کلپ صحیح ہے اور اقرار صاحب جواد احمد بننے کی دعا اور پشین گوئی پر اتنا سیخ پا ہویے ہیں تو پھر اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ آگ بگولہ ہونا اقرار الحسن کا نہی جواد احمد کا بنتا ہے - یعنی میچ کھیلا بھی نہیں اور کلین بولڈ ہوگیے - یہ سارا ڈرامہ کسی باہر کے ملک میں ہوا ہوتا تو محض اپنی راے دینے پر اقرار صاحب نے جو شور شرابہ مچایا اور جس طرح اس ملازم کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اس کو ہراسا کیا ' اب تک یہ جیل میں ہوتے - - پورے کلپ میں عمران خان کا اس افسر نے نام تک نہیں لیا ' پر یہاں بھی اقرار نے فرض کرلیا کہ یہ عمران خان کا سپورٹر ہوگا جو ان کو جواد احمد جیسا حال ہونے کی بد دعا دے رہا ہے - اگر اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں عمران خان کا ووٹر توڑنے کا یہی حربہ رہ گیا ہے تو ان کو چاہیے کہ ٹاک شاک کرلیں ورنہ ان کا حال بھی ووہی ہوگا جو جواد احمد کا ہوا -
Dr Waqas Nawaz94,493 Aufrufe • vor 2 Monaten

"ایک مسنگ پرسن کے نام " یہ ٹویٹ ایک مسسنگ پرسن کیلئے ہے - مسنگ پرسن جو پچھلے تین سال سے نہیں دیکھا گیا ' اور پچھلے 7 ماہ سے اس کے خاندان میں سے کسی نے اس سے نہ بات کی نہ ملاقات کی - مسنگ پرسن جو پاکستان کا سب سے مقبول پرسن ہے لیکن غائب ہے - مسنگ پرسن جس کی ایک آنکھ مسنگ کردی گئی لیکن اس نظام اور اس عوام کے کان پر جوں تک نہ رینگی - مسنگ پرسن جس کا مقدمہ نہ کسی تھانے میں درج ہوتا ہے نہ کسی عدالت میں دائر ہوتا ہے - مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کی سپریم کورٹ ہی مسنگ ہوگئی- وہاں عدل مسنگ ہوگیا - وہاں انصاف مسنگ ہوگیا - مسنگ پرسن جس کس انتخابی نشان مسنگ کردیا گیا جس کا بیلٹ باکس مسنگ کر دیا گیا - مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کا آئین ترمیم زدہ کرکے مسنگ کردیا گیا - مسنگ پرسن جس کے سب مقدمے بھی ماوراے عدالت ' جس کی سب سزائیں بھی ماوراے عدالت - جس پر الزام بھی ماوراے عدالت - جس کا انجام بھی ماوراے عدالت - مسنگ پرسن جس کے وسیلے سے اس ملک میں کینسر مسنگ ہونے لگا ' پر آج وہ خود آمریت کے کینسر سے گھائل مسنگ نظر آتا ہے - مسنگ پرسن جس کے اپنے بھی مسنگ ' جس کے سجن بھی مسنگ ' جس کی عوام بھی مسنگ ' جس کے منسٹر بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے وکیل بھی مسنگ ' جس کے مشیر بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کی جیل کے باہر دھرنا بھی مسنگ ' عوام کا بپھرنا بھی مسنگ - پارٹی کا احتجاج بھی مسنگ - کوئی ہڑتال کوئی لانگ مارچ بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کی میڈیا پر سے اب خبر بھی مسنگ ' جس کا نام بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے بغیر اس نوجوان کا سیاست میں اشتیاق بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے بغیر اس ملک کے غریب کا "احساس " بھی مسنگ ' جس کے بعد بے گھر کی "پناہ گاہ " بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے بعد بیمار کا "ہیلتھ کارڈ" بھی مسنگ ' جس کے بعد "بلین ٹری اور ماحولیات" کی بات بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے بعد ملک کا وقار بھی مسنگ ' آزاد خارجہ پالیسی کا انداز بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے بعد وردی کی حرمت بھی مسنگ اور پاسبان سے محبت بھی مسنگ - یہ میرا کالم اس مسنگ پرسن کے نام ہے جس کا مسنگ ہونا اب اس ملک ؛ اس نظام اور اس عوام کیلئے ایک نیو نارمل بنتا جارہا ہے اور سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس نسیان اور اس بیوفائی اور طوطا چشمی پر ہمارا ضمیر بھی مسنگ - #ImranKhanisEssentiallyaMissingPerson قلم کی جسارت وقاص نواز ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Sabee Kazmi Sabir Shakir Mario Nawfal Maryam Riaz Wattoo salman akram raja Sohail Afridi
Dr Waqas Nawaz14,923 Aufrufe • vor 17 Tagen

کسی نے مجھے پوچھا کہ آج کی فنڈریزنگ میں کیا عمران خان کا ذکر ہوگا ؟ تو میں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اس کے باغ کا ذکر تو کریں پر باغباں کا ذکر نہ کریں ؟ ستاروں کا ذکر کریں پر چاند کا ذکر نہ کریں ؟ شوکت خانم کا ذکر کریں پر اس کے بیٹے کا ذکر نہ کریں ؟ میں ضرور اس کا ذکر کرونگا کیونکہ آج اگر شوکت خانم کراچی اپنے وقت پر مکمل نہی ہوسکا تو اس کے پیچھے وہ سیاست شامل ہے جس نے انسانیت کو بھی شرما دیا - My tribute to Imran Khan during Fundraising Ceremony Donate to Shaukat Khanum
Dr Waqas Nawaz98,571 Aufrufe • vor 5 Monaten

"Medical Facts, Not Political Agendas: The Reality of Parathyroid Disease Treatment in Pakistan" Every patient has the right to seek treatment in any country they choose in order to access the best possible care. However, they should not resort to blatant misinformation to justify their decision. It is misleading and inaccurate to claim by Maryam Nawaz Sharif that parathyroid diseases are only treated in the USA and Switzerland. Parathyroid conditions such as hyperparathyroidism and hypoparathyroidism have treatment options available in many countries around the world, including UK, Pakistan, France, Germany, Australia, India, the UAE, Qatar and many others. Hyperparathyroidism, often caused by a parathyroid adenoma, is primarily treated with surgical removal. The associated bone diseases due to high parathyroid hormone (PTH) levels are managed with medications like Cinacalcet (Mimcipar) , Bisphosphonates, and Denosumab—all of which are available in Pakistan. Many tertiary and private hospitals in Pakistan perform parathyroidectomy, including Aga Khan University Hospital, Shifa International, Doctors Hospital, and Shaukat Khanum Memorial Cancer Hospital & Research Centre. Endocrine surgery is a common procedure in almost every major city in Pakistan. In the case of hypoparathyroidism, treatment typically involves calcium and vitamin D supplements, and for severe chronic cases, Teriparatide (a PTH analogue) is available in Pakistan for replacement therapy with the name "Forteo". The prevalence of parathyroid disease is around 1%. I am writing this fact check to correct the medical inaccuracies, as such disinformation can have serious consequences: 1. It can create hopelessness and despair among tens of thousands of patients with hyperparathyroidism in Pakistan, who are currently being successfully treated through endocrine surgery and medical management within the country. 