正在加载视频...

视频加载失败

65 اور 71 کی جنگ میں جو کچھ ہوا وہ پڑھا ہی تھا لیکن اب کی بار جو جذبہ تھا اس کی یقین ہی نہیں ہے یہ 25 کروڑ لوگوں کا جذبہ ہے اور اس کی فتح ہے ، بارڈر پر کھڑے نوجوانوں کی آنکھوں میں چمک تھی جذبہ...

15,477 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

8 条评论

S Hanif 的头像
S Hanif1 年前

فرقہ عمرانیہ کے ایکٹوسٹ کہتے تھے اگلی نسل میں بھی فوج کے خلاف نفرت پھیلائیں گے۔ اگلی نسل کا جواب 😍🪖❤️🇵🇰

Kamal Khan 🇵🇸 的头像
Kamal Khan 🇵🇸1 年前

سب چیزیں اپنی جگہ ٹھیک ہے ۔ لیکن پاکستان کے جرنیلوں کو چاہیے کہ ان دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرنا چھوڑ دے اور ان تنظیموں سے اعلان بارات کرے اور ان کو ختم کرے۔

Rizwan Subhani 的头像
Rizwan Subhani1 年前

Free Imran Khan- Voice of a nation

RedDeer.Games IR 的头像
RedDeer.Games IR1 年前

🎹 Master the Piano on Your Nintendo Switch with "Piano: Learn and Play"! 🎶 #RT🙏 🎹👉 Unlock the joy of music: Easy tutorials 📘 Songs for all levels 🎼 Fun for all ages 🎉 Start your musical journey today! 🌟 Play now! #Piano #NintendoSwitch #NS2

Syed Faraz Darvesh 的头像
Syed Faraz Darvesh1 年前

بیشک ! بلکل درست،یہ پچیس کروڑ کی فوج ہے۔

MeezKhan 的头像
MeezKhan1 年前

اسی عوام کے مینڈیٹ اور حقوق چوری کرتے ہوۓ شرم نه آئی؟

Chancellor بابا 的头像
Chancellor بابا1 年前

@abcch420 25 کروڑ پاکستانیوں میں سے 20 ھزار یوتھیوں کو نکالیں دیں ملک صاحب،، یوتھیے مودی اور انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف لڑ رھے تھے

Capra falconeri 的头像
Capra falconeri1 年前

ڈی جی ISPR نے بھارتی میڈیا کی خبروں کی تردید کی، اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے 15 مقامات پر حملے کی خبریں غلط یا مبالغہ آمیز ہیں۔ یہاں سنجیدہ اور جائز سوال پیدا ہوتا ہے: آخر غیر آئینی شہباز حکومت اور پاکستان کی مسلح افواج نے خاموشی کیوں اختیار کی؟

相关视频

اللہ اکبر اور الحمدللہ کے نعروں کے ساتھ شہرعزیمت میں جنگ بندی معاہدے کا استقبال کیا گیا! شہر عزیمت اس معاہدے کو اپنی کامیابی بھی سمجھتا ہے، تحریک کی بھی، جیالوں کی بھی، اور جدوجہد کی بھی! اس معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ جیالوں نے اس معاہدے کے تحت اپنی تمام ہی شرائط تسلیم کرالیں؛ - مستقل جنگ بندی - دشمن کا مکمل انخلاء - قیدیوں کی مطلوبہ واپسی - عالمی ضمانت - تحریک کی حفاظت چنانچہ یہ نہ تو وہ معاہدہ ہے جو ٹرمپ نے پیش کیا تھا، نہ وہ معاہدہ ہے جس پر غاصب نے حامی بھری تھی، نہ وہ معاہدہ ہے جس پر خلیجی ریاستوں نے اتفاق کیا تھا، نہ وہ معاہدہ ہے جس میں تحریک کے خاتمے کی یقین دہانی تھی، نہ وہ معاہدہ ہے جو شہر عزیمت پر ٹونی بلیئر کو تھوپتا تھا، نہ وہ معاہدہ ہے جس کی رو سے خلیجی افواج کے راستے غاصب کے مقاصد پورے ہوتے تھے، بلکہ، یہ وہ معاہدہ ہے جس پر جیالوں نے دستخط کیے ہیں اور جس کا اعلان جیالوں کی حامی بھرنے کے بعد ہی ممکن ہوسکا ہے! یاد رکھیں! جیالوں نے بہت پہلے کہا تھا؛ ہماری مرضی کے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں کرسکوگے! ایک قیدی بھی نہیں! آج کا معاہدہ جیالوں کے آہنی عزائم کی کھل کر گواہی دے رہا ہے! اللہم ثبت اقدامہم، اللہم انصرھم علی اعدائم، اللہم کن لھم عونا ونصیرا! آمین یا رب العالمین

