正在加载视频...

视频加载失败

18 سے کم عمر کا نابالغ کہنا کون سی شریعت میں لکھا ہے اور پھر قانون کو اس حد تک سخت کرنا کہ 18 سال سے کم عمری کی شادی کو زنا بالجبر اور جنسی زیادتی سمجھا جائے گا لیکن لطیفہ یہ ہے کہ اگر اس نکاح سے اولاد...

136,926 次观看 • 10 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-
2:39

Sensitive content

الله تعالیٰ میاں عمران ارشد کو مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائیں کہ وہ معاشرے میں دینی مسئلے کے نام پر پھیلی ہوئی اس قبیح رسم "حلالہ" (دراصل زنا) کے خلاف جہاد کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں (آمین)- یہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ "حلالہ" کوئی شرعی اصطلاح نہیں- عرف عام میں حلالہ کا معنی یہ ہے کہ: جب شوہر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کے بعد اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے- اب اگر وہ عدت گزارنے کے بعد کسی اور مرد سے نکاح کر لے اور ازدواجی تعلق بھی قائم کرلے، پھر اس کے بعد شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اتفاقی طور پر طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے- تاہم اس میں طلاق کی شرط کے ساتھ حلالہ کی غرض سے نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نکاح کرنے والے اور جس شخص کے لیئے یہ نکاح کیا جائے دونوں کو اللہ تعالی کی رحمت سے دور بتایا ہے- شریعت نے مرد کو تین طلاقوں کا حق دیا تھا تاکہ بوقت ضرورت وہ اپنے حق کو استعمال کرسکے لیکن جب وہ اپنا یہ حق ضائع کردے تو شریعت نے اس کے لیئے یہ سزا مقرر کی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح بھی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلے- جب اس نے شریعت کی نگاہ میں سب سے ناپسندیدہ عمل (تین طلاقوں) کا ارتکاب کیا تو شریعت نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی بیوی اب اس پر حرام ہے- نکاح ساتھ نبھانے کیلئے کیا جاتا ہے نہ کہ کچھ وقت بعد چھوڑنے کی شرط کے ساتھ- اور اگر ایسی شرط رکھ دی جائے تو یہ نکاح نہیں بلکہ زنا ہوتا ہے-

Amir H. Qureshi

56,451 次观看 • 12 天前

اس ویڈیو میں نظر انے والی بچی کی عمر تقریبا 13 یا 14 سال ہے اور اس کی طلاق ہو چکی ہے اس کو بچے کی کسٹڈی ملی ہے کہاں ہے وہ ماہرین وہ عقل والے لوگ جو بار بار کہتے ہیں بچوں کی جلد از جلد شادی کروا دی جائے میرا اپ لوگوں سے ایک سوال ہے اب اس بچی کا فیوچر کیا ہوگا اتنی کم عمری میں یہ ایک ماں بن چکی ہے اور اسے طلاق بھی ہو چکی ہے وہ تمام لوگ جو یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں بچوں کی شادی 12 13 14 سال کی عمر میں کی جائے ان کے خلاف قانون بننا چاہیے کم از کم شادی کی عمر 18 سال مقرر ہو اور اس کو لاگو بھی کیا جائے اور جتنے بھی لوگ یہ دلیل دیتے ہیں پہلے وقتوں میں جلدی شادی ہوتی تھی پہلے وقتوں میں لوگوں کی خوراک خالص تھی لوگ میچور ہوتے تھے ایک 15 سال کی بچی اس ٹائم پہ بچی نہیں ہوتی تھی وہ پورا گھر سنبھال لیتی تھی اور مرد بھی مضبوط ہوتے تھے یہ والی جنریشن بہت کمزور ہے فزیکلی اور ایموشنلی براہ کرم اس طرح کے پروپیگنڈے بند کر دیں کہ بچوں کی 12 سال کی 13 سال کی عمر میں شادی کر دی ہے بہت اچھا کیا ہے

Tayyba Awan 🌸

14,326 次观看 • 1 个月前

میں یہ سوچتا ہوں کہ محسن نقوی نے کس capacity میں یہ باتیں کی ہیں، وہ کابینہ کے رکن ہیں، اگر ناکام ہو چکا ہے تو پھر یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ مستعفی ہو جائےیا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آجائے، نوکری بھی اسی تنخواہ پر کرنی ہے اور باتیں بڑی بڑی کرنی ہیں تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں ، '''چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا بڑا ہے مجھ کو اکثر ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے''' یہاں پر پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل ہے آج بھی ہے کل بھی تھا وہ ملک کا آئین ہے آئین کے مطابق ملک کو چلاو، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، قانون سازی شروع ہو جائے گی، عوام میں خوداعتمادی بھی آجائے گی، اصل میں ہماری مرضی کی حکومت ہونی چاہئے، ہم پر جبرا حکومت مسلط نہ کی جائے لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں جیسے واقعی عوام کی حکومت ہے جبکہ یہ بھی انہی کی حکومت ہوتی ہیں اور پیچھے لگام ان کے پاس ہوتی ہے، مولانا فضل الرحمن کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل

Siddique Jan SMT

15,684 次观看 • 1 个月前

18 سال سے کم عمر شادی کے حوالے سے قانون سازی پر ہم نے ایوان میں کہا تھا کہ اس بل کو پہلے اسلامی نظریاتی کاونسل میں بھیجا جائے جو شرعی رہنمائی کا قانونی ادارہ ہے،لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی۔ اس کے بعد ایوان کے فلور پر وزیر خارجہ صاحب نے میری گفتگو کا جواب دیا اور میری ان سے فون پر بھی بات ہوئی مگر مزید کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے قوانین کے پیچھے لکھا ہوتا ہے کہ یہ UN,FATF اور IMF جیسے بیرونی اداروں کے مطالبے پر قانون سازی کی گئی ہے،ہم نے اپنے آئین کا حلف لیا ہے، اقوام متحدہ کا حلف تو نہیں لیا،پھر کیوں اس طرح قرآن و سنت کے خلاف قوانین بنائے جارہے ؟ آپ کی قانون سازی سے مسلح گروہوں کو تقویت مل رہی ہے،ہماری طویل جدوجھد اور صلاحیتوں کا ضیاع ہے،پوری مذھبی حلقہ کی نمائندگی آئین اور قانون کے ساتھ کھڑی ہے اور اسکی یہ سزا دی جارہی ہے؟ ہم یہ کسی طور پر قبول نہیں کرسکتے،ہم ایسی قانون سازی کو نہیں مانتے اور عوامی سطح پر اسکی بھرپور خلاف ورزی کریں گے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

12,305 次观看 • 8 个月前

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی غیر ملکی میڈیا کے نمائندہ گان سے ملاقات مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کیا اور امریکی صدر کو خط لکھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے ۔مولانا فضل الرحمان فلسطین کی سرزمین کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اور فلسطینی حالت جنگ میں ہیں جنگ میں کوئی بھی اقدام کیا جاسکتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے آیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ براہ راست غزہ شہر پر حملے کیے جا رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہسپتالوں سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیلی کو جنگی مجرم قرار دے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے ۔ مولانا فضل الرحمان قضیہ فلسطین کے براہ راست فریق فلسطینی ہیں ان کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان آج انسانیت کا قتل ہورہا ہے ۔بچوں بوڑھوں اور خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے کیا اس کے بعد بھی انسانی حقوق کا علمبردار کہا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان کیا ان کو یاد نہیں کہ نازنیوں نے ان کا کیسے قتل عام کیا کیا اس کا بدلہ فلسطینیوں سے لیا جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خواب بکھر گیا اب دنیا کو سوچنا ہوگا ایک اور زاویہ سے ۔ مولانا فضل الرحمان اسرائیل اس خطے میں فرعون کے جانشین ہیں ،موسی کے جانشین فلسطینی ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم نے مطالبہ کیا کہ او اوئی سی کا سربراہی اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ان کا شکر گذار ہوں ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطینی قیادت کا بھی مطالبہ تھا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمان اس میں حماس کے نمائندوں کو دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نامکمل ہے ۔ مولانا فضل الرحمان جے یو آئی کا اوّل روز سے موقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان پشاور کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے ۔ مولانا فضل الرحمان امریکہ میں برطانیہ فرانس یورپ میں مظاہرے ہوئے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ان کو بھی عوام کا احترام کرنا ہوگا ورنہ جمہوریت کی بات چھوڑ دیں ۔ مولانا فضل الرحمان اگر بند کمروں میں فیصلے کرنے ہیں تو پھر عوام کی کوئی حیثیت نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان انڈیا کی میڈیا پر تعجب ہے کہ ان کو اتنی تکلیف کیوں ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اب پر حملہ کیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان اگر اپنی سرزمین کو حاصل کرنے کی جدوجہد دہشت گردی ہے تو پھ گاندھی جی کی جدوجہد کو کیا نام دیں گے ۔ مولانا فضل الرحمان کیا یہ حق فلسطین کو نہیں دیں گے جن کے زمین پر قبضہ ہے ؟ مولانا فضل الرحمان فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان تحرکیوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا ۔ مولانا فضل الرحمان ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان جو آزادی کی جنگ لڑتا ہے کاج اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ؟ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو موقف اختیار کیا ہے اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان ہم سیاسی لوگ ہیں جو موقف فلسطین کے حوالے سے الیکشن سے پہلے ہے وہی الیکشن کے بعد بھی ہوگا ۔ مولانا فضل الرحمان نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے تصور کی نفی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان فلسطین نے پاکستان کے موقف کو جراتمندانہ کہا اور کہا کہ وہ قیادت کرے ۔ مولانا فضل الرحمان برطانیہ سپر طاقت تھا امریکہ نے اس کی جگہ لینی تھی ۔اقوام متحدہ کا دفتر امریکہ میں تھا ۔ مولانا فضل الرحمان پاکستان نے اس وقت بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور قیام پاکستان کے بعد ۔ مولانا فضل الرحمان حماس کے حوالے سے کمزور پہلو کو تلاش کیا جارہا ہے کیا اس کا سیاسی پہلو نہیں۔ مولانا فضل الرحمان اسلامی دنیا کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں مزاحمتی تحریک کے ختم ہونے کا تصور ختم ہوگیا ۔ مولانا فضل الرحمان اگر امریکہ وزیر خارجہ ان کی حمایت کو کھلم کھلا آتا ئے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی حمایت کریں ۔ مولانا فضل الرحمان کارگل پر حملہ کیا تو کیا دنیا سے پوچھا تھا یہ سیکرٹ ہوتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان دنیا کو یہ میسج چلا گیا کہ فیصلہ فلسطینی کریں گے کسی اور کو یہ حق نہیں۔ مولانا فضل الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

40,212 次观看 • 2 年前