正在加载视频...

视频加载失败

32 گھنٹوں سے بچی کے ٹیسٹ کروارھے اور پھر بھی بچی کی بیماری نا بتائی اور الٹا علاج کرنے سے منع کردیا ڈاکٹر نے۔ ھر مریض کو ایسے ڈاکٹرز کے خلاف ایسا ھی کرنا چاھئے یہ مافیا انسان کی کھال تک اتار لیتے ھیں لیکن پھر بھی ان کی...

90,234 次观看 • 3 年前 •via X (Twitter)

11 条评论

Abbas Arain 的头像
Abbas Arain3 年前

@RanaZee33626671 ویری ویلڈن یہ پرائیویٹ ہسپتال اور پرائیویٹ سکولز مافیاز کیخلاف کھلی جنگ ہونی چاہیے ان کنجروں نے پاکستان کو یرغمال بنا کے رکھا ہوا ہے۔ ہزاروں اور لاکھوں فیس کی مد میں لیتے ہیں اور فائدہ ایک ٹکے کا نہیں مریض دن بدن بیمار اور بچے دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں

Better Pakistan 的头像
Better Pakistan3 年前

پوری ویڈیو میں اس شخص کی دکھ سے زیادہ دکھ چاروں طرف کھڑے بے حس لوگوں کو دیکھ کر ہوا جو ڈرامہ لگتے دیکھنا تو چاہتے ہیں مگر آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کرتے۔ سب کی دل میں ایک ہی بات ہوتی ہے کہ میرے ساتھ تو ٹھیک ہے،مجھے تو تکلیف نہیں اور ایسا کرتے کرتے وہ تکلیف ان تک پہنچ جاتی ہے ایک دن

sara 的头像
sara3 年前

بعض اوقات کوئ complicated بیماریاں بھی ہوتی ہیں بڑے devoloped ملکوں میں بھی تشخیص میں وقت لگ جاتا ہے ہو سکتا ہے ڈاکٹر نے آگے ریفر کر دیا ہو ڈاکٹر کا بیان سن لینے میں بھی کوئ حرج نہیں۔ میں میڈیکل سپیشلسٹ ہوں بہت محنت سے چیک کرتی ہوں اگر کبھی نہ سمجھ آے تو آگے کیس بھیجا جاتا ہے

SecBriefs | Making Cybersecurity Simple 的头像
SecBriefs | Making Cybersecurity Simple1 年前

📖 It's More Than Just an Exam! Studying cybersecurity isn’t just about passing—it’s about mastering the skills that protect our digital world.💡 Learn smarter with 50 tips + Cybersecurity Dictionary for Everyone! 🔑 Available on Amazon:

Hafiz Rizwan ullah 的头像
Hafiz Rizwan ullah3 年前

یہ فاطمہ میموریل ہسپتال شادمان ہے یہاں دو مرتبہ میرے ساتھ ہوا ایک معدے کے مریض بھانجے کو لیکر گیا 3000 ڈاکٹر کی فیس اور 16000 کے ٹیسٹ لکھ کر دے دیے اور بیماری پھر بھی معلوم نہ کرسکا ۔مسئلہ ہم بھی ہے بغیر ڈاکٹر کے بارے میں معلوم کرکے اس کے پاس چلے آتے ہیں

ناطق 的头像
ناطق3 年前

فاطمہ میموریل اسپتال لاہور کا بہت برا حال ہوگیا ہے ۔ نکمے اور نالائق ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف ہیں ۔

Huma 的头像
Huma3 年前

ہیلتھ کارڈ بھی بند ہیں غریب آدمی کیا کرے ۔۔۔۔۔ایک ایک ٹیسٹ مہنگا ہے ۔۔۔ سرکاری اسپتالوں میں ادویات اور ٹیسٹ خود ہی کروانے پڑتے ہیں اوپر سے دھکے اور قطاریں الگ

Saad 的头像
Saad3 年前

فرعون بن چکے ہیں اب ڈاکڑ۔۔ بہاولپور میں ایسے کئی ڈاکٹر بیٹھے ہیں جو شیشے کا کیبن میں بیٹھ کر مریض دیکھتے ہیں اور ہزاروں روپے اینٹھ لیتے ہیں لیبارٹری تک اپنی بنائی ہوئی ہے