2. It is a disrespect to the Pakistani medical community, which includes many renowned specialists in endocrine surgery and disease management. One such name is Professor Dr. Khawaja Azim, who served as the head of surgery at Mayo Hospital in 2009 during our times, and is now working at Shalimar Hospital in Lahore as "consultant endocrine surgeon". I am surprised that none of the UK-based journalists present there have rebutted this false statement. Pakistani political figures must verify the facts and be aware of the impact such statements can have on the healthcare system. Not every Pakistani has the means to travel to the USA or Switzerland for parathyroid treatment—and, more importantly, they do not need to, as the same high-quality treatments are available in Pakistan. I am surprised they included UK in this list of countries without parathyroid treatment. I am tagging UK parathyroid foundation Parathyroid UK and UK medical license body GMC for the correction. I hope Maryam Nawaz Sharif will recognize this error and take the necessary steps to correct it because the parathyroid disease affecting thousands of Pakistani patients is equally important, and medical facts are not the political ballot boxes that could be manipulated for personal agendas. Thank you. ----------------------------------------------------------- Moeed Pirzada @drfaranahmad
Dr Waqas Nawaz280,895 Aufrufe • vor 1 Jahr

"چل جھوٹی " آج جس وقت سپریم کورٹ میں مریم نواز شریف اپنے جیل میں قید ہونے کے دکھ سنا رہی تھیں کہ "میری تیرہ سالہ بیٹی جب ملنے آتی تھی ' روتے ہویے جاتی تھی" تو عین اس وقت پنجاب کی جیل میں قید ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سے لڑ رہی تھی ' صنم جاوید اور فلک جاوید محض سیاسی بغض میں مہینوں سے جیل میں قید تھیں اور ایمان زینب مزاری محض ایک ٹویٹ پر جیل میں قید چیف منسٹر کی منافقت کو منہ چڑھا رہی تھی - جس وقت مریم نواز جیلوں میں اصلاحات جیسے کہ قیدیوں کیلئے وڈیو کالز ' خاندان سے ملاقات کیلئے الگ کمروں کا ذکر کر رہی تھیں ؛ اس وقت پنجاب کی ہی ایک اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے سات ماہ سے اپنے گھر والوں سے نہیں ملا تھا - اس کے بچوں سے اسکی بات اور اس کی بہنوں سے اسکی ملاقات پر پابندی چیخ چیخ کر اس اداکاری کا پردہ فاش کر رہی تھی - جس وقت مریم نواز یہ کہ رہی تھیں کہ جیل میں قید چاہے کوئی میرا مخالف ہی کیوں نہ ہو ' بنیادی انسانی حقوق پر اس کا حق ہے ' اس وقت جیل میں قید بشری بیبی اپنی بیمار آنکھ پر ہاتھ رکھے اپنے بنیادی انسانی حقوق چھن جانے پر اس جھوٹ اور مکاری پر مسکرا رہی تھیں - اس تقریر کو سننے والے سامنے بیٹھے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کو بھی خوب معلوم تھا کہ یہ سب جھوٹ ' بکواس ' کوڑ اور کذب ہے ' پر وہ بھی اپنی تنخواہ والی ڈیوٹی پوری کر رہے تھے یعنی سر ہلا رہے تھے - اور اس ہال میں موجود ہر چیز ہر در و دیوار ہر کرسی و محراب سمیت ہرشخص تقریر کے دوران جس طرح مسکرا رہا تھا مجھے لگ رہا تھا کہ زبان حال سے جیسے کہ رہا ہو "چل جھوٹی " --------------------------------------------------- Sabir Shakir Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Maryam Riaz Wattoo
Dr Waqas Nawaz12,077 Aufrufe • vor 16 Tagen

"کیس نمبر 9 میں ایک اور گواہی " آج "کیس نمبر 9 " کے ایک سین میں جس طرح جسٹس منصور علی شاہ کا ذکر کیا گیا اور جس طرح اس پارلیمنٹ کی بدنیتی اور چھبسویں ترمیم کے پیچھے ان کے غلیظ عزائم کا ذکر کیا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے - بہت خوبصورت انداز میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس منصور علی شاہ کے ریپ کی کیسیز میں وکٹم بلیمنگ سے متعلق فیصلوں کا بتایا گیا اور پھر کہا گیا کہ "جسٹس منصور اس ملک کے چیف جسٹس ہوتے اگر چھبسویں ترمیم کے ذریے ان کا راستہ نہ روکا جاتا " - یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی ڈرامے میں اس وقت کے سیاسی اور عدالتی حالات کی وہ حقیقت برملا بیان کی گئی ہے جو سٹیٹ میڈیا بھی کہتے ہویے جھجھکتا ہے - شکر ہے کسی نے تو ان ترمیموں پر بات کی ورنہ آج کل تو موضوع بس شاہد بھٹی اور شاہزیب خانزادہ' اور سال پرانا عدت کیس ہے جس کو خود سے زندہ کیا جارہا ہے جبکہ یہ ہے اصل موضوع جس پر ہر وقت بات اور انٹرویو ہونے چاہیے - مزے کی بات ہے کہ یہ جملے بھی شاہزیب خانزادہ نے بحثیت رائیٹر لکھے - اس کی ڈرامے والوں کو اجازت کیسے ملی یہ ایک معمہ ہے پر تاریخ میں ایک اور گواہی ضرور شامل ہوگئی ہے کہ یہ پارلیمنٹ ربڑ سٹیمپ تھی اور ایک قابل اور سینئیر ترین جج کا بدنیتی سے راستہ روکا گیا - کیا منظر ہوگا جب جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس امین الدین نے اپنی فیملیز کے ساتھ یہ قسط دیکھی ہوگی - تھوڑی سی شرم تو آئ ہوگی - اس پارلیمنٹ کے سپیکر ؛ بلاول بھٹو ' نواز شریف اور شہباز شریف کے خاندانوں نے چینل تو بدلے ہونگے - کسی کینٹ میں یہ قسط دیکھ کر بچوں کے سامنے ندامت تو ہوئی ہوگی - یا شاید ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہوگا کیوں کہ جن میں ندامت ہوتی ہے ان میں بربریت اور فسطایت نہیں ہوتی - -------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Imran Afzal Raja
Dr Waqas Nawaz76,480 Aufrufe • vor 8 Monaten

