正在加载视频...

视频加载失败

🚨"90 کی دہائی میں میں احسن اقبال کو بڑا سنجیدہ آدمی سمجھتا تھا۔ لوگ بھی انہیں واقعی ایک پروفیسر کے طور پر لیتے تھے، لیکن اب جب بھی وہ کوئی بات کرتے ہیں تو وہ پورے پاکستان میں مذاق بن جاتی ہے۔ پہلے لوگ سنجیدگی سے سمجھتے تھے کہ...

32,456 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

لارنس انتھونی دنیا سے رخصت ہوئے، کسی نے اس بارے میں ہاتھیوں کو نہیں بتایا۔ وہ جنوبی افریقہ کے جنگلوں میں میلوں دور تھے۔ کوئی سگنل نہیں، کوئی فون کال نہیں اور جاننے کا بھی کوئی طریقہ نہیں ۔ 12 گھنٹے بعد 20 جنگلی ہاتھی ان کے گھر پر نمودار ہوئے، لارنس نے انہیں برسوں پہلے مر نے سے بچایا تھا، کیونکہ خطرناک ہونے کی وجہ سے ان کو گو لی مار دیے جانے کے آرڈرز دئیے جا چکے تھے۔ لارنس ہر رات ان کی باڑ کے پاس بیٹھے اندھیرے میں ان سے باتیں کرتے تھے یہاں تک کہ ان ہاتھیوں نے لارنس پر پوری طرح سے بھروسہ کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ 2012 میں دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوئے تو وہ سب رات بھر چلتے رہے۔ وہ 2 دن تک مکمل خاموشی سے ان کے گھر کے باہر کھڑے رہے۔ پھر وہ واپس چلے گئے۔ اور اب ہر سال ان کی برسی پر وہ لارنس کے گھر جا کر ان سے اپنی محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی نے انہیں ایسا کرنے کو نہیں کہا۔ وہ بس ایسا ہی کرتے ہیں۔ لیکن شاید یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زندگی میں کسی سے ایسے پیار کرتے ہیں جیسے یہ ہاتھی اس آدمی سے پیار کرتے ہیں؟

Asad Malik

17,974 次观看 • 4 个月前

ایرانی سیکورٹی چیف علی ریجانی کے بھائی کی اپنے بھائی سے آخری گفتگو کا احوال۔ صحافی: آپ کی اپنے بھائی سے آخری گفتگو کیا تھی؟ بھائی:ہم اخری ٹایم جب ملے آپس میں مذاق کر رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میری عمر میں تم سے بڑا ہوں،، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے 'تعلقات کا استعمال کر کے مجھ سے پہلے شہید ہو جاؤ۔ تم ایک مدت تک 'اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ' کے سربراہ رہے، کئی بار پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے، اب دو بار صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے لو اور اس کے بعد اگر چاہو تو جا سکتے ہو۔ لیکن اس نے واقعی اپنے 'تعلقات' کا استعمال کیا اور مجھ سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہو گیا "وہ دوسروں کی طرح کسی زیر زمین بنکر میں جا سکتے تھے، لیکن نہیں، وہ میدانِ جنگ کے آدمی تھے۔ وہ کبھی بنکروں میں چھپنے والے نہیں تھے۔ حکومت کا کوئی بھی عہدیدار بنکر میں نہیں ہے؛ یہ وہ نااہل غنڈے ہیں جو ہم پر حملہ کر رہے ہیں، وہی بنکروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ ان شاء اللہ اسلام ہی غالب آئے گا۔"

