Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

1947ء سے2013ء تک پختونخوا کا قرضہ تقریباً 100 ارب روپے تھا۔ پی ٹی آئی کے 9 سالہ دوراقتدار میں پختونخوا کا قرضہ 1000ارب تک پہنچ گیا۔70 سال میں تقریباً 100 ارب جبکہ صرف 9 سال میں 900 ارب تک کا قرضہ لیا گیا۔ اسکے ذمہ دار عمران خان، محمودخان،...

10,308 Aufrufe • vor 3 Jahren •via X (Twitter)

10 Kommentare

Profilbild von Engineer Syed Muhammad Umar Farooq Shah
Engineer Syed Muhammad Umar Farooq Shahvor 3 Jahren

@AbbasShah_ Haider Khan Sor salaam. 🫡🫡🫡 From Sydney Australia

Profilbild von Hamid Gandapor
Hamid Gandaporvor 3 Jahren

Sharam Karo

Profilbild von Ladla Khan
Ladla Khanvor 3 Jahren

♥️♥️♥️

Profilbild von Salman Khan
Salman Khanvor 3 Jahren

Ta khom tol Mardan ke funs use kare woo Peshawar la de se karee wo agha rata lag owaya.

Profilbild von صہیب
صہیبvor 3 Jahren

Na sabot shty na sa shty bs da zan na lagya ye ghen saran ye wlaah ka charsady nam akhwa sok khbra awre

Profilbild von Zia Ul Haq
Zia Ul Haqvor 3 Jahren

تا تہ چی اکرم درانی حکومت پریخودی نو حکومت 6 ارب قرضدار وو تا قرضہ 97 ارب کہ پریخودا

Profilbild von Saifullah Khan
Saifullah Khanvor 3 Jahren

دا ٹولو نا جٹ غل ھو تای مارا دالا انسانا

Profilbild von Amjad Khan Khel
Amjad Khan Khelvor 3 Jahren

Der begairat sarhy ye

Profilbild von Lakhkar Khan Hoti
Lakhkar Khan Hotivor 3 Jahren

امیر حیدر خان ہوتی زندہ باد

Profilbild von Prof Agha Syed
Prof Agha Syedvor 3 Jahren

آگر باچا خان بابا کے پیروکار ہو تو لانے والوں کا نام ضرور لیں

Ähnliche Videos

"پاکستان میں 2022 میں جب پی ڈی ایم ون کی حکومت آئی اور شہباز شریف وزیراعظم بنے تو پاکستان کا مجموعی قرضہ 43 ہزار 500 ارب روپے تھا۔ 30 جون 2026 تک یہ قرضہ بڑھ کر 99 ہزار 500 ارب روپے ہو چکا ہے۔ میرے خیال میں اب تک قرضے کی 100 ٹریلین روپے کی سینچری بھی مکمل ہو چکی ہوگی، کیونکہ یہ اعداد و شمار 30 جون 2026 کے ہیں۔ یعنی تقریباً چار سال میں مجموعی طور پر 56 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا۔ پاکستان کے قیام سے لے کر 2022 تک ملک کا مجموعی قرضہ 43 ہزار 500 ارب روپے تھا، جبکہ اس کے بعد اس میں مزید 56 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ جب خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت آئی تو یہ پروپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ خیبرپختونخوا قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، صوبے پر 3 ہزار ارب روپے اور 2 ہزار ارب روپے کا قرضہ چڑھ چکا ہے۔ یہ تمام باتیں ڈس انفارمیشن پر مبنی تھیں۔ 2024 میں خیبرپختونخوا کا مجموعی قرضہ 634 ارب روپے تھا، جو گزشتہ دو سال میں بڑھ کر تقریباً 800 ارب روپے ہوا ہے۔ لیکن اس میں ایک اہم اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ہم نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے ایک الگ اکاؤنٹ قائم کیا ہے، جس میں آج، جب ہم یہ بات کر رہے ہیں، تقریباً 250 ارب روپے موجود ہیں۔ اگر اس رقم کو بھی مدنظر رکھا جائے تو 2024 کے مقابلے میں ہم نے اپنے قرضے کو الٹا تقریباً 62 ارب روپے کم کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ یہ کہتے تھے کہ خیبرپختونخوا تاریخی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور صوبائی حکومت مسلسل قرضے لے رہی ہے، ان کے سامنے اصل صورتحال اور اعداد و شمار موجود ہیں" مشیر خزانہ مزمل اسلم Muzzammil Aslam

PTI

18,810 Aufrufe • vor 3 Tagen