#کراچی

#کراچی میں پورٹ ہونے کئ وجہ سے heavy vehicles سڑکوں سے گزرتی ہیں، اسکی سڑکوں پر یہ pavers کبھی کامیاب نئیں ہوسکتے۔لیکن ناجانے کس “قریبی” کا ان pavers کا کاروبار ہےجسےنوازنےکیلئےشہر کی سڑکوں و انڈر پاس پر پیورز لگائےجارہےہیں،کسی کومعلوم ہوتو مجھےضرور بتاے۔
Amber Danish28,630 просмотров • 2 месяцев назад

اس طرح #کراچی شہر کو برباد کیا جارہا ہے اگر میں اپنی گلی میں گھر کے ساتھ والی سڑک پہ سڑک کھدوانا ا شروع ہی کرونگی تو پولیس آئے گی پھر میئر کو یہ سب کیسے پتا نہیں چل آرہا ؟ گمان میں کنٹونمنٹ بورڈ کے میئر کی ناک کے نیچے Azaz Syed Dr Shama Junejo ٹھیکیدار میئر ہے شہر کا
BeenaKhalidShamim(بینا خالد شمیم)17,790 просмотров • 3 месяцев назад

یہ کراچی کے میئر ہیں، جو واٹر بورڈ (KWSB) کے چیئرمین بھی ہیں۔ شاہراہ بھٹو سے گزرنے والی گاڑیوں کی گنتی تو انہیں بالکل معلوم ہے، مگر عید سے صرف ایک دن پہلے پورا #کراچی پانی کی ایک بوند کو ترس رہا ہے، اس کی کوئی فکر نہیں نیز کراچی میں پانی کی کمی کا الزام وہ وفاق پر لگا رہے ہیں لیکن یہ بھول گئے کہ 22 سال سے تاخیر کا شکار K-IV پروجیکٹ پر ورلڈ بینک نے جو اعتراض لگا کر کام روک دیا ہے، وہ بھی پیپلز پارٹی کی ہی حکومت کے دور میں شروع کیا گیا augmentation کا کام تھا۔ مگر انہیں جھوٹ بولتے ذرا سی شرم نہیں آرہی۔ شہر کو ضرورت سے 50 فیصد کم پانی میسر ہے اور اس کا بھی آدھا حصہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے ذریعے چوری ہو جاتا ہے یا ٹینکر مافیا کے پاس چلا جاتا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ حکومت کس کی ہے؟ پانی کی چوری کسے روکنی تھی؟ لوگ مجبوراً ٹینکروں سے مہنگا پانی خرید کر گھروں میں بھرواتے ہیں، کیونکہ واٹر بورڈ کی بچھائی گئی پانی کی لائنوں میں سے پچاس فیصد شہر کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملتا۔ یہ وہی میئر اور واٹر بورڈ چیئرمین ہیں جنہوں نے نہ ٹینکر مافیا کو روکا، نہ اس سادے سے حل پر عمل درآمد کروا سکے کہ: کراچی کی اصل ضرورت 1200 MGD ہے، جبکہ دستیاب پانی صرف 550 MGD ہے۔ اگر پورے شہر میں ایک دن چھوڑ کر (alternate days) منصفانہ طور پر پانی سپلائی کیا جائے تو ہر گھر تک ایک دن چھوڑ کر پانی ضرور پہنچ سکتا ہے۔ مگر ایسا ہوا تو ٹینکر مافیا کا کاروبار ختم ہو جائے گا، اور یہ کون نہیں چاہتا؟ آگے عوام خود سمجھدار ہے۔
Amber Danish10,393 просмотров • 1 месяц назад

دو دن پہلے #کراچی بھینس کالونی روڈ نمبر 08 الحبیب بینک کے سامنے ڈکیتی میں بائیک چھینی گئی جبکہ بائیک میں ٹریکر لگا ہوا تھا ٹریکر کی مدد سے بائیک کی معلومات کی گئی تو یوسف گوٹھ میں بائیک موجود تھی جب موجودہ مقام پر پہنچے تو گھر میں گھسنے نہیں دیا گیا ۔ سکھن پولیس سے مدد طلب کی اور پھر اسکے بعد بائیک کی لوکیشن تبدیل ہوگئی بائیک بھینس کالونی موڑ پی ایس او کے پمپ پر پہنچ گئی ۔CCTV کیمرہ کی مدد سے معلوم ہوا کہ بائیک دو پولیس اہلکار پیٹرول پمپ پر چھوڑ کر گئے ہیں پولیس اہلکاروں کا تعلق تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن سے بتاجارہا ہے۔ شہر بھر میں جگہ جگہ قائم یہ کچی آبادیاں ، گوٹھ جرائم کی آماجگاہ بنتے جارہے ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیس ان جرائم کو کنٹرول کرنے کے بجائے ہر طرح کے جرائم کی سرپرست بنی ہوئی ہے یا پھر پولیس اہلکار خود براہ راست ان جرائم میں ملوث ہیں ۔ پولیس کے کردار پر اہل ِکراچی و سرمایہ داروں کو اعتماد نہیں، اس لئے کراچی مسلسل مسائل کا گڑھ بنتا چلاجارہا ہے ۔
Sყҽԃ Mσɳιʂ Jαʋҽԃ83,211 просмотров • 2 лет назад