Naseem Abbas

50,707 次观看 • 6 个月前

🚨مجھے قتل کیا گیا تو اسرائیل ذمہ دار ہو گا،امریکی صحافی اینا کیسپرین🚨 میں خودکشی کرنے والی نہیں ہوں، اور اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو یہ کوئی حادثہ نہیں ہو گا۔ میں اسے صرف ریکارڈ پر رکھ رہی ہوں، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ یہ ریکارڈ پر ہو۔ میں ان کے اہداف میں سے ایک ہوں، اور میں ان کی نفرت کا خیرمقدم کرتی ہوں کیونکہ میرے خیال میں وہ جو کچھ کرتے ہیں، وہ نفرت انگیز ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ جس چیز کے لیے کور فراہم کرتے ہیں، وہ تاریخ میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی میں سے ایک کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہتی ہوں، میں ایک امریکی ہوں، مجھے امریکی ہونے پر فخر ہے، میں اسرائیلی نہیں ہوں۔ کتابوں میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہو کہ مجھے کسی بھی شکل میں اسرائیل کی حمایت کرنی ہے۔ درحقیقت جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف اپنی نسل کشی جاری رکھے گا، میں بے خوف ہو کر ان کے خلاف سچ بیان کرنا جاری رکھوں گی۔ میں کبھی بھی اسرائیلی سرزمین پر قدم نہیں رکھوں گی کیونکہ میں اس ملک کو صرف ایک خطرہ سمجھتی ہوں۔ میں اسرائیل کی حکومت کو صرف فلسطینی عوام کے لیے خطرہ نہیں سمجھتی ہوں، بلکہ اس پورے خطے کے لیے، مشرق وسطیٰ کا خطے کے لیے خطرہ سمجھتی ہوں۔ اب ان کے پاس صرف ایک ہی چیز رہ گئی ہے کہ وہ مجھے ڈرانے کی کوشش کریں، وہ مجھے کہتے ہیں کہ وہ مجھے قتل کرنے جا رہے ہیں، وہ یقین کر لیں کہ میں ان سے ڈرنے والی نہیں ہوں۔ وہ کچھ غلط یا برا کرتے ہیں تو فوری طور پر اس شخص پر سام دشمن اور یہودی مخالف جذبات رکھنے والے شخص کا الزام لگاتے ہیں جو ان کے برے کاموں پر ان پر تنقید کر رہا ہے لیکن وِکٹم کارڈ (Victim Card) کی میعاد اب ختم ہو چکی ہے۔ اسرائیل اس وقت نسل کشی کر رہا ہے جیسا کہ ہم بول رہے ہیں، وہ فتح میں مصروف ہیں، وہ زمین چوری کر رہے ہیں، نہ صرف غزہ کی پٹی، نہ صرف مغربی کنارے، بلکہ وہ شام کے بشار الاسد کے حصے کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں۔ بینجمن نیتن یاہو بلند آواز میں کہہ رہے ہیں کہ یہ اسرائیل کے عظیم منصوبے کا حصہ ہے۔ کیا اب ہمیں آپ کے ذہن کے بارے میں یہ جاننے کے لیے مزید ثبوت چاہیے کہ آپ برے لوگ ہیں؟ Ana Kasparian #Israel #USA #Palesti̇ne #PalestinisGenocide

