Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13سال.. سال 2013 تک خیبر پختونخوا کا مجموعی تاریخی قرضہ صرف 80 ارب روپے تھا اور اب یہ قرض 809 ارب روپے ہو چکا اور کُل واجبات ملا کر 1.8 ٹریلین (1800 ارب) روپے کے قریب پہنچ چکا ہے پی ٹی آئی کے...

14,978 просмотров • 22 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ایف بی اۤر نے گزشتہ 23 برس(مالی سال 2003-04 سے لیکر موجودہ مالی سال 2025-26 کے پہلے 10 ماہ) کے عرصے کے دوران عوام کی جیبوں سے تقریباً 84 ہزار ارب روپے مالیت کے بھاری ٹیکسز نکالے ہیں۔۔ مالی سال 2003-04 کے دوران ایف بی آر کا وصول شدہ ٹیکس 521 ارب روپے تھا، جو گزشتہ مالی سال 2024-25 کے دوران بڑھ کر 11744 ارب روپے ہوگیا۔۔یعنی صرف 22 برس کے عرصے میں عوام کی جیبوں سے نکلوایا گیا ٹیکس لگ بھگ 23 گنا بڑھ گیا۔۔۔۔یہ صرف ایف بی اۤر کی جانب سے عوام سے وصول کردہ ٹیکسز کی تفصیلات ہیں، ان میں صوبائی ٹیکسز/وصولیاں اور دیگر وفاقی فیسیں، وصولیاں اور پیٹرولیم لیویز/دیگر کئی قسم کی لیویز وغیرہ(نان ٹیکس ریوینیو) کے اعدادوشمار شامل نہیں۔۔اگر انکو شامل کرلیں تو ان 23 برسوں میں عوام سے وصول شدہ رقوم کی مالیت میں مزید ہزاروں ارب کا اضافہ ہوجاتا ہے۔۔۔دوسری جانب سٹیٹ بینک اۤف پاکستان کے جاری شدہ اعدادوشمار کے مطابق 84 ہزار ارب روپے کے ٹیکس دینے والی عوام کا یہ ملک مارچ 2026 تک 97307 ارب روپے کا مقروض بھی ہو چکا ہے اور صرف گزشتہ ایک برس کے عرصے میں ملک کے قرض میں 7533 ارب روپے کا بھاری اضافہ ہوا ہے۔۔۔

Kismat Khan

10,367 просмотров • 3 месяцев назад

وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت پیر کے روز وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات سے متعلق اہم اجلاس۔ متعلقہ حکام کی جانب سے وزیراعلی کو وفاق کے ذمے صوبے کے واجبات اور دیگر مالی امور پر تفصیلی بریفنگ۔ • وزیراعلی کی متعلقہ حکام کو یہ معاملات وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھانے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینے کی ہدایت، ایک مہینے کے اندر اس سلسلے میں ہوم ورک مکمل کرکے پلان آف ایکشن مرتب کیا جائے، وزیراعلی کی ہدایت۔ • وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات کا کیس مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لئے تمام متعلقہ دستاویزات تیار رکھی جائیں، صوبے کے واجبات اور آئینی حقوق کے لئے تمام دستیاب فورمز پر بھر پور آواز اٹھائی جائے گی، علی امین گنڈاپور • وفاقی حکومت کے ساتھ معاملہ موثر انداز میں اٹھانے کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں، وفاق سے شنوائی نہ ہونے کی صورت میں عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا، علی امین گنڈاپور • اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت پن بجلی کے خالص منافع جات کی مد میں وفاق کے ذمے 1510 ارب روپے واجب الادا ہیں، نیشنل گرڈ کو بیچی جانے والی صوبائی حکومت کی بجلی کی مد میں چھ ارب روپے بقایا جات ہیں، بریفنگ • سابقہ قبائلی اضلاع کا صوبے کے ساتھ انتظامی انضمام ہوگیا ہے مگر مالی انضمام نہیں ہوا، سابقہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے صوبے کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، بریفنگ • صوبے کی موجودہ آبادی کے تناسب سے این ایف سی میں صوبے کا شیئر 19.64 فیصد بنتا ہے، جبکہ صوبے کو اس وقت این ایف سی کا صرف 14.16 فیصد شیئر ملتا ہے، بریفنگ • صوبے کی موجودہ آبادی کے حساب سے صوبے کو این ایف سی میں سالانہ 262 ارب روپے ملنے چاہئیں، ضم اضلاع کے دس سالہ ترقیاتی پلان کے تحت صوبے کو 500 ارب روپے کے مقابلے میں اب تک صرف 103 ارب روپے ملے ہیں، بریفنگ

Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa

10,442 просмотров • 2 лет назад

ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کو پاور سیکٹر میں نمایاں خدمات اور اصلاحات کے اعتراف میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ آپ کو پتہ ہے کہ کیوں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو ہلال امتیاز کے لیے چنا گیا ؟ کچھ حقائق ارادو وشمار کے ساتھ حاضر خدمت ہیں پاکستان پاور سیکٹر اصلاحات کی کامیابیاں فی یونٹ ریلیف صنعتی صارفین: 18.75 روپے فی یونٹ کمی گھریلو صارفین: 5.40 روپے فی یونٹ کمی اضافی بجلی پر صنعت و زراعت کا خصوصی پیکیج: 23 روپے فی یونٹ سبسڈی میں کمی (ٹیکس دہندگان کے لیے بچت) سبسڈی 1287 ارب سے کم ہو کر 893 ارب روپے رہ گئی دیگر اہم کامیابیاں گردشی قرض میں 780 ارب روپے کی کمی 1225 ارب روپے کے فنڈنگ معاہدے سے قرض کے خاتمے کی جانب پیشرفت نقصانات ایک سال میں 591 ارب سے گھٹ کر 397 ارب روپے 193 ارب روپے کی مجموعی بچت آئی پی پی معاہدوں کی تجدید سے قومی خزانے کو 3400 ارب روپے کی بچت 7967 میگاواٹ غیر ضروری پلانٹس ختم، 17 ارب ڈالر کی بچت بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز شمسی توانائی پر منتقل گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی منصوبے کا آغاز 2030 تک 60 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے 118 ہیلپ لائن اور اپنا میٹر اپنی ریڈنگ ایپ سے اوور بلنگ ختم ای وی چارجنگ ٹیرف میں 44 فیصد کمی (71 سے 39 روپے فی یونٹ) پی وی سیس کے خاتمے سے فی یونٹ 35 روپے کی اضافی کمی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں خود مختار اور پیشہ ور بورڈز کا قیام ڈسکوز کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری سال 2025-26 میں بجلی کی طلب میں 3.8 فیصد اضافہ گوادر میں مستحکم بجلی فراہمی کے لیے اقدامات جاری سمارٹ میٹرز کی تنصیب اور ڈیجیٹلائزیشن سے تقسیم میں نقصانات میں کمی

Awais Leghari

15,188 просмотров • 3 месяцев назад

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا 44 واں اجلاس! کابینہ نے اسلامی اصولوں کے تحت صوبے میں خیبر پختونخوا جنرل تکافل کمپنی اور خیبر پختونخوا فیملی تکافل کمپنی کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ جنرل تکافل کے لیے 2 ارب روپے اور فیملی تکافل کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 1990 میں خیبر بینک کے بعد یہ صوبے میں اس نوعیت کا پہلا نیا ادارہ ہوگا۔ جنرل تکافل صحت اور دیگر رسکس کی کوریج فراہم کرے گی، جبکہ فیملی تکافل وفات کی صورت میں خاندان کی مالی کفالت کو یقینی بنائے گی۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا سیف سٹیز منصوبے کے لیے 3,825 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی۔ منصوبہ پہلے مرحلے میں پشاور اور دوسرے مرحلے میں ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان تک توسیع پا چکا ہے۔ پشاور میں بعض اہداف پر 80 فیصد اور دیگر پر 50 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے۔ دائرۂ کار میں اضافے کے باعث اضافی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کمیٹی نے سابقہ فاٹا میں رسالدار اور دفادار کی پوسٹوں کے انضمام سے متعلق سفارشات پیش کیں، جن کے تحت انضمام سے رہ جانے والی 16 پوسٹوں کے نامنکلیچر کی منظوری دے دی گئی ہے۔ قواعد و ضوابط کی تکمیل پر ان پوسٹوں کو پولیس میں ضم کیا جائے گا۔ سابقہ فاٹا کے طلبہ کے لیے میڈیکل اور دیگر تعلیمی اداروں میں مختص کوٹہ سسٹم سے متعلق لائحہ عمل بھی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، جسے جنوبی وزیرستان کے دو اضلاع میں تقسیم کے بعد میرٹ کی بنیاد پر برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے اسلام آباد میں سمال انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے پلازہ میں نیشنل فنانس کمیشن کے لیے خیبر پختونخوا سیل قائم کرنے، خیبر پختونخوا ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ کی تشکیلِ نو، اور رشکئی سی پیک اکنامک زون کے اطراف سیکیورٹی اور دیگر ترقیاتی ضروریات کے لیے 199 ملین روپے کے فنڈ کی منظوری بھی دی۔ خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 168 ملین روپے کی گرانٹ اور خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے بجٹ تخمینوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے مانسہرہ گریویٹی واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 49 ملین روپے کی لاگت سے چار گاڑیوں کی خریداری کی بھی اجازت دی۔ اجلاس میں سال 2025 کے سیلاب کے دوران رکشوں، پیٹرول پمپوں، دکانوں، گاڑیوں، چکیوں اور فیکٹریوں کے مالکان کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاونت کی منظوری دی گئی۔ حکومت خیبر پختونخوا کا احساس ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ، جو رواں سال 207 ملین روپے سے شروع کیا جائے گا۔ یہ پروگرام تین سالوں پر مشتمل ہوگا، جس کے تحت ہر سال 850 قابل نوجوانوں کو سکولوں میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ کابینہ نے کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات 1,144 اسکول لیڈرز کو مزید مواقع دینے کی منظوری بھی دی ہے۔ اسی طرح مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم نو مریضوں کو مہنگے علاج کے اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے پشاور کے چھ بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کو رورل ہیلتھ سینٹرز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے لیے پروجیکٹ لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی۔ پانچ آؤٹ سورس کیے گئے ہسپتالوں کے لیے نئے میکانزم کے تحت معاہدے کرنے، پاک بھارت جنگ کے شہداء اور زخمیوں کے لیے خصوصی معاوضہ پیکیج، اور سابق رکن متحدہ علماء بورڈ شہید مفتی فضل رحمان کے صاحبزادے شہید نور رحمان کے لیے سولین وکٹم کمپنسیشن کے تحت ایک ملین روپے کے پیکیج کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے رولز آف بزنس میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔ گوجرانوالہ میں پنجاب پولیس کی حراست میں ماورائے عدالت خیبر پختونخوا کے دو شہریوں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت، کابینہ نے اس واقعے کی انکوائری کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ #CMKP #KPCabinetMeeting #SohailAfridi

