#دہشتگردوں_کے_سیاسی_وکیل

“دہشت گردی پر خاموشی، ریاستی کارروائی پر سیاست” #دہشتگردی_پر_خاموشی #دہشتگردوں_کے_سیاسی_وکیل 📍دہشت گردی پر خاموشی اور آپریشن پر شور؛ یہی دوہرا معیار ہے۔ جب کوئٹہ میں ٹرین کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، درجنوں معصوم جانیں گئیں، تو BNP قیادت کی فوری پریس کانفرنس، سخت مذمت اور عوامی احتجاج کہاں تھا؟ 24 مئی 2026 کو کوئٹہ کے قریب ٹرین پر خودکش حملے میں کم از کم 23 معصوم افراد شھید اور 70 سے زائد زخمی ہوئے، اور BLA نے ذمہ داری قبول کی۔ آپ کی زبان اُس وقت خاموش رہی۔ 📍جب ریاست دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے تو اسے “جبر” کہنا دراصل دہشت گردی کے بیانیے کو سیاسی کور دینا ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت قانون سے بالاتر نہیں، اور کوئی بھی علاقہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جا سکتا۔ 📍سوال سیدھا ہے: BNP قیادت نے BLA کی دہشت گردی، ٹرین حملے، معصوم شہریوں کے قتل اور بلوچ خواتین و گھروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کھلی مذمت کیوں نہیں کی؟ خاموشی بھی ایک سیاسی مؤقف ہوتی ہے۔اور اس معاملے میں تو دھشت گردوں کی بھر پور حمایتی۔ 📍یہ بیانیہ کہ فورسز دہشت پھیلا رہی ہیں، اصل حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہے۔ دہشت گرد جب گھروں، آبادیوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر کارروائیاں کریں تو ریاست خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔کینسر کا علاج گہرائی میں جائے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اور دھشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا نہایت ضروری۔ 📍کسی بھی شخص کے قانونی حقوق محفوظ ہیں، مگر قانون کے نام پر دہشت گردوں کو سہولت، پناہ یا سیاسی تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کا راستہ سب کے لیے موجود ہے، مگر آپریشن میں رکاوٹ ڈالنا ریاستی عمل میں مداخلت ہے۔ 📍بی این پی کو فیصلہ کرنا ہوگا: وہ دہشت گردی کے خلاف کھڑی ہے یا دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائی کے خلاف؟ دونوں کشتیوں میں سفر اب نہیں چلے گا۔ 📍بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس نے ماضی میں بھی مسافروں، شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ 2025 کے جعفر ایکسپریس حملے اور حال ہی میں کئے گئے ٹرین حملے میں مسافروں کو یرغمال بنایا گیا، اور حملہ آوروں نے خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ اور آپ کی زبان اس پر خاموش ہے۔ 📍جو لوگ ہر آپریشن کو “چادر و چار دیواری” کا مسئلہ بنا دیتے ہیں، وہ پہلے یہ بتائیں کہ دہشت گردوں کو گھروں اور آبادیوں میں پناہ دینے کا حق کس آئین نے دیا ہے؟ چادر و چار دیواری کا احترام اپنی جگہ، مگر دہشت گردی کے لیے اس تقدس کو ڈھال بنانا ناقابل قبول ہے۔ 📍یہ پروپیگنڈا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ سیاسی قیادت، میڈیا اور شہریوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، نہ کہ دہشت گردوں کے لیے ہمدردی کا ماحول بنایا جائے۔ 📍ریاست کا پیغام واضح ہے: بے گناہ شہریوں کا تحفظ، دہشت گردوں کا خاتمہ، اور قانون کی بالادستی۔ جو بھی شخص یا جماعت دہشت گردی کو سیاسی رنگ دے گی، اسے عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ 📍دہشت گردی پر خاموشی اور آپریشن پر چیخ و پکار؛ BNP کا یہ دوہرا معیار اب بے نقاب ہو چکا ہے۔ ریاستی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ 📌بلوچستان نیشنل پارٹی نے ایک بار پھر اپنا اصلی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ فورسز کے دہشت گردی مخالف آپریشن کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے ایک طویل بیان جاری کر کے ریاستی اداروں پر جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے۔ یہ بیان نہ صرف حقائق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہید جوانوں کے خون پر مبنی گھناؤنا پروپیگنڈا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو علاقے کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنائے ہوئے تھے۔ 📌 جب مشتبہ دہشت گرد گھروں کو ہتھیاروں کا ڈپو بنا لیتے ہیں اور فورسز پر حملہ کرتے ہیں تو فورسز ا کارروائی کرتی ہیں۔ لیکن بی این پی والوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی۔ ان کے نزدیک فورسز کا کام صرف خاموش بیٹھنا اور دہشت گردوں کو آزاد گھومنے دینا ہے۔ 📌احتجاج کے نام پر خواتین کو آگے کر کے مردوں کو پیچھے چھپانا ان کا پرانا طریقہ ہے۔ یہ لوگ امن کے نام پر دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایک طرف نوجوانوں کو گمراہ کر کے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں دوسری طرف جب فورسز انہیں ختم کرنے نکلتی ہے تو انسانی حقوق اور چادر و چار دیواری کا رونا روتے ہیں۔ 📌یہ ڈرامہ اب بہت ہو چکا۔بلوچستان کے غریب عوام ایک سال سے زیادہ عرصے سے انہی عناصر کی وجہ سے کرب میں ہیں۔ سڑکیں اڑ رہی ہیں، جوان شہید ہو رہے ہیں، ترقی رک گئی ہے۔ لیکن بی این پی والوں کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ انہیں صرف اپنے سیاسی مفادات اور ریاست مخالف عناصر کی حفاظت کی فکر ہے۔ 📌بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ریاست کے خلاف زہر گھول رہی ہے۔
Dr. Saniya Salaar10,464 views • 2 months ago
No more content to load