اکرم راعی Akram Raee

147,095 次观看 • 6 个月前

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 次观看 • 1 个月前

”میرے کزنز اور خالاؤں کو رات کے اندھیرے میں، نقاب پوش مسلح افراد نے ان کے گھروں سے اُٹھا کر نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا، حالانکہ ان پر کوئی الزام یا مقدمہ نہیں۔“ ”یہ لوگ میرے والد کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔ کسی بھی قسم کا احتجاج ان کے اقتدار کیلئے خطرہ بن جاتا ہے۔“ ”ان میں ذرا بھی انسانیت نہیں، نہ ہی ان میں کوئی شرافت یا عزتِ نفس باقی ہے۔ یہ مردوں، عورتوں، حتیٰ کہ بچوں کو، چاہے کوئی بھی ہو، اٹھا لے جاتے ہیں۔“ ”میرے والد کو روزانہ 23 گھنٹے سے بھی زیادہ قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا انسانی سلوک نہیں کیا جا رہا۔“ ”یہ میرے والد کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی انہیں قتل کرنے کی کوشش کی اور اب ایک کوٹھڑی میں انہیں آہستہ آہستہ گھٹنے پر مجبور کرنے اور ذہنی اذیت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک انتقامی مہم ہے، جس کا مقصد انکی جان لینا اور ان کے اردگرد موجود ہر آواز کو خاموش کرنا ہے۔“ ”ہم نے جنوری میں اپنے ویزوں کیلئے درخواست دی تھی، لیکن حکومت اس کا جواب دینے سے انکاری ہے۔ وہ واضح طور پر چاہتے ہیں کہ ہم NICOP کیلئے درخواست دیں تاکہ ہم پاکستانی شہری کی حیثیت سے وہاں جائیں اور پھر وہ ہمیں گرفتار کر سکیں۔“ ”حکومت کو لگتا ہے کہ ان کے پاس مکمل اختیار ہے۔ اگر ہم NICOP پر پاکستان جائیں تو وہ بہت آسانی سے ہمیں قتل کر سکتے ہیں یا جیل میں ڈال سکتے ہیں۔“ ”میں اپنے والد سے ملنا چاہتا ہوں، یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ وہ خیریت سے ہیں۔ اس وقت میں انہیں دیکھنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔“ قاسم خان #PakistanUnderFascism

PTI Islamabad

13,727 次观看 • 9 天前

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 次观看 • 2 个月前

کہاں ہیں وہ لوگ جو دعویٰ کرتے تھے کہ گوادر ایئرپورٹ بلوچ قوم کے لیے نقصان دہ ہوگا؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو وسائل پر قبضے اور استحصال کے نام پر اس ایئرپورٹ کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے تھے؟ اس وقت گوادر ایئرپورٹ پر سب سے زیادہ بلوچ ہی موجود ہیں، اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ بھی بلوچستان، خاص طور پر مکران ڈویژن کے عوام کو ہو رہا ہے۔ وہ سفر، جو پہلے کئی دنوں میں طے ہوتا تھا، آج چند گھنٹوں میں ممکن ہو گیا ہے۔ یہ ایئرپورٹ ترقی کا وہ دروازہ ہے جس نے علاقے کے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ آج وہی لوگ، جو اس ایئرپورٹ کی مخالفت میں پیش پیش تھے، نہ صرف یہاں موجود ہیں بلکہ جب عمان اور کراچی کے لیے پروازیں روانہ ہو رہی تھیں، تو یہی لوگ سب سے پہلے ایئرپورٹ پر پہنچے تھے۔ گوادر ائیرپورٹ کی کامیابی ان تمام جھوٹے دعووں اور الزامات کا جواب ہے جو گوادر ایئرپورٹ کے خلاف کیے گئے تھے۔ گوادر ایئرپورٹ آج نہ صرف ترقی کی علامت بن چکا ہے بلکہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ اس سے سب سے زیادہ فائدہ خود بلوچ عوام کو ہو رہا ہے۔ #Balochistan #Gwadar #GwadarAirport

Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰

33,701 次观看 • 1 年前

بریکنگ نیوز 🚨خان کا سچا کھلاڑی چھا گیا، شہباز گل صاحب نے اعلٰی ظرفی کی مثال قائم کردی۔ شفیع جان کو معاف کرتے ہوئے ساتھ ہی بڑا اعلان کردیا۔ کوئی بھی اب تنقید نہ کرے شفیع جان پر 🔥🔥 ایک دو دن پہلے شفیع جان صاحب جو مجھ سے چھوٹے بھی ہیں، ہماری پارٹی کے بھی ہیں۔ چلیں جو بھی انہوں نے کہا ان کی مہربانی۔ میں سب سے یہ بھی ریکویسٹ کروں گا کہ اب شفیع جان پر مزید تنقید کرنا بند کر دیجئے۔ جو بھی ہے ہماری پارٹی سے ہے۔ چھوٹا ہے ہم سے، ظاہر ہے وہ وہاں پر جن کے ہاتھوں میں جکڑے ہوئے ہیں، میرا خیال ہے ان کے ہاتھوں اتنے مجبور ہیں کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کے گریبان پر بھی ہاتھ ڈال لیا۔ میرے خیال میں یہ سہیل آفریدی کی اور شفیع جان کی شاید، میں حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ شاید ان کا اپنا فیصلہ نہ ہو، انہیں شاید یہ بھی کہا گیا ہو یا مجبور کیا گیا ہو یہ کرنے کے لیے۔ یا وہ اتنے رَیٹل ہو گئے، رَیٹل کا مطلب یہ کہ یہ جو پریشر آیا، پہلے بھی پریشر میں ہیں، پھر ۲۷ پر علیمہ خان صاحبہ نے بھی سوال اٹھا دیا کہ ۱۳ اگست کیوں نہیں، میں نے بھی اٹھا دیا باقی لوگوں نے بھی۔ ہم نے جو سوالات اٹھائے اس میں شاید ان کو پتہ تھا اور یہ بھی ان کی مہربانی کہ انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ پر حملہ نہیں کیا، وہ ہم سب کے لیے بڑی عزت کی جگہ پہ ہیں، انہوں نے اس کام کے لیے مجھے چنا تو میں ان کا شکر گزار ہوں کہ کم از کم انہوں نے علیمہ خانم صاحبہ کو بخشا اور میرا انہوں نے انتخاب کیا کہ انہوں نے مجھ پر تنقید کرنی ہے، لیکن اب جو بھی ہوا، شاید وہ پریشر میں ہوا، دل سے ہوا، بددلی سے ہوا، جیسے بھی ہوا۔ لیٹس گیٹ اوور اٹ (Let's get over it)۔ اب ان پر مزید، آپ سے میری التماس ہے کہ مزید شفیع جان پر کسی قسم کی تنقید مت کیجئے۔ میں بھی کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن، یہ جو ۲۷ تاریخ کا انہوں نے دن چنا ہے، اس پر میں ذاتی حیثیت میں کوئی تنقید نہ کروں۔ ہاں اگر کوئی ڈیولپمنٹ (development) ہوتی ہے، اہم ایشو ہوتا ہے، کسی کا بیان ہے، کسی کا ایکسپریشن (expression) ہے، وہ تو آپ کے سامنے رکھوں گا، لیکن کوشش کروں گا کہ وہ جو کچھ لوگ ہماری پارٹی میں یہ کہتے ہیں کہ یہ وقت اکٹھے ہونے کا ہے، جیسی تیسی بھی انہوں نے اب کال دے دی ہے، آپ ان کے پیچھے کھڑے ہوں اور آپ ان پر تنقید نہ کریں، میں اب ان کے، آپ یہ کہیے کہ ان کی دلجوئی کے لیے کوشش کروں گا کہ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اس پر بات نہ کروں اور اگر ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں مجھے کچھ ہوتا ہوا نظر آیا، تو پھر میں ۲۷ ستمبر تک جیسے میں نے پہلے ۵ مہینے ان کنڈیشنلی (unconditionally) سہیل آفریدی کے جو پہلے ۵ سے ۶ مہینے تھے، وہ آؤٹ آف دی وے (out of the way) جا کے انہیں سپورٹ کیا، کوئی احسان نہیں کیا، میرا کرنا بنتا تھا، ابھی بھی کوشش کروں گا۔ اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن اگر تو وہ کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ان ۱۵ سے ۲۰ دنوں میں، تو میں وہ بھی سپورٹ کروں اور پھر ۲۷ تاریخ تک بھی بھرپور سپورٹ کروں اور دیکھوں کہ کیا کرتے ہیں۔ لیکن اگر اگلے ۱۵ سے ۲۰ دن تک ہم نے وہی کام دیکھا جو عمران خان رہائی فورس کے وقت تھا، رمضان سے پہلے جو ایک اعلان کیا گیا، پورا رمضان گزرا، چھوٹی عید، پھر سارا درمیان کا وقت، پھر بڑی عید، پھر محرم، سب کچھ گزر گیا لیکن رہائی فورس میں کچھ ہوتا ہوا ہمیں نظر نہیں آیا۔ اگر اگلے ۱۵ دن میں وہی سب کچھ ہوا اور کوئی ایکٹیویٹی (activity) نظر نہ آئی، تو پھر مجھے دوبارہ سے تنقید کرنی پڑے گی، میری چوائس (choice) نہیں ہوگی، میری مجبوری ہوگی، مجھے لگے گا کہ یہ بددیانتی ہے عمران خان کے ساتھ، ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ، بشریٰ بی بی کے ساتھ، جتنی سخت جیل وہ قیدِ تنہائی میں کاٹ رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