آصف 的头像
آصف3 年前

یہ ہسپتال تو چوروں کا ہسپتال ہے، ایسے ایسے ٹیسٹ کرواتے ہیں جن کی ضرورت بھی نہیں ہوتی وہ بھی صرف اپنے ہسپتال کی لیب سے، یہ بہن چود ڈاکٹروں کا بھی اک مافیا ہے،

کشمیری آواز Azadi 的头像
کشمیری آواز Azadi3 年前

آواز اٹھانا بہت ضروری ھے ویل ڈن ۔

M Umar Khalid محمدعمرخالد 的头像
M Umar Khalid محمدعمرخالد3 年前

پاکستان کی عدالتوں پاکستان کی پولیس پاکستان کےڈاکٹروں سےپناہ مانگنی چاہیے

相关视频

" جہاں تک مجھے پتہ ہے عمران خان کی جس آنکھ کی بیماری کا بتایا جا رہا ہے اس کے علاج کے لیے (پمز میں) وہاں ڈاکٹر ہی موجود نہیں جہاں ان کا لایا گیا تھا " عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا معاملہ کھول دیا " اس کی وضاحت یا تصدیق نہیں ہو سکی کہ (عمران خان کی) بیماری کی نوعیت کیا تھی ہماری تشویش ہے کہ یہ ایک سیریس کنڈیشن ہے اور یہ اس کے لئے ایکسپرٹ میڈیکل کیئر required ہے ہر آنکھوں کا ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتا بلکہ خاص آنکھوں کے ڈاکٹر جنہوں نے اسپیشل ٹریننگ یا اس قسم کی بیماری تجربہ لیا ہوا ہو وہ اس کا علاج کر سکتا ہے جہاں تک ہمیں پتہ ہے اسلام آباد کے جس ہسپتال میں خان صاحب لے جایا گیا اس میں اس طرح کے ڈاکٹرز نہیں ہیں اس بیماری کے پیچھے کوئی اور بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری شروع ہوتی ہے اس لئے اس طرح کی بیماریوں کے بھی خان صاحب کے ٹیسٹ ہونے چاہییں اور (آنکھ کی ییماری) کے ایکسپرٹ کو ان کا علاج کرنا چاہیے اس لئے خان صاحب تک ہمیں رسائی دی جائے "

Saqib Bashir

155,986 次观看 • 7 个月前

عورت مارچ کراچی کی جانب سے ماہ جبین اور نسرینہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف آج کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس ہونا تھی، مگر اسے روکنے کے لیے ریاستی جبر کی پوری مشینری کو حرکت میں لایا گیا۔ پہلے پولیس نے رابطہ کر کے پریس کانفرنس منسوخ کرنے کا دباؤ ڈالا اور اس کے بعد، 3:30 پر پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی کراچی پولیس نے پریس کلب کے تمام راستے سیل کر دیے، وہاں پہنچنے والے شرکاء کو روک کر ہراساں کیا، گرفتاریاں بھی کیں، اور عملاً پورے ایریا کو ایک گھیراؤ کی شکل دے دی۔ یہ کریک ڈاؤن اسی لیے کیا گیا کیونکہ یہ پریس کانفرنس دو بلوچ لڑکیوں، ایک پولیو سے متاثرہ ماہ جبین اور دوسری محض پندرہ سالہ بچی نسرینہ کی جبری گمشدگی کے خلاف تھی۔ اگر یہ معاملہ کسی اور کمیونٹی کا ہوتا تو شاید نہ پولیس کی یہ بےچینی دکھائی دیتی اور نہ انتظامیہ کی یہ جارحیت۔ مگر بلوچ اس ریاست میں آج بھی شہری تو دور، انسان سمجھنے کی حد تک بھی تسلیم نہیں کیے جاتے۔ اور جو ان کے دکھ، ان کے حق، اور ان کی آواز کے ساتھ کھڑا ہو، اسے بھی اسی جبر، اسی ہراسگی اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Sammi Deen Baloch

235,253 次观看 • 9 个月前