Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ایمان مزاری 🔥🔥🔥 میں نے زندگی میں پہلی بار کسی جماعت کو ووٹ دیا تو وہ نون لیگ کو دیا تھا مجھے لگا تھا کپ یہ لوگ کچھ سیکھ چکے ہوں گے لیکن یہ لوگ بوٹ پالشی اور اقتدار کے حصول کے لیے کسی بھی سطح تک گر سکتے...

166,291 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 Aufrufe • vor 9 Monaten

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,399 Aufrufe • vor 10 Tagen

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 Aufrufe • vor 9 Monaten

مجھے اکثر کہتے ہیں کہ آپ انسانی حقوق کی تنظیموں سے کیوں نہیں رابطہ کرتے تو میں یہ کہتی ہوں کہ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں جتنا ظلم پاکستان میں ہوا ہے وہ چھپا نہیں ہے، جہاں پہ یہ 26 نومبر ہوا وہاں پر ایمبیسیز تھیں ان کو سب پتہ ہے لیکن وہ ان کو سپورٹ کرتے ہیں، اوورسیز پاکستانی بہت بڑی طاقت ہیں جو عمران خان کے ساتھ ہیں، عمران خان ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو ہر مشکل سے نکالیں گے کیونکہ ان کے پاس آزادی بھی ہے اور ان کے پاس طاقت بھی ہے، پاکستان میں لوگ اتنے مجبور ہو چکے ہیں کہ اگر کوئی عمران خان کے لیے کاروبار والا انسان ساتھ دیتا ہے تو اس کا کاروبار بند ہو جاتا ہے، اوورسیز اس لحاظ سے بہت آزاد ہیں وہ پاکستان کے لیے بھی آواز اٹھائیں عمران خان کے لیے بھی بتائیں کہ ان کے ساتھ کیا ظلم ہو رہا ہے جیل کے اندر کتنا برا سلوک ہو رہا ہے اور یہ لوگ کتنے بڑے مجرم ہیں جو اس وقت وہاں پہ کھڑے ہیں، یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ امریکہ ہمیں بچا لے گا ان کو کوئی بھی نہیں بچا سکے گا یہ ان کا آخری وقت چل رہے اور میرا خیال ہے اس کے بعد شاید پاکستان ظلم سے آزاد ہو جائے گا کیونکہ یہ ظلم بہت سالوں سے کرتے رہے ہیں تو مجھے امید ہے انشاءاللہ یہ آخری وقت ان کا چل رہا ہے۔ نورین نیازی #AllowAccessToImranKhan #ImranKhanHealthEmergency

Qasim Khan Suri

40,648 Aufrufe • vor 7 Monaten

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 Aufrufe • vor 9 Monaten

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,926 Aufrufe • vor 24 Tagen

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 Aufrufe • vor 9 Monaten

27 ستمبر کی کال دیے ہوئے 2 دن ہوئے ہیں۔۔۔۔ انتظامیہ کی تیاری پہلے سے مکمل تھی۔۔۔ اسلام اباد میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ ورکرز کو گرفتار کیا جا رہا ہے یہ سب کچھ سہیل آفریدی کی سہولت کاری کی بدولت ہو رہا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھیں کبھی کسی کو اتنے غدار نہیں ملے ہوں گے جتنے عمران احمد خان نیازی کو ملے ہیں خان صاحب نے جن کو کچرے سے اٹھا کر عہدہ دیا وہی خان صاحب کے ساتھ غداری کر رہے ہیں شفیع جان نے مجھے کہا کہ جو بھی احتجاج کا ہوگا وہ علامہ راجہ ناصر اور محمود خان اچکزئی کریں گے اور نو سے دس مہینے اس ٹرک کے بتی کے پیچھے ہمیں لگائے رکھا لیکن اب جو کال دی ہے اس میں ان کا ذکر تک نہیں تھا سہیل افریدی کی گینگ مجھے کہتی ہے کہ میں فلانے کا نام لوں کیا صوبے کا چیف ایگزیکٹو جس کے پاس عہدہ ہے پاور ہے اس نے فرد واحد کا نام لیا ہے. ؟ ڈرون حملوں کے حوالے سے ان کا موقف اپ کے سامنے ہے نہ انہوں نے پنجاب کی قیادت کا نام لیا ہے جو قید میں ہے خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا خان صاحب پر بھی مزید سختیاں بڑھا دی گئی ہوں گی ان کو 13 14 اگست کی تاریخ دینی چاہیے تھی اس بات کا فائدہ اٹھا کر وہ ورکرز کو پکڑ رہے ہیں میں بھی کسی جگہ پر ہوں مشکل وقت ہے گزر جائے گا خان صاحب کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے کھڑے ہیں کھڑے رہیں گے ان سے میں نے سوالات کیے اسی وجہ سے مجھے پہلے بھی گرفتار کیا میں ابھی بھی حلفاً کہتا ہوں کہ 27 تاریخ کی کال کامیاب نہیں ہونے والی۔۔۔۔ کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کال ملتوی ہو جائے جو کرنا ہے اسی مہینے کرنا ہے نہیں تو اپ بھول جائیں خان صاحب کی رہائی کو......

Haider Saeed

17,457 Aufrufe • vor 1 Monat