"ایک چھری اپنی غیر سنجیدگی پر بھی پھیر " (کیوں کہ یہ نبیوں کی سنت ہے ؛ کوئی ٹک ٹاک نہی ) ہمارا معاشرہ اپنی زندگیوں میں کس قدر غیر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پوری بڑی عید پر سوشل میڈیا اس طرح کی وڈیوز سے بھرا رہا جس میں کہی کوئی بیل قصائی کو ٹکر مار کر بھاگ رہا ہے تو کہیں کوئی ویڑآ کسی دکان میں گھس کر وہاں شیشے توڑ رہا ہے - کہیں کوئی بیل چھت سے گر رہا ہے اور کہیں کوئی قصائی دوڑ رہا ہے اور بیل اس کے پیچھے پیچھے ہے - ایک وڈیو میں قصائی کے پاؤں میں رسی پھنسی ہے اور بیل بھاگ رہا ہے اور قصائی پیچھے پیچھے گھسیٹتا جارہا ہے اور بیک گراونڈ میں ٹک ٹاک والا سستا گانا چل رہا ہے - ان سب وڈیوز کو اکثر ازراہ مذاق اور طفنن پیش کیا گیا ہے (جیسا کہ اس وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جو میں نے یہاں لگائی ہے جس کے شروع میں ہی بنانے والے نے لکھا ہے کہ یہ میں نے "تفریح کیلئے " بنائی ہے ) جہاں کومنٹس اور پیچھے لگا میوزیک یہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ ہمارے ہاں کسی انسان کے اوپر بیل کا چڑھ جانا اب ایک عام بات ہے - کسی انسان کا نیچے گر جانا اب بس دیکھنے والوں کیلئے ایک مذاق رہ گیا ہے - ہے یہ مذاق ہے بس تب تک جب تک وہ انسان آپ کا اپنا باپ یا بھائی نہ ہو یا اپ خود نہ ہوں - کسی جگہ میں نے ایسے واقعات کی مذمت اور ان کی روک تھام کیلئے کوئی تحریر نہی دیکھی نہ کوئی ایسی وڈیو نظر سے گزری - چلیں امریکا چلتے ہیں - یہاں امریکا میں اس سال قربانی کی - ایک فارم ہاؤس پر بکرا خریدا - اس کو پسند کیا - اس کا نام رکھا - لیکن اس کو گھر لانے کی اجازت نہی تھی - عید کے دن نماز پڑھ کر فارم پر گیے - اپنے سامنے وہی اس کو چھری پھروائی' پروفیشنل قصائی نے اس کی کھال اتاری ' اس کا گوشت کاٹا' لیکن کسی سڑک پر نہیں ' بلکہ ایک خاص جگہ پر جو چار دیواری تھی' آبادی سے دور تھی تاکہ جانور بھاگے بھی تو کسی کو نقصان نہ پہنچاسکے - پہلے مجھے یہ سب بہت عجیب لگتا تھا - یہ کیا بات ہوئی کہ سڑک پر نہ کوئی جانور نہ کوئی خون- یہ کیسی عید ہوئی - یہ کیا بات ہوئی - پر پھر مجھے اعداد و شمار نظر آیے جو میں نے سوشل میڈیا پر بہت کم دیکھے - محض اس سال 2026 میں عید کے صرف پہلے دن پاکستان میں چودہ ہزار لوگ جانوروں کو ذبح کرتے ہویے زخمی ہویے - یہ ڈیٹا ابھی ان حادثات کا ہے کہ جن واقعات میں لوگوں کو ہسپتال لیجانا پڑا یا 1122 کو بلانا پڑا - جن وڈیوز کی میں بات کر رہا ہوں وہ ان کے علاوہ ہیں - ان جانوروں کو جس اناڑی طریقے سے ذبح کیا جاتا ہے اور پھر جب وہ رسی تڑوا کر بھاگتے ہیں ان سے ہونے والے گاڑیوں کے نقصانات کا تخمینہ ایک ہزار سالانہ سے زیادہ ہے - یہ ہر سال ہوتا ہے - اس کے باوجود نہ میں کسی اتھارٹی کی طرف سے کوئی خاص اقدامات دیکھتا ہوں نہ عوام کی طرف سے کوئی خاص احتیاط - کسی بیل کو جب بس تین چار اناڑی لوگ ذبح کر رہے ہوتے ہیں تو بچوں سمیت عوام کا جم غفیر پاس کھڑا ہوتا ہے اس بات سے بے نیاز کے جب یہ بیل بھاگے گا تو کسی بچے پر چڑھ جائیگا - اس کے برعکس جب ایسا ہوتا ہے تو بچے کو بچانے والے کی ٹک ٹاک تو بہت وائرل ہوتی ہیں پر ایسا کوئی پلان واضح نہیں ہوتا کہ آئندہ ایسا نہ ہو - نہ ماں باپ پر کوئی پوچھ گچھ ہوتی ہے کہ اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ آپ وہاں کیوں کھڑے تھے نہ بیل کے مالک سے سوال ہوتا ہے کہ آپ نے ذبح کرنے سے پہلے ایسی جگہ کا انتخاب کیوں نہی کیا جہاں اگر بیل بھاگے بھی تو باقی لوگوں یا املاک کا نقصان نہ ہو - نہ اس قصائی کا کوئی لائسنس ہوتا ہے کہ بھائی آپ واقعی پیشہ ور قصائی ہیں یا دو دن کیلئے مزدور اور حجام سے قصائی بنے ہیں اور اپنے سے پچاس گنا وزنی بیل کو گرانے کی کوشش میں معصوم بچوں اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں تو اس کا کوئی تو لائسنس ہوگا ' وہ دکھا دیں - الغرض میں ہر سال ایسی وڈیوز پر بس عوام کے قہقہے اور اقوال زریں کہ "جسے الله رکھے اسے کون چکھے " دیکھتا رہتا ہوں پر ان واقعات کے سدباب سے متعلق نہ کوئی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے نہ کوئی انتظام یا قانون دیکھنے کو نظر آتا ہے - نہ کسی عالم کی طرف سے کوئی رہنمائی سامنے آتی ہے نہ میڈیا پر ایسی کوئی کیمپین دیکھنے کو ملتی ہے - اس تحریر کو پڑھ کر مذھب کے ایک فریضے پر اعتراض کرنے یا میرے مذھب بیزار ہونے کا فتوی لگانے سے پہلے اس کو دوبارہ پڑھیں اور پھر ہسپتال میں کسی قصائی یا بچے سے مل کر آئیں جس کا کولہا فریکچر ہوگیا ہو یا جس کا سر پھٹ گیا ہو - یا کسی ایسے دکان والے سے ملکر آئیں جس کی کل جمع پونجی کسی کے جانور کی سرعام قربانی کی نذر ہوگئی اور جس نے وہ دکان بنانے کیلئے قرضہ لیا تھا جو اب ٹوٹ پھوٹ گئی ہے اور یہی دکان اس کے خاندان کا واحد روزگار تھی - آپ قربانی ضرور کریں ' ہر سال کریں ' لیکن بس اپنے جانور کی قربانی کریں ' کسی کی کمر کی نہی ' کسی کی ہڈی کی نہیں ' کسی کی دکان کی نہی ' کسی کی گاڑی کی نہیں - اگر ہر سال ان احتیاطوں کو کرلیا جائے تو ممکن ہے کہ ہمیں ٹک ٹاک پر لطیفے اور سستی وڈیوز تو نہ ملیں پر عوام محفوظ ضرور ہوجائیں گے : 1. کسی بھی بیل یا ویڑے کو سڑک پر باندھنے کی پابندی ہونی چاہیے- اس کیلئے ایسی جگہ ہو جو چار دیواری والی ہو اور اگر کسی کے پاس ایسا انتظام نہیں تو اس کو بکرا لینا چاہیے ' بیل نہی - 2. جانور منڈیاں شہری آبادی سے دورہوں ' اور وہاں سے جانور لانے کیلئے کسی چنگچی کسی کھلی گاڑی کسی رکشے پر پابندی ہونی چاہیے - ایسی خاص گاڑیاں حکومت کی طرف سے چلائی جائیں جن میں جالی لگی ہو تاکہ جانور کو بغیر کسی حادثے کے دوسری جگہ پہنچایا جاسکے - 3. بیل اور ویڑوں کو گھروں میں لانے پر پابندی ہو - ان کو وہی رکھا جائے جہاں سے خریدا گیا ہو یا ایسے کھلے پلاٹ یا ایک خاص جگہ ہو جہاں ان کو باندھا جائے اور وہی قربان کیا جائے اور اس چیز کو حکومت خود ریگولیٹ کرے - 4. سڑک پر کسی بھی بیل کی قربانی قابل سزا جرم ہو - اس کیلئے لازمی ہو کہ چار دیواری والی جگہ ہو جہاں کسی بھی بچے کو لیجانا جرم ہو - بچوں نے دیکھنا ہو تو اوپر چھت سے دیکھیں یا وڈیوز میں دیکھیں لیکن تیس فٹ تک وہاں کوئی بچہ یا ایسا بندہ نہ کھڑا ہو جس کا اس قربانی سے کوئی تعلق نہی ہے - 5. جانور کی قربانی کرنے والا کوئی پروفیشنل قصائی ہو جس کا باقاعدہ لائسنس ہونا چاہیے - وہ عام دنوں میں بھی قصائی ہی ہو اور اس کے ساتھ کم سے کم پانچ چھے ایسے افراد ضرور ہوں جو جانور کو گرانے اور اس کو سنبھالنے میں مہارت رکھتے ہوں - 6. عید سے پہلے قصائی حضرات کی ٹریننگ کا طریقہ وضع کیا جانا چاہیے اور حکومت کی طرف سے یا محلوں کی سطح پر ایسی ورکشاپس ہونی چاہیے جن میں ان لوگوں کی ٹریننگ ہو اور اس کے بعد ہی ان کا اس سال کا قربانی کا لائسینس رینیو کیا جائے - 7 . جانور کو گرانے کا ایک آفیشل طریقہ حکومت کی طرف سے لاگو ہونا چاہیے اور اسی طریقے سے جانور کو گرایا جانا چاہیے - اور ان پابندیوں کو لوکل کمشنر اور بیوروکریسی کے افراد خود دیکھیں - 8 . کسی بھی بیل کو کرین سے اوپر یا نیچے لیجانے پر سخت پابندی ہونی چاہیے - یہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس قربانی کے جانور کی بھی توہین ہے جو کبھی چھت سے نیچے گر رہا ہے اور کبھی چھت پر لیجاتے ہویے پھسل رہا ہے - 9 . اگر کسی کے پاس ان جانوروں کو محفوظ طریقے سے رکھنے اور قربان کرنے کا انتظام نہی ہے تو ان کو پھر قربانی میں حصہ ڈالنا چاہیے اور ایسے فارمز اور کھلی جگہیں ہونے چاہیے جہاں ان جانوروں کو رکھا جائے جن میں