正在加载视频...

视频加载失败

9 سال کی لڑکی کی شادی ہوسکتی ہے، بالغ بچی کو شادی کے لیے کسی عقلی دلیل کی ضرورت نہیں، نہ ہی ذہنی بلوغت کی شرط ہے، شریعت کا حکم ہے کہ اگر لڑکی بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کر دی جائے، بھلے وہ آٹھ سال میں...

130,111 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

اس ویڈیو میں نظر انے والی بچی کی عمر تقریبا 13 یا 14 سال ہے اور اس کی طلاق ہو چکی ہے اس کو بچے کی کسٹڈی ملی ہے کہاں ہے وہ ماہرین وہ عقل والے لوگ جو بار بار کہتے ہیں بچوں کی جلد از جلد شادی کروا دی جائے میرا اپ لوگوں سے ایک سوال ہے اب اس بچی کا فیوچر کیا ہوگا اتنی کم عمری میں یہ ایک ماں بن چکی ہے اور اسے طلاق بھی ہو چکی ہے وہ تمام لوگ جو یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں بچوں کی شادی 12 13 14 سال کی عمر میں کی جائے ان کے خلاف قانون بننا چاہیے کم از کم شادی کی عمر 18 سال مقرر ہو اور اس کو لاگو بھی کیا جائے اور جتنے بھی لوگ یہ دلیل دیتے ہیں پہلے وقتوں میں جلدی شادی ہوتی تھی پہلے وقتوں میں لوگوں کی خوراک خالص تھی لوگ میچور ہوتے تھے ایک 15 سال کی بچی اس ٹائم پہ بچی نہیں ہوتی تھی وہ پورا گھر سنبھال لیتی تھی اور مرد بھی مضبوط ہوتے تھے یہ والی جنریشن بہت کمزور ہے فزیکلی اور ایموشنلی براہ کرم اس طرح کے پروپیگنڈے بند کر دیں کہ بچوں کی 12 سال کی 13 سال کی عمر میں شادی کر دی ہے بہت اچھا کیا ہے

Tayyba Awan 🌸

14,326 次观看 • 1 个月前

گوٹھ ظفر علی عمرانی، تحصیل تمبو میں بگٹی قبیلے کے دو خاندانوں کے درمیان ایک کم عمر بچی کی شادی کے معاملے پر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک فریق کم عمر بچی کی شادی پر اصرار کر رہا ہے، جبکہ بچی کے والد ہزار خان بگٹی کا موقف ہے کہ بچی نابالغ ہے اور اس کی شادی نہیں کی جا سکتی۔ اس معاملے پر قبائلی رہنما میر عبدالصمد لہڑی کی رہائش گاہ پر جرگہ منعقد ہوا، جہاں بچی کی کم عمری کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم تین سال تک شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم الزام ہے کہ دوسرا فریق جرگے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کر رہا اور شادی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بچی کے والد کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے، جن میں زرعی زمین پر موجود پلال کو آگ لگانے اور ذہنی دباؤ ڈالنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ہزار خان بگٹی نے ایس ایس پی نصیرآباد، ڈی آئی جی نصیرآباد، متعلقہ انتظامیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے نوٹس لینے اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ کم عمری کی شادی پاکستان کے قوانین کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔

Tania Bazai 🇵🇰 🇵🇰

41,227 次观看 • 3 个月前

پاکستان کے بدنام زمانہ حکیم شہزاد المعروف لوہا پاڑ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، جہاں انہوں نے نویں جماعت کی طالبہ سے اپنی پانچویں شادی کرلی ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں نئی نویلی دلہن کے چونچلے دیکھ لیں ۔۔ کہا جا رہا ہے بچی کی عمر تیرہ سال ہے ۔ تو پھر اس بچی کا نکاح کس نے پڑھایا ؟ کیونکہ ریاست نے تو منع کیا ہوا ہے ۔۔ اس شخص پاس کوی پھکی کوئ گیدڑ سنگھی نہی ہے یہ شادیاں کرتا ہے دنیا کو یہ دیکھانے کیلے کہ اس کے معجون میں اتنی پاور ہے کہ بچیاں خود اس کو نکاح کی دعوت دیتی ہیں ۔۔ وہم کی ماری قوم پھر سے وہم کا شکار ہو کر حکیم کی پھکی کھانے پر مجبور ہو جاتی ہے اور حکیم انکی دولت سے اگلی شادی کی تیاری شروع کر دیتا ہے ۔۔ اب اس بچی کی عمر دیکھیں اگر یہ بالغ نہی تو ان کے والدین نے کس مجبوری میں بیٹی بیاہ دی ہے ۔۔ اگر حکیم کی جگہ کوی اور ہوتا تو اب تک ریاست اسے کم عمر بچی سے شادی کے جرم میں جیل میں ڈال چکی ہوتی ۔۔ سب پیسے کا کمال ہے غربت قرض تنگدستی سے مجبور والدین اپنے بچیوں کی شادیاں ان ادھیڑ عمر لوگوں کے ساتھ بیاہنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔۔ یہ لمحہ فکریہ ہے ۔۔