#کراچی میں ایک ہی دن کے اندر 180 سے زائد ڈکیتیوں اور موبائل چھیننے کے واقعات ہوتے ہیں۔ اور ابھی ڈمپرز اور ٹینکرز کے ہاتھوں روز کچلے جانے والے شہریوں کا حساب تو باقی ہی ہے۔ یہ CCTV فوٹیجز صرف پچھلے ایک ہفتے کی ہیں, جہاں موبائل چھیننے سے لے کر کروڑوں کی ڈکیتیاں، سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے۔ 👇🏻👇🏻 لیکن سندھ حکومت کے لیڈران اور ان کی پیڈ سوشل میڈیا ٹیم، جو دن رات کراچی والوں کا مذاق اڑاتی ہے، شاید تب ہی جاگیں گے جب یہی حالات ان کے اپنے دروازے تک پہنچیں گے۔
Amber Danish12,284 просмотров • 2 месяцев назад

ڈرون اڑانے والی سرکار سے ہوشیار! یہ ہیں #کراچی کے اصل حالات۔۔۔
Amber Danish15,626 просмотров • 3 месяцев назад

سترہ سال میں سندھ حکومت اپنے دارلخلافہ #کراچی کو پانی تک نہ دے سکی۔ پھر پنجاب سے مقابلہ کریں گے تو لوگ تو ہنسیں گےہی ۔ 😊
Amber Danish29,370 просмотров • 9 месяцев назад

نارتھ #کراچی بلال کالونی کی حدود سیکٹر 5E اوصاف ہاسپٹل کے سامنے خواتین سے موبائل چھیننے کی کوشش دونوں ڈکیٹ پکڑے گئے عوام نے برا حال کر دیا۔عوام نے ڈاکوؤں کو پکڑ کر زووکوب کے بعد جلانے کی کوشش کی۔ Zia ul Hassan Lanjar وزیر داخلہ سندھ اور پولیس کی نااہلی کی وجہ سے عوام نے سڑکوں پر عدالتیں لگالی ہیں ۔ یہ صرف شروعات ہے یہاں تو پولیس ان لٹیروں کو بچاکر لے گئی مگر وہ وقت بھی دور نہیں جب رہزنی ،لوٹ مار ، سے تنگ آئی ہوئی عوام جگہ جگہ ان لٹیروں کو زندہ جلارہی ہوگی ۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں پورے سندھ میں لٹیروں ڈاکوؤں نے لوٹ مار قتل و غارت مچا رکھی ہے آپ کی پولیس خود لوٹ مار میں شامل ہے ۔ عوام پر رحم کریں اور جان چھوڑیں ۔ پولیس میں سیاسی بھرتی شدہ جرائم پیشہ عناصر کو معطل کریں مقامی لوگوں کو پولیس میں بھرتی کریں ۔ زیرِ حراست ڈاکوؤں کی شناخت عبداللہ ولد محمد الیاس اور شاہزیب ولد حنیف کے ناموں سے ہوئی ملزمان کے قبضے سے 2 عدد TT پسٹل 30 بور لوڈ میگزین اور موٹر سائیکل بھی برآمد ہوا۔موٹر سائیکل سرجانی ٹاؤن کی حدود سے چھینی ہوئی ہے جسکا مقدم بھی درج ہے ۔ ملزم شاہزیب کا کریمنل ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے جو اس سے قبل اقبال مارکیٹ تھانے سے گرفتار ہوچکا ہے۔
Sყҽԃ Mσɳιʂ Jαʋҽԃ60,030 просмотров • 2 лет назад

آگ لگنے پر ریسکیو کا کام کیسے ہوتا ہے وہ آج #لاہور کے توسط سےپورے پاکستان نے دیکھا۔ گل پلازہ میں 88 جانیں اور 1200 خاندانوں کو بیروزگار کرنے میں صرف اورصرف ریسکیو ٹیم و فائر ڈیپارٹمنٹ کی غفلت شامل ہے، جسے مان کر سندھ حکومت کوپورے #کراچی سے مافی مانگنی چاہئے- #GulPlazaTragedy
Amber Danish13,604 просмотров • 5 месяцев назад

