Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

Alert... 🔞 اک نارمل بات ہے گالی دینا ایک گندہ اور غلط فعل سمجھا جاتا ہے، اور جس کو گالی دے جائے وہ تو آگ بگولہ ہو جاتا ہے، لیکن آپکو پتا ہے کہ کچھ لوگ اس عمل کو پسند بھی کرتے ہیں؟ زیر نظر ویڈیو میں یہ بات...

62,148 просмотров • 8 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 30

Фото профиля Saleem Speaks
Saleem Speaks8 дней назад

کوئی بھی انسان فطری طور پر توہین یا اذیت کو پسند نہیں کرتا بلکہ لاشعور بچپن کے جانے پہچانے درد اور سختی کو ہی محبت کی واحد صورت مان لیتا ہے۔ جب ابتدائی زندگی میں توجہ اور بقا صرف تذلیل کے بعد ملی ہو تو ذہن بعد کی زندگی میں بھی اسی شناسا تکلیف کو تحفظ سمجھ کر اپنے گلے لگا لیتا ہے۔ یہ زنجیر ناممکن نہیں بلکہ گہرے شعور اور اپنی خودی کی ازسرنو پہچان سے انسان اس زہریلے دائرے کو توڑ کر حقیقی عزت کا حقدار بن سکتا ہے۔

Фото профиля Fahad
Fahad8 дней назад

لیکن آجکل یہ سب فینٹسی کے طور پر بھی ہوتا ہے، اسکے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟

Фото профиля Iqra Rajput
Iqra Rajput8 дней назад

situation jesi bhi ho galii ni deni chahiye..that's it

Фото профиля Fahad
Fahad8 дней назад

Ap ny shayd vedio nh suni, wo khud demand krti thi

Фото профиля Iqra Rajput
Iqra Rajput8 дней назад

i know but wired demand hai according to me...hr kisi ka apna opinion

Фото профиля Fahad
Fahad8 дней назад

Yea.. Everyone have its own opinion.

Фото профиля Khaan
Khaan8 дней назад

👍

Фото профиля Tariq Zaman Malik
Tariq Zaman Malik8 дней назад

میں اسے نفسیاتی مسئلہ ہی کہوں گا ورنہ گالی سننے کا کس کو شوق ہے

Фото профиля Fahad
Fahad8 дней назад

لیکن سر جی بہت سے لوگوں کی فینٹسی ہے

Фото профиля ItsCandid
ItsCandid4 дней назад

Damaghi bimarion ki kammi nahi...idhar to aam language mai gali de kr baat krtay hain or fakhar mehsos krtay hain.

Фото профиля Fahad
Fahad4 дней назад

Wohi naa. Ye ab bemRi nh rhi. Kuch log shoq se kuch adat se or kuch ki fantasy hoti ha

Фото профиля ItsCandid
ItsCandid4 дней назад

Bilkul

Фото профиля ماہر
ماہر4 дней назад

Technical mind control

Фото профиля Hamdan
Hamdan8 дней назад

So beautiful

Фото профиля Fahad
Fahad8 дней назад

Yes.. 😊

Фото профиля Fahad
Fahad8 дней назад

Asking question is good

Фото профиля Ayesha Ufaq
Ayesha Ufaq8 дней назад

Yes... She is right. Its an alert.

Фото профиля Fahad
Fahad8 дней назад

Yeah its existing

Фото профиля Asma Sultanaz
Asma Sultanaz8 дней назад

🤐🙏 WOW

Фото профиля Fahad
Fahad8 дней назад

Thnx😅😊

Фото профиля SajidR Hayat
SajidR Hayat8 дней назад

گالی دینا اور سہنا دونوں انسانیت کے خلاف ہیں۔ جو دیتا ہے اسے اپنی زبان پر قابو سیکھنا چاہیے، اور جو سہتا ہے اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اس سے بہت بہتر سلوک کا حقدار ہے۔ تکلیف کو محبت سمجھنا پسند نہیں، ایک مجبوری ہے - اور ہر مجبوری سے نکلنے کا راستہ موجود ہے۔

Фото профиля Fahad
Fahad8 дней назад

لیکن یہ نفسیاتی مسئلہ ہے، کہ وہ خود کہہ رہی کہ گالی دو.. اسے اچھا لگتا ہے.. اس کے بارے آپکی کیا رائے ہے