Government of KP

12,386 просмотров • 8 месяцев назад

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا یونیورسٹی آف پشاور کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا اچانک دورہ - طلبہ سے براہِ راست ملاقات! وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف پشاور کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا غیر رسمی اور اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے طلبہ سے براہِ راست گفتگو کی۔ وزیراعلیٰ نے وائس چانسلر کو ہدایت جاری کی کہ جامعہ کی مالی خودکفالت کے لیے قابلِ عمل تجاویز تیار کی جائیں تاکہ یونیورسٹیاں بیرونی انحصار کے بغیر مؤثر طور پر چل سکیں۔ ملک پر قابض کرپٹ ٹولے نے قومی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ این ایچ پی کی مد میں وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے، این ایف سی میں ضم اضلاع کے 1375 ارب روپے اور وعدہ شدہ سات سالہ فنڈز میں سے 532 ارب روپے اب تک واجب الادا ہیں۔ اصوبے کے حقوق کے لیے مشترکہ کوشش کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ صوبے کی تمام جامعات میں صوبائی حقوق کے موضوع پر ڈیبیٹس منعقد کی جائیں گی، جبکہ آئندہ بجٹ میں طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور خصوصی مالی پیکجز شامل کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت انٹرن شپ پالیسی پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع ملیں گے۔ ساتھ ہی ہاسٹل میں مقیم طلبہ کے لیے کم نرخوں پر کھانا فراہم کرنے کے لیے تجاویز بھی طلب کی گئیں۔ بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں نے نقصان پہنچایا، مگر اب امن و استحکام کے لیے مربوط حکمتِ عملی پر کام ہو رہا ہے۔ عمران خان کے دور میں جی ڈی پی گروتھ 6.2 فیصد تک پہنچی تھی جبکہ آج 2.6 فیصد رہ گئی ہے، جو واضح ناانصافی ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ صوبائی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ - اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی کمپیوٹر لیب کی فوری اپ گریڈیشن - اکنامکس، پولیٹیکل سائنس اور آئی ایم اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس کی 5 کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے سولرائزیشن #CMKP #SohailAfridi