اللہ کے بندے۔۔۔

23,428 次观看 • 1 年前

بریکنگ نیوز 🚨کیسے ملٹری فوج، ظالم ڈکٹیٹر لوگوں کے ذہنوں میں اپنا خوف پیدا کرنے کیلئے ظلم کرتے ہیں؟ اور ہمیں کیسے پچھلے 78 سالوں سے فوج کے معاملے میں بیوقوف بنایا گیا؟ اس پر معید پیرزادہ کا شاندار تجزیہ ملاحظہ کیجیے اور حقیقت سے خود روشناس کیجئے 🔥🔥 آپ جڑانوالہ باغ کے اندر کھڑے ہوتے ہیں اور حیران پریشان رہے جاتے ہیں کہ اتنی چھوٹی سی، تنگ سی جگہ میں جس کے صرف اندر داخل ہونے کیلئے ایک راستہ ہے، جس کے تین طرف اونچی دیواریں ہیں، کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔ وہاں پر ایک راستے سے جو ہندوستانی فوج ہے، جنرل ڈائیر کا جو دستہ ہے، وہ اندر Enter کرتا ہے، پوزیشن لیتا ہے، لوگ انکو دیکھ رہے ہیں جو تقریریں کر رہے ہیں، انکو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ ان پر فائرنگ کر سکتے ہیں اور پھر وہ اُنکے اوپر اندھا دھند فائر کھولتا ہے۔ جب جنرل ڈائیر سے بعد میں پوچھا گیا کہ تُم نے یہ بربریت کیوں کی ہے؟ اُس نے کہا میں برٹش امپائر کا خُوف لوگوں کے ذہن میں بیٹھنا چاہتا تھا، میں چاہتا کہ انکو پتہ چلا کہ تُم نے راج کی Obedience کیسے کرنی ہے۔ مطلب اسکو کہتے ہیں Moral Authority۔ پولٹیکل سائنس میں۔ چنگیز خان کھوپڑیوں کے منار کیوں بناتا تھا؟ کیونکہ جس زمانے میں، بارہویں، تیرھویں صدی میں چنگیز خان کی چنگیزیت ہمارے سامنے آئی تھی، تو اُس وقت ویسے بھی رواج یہ تھا کہ جب جنگ ہوتی تھی تو جو Able Bodied Men ہوتے تھے جو جنگی سروس کرسکتے تھے انہیں قتل کر دیا جاتا تھا۔ اُنکی گردن مار دی جاتی تھی، عورتوں کو اور بچوں کو غلام بنا کر بیچ دیا جاتا تھا، تو پھر کھوپڑیوں کے منار بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ کھوپڑیوں کے منانے بنانے کا چنگیز خان نے جو رواج شروع کیا وہ اس لیے تاکہ خوف و ہراس پیدا ہو۔ میسج یہ تھا ہر وہ شہر جس کے لوگ لڑیں گے اور لڑے بغیر سرینڈر نہیں کریں گے وہاں پر یعنی مارا ویسا بھی جاسکتا تھا، لیکن اگر فتح کر لے گی منگول فوج تو اسکے بعد سارے شہر کو آگ بھی لگائے گی اور کھوپڑیوں کے منار بھی بنائے گی اور وہی جو خوف تھا پورے سینٹرل ایشیا کے اندر، مشرقِ وسطیٰ میں، یورپ تک خوف تھا کہ ہمارے ساتھ یہ ہوسکتا ہے۔ Even ہندوستان کے قریب بھی بعض منگول جنگ باز جب آئے تو یہاں پر بھی انہوں نے کھوپڑیوں کے منار قائم کیے۔ نیتن یاہو نے غزہ کے اوپر جو دو سال سے Bombing کی ہے، کیا وجہ تھی؟ Moral Authority، خُوف بیٹھانا، تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ہم کتنا ظلم تمہارے ساتھ کرسکتے ہیں۔ اب یہ اور بات ہے کہ ہمیں جو کہانی سنائی گئی تھی کہ پاکستانی فوج کی، جرنیلوں کی، ہماری فوج، پیاری فوج، پاک فوج۔ اُس میں ہم یہ Expect نہیں کرتے تھے۔ اصل میں یہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا رہا ہوگا کیونکہ بلوچستان میں تو ہو ہی رہا تھا۔ Former East Pakistan میں تو ہوا ہی تھا۔ کراچی میں خون کی ندیاں تو بہائی ہی گئیں۔ فاٹا کے ساتھ تو ہوتا ہی رہا لیکن اسکے باوجود ہم چونکہ کہ ایک سوہانہ خواب دیکھتے تھے اور جب ہم پیدا ہوئے تو ہمارے جس طرح سے کانوں میں اذان دی جاتی تھی، اسی طرح ہماری پیٹھ کے اوپر بھی انہوں نے ایک لگایا سٹمپ بیوقوفی کا یا کوئی ٹیکہ لگا دیا جس کے نتیجے میں ہمارے دماغ کے خولیے جو ہیں انہوں نے کبھی Grow کیا ہی نہیں اور ہمارے سامنے کی حقیقتیں تھیں کہ ایسٹ پاکستان میں انہوں نے کیا کیا، بلوچستان میں یہ کیا کررہے ہیں، فاٹا میں یہ کیا کررہے ہیں، کراچی میں کیا ہوا، کیسے مختلف گینگ بنائے گئے، کیسے کبھی سپہ صحابہ بنائی گئی، کبھی سپہ محمد بنائی گئی، کیسے قتلِ عام کرایا گیا۔ یہ سب چیزیں ہمارے سامنے تھیں لیکن ہم نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ ہماری کھوپڑیاں جو ہیں ایسی ہی رہیں گی اس لیے ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ ہمارے سامنے جو اس وقت بہت ہی کرب ناک واقعات ہو رہے ہیں۔ پہلے ہمارے ساتھ اسلام آباد کا واقعہ ہوا 26 نومبر 2024 کا، پھر مریدکے میں واقعہ ہوا 13 اکتوبر 2025 کا، پھر ہم نے آزاد کشمیر کی Valance دیکھی، پھر ہم نے بلوچستان کی Valance دیکھ رہے ہیں۔ یہ تمام چیزوں کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ وہ تمام جھوٹ جو تھا، اس کی تمام کلائی اُتر گئی ہے۔ کسی طرح دیکھاتے ہیں Demon یا ڈائن ہوتی ہے، جس نے بہت خوبصورت میک اپ کیا ہوتا ہے، Horror movies میں دیکھاتے ہیں، بارش ہوجاتی ہے کوئی خطرناک قسم کی، سارا میک اپ اتر جاتا ہے۔ وہ ڈائن جو خوبصورت بنی ہوئی تھی، اسکی جو آٹھ سو سال کی عمر تھی یا آٹھ ہزار سال کی ایک بوڑھیا تھی، وہ وہاں نظر آجاتی ہے۔ یہاں جرنیلوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے کہ ان کے چہرے کا تمام رنگ روپ روغن، Pant جو انہوں نے کیا ہوا تھا وہ سارے کا سارا اتر گیا ہے اور انکی اصل حقیقت جو ہے، انکی جو نیچر ہے وہ کھل کر ہمارے سامنے آگئی ہے۔