Фото профиля SajidR Hayat
SajidR Hayat8 дней назад

جب کوئی خود کہے "مجھے گالی دو، مجھے اچھا لگتا ہے" تو وہ اصل میں گالی کو نہیں، اس گالی سے جُڑے احساس کو پسند کر رہی ہوتی ہے۔ نفسیات میں اس کی 2 بڑی وجہ ہوتی ہیں: 1. محبت = تکلیف والا فارمولا: بچپن میں اگر توجہ ہمیشہ ڈانٹ کے ساتھ ملی ہو تو دماغ سمجھ لیتا ہے کہ سختی ہی توجہ کی نشانی ہے۔ 2. خود کو سزا دینے کی سوچ: "میں اچھی نہیں ہوں" والی سوچ میں انسان کو لگتا ہے کہ گالی سن کر اس کا گناہ یا بوجھ ہلکا ہو رہا ہے۔ یہ پسند نہیں، ایک سیکھا ہوا زخم والا پیٹرن ہے۔ اسے حقیقی پسند نہیں کہتے، یہ ایک نفسیاتی عادت ہے جو مدد اور خود آگاہی سے ٹھیک ہو سکتی ہے۔

Фото профиля Fahad
Fahad8 дней назад

دماغ کا وہی والا پیٹرن کا سمجھ لینا... اور گالی سے جوڑے الفاظ میں موجود احساس کو سمجھ کر اس سے محبت کرنا.. یہ دو بہترین نفسیاتی نقطے آپ نے نکالے ہیں.. آپکی رائے کا بہت شکریہ

Фото профиля SajidR Hayat
SajidR Hayat8 дней назад

اپ کی محبت ہے جزاک اللہ خیرا خوش رہیں سلامت رہیں

Фото профиля Fahad
Fahad8 дней назад

آپ بھی برادر❤️

Фото профиля Tahira
Tahira4 дней назад

بے شک وہ ایک ذہنی مریضہ ہے

Фото профиля Fahad
Fahad4 дней назад

لیکن بہت سے بارمل لوگوں میں بھی یہ چیز پائی گئی ہے

Фото профиля Tahira
Tahira4 дней назад

ویسے حیرت ہے

Фото профиля Fahad
Fahad4 дней назад

پڑھے لکھے نارمل لوگ(فی میل ہو یا میل) اس چیز کو فینٹسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں

Похожие видео

جب حد ہی ختم ہو جائے دنیا میں آخر ہو کیا رہا ہے؟ کبھی کبھی ایسی ویڈیوز سامنے آتی ہیں کہ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ یہ ماں اور بیٹا ہیں، دونوں ٹک ٹاکر ہیں، لیکن ذرا اس ویڈیو میں استعمال ہونے والے گانے کے بول اور ان کے انداز پر غور کریں۔ کہیں سے بھی یہ ماں بیٹا لگ رہے ہیں؟ رشتوں کی اپنی ایک حرمت، ایک حد اور ایک خوبصورتی ہوتی ہے۔ ماں اور بیٹے کا رشتہ تو ویسے ہی عزت، محبت اور تقدس کا رشتہ ہے۔ صرف چند ویوز، لائکس اور پیسوں کے لیے اس رشتے کو ایسے انداز میں کیمرے کے سامنے پیش کرنا کہ دیکھنے والا خود شرمندہ ہو جائے، آخر یہ کہاں کی سمجھ داری ہے؟ سوشل میڈیا پر مشہور ہونا کوئی بری بات نہیں، لیکن شہرت کے لیے ہر حد پار کر دینا یقیناً لمحۂ فکریہ ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اب ویوز کی دوڑ میں یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ ہم جو کچھ کیمرے کے سامنے کر رہے ہیں، اسے دیکھنے والے ہمارے رشتے کو کس نظر سے دیکھیں گے۔ آخر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ کہ چند سیکنڈ کی ویڈیو اور چند ہزار ویوز کے لیے رشتوں کی حدود، شرم و حیا اور خاندانی وقار سب کچھ بھول جاؤ؟

its me میٹھو

19,898 просмотров • 19 дней назад

فوج وہ ادارہ ہے جس کی ٹریننگ ہی تشدد ہے، جن کی سوچنے کی تربیت ہی صرف اتنی ہے کہ گولی کے جواب میں گولی چلانی ہے، لیکن جب آپ ان کی قیادت کو سویلین ڈومین میں لے کر آتے ہیں جہاں سیاست، مکالمہ اور اختلافِ رائے کی گنجائش ہوتی ہے تو آپ پورے سویلین نظام کو ملیٹرائز کر دیتے ہیں، اب جب ان کو کسی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان کو وہ بات گولی کی طرح لگتی ہے، جب معید پیر زادہ پوڈ کاسٹ کرتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ گولیاں چل گئی ہیں جیسے ڈاکٹر معید پیر زادہ کے پاس مشین گن ہو۔ ان میں تنقید سُننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، اسی لیے جو انکی مرضی کی بات نہیں کرتا وہ دشمن ہے، وہ سویلین لینڈ اسکیپ میں بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ دوست ہے یہ دشمن ہے اور یہ غدار ہے، پھر جب کوئی کچھ بھی تنقید کرتا ہے تو ان کو لگتا ہے بمبار منٹ ہو گئی ہے معید پیر زادہ ایف 16 اڑا رہا ہے اور اس وجہ سے ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت جواب دے جاتی ہے، جنگوں میں یہ سب چلتا ہے لیکن جب آپ اس کو گورننس اور سویلین ڈومین میں لگاتے ہیں تو ملک کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر حسین ندیم Via Rodium-A Hussain Nadim Moeed Pirzada

