Zorakh Baloch's banner
Zorakh Baloch's profile picture

Zorakh Baloch

@ZorakhBaloch13,053 subscribers

Activist | Nationalist | Voice Against State Violence |

Shorts

غلام نبی شمبانی وزیراعلی بلوچستان بننے سے صرف دو قدم دور ! اس سال کا تمغہ دلالی غلام نبی شمبانی کو ملنا چاہیے !

غلام نبی شمبانی وزیراعلی بلوچستان بننے سے صرف دو قدم دور ! اس سال کا تمغہ دلالی غلام نبی شمبانی کو ملنا چاہیے !

30,071 次观看

جب آپ کوئی بڑا سور دیکھتے ہیں تو سب سے پہلے کس کا نام آپ کے ذہن میں آتا ہے؟

جب آپ کوئی بڑا سور دیکھتے ہیں تو سب سے پہلے کس کا نام آپ کے ذہن میں آتا ہے؟

139,108 次观看

یہ ویڈیو کوئٹہ تفتان شاہراہ پر مل کے مقام پر سیکورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ کی بتائی جا رہی ہے جہاں سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرنے والے مسافر کے مطابق شاہراہ پر موجود مسلح افراد نے سیکورٹی فورسز کی آنے والی گاڑیوں پر چار بم دھماکے کیے ہیں اور دونوں طرف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، اس ویڈیو میں سب سے بڑا اور واضح انکشاف یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ سادہ لباس میں مسلح افراد موجود ہیں جو مکمل ملٹری ٹریننگ کے مطابق پرون پوزیشن میں لڑ رہے ہیں، یہی وہ تربیت یافتہ ایجنٹس ہیں جو جب کسی جھڑپ میں مارے جاتے ہیں تو ریاست، میڈیا اور سیکورٹی ادارے انہیں مزدور، ملنگ، قوال، نہتے مسافر، بے گناہ شہری، نائی یا ٹھیکیدار قرار دے کر ان کے مسلح وجود سے مکمل انکار کر دیتے ہیں، یہ منافقانہ اور جعلی بیانیہ کب تک چلے گا کہ جب یہ لوگ سیکورٹی کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہوں تو ان کی فوجی تربیت کا ذکر نہیں کیا جاتا اور جب انہیں نشانہ بنایا جائے تو انہیں فوراً بے گناہ شہری بنا دیا جاتا ہے، حقیقت اب اس ویڈیو میں خود دیکھ لیں۔

یہ ویڈیو کوئٹہ تفتان شاہراہ پر مل کے مقام پر سیکورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپ کی بتائی جا رہی ہے جہاں سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرنے والے مسافر کے مطابق شاہراہ پر موجود مسلح افراد نے سیکورٹی فورسز کی آنے والی گاڑیوں پر چار بم دھماکے کیے ہیں اور دونوں طرف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، اس ویڈیو میں سب سے بڑا اور واضح انکشاف یہ ہے کہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ سادہ لباس میں مسلح افراد موجود ہیں جو مکمل ملٹری ٹریننگ کے مطابق پرون پوزیشن میں لڑ رہے ہیں، یہی وہ تربیت یافتہ ایجنٹس ہیں جو جب کسی جھڑپ میں مارے جاتے ہیں تو ریاست، میڈیا اور سیکورٹی ادارے انہیں مزدور، ملنگ، قوال، نہتے مسافر، بے گناہ شہری، نائی یا ٹھیکیدار قرار دے کر ان کے مسلح وجود سے مکمل انکار کر دیتے ہیں، یہ منافقانہ اور جعلی بیانیہ کب تک چلے گا کہ جب یہ لوگ سیکورٹی کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہوں تو ان کی فوجی تربیت کا ذکر نہیں کیا جاتا اور جب انہیں نشانہ بنایا جائے تو انہیں فوراً بے گناہ شہری بنا دیا جاتا ہے، حقیقت اب اس ویڈیو میں خود دیکھ لیں۔

24,709 次观看

یہ بنگال نہیں بلوچستان ہے 🌺

Sensitive content

یہ بنگال نہیں بلوچستان ہے 🌺

78,255 次观看

جو زندہ یزید کو للکارۓ اس کو بلوچ کہتے ہیں ♥️

جو زندہ یزید کو للکارۓ اس کو بلوچ کہتے ہیں ♥️

37,076 次观看

اس کی آنکھوں میں دیکھو ! کہاں سے لگ رہا ہے کہ یہ گرفتاری سے ڈر گئی ہے۔تم ان کو گرفتار کر کے ڈرانا چاہتے تھے اور یہ تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہیں۔ ڈوب مرو بے غیرت دشمن !

اس کی آنکھوں میں دیکھو ! کہاں سے لگ رہا ہے کہ یہ گرفتاری سے ڈر گئی ہے۔تم ان کو گرفتار کر کے ڈرانا چاہتے تھے اور یہ تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہیں۔ ڈوب مرو بے غیرت دشمن !