Saleem Speaks

172,968 次观看 • 6 个月前

بنگلہ دیش میں کم عمری کی شادی کا ایک دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں صرف 13 سال کی بچی ماں بننے کے بعد اپنے ہی بچے کی تحویل کے لیے عدالت پہنچ گئی۔ رپورٹس کے مطابق انامیکا اختر جوئی کی شکیب میا سے فیس بک پر جان پہچان ہوئی۔ شکیب کی عمر 22 سال تھی، جبکہ انامیکا صرف 11 سال کی تھی جب دونوں کی شادی کردی گئی۔ 13 سال کی عمر میں انامیکا کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، جس کی عمر اب سات ماہ بتائی گئی ہے۔ چند ماہ بعد مبینہ طور پر شوہر اور ساس نے بچہ اپنے پاس رکھ لیا اور انامیکا کو گھر سے نکال دیا۔ نابالغ ماں نے ڈھاکا لیگل ایڈ آفس میں شکایت درج کرائی اور معاملہ عدالت تک پہنچا۔ جج کے حکم پر پولیس نے بچے کو بازیاب کروا کر ماں کے حوالے کردیا۔ سماعت کے دوران جج نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انامیکا خود ابھی ایک بچی ہے، لیکن وہ ماں بن چکی ہے۔ یہ واقعہ کم عمری کی شادی، بچوں کے تحفظ اور والدین کی ذمہ داریوں سے متعلق کئی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ #nptv #nptvdigital #nationpulsetv #bangladesh #childmarriage #childprotection #legalrights #worldnews

NPTV Digital

54,822 次观看 • 1 个月前

دوسری شادی کے حق میں دلیلیں دینے والے معصومہ کے کردار کو جسٹیفائی کر رہے ہیں کہ دوسری شادی گناہ تو نہیں ہے، دوسری شادی عین شریعت ہے،عرض ہے کہ معصومہ نے پہلے ٹی ٹی کے بیٹے کو ہی پھنسانے کی کوشش کی تھی،جب وہ موسیٰ کو فائل دینے جانے سے پہلے گاڑھی لال لپ اسٹک لگایا کرتی تھی،موسی اس دو نمبر عورت کے دو نمبر ہتھکنڈوں میں نہیں آیا جب وہ موسیٰ سے ناامید ہو گئی تو ٹی ٹی کی طرف چلی گئی،کیونکہ اسے موسی یا ٹی ٹی کی پہلی دوسری شادی سے کنسرن نہیں تھا۔ اس کا کنسرن تھا راتوں رات امیر ہونا،ٹی ٹی(توقیر تاثیر )اس کے جال میں پھنس گئے،بقول معصومہ کے "ارے اماں ٹی ٹی کی عمر کے مردوں کو کوئی لڑکی ہنس کر دیکھ لے تو بیچارے ہفتہ بھر بھول نہیں پاتے، میں تو اسکی جوان بیوی ہوں" ڈرامے کی شروع کی قسطوں میں جب ریحام اور اس کا بیٹا معصومہ کے باپ کو دیکھنے ہسپتال جاتے ہیں، اس دن معصومہ جس طریقے سے ریحام کے ہینڈ بیگ اور انگوٹھیوں کی قیمتوں کا اندازہ لگا رہی ہوتی ہے، اس نے اسی دن اس فیملی کو ٹارگٹ کر لیا تھا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی،اگر اس طرح کی دوسری شادی کرنا شریعت ہے تو ضرور کریں سب،اپنے ساتھ کی بیوی جو ساتھ جوان تھی اور ساتھ ہی بوڑھی ہورہی ہو، اس پر جوان لڑکی کو دوسری بیوی بناکر یہ جتانا کہ بوڑھی صرف تم ہورہی ہو، میں نہیں پھر بیٹے کو ایم ڈی کی سیٹ سے فارغ کرکے اس کے کریڈٹ کارڈز بلاک کر دینا، اس کی شادی میں اس لئے شرکت نہ کرنا کہ اس نے سوتیلی ماں سے بدتمیزی کیوں کی، یہی پچھتاوے چھوڑتا ہے ویسے اس طرح کے اتفاقات کے لئے ٹی ٹی کی طرح بے انتہا امیر ہونا اور معصومہ کی طرح خوبصورت اور مکار ہونا بھی ضروری ہے۔

شبانہ شوکت

109,151 次观看 • 1 年前