Qasim Khan Suri

82,243 просмотров • 1 год назад

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 просмотров • 2 лет назад

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

31,692 просмотров • 5 дней назад

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,509 просмотров • 21 дней назад

چین کے کسانوں میں گائیوں کے لیے فائر تھراپی (Fire Therapy) کا استعمال روایتی چینی طب (Traditional Chinese Medicine - TCM) کے اصولوں پر مبنی ہے۔ یہ طریقہ کار بنیادی طور پر ان گائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو سردیوں میں یا بچے کو جنم دینے سے پہلے یا بعد میں لنگڑی ہو جاتی ہیں، یا جن کے پچھلے پیر خون کی ناقص گردش کی وجہ سے سُن ہو جاتے ہیں۔ یہ علاج گائے کو کھڑا ہونے میں مدد دینے، خون کے بہاؤ کو تیزی سے بحال کرنے اور پٹھوں کو آرام دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ 🔥 فائر تھراپی کا طریقہ کار (عمومی اصول) اگرچہ گائیوں کے لیے اس طریقہ کار کی تفصیلی سائنسی تحقیق یا باقاعدہ ویڈیوز آسانی سے دستیاب نہیں ہیں، لیکن روایتی چینی طب میں جو عمومی اصول اور طریقے استعمال ہوتے ہیں، ان کے مطابق یہ طریقہ کچھ اس طرح سے انجام دیا جا سکتا ہے: 1. تیاری (Preparation) * تشخیص: سب سے پہلے گائے کی حالت کا اندازہ لگایا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا فائر تھراپی موزوں ہے، خصوصاً جب گائے کمزوری یا خون کی گردش کے مسائل کا شکار ہو۔ * سامان: اس کے لیے عام طور پر ایک گیلا تولیہ، الکحل (Alcohol) یا کوئی دوسرا آتش گیر مادہ، اور آگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 2. اطلاق (Application) * حفاظت: گائے کو قابو میں رکھا جاتا ہے اور علاج کی جگہ کو صاف کیا جاتا ہے۔ * گرم کرنا: * علاج کے لیے متاثرہ جگہ (جیسے پچھلے پیروں کے سُن حصے) پر ایک گیلا تولیہ رکھا جاتا ہے۔ * اس گیلے تولیے پر الکحل کی تھوڑی مقدار ڈالی جاتی ہے۔ * اس الکحل کو جلایا جاتا ہے۔ * میکانزم: یہ عمل عارضی طور پر اور مقامی طور پر شدید حرارت پیدا کرتا ہے۔ یہ حرارت روایتی چینی طب کے تصور کے مطابق "یانگ" (Yang) قوت کو بڑھانے، خراب ہوا (Evil Spirits) کو نکالنے، کیوئ (Qi) اور خون کی گردش کو رواں کرنے، جمے ہوئے خون کو دور کرنے، اور پٹھوں کی سختی کو ختم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ * دورانیہ: آگ کو جلدی بجھا دیا جاتا ہے (یا خود بجھ جاتی ہے) تاکہ جلد جلنے سے محفوظ رہے۔ یہ عمل مختصر وقت کے لیے ہوتا ہے اور ضرورت کے مطابق کئی بار دہرایا جا سکتا ہے۔ 3. مقصد (Goal) اس طریقہ کار کا بنیادی مقصد تیزی سے خون کے بہاؤ کو بحال کرنا اور پٹھوں کو آرام دے کر گائے کو دوبارہ کھڑا ہونے میں مدد دینا ہوتا ہے۔ > اہم نوٹ: فائر تھراپی ایک شدید اور خطرناک طریقہ کار ہو سکتا ہے اور اسے صرف اسی شخص کو کرنا چاہیے جسے روایتی چینی ویٹرنری طریقہ کار یا اس تکنیک میں مکمل مہارت حاصل ہو۔ جدید ویٹرنری میڈیسن میں ایسے طریقوں کے استعمال سے گریز کیا جاتا ہے کیونکہ یہ جلنے اور جانور کو مزید تکلیف پہنچانے کا خطرہ رکھتے ہیں۔

Dairy & Cattle Farmers Association (DCFA) Pakistan

32,639 просмотров • 10 месяцев назад

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 просмотров • 2 месяцев назад