12,770 次观看 • 1 个月前

بریکنگ نیوز 🚨ڈاکٹر شہباز گل کی قوم سے بڑی اپیل، طاقتور لوگوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا کہے دیا۔ قوم کو مکمل ترکیب بھی بتادی 🔥🔥 اب ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے کہ ان سب کا boycott کریں۔ یہ میں آپ کو کال دے رہا ہوں۔ پاکستانی عوام کے پاس آج سے حل یہ ہے کہ جب آپ کی بہنوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا۔ عمران خان قوم کے لیے قیمت دے رہا ہے۔ بڑا آسان ہے اس کے لیے بھی نواز شریف بننا۔ وہ آپ سب کے لیے جیل کے اندر ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے اور آج اس کے دشمن بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے۔ تو پھر میں آپ سے یہ اپیل کرتا ہوں یہاں سے پرزور کہ آج سے، آج اکیس ستمبر سے آپ ہر قسم کی فوجی products کا boycott کریں۔ چاہے آپ CSD سے چیزیں خریدتے ہیں یا آپ ان کے چاول خریدتے ہیں یا آٹا خریدتے ہیں یا ان کا سیریل خریدتے ہیں یا آپ ان کی insurance یا آپ عسکری بینک یا آپ کوئی بھی ان کی یونیورسٹیاں، ان کے کالج، ان کے سکول، جو بھی ان کی products آپ استعمال کرتے ہیں۔ یا آپ انہیں اپنی شادیوں میں بلاتے ہیں یا آپ انہیں اپنی غمی پہ بلاتے ہیں یا خوشی پہ بلاتے ہیں یا یہ آپ کو بلاتے ہیں اور آپ جاتے ہیں، آپ ان کے شادی ہالوں کے اندر شادیاں کرتے ہیں، جو بھی آپ کا ان کے ساتھ کاروبارِ زندگی ہے اس کو آج سے معطل کریں، اس کا boycott کریں۔ ان کا social boycott کریں۔ عسکری بینک ہے تو وہاں سے اپنے پیسے نکلوائیں۔ ان کی کوئی insurance ہے تو وہاں سے insurance cancel کروا کے دوسری جگہ insurance کروائیں۔ ان کے عسکری بینک کے، ان کے جتنے بھی products یہ آپ کو بیچتے ہیں جو اصل میں ان کی life line ہے جس کے اوپر سے یہ پیسہ اکٹھا کر کے آپ پر یہ سارا ظلم کرتے ہیں، اس کو بند کریں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ اپنے بچے شاید باہر نکل کے نہیں مروا سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ خود لاٹھی گولی نہیں کھا سکتے، آپ میں سے بہت سارے لوگ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بنگلہ دیش کی طرح، سری لنکا کی طرح، نیپال کی طرح ہمارے لوگ ابھی وہاں نہیں پہنچے کہ باہر نکلیں۔ تو پھر آپ سے میں صرف جو گزارش کر رہا ہوں وہ اتنی کر رہا ہوں کہ آپ یہ تو کر سکتے ہیں نا۔ میں جتنے بھی پاکستان تحریک انصاف کے social میڈیا کے volunteers ہیں میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ میری اس کال کے clip کاٹیں اور اس کو پھیلائیں کیونکہ جب یہ ہمارے گھروں کو نہیں چھوڑیں گے، گھر کی عورتوں کو نہیں چھوڑیں گے، کسی جگہ پر یہ نہیں رک رہے تو پھر ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ہم ان کا social boycott اب کریں۔ تو ان کی شادیوں میں جانا بند کریں، ان کی ہر ایسی جگہ پر جہاں سے انہیں تکلیف ہو سکتی ہے وہاں ان کا social boycott کریں، نہ انہیں اپنے گھروں پر بلائیں نہ ان کی طرف جائیں، ان کی سالگرہ، منگنی، شادی، جو بھی ان کی خوشی غمی ہے اس کا مکمل طور پر boycott کریں۔ جہاں پر ستائیس ستمبر کی بھرپور ہم نے تیاری کرنی ہے ساتھ ساتھ اس boycott کو بھرپور طریقے سے implement کریں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,212 次观看 • 11 天前