لوگوں نے حصہ ڈالا ہو - 10 . جس کے جانور سے کسی کی گاڑی یا دکان کا نقصان ہو وہ شخص اس نقصان کو پورا کرنے کا پابند ہو اور اس کو حکومت کی طرف سے بھی اتنے سخت جرمانے کیے جائیں کہ لوگ ان قربانیوں کو نمائش اور تفریح کی بجاے ایک مقدس فریضہ سمجھ کر تمیز اور احتیاط سے انجام دیں - 11 . ایسے ماں باپ کی پولیس سے بازپرس ہونی چاہیے جو بچوں کو لے کر ذبح ہوتے بیل کے سر پر کھڑے ہوتے ہیں - امریکا میں بچے کو گود میں لے کر گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھانا ہی اتنا بڑاجرم سمجھا جاتا ہے کہ ڈرائیور کا لائسنس کینسل ہوسکتا ہے کیوں کہ ان کے ڈیٹا کے مطابق حادثے کی صورت میں اگلی سیٹوں والوں کا زیادہ نقصان ہوتا ہے - اگر ہم فیشن میں مغرب کی نقل کرسکتے ہیں ' کھانوں میں ان کے پیزے اور پاستے کھاسکتے ہیں تو روز مراه کی زندگیوں میں بھی ان سے تھوڑی احتیاط تھوڑی تمیز سیکھ سکتے ہیں تاکہ بڑے نقصان سے بچ سکیں - 12. عید پر ایسی مزاحیہ وڈیوز اور ٹک ٹاک کو پروموٹ کرنے کی بجاے ایسی تحریروں کو لکھنے کا رجحان بنائیں اور ان کو وائرل کریں جن میں سنجدیگی ہو اور مثبت بات ہو ' کسی کی جان بچانے کی بات ' کسی کی دکان بچانے کی بات - میں جانتا ہوں کہ یہ تدابیر پڑھ کر بہت لوگ ہنس رہے ہونگے کہ یہ پاکستان ہے - یہاں ڈرائیورز کے پاس لائسنس نہی تو قصائی کے پاس کہاں سے ہوگا - لیکن یہ آگاہی دینے میں مجھے کوئی حرج نہی - میرے نزدیک اگر کوئی ایک بھی ان ہدایات پر عمل کرلیتا ہے اور کوئی ایک بھی حادثہ بچ جاتا ہے تو میرا وقت حلال ہوا - یاد رکھیں - عید قربان ایک بہت مقدس فریضہ ہے کوئی ٹکٹاک کا گانا نہی - یہ نبیوں کی سنت ہے - پر پوری سیرت نبوی (صلی اللہ علیھ وسلم ) میں ایسے کوئی واقعہ نہی ملتا جہاں کسی جانور کی قربانی کے وقت کسی دوسرے کو نقصان پہنچا ہو - قربانی ضرور کریں لیکن اپنا جانور قربان کرنے سے پہلے اپنے اندر نمود و نمائش کے حیوان کے گلے پر چھری پھریں ' اپنی بے احتیاط اور لاابالی طبیعت اور غیر سنجیدہ مزاج کی گردن کاٹیں ' تاکہ بس آپ کے جانور کا خون بہے ' کسی ایسے انسان کا نہیں جس کا اس قربانی سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے - شکریہ قلم کی جسارت وقاص نواز -------------------------------------------------------- Noshi Gilani Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Fan
Dr Waqas Nawaz20,100 Aufrufe • vor 1 Monat

"شوکت خانم ہسپتال کراچی - ایک بچہ جس کی ماں کھو گئی ہو" آج اگر عمران خان صاحب آزاد ہوتے ' تو شاید شوکت خانم کراچی کو اپنی تکمیل کیلئے ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو اس وقت کرنا پڑرہا ہے - اس وقت شوکت خانم کراچی یتیم ہے - اس بچے کی مانند جس کی ماں کھو جائے اور اس کو صبح کے وقت سکول کیلئے تیار کرنے والا کوئی نہ ہو - اس بچی کی مانند جس کا باپ بے گناہ قید کردیا جائے اور اس کو گھر چلانے کیلئے سکول چھوڑ کر لوگوں کے گھروں میں کام کرنا پڑے - آج مجھے شوکت خانم کراچی ایسا ہی مجبور اور مغضوب نظر آتا ہے جو کب کا مکمل ہوچکا ہوتا اگر عمران خان ٹی وی پر آکر بس ایک ٹیلی تھون کردیتا - اس کے ایک دفعہ "إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ " کہنے سے لوگ اتنا ڈونیٹ کرتے کہ سارا خسارہ ختم ہوجاتا اور یہ نامکمل در و دیوار کب کے مکمل ہو کر بیمار انسانیت کیلئے شفا خانے بن چکے ہوتے - کاش ایک کینسر زدہ ماں شوکت خانم کی محبت میں اس کے بیٹے کی طرف سے شروع کی گئی اس کوشش میں حریف سیاست سے زیادہ انسانیت کرتے ' اور اس میں ہر اس ماں کا چہرہ دیکھتے جس کو کینسر نے وقت سے پہلا بوڑھا اور لاغر اور اس کے بچوں کو کمسنی میں مسکین اور لاوارث کر دیا ہے - پاکستان جیسے ملک میں جہاں 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے ' وہاں کینسر جیسے مرض کا پتا چلنا ہی اکثر اوسان کی موت کا سبب بن جاتا ہے - انسان ہمت ہار جاتا ہے کہ اس بیماری کے ٹیسٹ اورعلاج کیلئے جانا کہاں ہے ؟ چولہا روٹی تو ہوتا نہیں ؛ اس بیماری سے کیسے نمٹنا ہے جسکا اوسط خرچہ دس لاکھ روپے ہے - اس ملک میں جہاں کینسر سکریننگ کا کوئی رجحان نہیں ہے وہاں اکثر ایسے کینسر سٹیج سوم یا آخری سٹیج پر تشخیص ہوتے ہیں ' جس کا مطلب صرف سرجری نہیں بلکہ کیموتھراپی جیسا مہنگا علاج ہوتا ہے - ایسے میں انسان کی رہی سہی امید بھی دم توڑ جاتی ہے اور وہ اپنا علاج کرنے کا سوچنے کی بجاے جمع پونجی اولاد کیلئے چھوڑنے کا سوچنے لگتا ہے - ایسے ملک اور ایسی آبادی کیلئے شوکت خانم ہسپتال کسی نعمت سے کم نہیں ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے 75 فیصد مریضوں کا بالکل مفت کینسر علاج ہوتا ہے - 29 دسمبر 1994 کو جس شوکت خانم کی بنیاد عمران خان نے رکھی تھی آج اس کی تیسری برانچ تعمیرکے مرحلے میں ہے جہاں کراچی میں شوکت خانم ہسپتال بن رہا ہے جس کا سائز لاہور والے کیمپس سے دوگنا ہے - دس لاکھ سکیر فٹ پر محیط اس ہسپتال میں 288 کمرے ' کیموتھراپی کے 69 انفیوزن کمرے ' 47 آوٹ پیشنٹ کلینک' 16 آپریشن تھیٹر اور 24 آئ سی یو بیڈز ہیں جہاں کراچی کی دو کروڑ آبادی جس میں منہ اور آنت کے کینسر کی بڑی تعداد موجود ہے اس کے علاج کا انتظام کیا جارہا ہے - شوکت خانم ہسپتال اور ریسرچ سینٹر پاکستان کے ان تین ہسپتالوں میں سے ایک ہے جو امریکی ادارے "جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل " (Joint Commission International) Joint Commission Int سے منظور شدہ ہے - اس کے علاوہ آغا خان کراچی اور شفا ہسپتال اسلام آباد وہ ہسپتال ہیں جو اس کمیشن سے منظور شدہ ہیں - یہ سند اپنے آپ میں نہ صرف شوکت خانم کی کلینکل اور پیشہ ورانہ ایکسیلینس کی دلیل ہے بلکہ اس سے منظور ہونے کی شرایط میں مالی آڈیٹ بھی شامل ہے - یہ اس پروپیگنڈے کا جواب ہے جو پچھلے کئی سالوں سے وقتا فوقتا اس ہسپتال کے خلاف دیکھنے میں آتا ہے جہاں مخالفین اور انسانیت سے عاری لوگ سیاست کو انسانیت سے اس بے رحمی سے گڈ مڈ کرنے لگتے ہیں کہ جیسے ان کو خود اوپر والے نے یہ گارنٹی دے رکھی ہو کہ وہ خود یا ان کے پیارے کبھی کینسر جیسے مرض کا شکار نہیں ہونگے - کبھی کسی پی ٹی وی پر ایک نان میڈیکل اور غیر پروفیشنل اینکر بیٹھ کر کیموتھراپی پر غیر سائنسی اور غیر منطقی بات کرکے عمران خان کے بغض میں شوکت خانم کو نشانہ بناتا ہے اور کبھی اس ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کیلئے شہر میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں - ہوٹل بک نہیں ہونے دیے جاتے ' فنڈ ریزنگ ایونٹ نہیں کرنے دیے جاتے اور یوں روز کسی نہ کسی کینسر کے مریض کی جان سے کھیلا جاتا ہے جو شاید بچ جاتا اگر ان رکاوٹوں سے آج شوکت خانم کراچی کا یوں راستہ نہ روکا جاتا - میرے نزدیک آج عمران خان اور شوکت خانم کے خلاف جتنا پروپیگنڈا ہورہا ہے اس کا جواب اس کیمپین میں بڑھ چڑھ کر ڈونیٹ کرنا ہے - جب جب کوئی اینکر پی ٹی وی پر کسی شوکت خانم کے خلاف پروگرام کرے ' تب تب پاکستانیوں کو اس میں ڈونیٹ کرنا چاہیے - جب جب اس کے بانی پر کوئی کیس بنے ' تب تب عوام کو اس کے اس نیک مقصد کو اور آگے بڑھانا چاہیے ------ اسی مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے ہم اس ہفتے کولمبس اوہایو میں بروز 7 فروری شوکت خانم کراچی کیلئے ایک فنڈ ریزنگ ایونٹ منعقد کر رہے ہیں جس میں ہم ہر ایسے پروپیگنڈے کا جواب شوکت خانم کو عطیات دے کر کریں گے - میری اس کالم کو پڑھنے والے تمام ان لوگوں سے جو اوہایو میں رہنے والے ہیں ؛ ان سے گزارش ہے کہ وہ اس ایونٹ میں شرکت کریں - اور باقی لوگ شوکت خانم کی ویب سائٹ پر جاکر ڈونیٹ کریں تاکہ ہم کینسر زدہ انسانیت کو سیاست اور بغض سے بچا لیں - میرے نزدیک ہماری یہ کوشش انسان سے محبت ہے - ہماری یہ کاوش پاکستان سے محبت ہے - ہماری یہ کیمپین عمران خان سے محبت ہے - Event: 7th Feb 2026 at 6 pm at The Makoy-5462 Center Street, Hilliard, OH 43026 Link to Buy tickets: Link to donate to Shaukat Khanum
Dr Waqas Nawaz37,514 Aufrufe • vor 5 Monaten

"غیر سیاسی لوگ " (ایک ہی ہویے واوڈا اور ڈی جی آئی ایس پی آر' نہ کوئی پروفیشنل رہا ' نہ کوئی باتمیز اورغیرجانبدار) نواز شریف کی ایک بات کا میں قائل ہوگیا ہوں کہ وہ وہ بدلہ ضرور لیتے ہیں اور دل سے بات باہر نہیں نکالتے - ماضی میں فوج نے ان کے ساتھ جو کیا اس کا انہوں نے ایسا بدلہ لیا ہے کہ اس کی مثال نہی ملتی - یعنی اپنا بدلہ پورا کرنے کیلئے وہ فوج جیسے ادارے کو اس سطح پر لے آیے ہیں کہ یہ فرق ہی ختم کرڈالا ہے کہ سامنے بیٹھا پریس کانفرنس میں چیخنے والا کوئی لیفٹیننٹ جرنل ہے یا پھر کوئی لیگی ایم این اے طلال چوہدری ؛ اعظمی بخاری ' رانا ثنا الله یا عطاتارڑ ہے - منہ سرخ کرتا کوئی یونیفارم افسر ہے یا پھر منہ سے تھوک اڑاتا کوئی فیصل واوڈا ' یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا - پنجاب پولیس کو پرائیویٹ گارڈز اور فوج کو پنجاب پولیس کی سطح پر لاکر برحال نواز شریف نے اپنا انتقام لے لیا ہے - آج پوری پریس کانفرنس میں جو الفاظ سنے ان کو سن کر کم سے کم یہ بیانیہ تو زائل ہوا کہ یہ بہت پروفیشنل اور ڈسپلن لوگ اور ادارہ ہوتا ہے - "ہمیں سیاست سے دور رکھیں " اور پھر یہ کہ کر پوری پریس کانفرنس ایک سیاسی جلسے کی طرح کرڈالی جس میں ایک سابق وزیر اعظم کو ٹارگٹ کیا گیا جس کو آٹھ سو دن سے قید میں ڈالا ہوا ہے ' جس کے ٹرائل بھی جیل میں بند دیواروں کے پیچھے ہوتے ہیں ' جس کا نام میڈیا میں بین ہے - جس کی ملاقاتیں خاندان سے بند ہیں - جس کی پارٹی کے ٹکڑے کیے جاچکے ہیں' جس کی بیوی بھی قید ہے ؛ جس کا بھانجا بھی قید ہے ' اس کے بعد بھی وہ شخص ان کے حواسوں پر ایسا سوار ہے کہ سارا ڈسپلن سارا پروفیشنلزم آج دریا برد ہوتا نظر آیا - اس پوری پریس کانفرنس میں ایک بات پر میں آئی ایس پی آر کا مشکور ہوں کہ آج وہ خود سامنے آکر اسی لہجے میں بولے جس لہجے میں پہلے کسی فیصل واوڈا ' کسی حسن ایوب کسی محسن نقوی کسی گورنر کامران ٹیسوری کو بولنے کیلئے بھیجتے تھے - پوری پریس کانفرنس میں بس ایک بات سچ تھی اور وہ یہ تھی کہ "آپ کچھ لوگوں کو ہر وقت بیوقوف بنا سکتے ہیں پر آپ ہر ہر وقت سب لوگوں کو بیوقوف نہیں بناسکتے " اس کے علاوہ جو جو باتیں کی وہ حقائق کے لحاظ سے جھوٹ ' غلط اور دروغ گوئی تھی - اس کا پوسٹمارٹم یہاں کیے دیتے ہیں - 1-وہ ذہنی مریض ہے : کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان ذہنی مریض ہیں اور سکیورٹی تھریٹ بن چکے ہیں - اس سے پہلے آرمی نے کبھی عمران خان کیلئے "ذہنی مریض" کا لفظ استعمال نہی کیا - منشیات کا بلاواسطہ الزام لگاتے رہے پر مینٹل ہیلتھ کا کبھی نہی کہا - چونکہ اپنے پچھلے ٹویٹ میں عمران خان نے آرمی چیف کو ذہنی مریض کہا تھا سو اب دو دن میں جوابا عمران خان کو ذہنی مریض کہنا ثابت کرتا ہے کہ یہ "جواب در جواب" ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ورنہ ایسا پہلے بھی کہا جاتا - خود جیل انتظامیہ کے ایک سال پہلے کیے گیے سروے اور چیک اپ کے مطابق عمران خان بالکل نارمل حواس اور ذہنیت کے حامل ہیں لہذا یہ بات بس "تم خود ہوگے ' یا " جو کہتا ہے ووہی ہوتا ہے " سے زیادہ کچھ بھی نہی ہے - 2. وہ سکیورٹی تھریٹ ہے : دوسری بات کہ عمران خان سکیورٹی رسک ہیں - اس کا تیا پانچہ تو خود منصور علی خان کے سوال نے کردیا کہ اس ملک کی تاریخ رہی ہے کہ ہر سویلین لیڈر کو اس وقت تھریٹ کہا جاتا ہے جب وہ سویلین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا ہے - محترمہ فاطمہ جناح اس لسٹ میں سب سے اوپر ہیں - ذولفقار علی بھٹو کو بھی ضیاء نے سکیورٹی تھریٹ کہا تھا - باچا خان - لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی بھی اسی لسٹ میں شامل ہیں - بینظیر بھٹو بھی اس لسٹ میں رہ چکی ہیں - تو آج اگر عمران خان کو سکیورٹی رسک کہا جارہا ہے تو یہ ان کیلئے طرہ امتیاز اور ایک میڈل کے مترادف ہے - ہم سویلین کو خاکی جیبوں پر لٹکتے گولڈ والے میڈل تو ملتے نہی تو یہی سویلین لیڈرز کا میڈل ہوتا ہے کہ ان کو "غدار " اور "تھریٹ " کہا جائے - مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو "سکیورٹی تھریٹ " کہ کر آئی ایس پی آر نے ان کو وہ اعزاز دیا ہے جو فاطمہ جناح کو جرنل ایوب نے دیا تھا اور یوں ان کی عزت میں اضافہ کیا ہے - 3. مجیب ارحمن کا فالووور ہے : اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے مجیب ارحمن جسے غدار کو ایڈیل بنایا ہوا ہے اور وہ اس سے متاثر ہے - یہ بات بھی حقائق کی رو سے غلط ہے - خود حکومت پاکستان نے 1968میں مجیب پر غداری کا جو "اگرتلہ سازش" کیس بنایا تھا وہ خود 1969میں واپس لے لیا تھا - پوری حمود ارحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں کہیں مجیب ارحمن کو "غدار " نہیں قرار دیا گیا - 1974 میں خود پاکستان نے مجیب ارحمن کو لاہور مدعو کیا تھا اور سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا تھا ' تو اس بات کا ثبوت کہ وہ "غدار " تھا کہا ہے ؟ مجیب ارحمن کو اکثریت نے ووٹ دیا تھا پر آج کی طرح اس وقت بھی 82 سیٹوں والوں کو 160 سیٹوں پر ترجیح دی گئی تھی کیوں کہ وہ قبول تھے اورمجبیب قبول نہیں تھا ' سو غدار قرار پایا - اگر مجیب غدار ہی تھا تو پھر پاکستان کے آرمی چیف مشرف نے بنگلادیش سے معافی کیوں مانگی تھی ؟ ڈی جی ای ایس پی آر صاحب کو لگتا ہے کہ آج بھی پاکستانی قوم بس مطالعہ پاکستان پڑھتی ہے جہاں مجیب غدار ' اور جرنل یحییٰ وفادار تھا - محترم ! اس قوم نے حمود ارحمن رپورٹ پڑھ رکھی ہے - اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی ار برگیڈئر سالک کی "میں دے ڈھاکہ ڈوبتا دیکھا " کو بھی پڑھ رکھا ہے ' سو یہ غداری والا چورن اب بس پرائمری جماعت کو پڑھائیں - عمران خان کا موقف مجیب سے اس لئے ملتا ہے کہ کیوں کہ مجیب کی طرح عمران خان کی 180 سیٹوں کے مقابلے میں سترہ سیٹوں والوں کو حکومت دے کر عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا - آج کی پریس کانفرنس میں مجیب ارحمن کو غدار اور عمران خان کو اس کا حمایتی قرار دے کر خود ای ایس پی آر نے مان لیا ہے کہ آج بھی جرنل یحیی ہی حکومت کر رہا ہے کیوں کہ اس کا بھی مجیب کے بارے میں یہی موقف تھا - 4. عوام اور افواج یک جان دو قالب ؟ . اس پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کسی کا باپ بھی عوام اور افواج میں خلیج نہیں پیدا کرسکتا - یہ بات درست ہے - عوام اور افواج کا رشتہ اس قدر مظبوط تھا کہ کوئی سیاستدان یا کوئی باہر کی طاقت اس کو کمزور نہیں کرسکتی تھی - اس کو اگر کوئی کمزور کرسکتا تھا وہ فوج خود تھی ' جو اس نے کردیا - عوام کا مینڈیٹ غصب کیا ' آواز اٹھانے والوں کو غائب کیا ' صحافیوں کو جلاوطن کیا - سویلین کا ملٹری ٹرائل کیا ' عوامی ججوں کو معزول کیا ' من چاہی ترمیمیں کروا کر اپنے لوگوں کو لامتناہی طاقت اور مدت دی - جب یہ سب کیا تو نتیجہ کیا نکلنا تھا ؟ وہ تعلق جو جذبات ؛ احساس اور اخلاص کی بنیاد پر قائم تھا اس کو ظلم ' فسطائیت اور ایسی سیاسی پریس کانفرنسوں نے ختم کرڈالا - جو کسی کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا ' وہ خود آپ نے کردیا ' تو اب غصہ کیسا - اب آپ مرے کالج سیالکوٹ کا وزٹ کریں یا لمز یونیورسٹی کا چکر لگائیں ' ہر پریس کانفرنس میں جب آپ کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ "کسی کا باپ بھی تعلق کمزور نہیں کرسکتا " تو وہ دراصل اس نفرت اور بیزاری کا اعتراف ہوتا ہے جو آپ ان کالجوں میں دیکھ کر آتے ہیں یا کالج کے گیٹ سے نکلنے کے ساتھ ہی محسوس کرتے ہیں کیوں کہ محبت ایک ایسی چیز ہے جو کسی سے زبردستی نہی کروائی جاسکتی - 5 :اپنے بچے باہر کیوں ؟ اس کانفرنس میں کہا گیا کہ "اپنے بیٹے تو خان نے باہر رکھے ہیں ' فوج میں کیوں نہیں بھیجتا " واقعی - عمران خان کو اپنے دونوں بیٹے فوج میں بھرتی کروانے چاہیے جیسے مریم نواز کا بیٹا کیپٹن جنید صفدر پی ایم اے کاکول میں ہے - جیسے میجر حسین نواز سیاچن میں تعینات ہے - جیسے کرنل حسن نواز بلوچستان میں کمیشن آفیسر ہے - جیسے لانس نائیک بلاول بھٹو وانا میں ڈیوٹی پر ہے - جیسے مشرف کے بچے عائلہ مشرف اور بلال مشرف افغان بارڈر پر تعینات ہیں ؟ کہاں ہیں باجوہ صاحب کے بچے ؟ خود آرمی چیف کے بچے - یہ اب کہاں ہیں ؟ جب جب سیاسی بیانیہ بنانا ہوتا ہے یہ بارڈر پر شہید ہونے والے اپنے سپاہیوں کو ڈھال بنالیتے ہیں - یاد رکھیں - ہر خون سرخ ہوتا ہے - اس دھرتی کے ہر بیٹے کا خون مقدم ہے - سرحد پر دشمن کے ہاتھ شہید ہونے والے لانس نائیک کا بھی اور کینیا میں اپنوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ارشد شریف Arshad Sharif کا بھی --خوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے سپاہی اور ایف سی اہلکار کا بھی اور وزیر آباد میں کسی وزیر اعظم کو ٹارگٹ کرنے والی گولی سے مرنے والے تین بچوں کے باپ معظم اور پولیس تشدد سے مرنے والے ظلے شاہ کا بھی - تحریک طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے کیپٹن کا بھی اور 26 نومبر کو اپنوں کی ہی گولیوں سے شہید ہونے والے انیس ستی کا بھی - مجھے ڈیوٹی کے دوران شہادت کو سیاسی طور پر کیش کرنے والوں کی منطق کی آج تک سمجھ نہی آئی - اگر کرونا کے مریضوں کا خیال کرتے ہویے کرونا سے مرنے والے ڈاکٹر یہ کہنے لگ جائیں کہ ہم ڈیوٹی کے دوران جان دیتے ہیں سو ہمیں ریاست مانو ' تو کیا آپ ان کا یہ مطالبہ مان لیں گے ؟ اگر جواب ہان ہے تو پھر بارڈر پر ہر شہادت کے بدلے ہم بھی آپ کو ریاست مان لینگے- 6 . آئین اجازت نہی دیتا : : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کونسا آئین اجازت دیتا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص سے سیاسی ملاقاتیں کی جائیں اور وہ پھر ریاست کے خلاف بیان دے - ڈی جی صاحب کے منہ سے لفظ "آئین " سن کر مجھے ایسا لگا کہ میں نے سنی لیون کے منہ سے لفظ "حجاب " سن لیا ہو - زرداری کے منہ سے ایمانداری " سن لیا ہو - شرابی کے منہ سے "زم زم " سن لیا ہو - جس آئین کو چار دفعہ ان کے ادارے نے توڑ پھوڑ کر اپنے کینٹ کا بٹلر بنایا ہوا ' اس میں اتنی ترمیمیں کی ہوں کہ یہ نہ پتا چلے کہ اصل والا آئین تھا کونسا ' جس کو توڑ توڑ کر اس میں صدارتی ریفرنڈمز کے پنکچرز لگاے ہوں ' جس آئین کا ذکر بس آئین کی کتاب میں ہو ' نہ وہ الیکشن کی تاریخ میں نظر آے ' نہ عدالتوں کی نظیر میں دکھائی دے ' نہ پارلیمنٹ کی تشکیل میں محسوس ہو ' نہ عوام کی تقدیر میں فنکنشنل ہو ' نہ وہ اپنے ججوں کو ہراساں ہونے سے بچاے ' نہ وہ اپنے صحافیوں کو جلاوطن ہونے سے روک پاے - اس آئین کا حوالہ سن کر آج اچھا لگا - کوئی تو ڈی جی صاحب کو بتاتا کہ یہ ووہی آئین ہے جس کو ابھی ابھی آپ نے ایک ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ کی مدد سے مسخ کیا ہے - جس کے تحت ایک سزا یافتہ اشتہاری مجرم لندن سے پریس کانفرنس کرتا تھا ' اس کی پوری پارٹی اس سے سیاسی مشورے لینے ایون فیلڈ جاتی تھی - وہ براہ راست تقریر میں اس وقت کے آرمی چیف کو تڑیا بھی لگاتا تھا - وہ جب پاکستان آیا تھا تو اشتہاری ہوتے ہویے بھی اس ملک کی ہائی کورٹ اس کو خود لینے اور اس کو آزاد کرنے ائر پورٹ پر بھی گئی تھی - آئین کا نام نہ لیا کریں ' آئین اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اب آپ کے نام لینے سے ہی ٹوٹ جاتا ہے - 7 . نو مئی ریاست پر حملہ : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان نے اسی جی ایچ کیو پر حملہ کروایا جہاں آج آپ سب صحافی بیٹھے ہیں - لیکن کسی صحافی نے ان کو یہ نہی بتایا کہ اس نو مئی کی صبح بھی کچھ ہوا تھا جب یہاں سے دس پندرہ میل دور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود سابق وزیراعظم جو خود عدالت میں پیش ہونے آیا تھا ' اس کو شیشے توڑ کر رینجرز نے گھسیٹا اور ہتک آمیز انداز میں بکتر بند گاڑی میں ڈالا - وہ حملہ آئین اور عدالت پر حملہ تھا - وہ حملہ کس نے کیا ؟ نو مئی اب اس بھینس کی طرح ہو چکی ہے کہ جس کو گوالا ٹیکے لگا لگا کر دودھ دوہنا چاہتا ہے پر اب بھینس سوکھ گئی ہے اور گوالےکو سواے گوبر کے اور کچھ نہی دے سکتی - 8 . عمران خان بھارت کے سامنے کشکول لے جاتا : اس پریس کانفرنس کا سب سے مضحکہ خیز لمحہ وہ تھا جب یہ کہا گیا کہ اس دفعہ سات مئی کو جب بھارت سے جنگ ہوئی ' اگر عمران خان ہوتا تو وہ کشکول لے کر بھارت سے صلح اور بات چیت کی بھیک مانگتا - یہ بات حقیقت سے اتنی ہی دور تھی جتنی پاکستانی اسٹبلشمنٹ آئین سے اور ڈی جی ای ایس پی ار پروفیشنلزم سے دور ہیں - اگر کوئی غیرت مند صحافی وہاں بیٹھا ہوتا تو ڈی جی صاحب کو یاد دلاتا کہ فروری 2019 میں جب بھارت سے لڑائی ہوئی تھی تب وزیر اعظم عمران خان نے کیا کہا تھا " ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہی ' ہم جواب دیں گے " - اور جو جواب دیا تھا وہ دنیا نے دیکھا تھا - اس کو بتایا جاتا کہ جو جہاز گرے تھے اور جو پائلٹ پکڑے گیے تھے وہ کس کے دور میں ہوا تھا - اس کے برعکس کون "شریف " سا کشکول لے کر بھارت کے بیانیے کو بڑآھوا دیتا رہا اس کیلئے ان کو یاد دلانا چاہیے تھا کہ کس نے ممبئی حملوں کے بعد یہ کہا تھا کہ پاکستان اس میں ملوث تھا اور کس کے بیان کو بھارت گواہی کے طور پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے کر گیا تھا - یہ بہت بنیادی اور کامن سینس کی بات ہے کہ جب فورا جنگ ہورہی ہوتی تو جنگی جواب ہی ہوتا ہے ' لیکن جنگ سیٹل ہونے کے بعد آپ نے ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کا راستہ ہی ڈھونڈنا ہوتا ہے ' اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر کس منہ سے پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت کی ہے ؟ جنگ جاری رکھنے کی رٹ کیوں نہں لگائی ؟ یہ اتنی بنیادی بات ہے کہ اگر کسی انسان کی تعلیم ایف سے زیادہ ہو تو اس کو یہ بات بخوبی سمجھ آجاے- 9 . پروفیشنل زبان : اس پریس کانفرنس میں کی خبر پختنخوہ کے چیف منسٹر کے سکیورٹی فورسز پر اس الزام کو کہ وہ وہاں کے لوگوں کے بارے میں ہتک آمیز زبان استعمال کرتے ہیں خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں اور کیمروں کے سامنے صحیح ثابت کردیا یہ کہ کر "جو بھونکتا ہے اس کو بھونکنے دو " - آپ نے یہ محض ایک شخص کو "بھونکنے والا " نہیں کہا بلکہ چار کروڑ لوگوں کے انتخاب کیلئے یہ لفظ استعمال کیا ہے جو آپ کے پروفیشنل ' ڈسپلن اور جمہوی ہونے کی تاریک نشانی ہے - 10. این ڈی یو میں جانے والوں کو میر جعفر کیوں کہا ؟ پریس کانفرنس میں اس بات پر بہت غصہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کے جو لوگ این ڈی یو کی تقریب میں گیے ان کو کیوں میر جعفر کہا ؟ - این ڈی یو جانے پر آج جن پر غصہ کیا جارہا ہے وہ تحریک انصاف کے لوگ ہیں ' جو غصہ کر رہا ہے وہ تحریک انصاف کا چیئر مین ہے تو پهر آج یہ ہمدردی کیوں ؟ حیرت کی بات ہے - تحریک انصاف کے ان ممبرز سے اتنی ہمدردی ؟ یہی ادارے تحریک انصاف کے لوگوں کو بات بات پر غدار ' انڈیا کا یار اور اغیار کا ہتھیار کہتے رہے - کتنے نامعلوم افراد کے ذریے ایف ای آر کروائی گیں کہ فلاں تحریک انصاف کے ممبر نے ریاست مخالف بات کی ہے ' فلاں پر کیس ڈال دیا ' فلا کو گرفتار کرلی جب ایک ادارہ ایک باقاعدہ فریق بن جائیگا ' ایک سیاسی پارٹی بن جائیگا ' اور ذاتی انتقام کیلئے کسی مقبول لیڈر کو جیل میں رکھے گا ' اس کے خلاف ایسی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کریگا ' یہ پارٹی کے چیئر مین کا نام لینا ہی میڈیا پر بند کروا دیگا تو پهر اس پارٹی کے چیئر مین کو پورا استحقاق ہے کہ وہ اپنے لوگوں پر غصہ کرے کہ وہ کیوں کسی ایسی تقریب میں گیے جو ایک مخالف فریق کی ہے جو اس وقت فسطائیت کا استعارہ بنا ہوا ہے ؟ پارٹی اس کی ' لوگ اسکے ' یہاں بیگانی شادی میں عبدللہ کیوں اتنا دیوانہ ہوا پهر رہا ہے ؟ 11. تم ہو کون ؟ Who Are You پریس کانفرنس میں عمران خان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ " تم ہو کون ؟ کیا چاہتے ہو ؟ بہت حیرت کی بات ہے - یعنی ایک ایکزیکٹیو کے ماتحت کابینہ کے ایک ادارے وزارت دفاع کے سیکریٹری کے ماتحت کام کرنے والی گریڈ اکیس بائیس کے افسر کو یہ نہی پتا کہ جس کی وہ بات کر رہا ہے وہ اس ملک کا سابق وزیر اعظم ہے اور اسی ایکزیکٹیو کا سابق چیف ایکزیکٹو ہے جس کے یہ تنخواہ دار ہیں - لیکن سوال تو وہاں بیٹھے صحافیوں کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ تو عوام کا منتخب نمائندہ ہے ' آپ کون ہیں ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ایسی سیاسی کانفرنس کرنے کا ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ڈنڈے کے زور پر آئین بدلنے کا ؟ یہ وہ سوال ہیں جو اپنے اندر ہی جواب رکھتے ہیں بس پوچھنے کیلئے صحافتی حمیت اور فریڈم آف ایکسپریشن چاہیے جو پاکستان میں مقید ہے یہ تھی پریس کانفرنس - نہایت پروفیشنل - ڈسپلن - مہذب اور غیر سیاسی - اس میں سیاست نہی تھی پر عمران خان تھا - اس میں کہی کسی پارٹی کیلئے جانبداری نہیں تھی بس تحریک انصاف کو تھوڑی سی تڑیاں تھی ' چیف منسٹر کی پی کیلئے تھوڑی بدلفاظی تھی - یہ سب کہ کر آئی ایس پی ار نے بہت عاجزی اور پروفیشنل طریقے سے سب سے درخواست کی کہ "ہم غیر سیاسی لوگ ہیں - پلیز - ہمیں سیاست سے دور رکھیں " - شکریہ ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja Maryam Riaz Wattoo Ryan Grim Javeria Siddique
Dr Waqas Nawaz45,883 Aufrufe • vor 7 Monaten

After the US physicians, now the UK physicians of Pakistani origin are raising their voice against the human rights violation in Pak and in favor of Imran Khan and the constituition of Pakistan. Hats off to dr Nida for these efforts. Atif Khan Ch Fawad Hussain
Dr Waqas Nawaz154,086 Aufrufe • vor 3 Jahren

"ماضی کے منیب فاروق اور غریده فاروقی " غلاظت اور کالک میں ایک بہت خاص بات ہوتی ہے - یہ ہمیشہ اندر چھپی نہی رہ سکتی - کالک باہر آتی ہی آتی ہے اور اپنا داغ دکھاتی ہی دکھاتی ہے - اسی غلاظت عیاں ہو کر اپنا تعفن واضح کرتی ہی کرتی ہے کیوں کہ اس کی سرشت میں ہی یہی ہے کہ یہ خود اپنی قباحت عیاں کرے - اس کلپ میں بھی یہی ہورہا ہے - ماضی کی غلاظت اور کالک آج خود کو خود عیاں کر رہی ہے اور ایسا کرتے ہویے ذرا بھی شرم ' بھرم ' ندامت ' ہزیمت اور قباحت محسوس نہی کر رہی - خیر ان کا حال دیکھ کر بھی ان کے ماضی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر آج یہ مصلحت کے شامی ہیں تو تب بھی کونسا کوئی “چی گویرا” ہونگے - آج بھی گوبر کو "گجریلا" ثابت کرتے ہیں اور تب بھی بلغم کو "مقیت شہد" لکھتے ہونگے میں نے ہمیشہ لکھا ہے کہ ہر دور میں ایسے صحافی رہے ہیں جو اپنے قلم سے آمروں اور ڈکٹیٹرز کے بوٹوں میں تسمے ڈالتے رہے ہیں - آج اگر آپ کو غریده فاروقی ' طلعت حسین ' ' منیب فاروق ' حسن ایوب اور