12,036 次观看

Videos

ZorakhBaloch's profile picture

جو بشیر زیب آج آپ کو ہونڈا 125 دوڑاتے نظر آ رہا ہے، وہ کبھی کوئٹہ پریس کلب میں کھڑے ہو کر اپنے مطالبات سیاسی اور پرامن طریقے سے پیش کیا کرتا تھا، مگر 2014 میں بلوچستان کے سیاسی کارکنوں پر ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد جب بہت سے بلوچ رہنماؤں کو قتل کر دیا گیا تو بشیر زیب بھی انڈر گراؤنڈ ہو گئے کیونکہ ان کے مطالبات سننے والا کوئی نہ تھا اور جو کوئی بھی اپنے حقوق سیاسی طور پر مانگتا تھا اسے چپ کرا دیا جاتا تھا یا قتل کر دیا جاتا تھا، ان حالات نے بشیر زیب کو قلم کے بجائے بندوق اٹھانے پر مجبور کر دیا اور بی ایل اے میں شامل ہوگئے۔ آج وہ بشیر زیب بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کے ایک سینئر کمانڈر بن چکے ہیں، وہ تنظیم جو کبھی صرف گیارہ افراد پر مشتمل تھی آج اس کی ریکروٹمنٹ ہزاروں میں ہو چکی ہیں، پہلے بی ایل اے کئی طرف سے محدود حملے ہوتے تھے مگر اب جب سے بشیر زیب نے کمانڈ سنبھالی ہے بی ایل اے کا سکیل کافی وسیع ہو چکا ہے۔ اب بات کوئٹہ سمیت پورا بلوچستان ہائیجیکنگ تک پہنچ چکی ہے، اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان حالات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ان کے ذمہ دار آخر کون ہیں، یہ فیصلہ آپ خود کریں !

Zorakh Baloch

239,562 次观看 • 7 个月前

ZorakhBaloch's profile picture

میڈیا پر سرفراز مسوری اپنے ترجمانوں کے ساتھ بیٹھ کر بڑے بڑے دعوے کرتا ہے اور حکومت کی طرف سے ٹوئٹر اکاؤنٹس کے ذریعے دروغ گوئی و دھوکے کا سہارا لیا جاتا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر حکومتی ارکان میڈیا پر دعویٰ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات مکمل کنٹرول میں ہیں اور ایک ایک انچ پر ریاستی رٹ قائم ہے، آج بلوچستان کے جیوانی علاقے میں کوسٹ گارڈ ہیڈ کوارٹر پر خودکش دھماکے کی اطلاعات ملیں تو فوراً ریاستی اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ حملہ ناکام بنا دیا گیا اور چار حملہ آور مار دیے گئے لیکن حملہ آوروں نے ویڈیو اپ لوڈ کر دی جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پورا کوسٹ گارڈ ہیڈ کوارٹر زمین بوس ہو گیا ہے اور حملہ آور بھی صرف ایک تھا، اطلاعات ملی ہیں کہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کر لی ہے جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 30 کوسٹ گارڈ اہلکار مارے گئے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے کس قدر جھوٹ بولا جا رہا ہے اور حقائق کو کس طرح چھپایا جا رہا ہے، کہاں ہیں وہ سرفراز مسوری اور حکومتی ارکان جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ حملہ آوروں نے زمہ داری بھی قبول کر لی اور ویڈیو بھی اپ لوڈ کر دی لیکن سیکورٹی فورسز اور بلوچستان حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی پریس ریلیز جاری نہیں ہوئی بلکہ ریاستی سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے صرف حملہ ناکام ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ باقی مجھے آج تک پتہ نہیں چلا کہ پاکستان میں حملہ ناکام یا کامیاب کرنے کا کرائٹیریا کیا ہے ؟

Zorakh Baloch

28,775 次观看 • 2 个月前

ZorakhBaloch's profile picture

ہوشیار 🚨 اسلام آباد اور لاہور میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھائی جا رہی ہے۔ ان میں سے کچھ کو کوہ سلیمانی لہجہ اور کچھ کو مکرانی لہجہ سکھایا گیا ہے۔آپ کو بتاتا چلوں کہ کوئی بھی زبان کے بنیادی الفاظ، عام جملے یا رٹی رٹائی باتیں یاد رکھنا یا کیمرہ کے سامنے بولنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ بہت سے لوگ روس، چین اور دیگر ممالک میں سکالرشپس پر پڑھنے جاتے ہیں اور وہاں کی زبان چھ ماہ سے ایک سال کے اندر آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ اب جبکہ بلوچستان میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور بلوچ مسلح تنظیموں کی جنگی حکمت عملی بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اب خواتین نے بھی جنگ کا حصہ بننے کے لیے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ پنجاب کے سو کالڈ تجزیہ کار جن میں مختلف ٹاؤٹسس، کچھ پشتون لڑکیاں بھی، استعمال کی گئیں لیکن بلوچ عوام نے ان کو مسترد کیا، براق ڈیجیٹل، آزاد ڈیجیٹل سمیت ہر فارمولا ناکام ہوا کیونکہ بلوچ ان کے اصل چہرے جانتے ہیں۔ پاکستان کو بیانیہ کی جنگ (narrative warfare) میں بلوچ خواتین کی ضرورت پڑی، لیکن بلوچستان کی مقامی خواتین اس قسم کے پروپیگنڈا کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہوئیں (سوائے چند ایک کے)۔ اس لیے ریاست نے پنجاب اور دیگر شہروں کی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھانا شروع کر دیا۔آج کل انسٹاگرام، ایکس (ٹویٹر)، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بلوچی زبان بولتی ہوئی خواتین ایک مخصوص بیانیہ چلانے کی کوشش کر رہی ہیں، جو مکمل طور پر سرکار کی سرپرستی اور حمایت میں ہو رہا ہے۔ واضح کرتا چلوں اگر ان کا بائیو ڈیٹا نکالا جاۓ تو ان میں سے ہر ایک کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔ ان خواتین کا بلوچستان یا بلوچ کاز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Zorakh Baloch

18,916 次观看 • 2 个月前

ZorakhBaloch's profile picture

Mood 🔥 .2.0

Zorakh Baloch

16,501 次观看 • 7 个月前

没有更多内容可加载