پاکستان نے اس سے پہلے پوری دنیا میں امن کے حوالے سے جو کردار ادا کیا، وہ قابلِ تعریف تھا۔ پوری دنیا نے اس کی تعریف کی اور ہمیں بھی اس پر بڑا فخر محسوس ہوا۔لیکن ہم پینترا کیسے بدلتے ہیں، یہ ذرا دیکھ لیجیے۔ یہ چھوٹے موٹے، ننھے منے صحافی، جو اسٹیبلشمنٹ کے ماؤتھ پیس سمجھے جاتے ہیں، ان کے بیانیے میں اچانک تبدیلی آ گئی ہے۔اگر آپ اس پورے تنازع کو دیکھیں تو دوبارہ جنگ کی شروعات امریکہ نے کی۔ لیکن ان ماوتھ پیس کا نہ ان کا اپنا کوئی ضمیر ہے، نہ سچ بولنے کی طاقت، اور نہ ہی ظلم کو ظلم کہنے کی ہمت۔ جس نے ظلم کیا، جس نے بربریت کی، اور جس نے امن کے عمل کو سبوتاژ کیا، وہ امریکہ تھا۔ لیکن اسے ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے یہ ماؤتھ پیس دوبارہ IRGC کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔اب انہیں بھی اندازہ ہے کہ آگے کس پلڑے میں بیٹھنا ہے۔ کیونکہ کل رائٹرز کی خبر آئی کہ کویت اور پاکستان بھی دفاعی تعاون کے ایک نئے مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یعنی کل پھر یہ بھی کہا جائیگا کہ کویت پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اب ایک نیا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ لیکن پاکستان کو بہت سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک دشمن ہم پہلے ہی افغانستان کو بنا چکے ہیں، بھارت پہلے سے ایک اعلان شدہ حریف ہے، جبکہ ملک کے اندر حالات بھی مثالی نہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔اگر ہم ایک اور تنازع میں کودیں گے اور ایران کے ساتھ بھی محاذ آرائی کی طرف جائیں گے تو اس کے نتائج بھی پاکستان کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ جب پورے محلے سے تعلقات خراب ہوں تو اپنا گھر بھی محفوظ نہیں رہتا۔خدارا اپنے ملک کے بارے میں سوچیں، اس پر رحم کریں، اور کم از کم پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھ کر بیانیہ تشکیل دیں۔ دنیا کے سامنے ایک خودمختار اور باوقار ریاست کے طور پر ابھریں، نہ کہ دوسروں کے بیانیے کو اپنا کر ان کی زبان بولیں اور دوسروں پر الزامات لگاتے پھریں۔

Harmeet Singh

11,013 次观看 • 2 个月前