‏زہـــرہ لیــاقت

11,929 次观看 • 2 个月前

9 مئی کا واقعہ مجھے لگتا ہے کہ مکمل طور پر پری پلان تھا۔ وہاں کچھ لوگ اکسا رہے تھے کہ ہمیں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانا چاہیے۔ میں نے وہاں جو سب سے اہم چیز نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ جو ورکرز تھے، ان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ وہ صرف روڈ بلاک کرنے اور نعرے بازی کرنے کے لیے موجود تھے۔ جو لوگ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف اکسا رہے تھے، وہ ورکرز سے بالکل ہٹ کر تھے۔ ان کی باڈی لینگویج اور ان کا فزیکل اپیئرنس بالکل مختلف تھا۔ تو مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے، پھر میں فوراً کور کمانڈر ہاؤس پہنچا۔ انہوں نے جو ڈنڈے پکڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھے جو پولیس کے پاس ہوتے ہیں، لیکن وہ سول وردی میں تھے۔ اس کے علاوہ، میں اس سلیکشن سینٹر میں موجود تھا جب وہ جل رہا تھا۔ وہاں میں نے ریکارڈنگ کی، کیونکہ میڈیا کو بین کیا گیا تھا اور انہوں نے کوریج نہیں کرنی تھی۔ تو میں وہاں اُس وقت پہنچا جب وہ آگ لگا رہے تھے، اس کو جلا رہے تھے یا لوگوں کو اکسا رہے تھے۔ میں نے ان کی کوریج کی، جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے، ان کی بھی کوریج کی، کیونکہ وہاں میڈیا موجود نہیں تھا۔ جب میں وہاں سے ویڈیو بنا کر باہر نکلا تو مجھے تین، چار بندوں نے گھیر لیا۔ وہ بالکل مختلف تھے۔ ان کی باڈی لینگویج، ان کے بولنے کا انداز اور ان کی مینٹیلٹی مختلف تھی۔ ان میں سے ایک بندے نے مجھے کہا کہ آپ ہماری ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیوں ڈیلیٹ کروں؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ورکر ہوتا ہے، وہ خود ویڈیو میں آنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی پارٹیسپیشن دکھاتا ہے۔ انہوں نے میرا کیمرہ مجھ سے چھین لیا اور اسے پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے بہت اصرار کیا کہ بھائی، آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ آپ ایسا کریں کہ میرا کیمرہ نہ توڑیں، صرف ویڈیو ڈیلیٹ کر لیں۔ تو ان میں سے ایک اور آدمی نے کہا کہ میں آئی ٹی کا بندہ ہوں اور مجھے پتا ہے کہ یہ دوبارہ ریکور ہو جائے گی۔ آپ ایسا کریں، یا تو اپنا کیمرہ مجھے دے دیں، یا پھر کیمرے میں سے جو کارڈ ہے وہ نکال کر دے دیں۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں انہیں نہ دوں، لیکن وہ چار، پانچ بندے تھے اور کوئی ورکر نہیں تھے، کوئی اور لوگ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارڈ لیا اور جلا دیا۔ اس صحافی کی ویڈیو سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ اس ویڈیو کو عمران خان نے بھی شیئر کیا تھا۔ 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت، عینی شاہد صحافی انس نواز کی زبانی۔ Anas Nawaz انس نواز #May9th_FalseFlag

PTI North Punjab

28,063 次观看 • 5 个月前

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب کعبہ کی تعمیر کی تھی، تو اس کے دو دروازے رکھے تھے جو زمین کے برابر تھے۔ ایک مشرقی جانب جہاں اب موجودہ دروازہ ہے) اور دوسرا اس کے بالکل سامنے مغربی جانب تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہوں اور دوسرے سے باہر نکل جائیں۔ کئی صدیوں تک یہ سلسلہ رہا، یہاں تک کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی تو انہوں نے وسائل کی کمی کی وجہ سے کعبہ کا حجم کچھ کم کر دیا اور مغربی دروازے کو مستقل طور پر بند کر کے دیوار بنا دی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جب کعبہ کی از سر نو تعمیر کی تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خواہش کے مطابق اس مغربی دروازے کو دوبارہ کھول دیا تھا تاکہ لوگ آسانی سے آمد و رفت کر سکیں، لیکن ان کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف نے اسے دوبارہ بند کر دیا اور کعبہ کو اسی نقشے پر واپس لے آیا جو قریش نے بنایا تھا۔ آج کے دور میں کعبہ کا صرف ایک ہی دروازہ ہے جو سطح زمین سے بلند ہے۔ مغربی سمت جہاں کبھی دوسرا دروازہ ہوا کرتا تھا، وہاں اب صرف ایک ٹھوس دیوار ہے جو غلاف کعبہ (کسوہ) سے ڈھکی رہتی ہے۔ تاہم، اگر آپ کعبہ کے اندر داخل ہوں تو اس مقام پر سنگ مرمر کی دیواروں اور ڈیزائن میں اس قدیم دروازے کی جگہ کی نشاندہی محسوس کی جا سکتی ہے مگر باہر سے یہ مقام اب ایک مکمل دیوار کی شکل میں ہی موجود ہے۔ مذہبی اور تاریخی طور پر یہ مقام اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کعبہ کی اصل ابراہیمی بنیادوں میں وسعت اور سہولت کا عنصر شامل تھا۔ سبحان اللہ ہم بہت قسمت والے ہیں جو اس بابرکت اور تاریخی دروازے کی زیارت کر رہے ہیں صل اللہ علیہ والہ وصحبہ وبارک وسلم 💕✌️💚

MAJID SIDDIQUI (ماجد صدیقی۔) 🇮🇳

152,591 次观看 • 6 个月前