Yar Muhammad Khan Niazi

18,048 просмотров • 8 месяцев назад

▪️کیا پی ٹی ایم خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی ہمدرد ہے یا دشمن؟ ▪️کچھ اہم سوالات نقیب اللہ محسود کے کراچی میں ہونے والے قتل کے بعد 2018 میں پی ٹی ایم منظر عام پر آئی جس کا ابتدائ مقصد نقیب اللہ محسود کو انصاف دلانا تھا۔ نقیب اللہ محسود والا مقصد تو کہیں غائب ہُو گیا مگر پی ٹی ایم اُس وقت کی افغان حکومت کی مدد سے اور بہت سے ایجنڈوں کے ساتھ آہستہ آہستہ پھلنے پھولنے لگی اور آج کی تاریخ میں 2024 میں خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں نوجوانوں کو جھوٹے خوابوں کے نام پے ریاست کے خِلاف بھڑکا رہی ہے - حقیقت یہ ہے کہ 2018 سے لے کے اب تک پی ٹی ایم خیبرپختونخوا کے نوجوانوں سے صرف وعدے کرنے میں مصروف ہے اور ان کو اپنی تشدد سے بھرپور گھٹیا سیاست کا ایندھن بنا رہی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آج تک پی ٹی ایم کے لیڈرز کا لائِحَۂ عَمَل خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے لیے کتنا مفید ثابت ہوا۔۔۔!! کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز کا لائِحَۂ عَمَل خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے مستقبل کے لئے نعروں کہ علاوہ کچھ کرنے کے قابل ہے ؟ منظور پشتین پاکستان کے سیاسی نظام کو نہیں مانتے، پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے تو پھر آخر نوجوانوں کے مستقبل کے لئے کیسے کچھ کریں گے ؟؟ منظور پشتین صاحب کہتے ہیں کہ نا میں نے وزیر اعلیٰ بننا ہے نا وزیر اعظم - بقول اُن کے وہ اس نظام کے باغی ہیں - لیکن جب ان سے پوچھو کہ پھر ان نوجوانوں کےمستقبل کا کیا کرنا ہے جو اچھے کی امید لگا کے ان کے ساتھ ہیں تو جواب میں نعرہ لگاتے ہیں لر و بر یو افغان - لیکن اس نعرے سے نوجوانوں کو کیسے نوکریاں ملیں گی ؟ آج بالفرض منظور پشتین کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے تو پھر یہ نظام اور آئین کو تسلیم نا کرتے ہوئے کیسے نوجوانوں کو کچھ دے سکیں گے ؟ کیا لر و بر یو افغان کا ایجنڈا نوجوانوں کی ترقی کا ضامن ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ فِتنہ الخوارج کی کارروائیوں اور دھماکوں میں ہمیشہ خیبرپختونخوا کے پختونوں کا خون بہا - کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے خیبرپختونخوا کے معصوم عوام کے قاتل فِتنہ الخوارج کی کسی بھی لیول پے مذمت کی ہے ؟ آخر کیوں پی ٹی ایم اپنے بے جا مطالبات سے فِتنہ الخوارج کی کارروائیوں کو فائدہ پَہُنچانا چاہتی ہے اور آخر ان کے مابین اتحاد کی وجہ کیا ہے ؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے آج تک اسمبلی میں یا کسی اہم فورم پے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کی ترقی کے لیے کوئی آواز اٹھائی؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز کے چیک پوسٹوں کے خاتمے کے مطالبے سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ ھو گیا ؟ پی ٹی ایم کے لیڈرز نے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز حاصل کرکے نوجوانوں اور عوام کی فلاح کے کیا اقتدامات کیے؟ کیا پی ٹی ایم کے لیڈرز نے قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی جانب سے بنائے گئے صحت اور تعلیم کے شعبہ جات میں ڈاکٹروں اور ٹیچرز کی حاضری کو یقینی بنا کر عوام کو ریلیف مہیاء کیا گیا؟ تقریباً 5 سال اسمبلی میں رہ کر محسن داوڑ نے نوجوانوں کے لیے کونسا پراجیکٹ شروع کیا؟ *جی نہیں۔۔!!* *بدنصیبی کی بات ہے کہ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے-* حقیقت یہ ہے کہ صرف ریاست پاکستان اور اس کے ادارے ہی خیبرپختونخوا کے نوجوانوں اور عوام کے خیر خواہ اور ان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے فکر مند ہیں- یہ بات سب کو ذہن نشین کرلینی چاہیے کے آج تک خیبرپختونخوا میں نوجوان نسل کی ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے جتنے منصوبوں کا آغاز کیا گیا وہ حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تعاون سے پائے تکمیل تک پہنچے اور کچھ پے کام ابھی بھی جاری ہے۔ انشاءاللہ وہ بھی جلد از جلد مکمل کرلیے جائیں گے۔ *ان منصوبوں میں معیاری تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا، روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے، صحت کے اعلیٰ مراکز قائم کیے گئے، انفراسٹرکچر کی بہتری اور نوجوانوں کے لئے مختلف سکلز پروگرامز کا انعام کیا گیا۔*۔ پچھلے 20 برس میں قبائلی علاقوں میں حکومت پاکستان اور پاک فوج کے تعاون سے تقریباً 383 ارب روپے سے زیادہ کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے- پی ٹی ایم چند لوگوں کا گروہ ہے جو کہ آپس میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ جس کی مثال محسن داوڑ اور منظور پشتین کی مفادات کے لیے آپس میں لڑائی کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ *محسن داوڑ نے اپنا سیاسی عہدہ حاصل کے بعد پی ٹی ایم سے آگے نکلنے کے لیے این ڈی ایم پارٹی کا قیام عمل میں لایا۔ اور یہی لوگ اب ایک دوسرے کو سیاسی مقاصد کے لیے قتل کروا رہے ہیں جس کی حالیہ مثال گیلامن وزیر کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔* مصدقہ ذرائع کے مطابق محسن داوڑ سیاسی مقاصد کی حصول کے بعد سوئٹزرلینڈ کی سیر کرتا پھرتا ہے جبکہ داوڑ، وزیر اور پشتین، تینوں اپنے اپنے لیول پے راولپنڈی میں ملاقات کے لئے سفارش کرواتے پھرتے ہیں -

Eagle Eye

12,000 просмотров • 2 лет назад