کامران شاہد نظر آتے ہیں تو ماضی میں بھی مجیب شامی جیسے صحافی موجود رہے ہیں جو آج بہت فخر سے بتا رہے ہیں کہ "ہم کس طرح ڈکٹیٹر ضیاء کو قائل کرتے تھے کہ سیاسی جلسوں پر پابندی ہونی چاہیے' بیانیہ تو وہ ہے جو ہم جیسے صحافی آپ کیلئے بنا ہی دیں گے ' لیکن آپ کو انتخاب سے پہلے احتساب کروانا چاہیے وغیرہ وغیرہ" اسی طرح بیس تیس سال بعد کوئی غریده فاروقی' کوئی حسن ایوب' منیب فاروق بیٹھا ہنس ہنس کر بتا رہا ہوگا کہ کس طرح ہم 26 نومبر 2024 کا دفاع کرتے تھے’ کس طرح چھبسویں اور ستائیسویں ترامیم کو “آب حیات” قرار دیتے تھے ‘ اور کس طرح آمروں کو کہتے تھے کہ فروری 2024 کے انتخاب میں آپ جو مرضی گند کرلیں ‘ ہم عوام میں آپ کی مرضی کا بیانیہ بنالیں گے - اس مملکت خدا داد نے بھی کیا نصیب پایا ہے - آمر ملے تو ہٹلر ' منصف ملے تو سوداگر سیاستدان ملے تو گداگر اور صحافی ملے تو ......... بنجر (جو آپ سننا چاہ رہے ہیں وہ لفظ میں نہیں لکھونگا کیوں کہ میں گالیاں نہیں لکھتا 😊 )
Dr Waqas Nawaz35,731 Aufrufe • vor 7 Monaten

یہ صاحب اس وی لاگ میں جس معدے کے ڈاکٹر کا ذکر کر رہے ہیں وہ میں ہوں جس نے ان پر پی ٹی وی پر کینسر کے بارے میں اس جھوٹ کو کہ "کرایو تھراپی کیموھراپی کا متبادل ہے " غلط ثابت کیا تھا کیوں کہ یہ کینسر کے علاج کے بنیادی اصول کے ہی منافی ہے کیوں کہ کیوتھراپی اس وقت لگتی ہے جب لیمف نوڈ (lymph node) تک کینسر پھیل چکا ہے یعنی سٹیج تھری - اور اس وقت کوئی کرایو تھراپی کوئی کوبلیشن مشین اس کا علاج نہی کرسکتی - میری اس بات پر یہ مجھے بلاک کر کے بھاگ گیے اور آج اس وی لاگ میں کہ رہے ہیں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر پر کیسے بات کرسکتا ہے - ان کی یہ جہالت چیک کریں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر کے بنیادی اصولوں جو سب ڈاکٹروں کو پتا ہوتے ہیں ' ان پر بات نہیں کرسکتا لیکن ایک نام نہاد صحافی جس کا میڈیسن سے دور دور تک لینا دینا نہی وہ یہ بات پورے اعتماد سے کرسکتا ہے - اس بارے میں میں صحافی شفا یوسفزئی Shiffa Z. Yousafzai کے ساتھ ایک تفصیلی پروگرام بھی کر چکا ہوں جس میں میرے ساتھ ڈاکٹر فیضان ملک جو ایک انکالوجسٹ ہیں وہ بھی موجود تھے اور اس بات کو ہم نے تفصیل سے غلط ثابت کیا تھا کہ کرایو تھراپی یا کوبلیشن مشین کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل نہیں ہے - اسی جہالت کی وجہ سے اس وقت بھی پی ٹی وی نے ان کو شو کاز نٹس اشو کیا تھا کہ آپ نے کینسر سے متعلق غلط بات کی ہے اور یہ بات آج بھی اپنی جگہ قائم ہے - اس شخص کا عمران خان اور شوکت خانم کینسر ہسپتال سے بغض اس قدر زیادہ ہے کہ یہ اس کی آگ میں کینسر کے مریضوں کو بھی جھونک سکتا ہے -
Dr Waqas Nawaz45,473 Aufrufe • vor 10 Monaten

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja
Dr Waqas Nawaz24,674 Aufrufe • vor 6 Monaten

How it is not Politics? - Talking about a political leader for 120 min. How it is not Politics? -How it is not Politics? Calling him "Security threat" when national and international surveys show more than 70 % popularity for him, and when his party holds simple majority in parliament despite all rigging and manipulations. This narrative was busted even then and there by the journalists' questions who reminded DGISPR that in the past Fatima jinnah, Liaqat Ali khan, Hussain Sehrwardi, Bacha khan and Zulfiqar Ali Bhutto were also labelled "anti state" by the establishment. - How it is not Politics? Calling him "traitor like Mujeeb" when there is no evidence of traitorship against Mujeeb objectively. The Government of Pak filed "Agartala conspiracy case" against Mujeeb in 1968 and then took it back in 1969 itself. When nowhere in Hamood ur rehman commission report, the word "traitor" is mentioned for mujeeb, rather he was the most popular leader then securing 160 seats vs 82 seats of PPP. Imran Khan's scenario is no different. Securing more than 170 seats and yet a party with 17 seats was given the government, and the leader of the majority was incarcerated. By calling Khan traitor like Mujeeb, the DG ISPR admits that even today Yahya like mentality is governing. How it is not Politics? - How it is not Politics? Calling the CM of 40 million people of KPK "Barking" - the so called inflated narrative that it is the most professional and disciplined institution has been self-bulldozed. -How it is not Politics? Criticizing a party chair man for scolding his own party members for joining the NDU meeting. That was a big surprise to me. The same establishment has been calling PTI members "traitors and foreign agents and anti state" for the last 3 years, and has been filing FIRs against them through "namaloom" people, yet their anger about an internal affair of a political party is surprising when the Chairman calls a few "mir jafar". And why would he not? When a state institution has become a political party in totality; doing such press conferences, doing such political victimization; then why would the party chairman of a real political party not forbid his members to go to sessions of such institution who is no more neutral. And how criticizing such response of Khan is not Politics? How it is not Politics? Calling him "a beggar taking "kashkol" in front of India" if he were the PM at the time of May war? It is factually wrong. When in Feb 2019, India did surgical strike, it was PM Imran Khan who gave them a befitting reply. The way anger wipes away basic facts is genuinely surprising. How it is not Politics? Calling him "mentally sick" when all the medical check ups in the jail proved that he is mentally sane and sound proves nothing but a knee jerk response to his naming of the Army chief 2 days ago. How it is not Politics and personal grudge? The pressor starts with Imran Khan and ends with Imran khan, and then with a plea that "Keep us away from the Politics" I am surprised. How it is not Politics? ----------------------------------------------------- Ryan Grim Moeed Pirzada
Dr Waqas Nawaz26,453 Aufrufe • vor 7 Monaten