Загрузка видео...
Не удалось загрузить видео
Alert... 🔞 اک نارمل بات ہے گالی دینا ایک گندہ اور غلط فعل سمجھا جاتا ہے، اور جس کو گالی دے جائے وہ تو آگ بگولہ ہو جاتا ہے، لیکن آپکو پتا ہے کہ کچھ لوگ اس عمل کو پسند بھی کرتے ہیں؟ زیر نظر ویڈیو میں یہ بات... show more
62,148 просмотров • 8 дней назад •via X (Twitter)
Комментарии: 30

کوئی بھی انسان فطری طور پر توہین یا اذیت کو پسند نہیں کرتا بلکہ لاشعور بچپن کے جانے پہچانے درد اور سختی کو ہی محبت کی واحد صورت مان لیتا ہے۔ جب ابتدائی زندگی میں توجہ اور بقا صرف تذلیل کے بعد ملی ہو تو ذہن بعد کی زندگی میں بھی اسی شناسا تکلیف کو تحفظ سمجھ کر اپنے گلے لگا لیتا ہے۔ یہ زنجیر ناممکن نہیں بلکہ گہرے شعور اور اپنی خودی کی ازسرنو پہچان سے انسان اس زہریلے دائرے کو توڑ کر حقیقی عزت کا حقدار بن سکتا ہے۔

لیکن آجکل یہ سب فینٹسی کے طور پر بھی ہوتا ہے، اسکے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟

situation jesi bhi ho galii ni deni chahiye..that's it

Ap ny shayd vedio nh suni, wo khud demand krti thi

i know but wired demand hai according to me...hr kisi ka apna opinion

Yea.. Everyone have its own opinion.

👍

میں اسے نفسیاتی مسئلہ ہی کہوں گا ورنہ گالی سننے کا کس کو شوق ہے

لیکن سر جی بہت سے لوگوں کی فینٹسی ہے

Damaghi bimarion ki kammi nahi...idhar to aam language mai gali de kr baat krtay hain or fakhar mehsos krtay hain.

Wohi naa. Ye ab bemRi nh rhi. Kuch log shoq se kuch adat se or kuch ki fantasy hoti ha

Bilkul

Technical mind control

So beautiful

Yes.. 😊

Asking question is good

Yes... She is right. Its an alert.

Yeah its existing

🤐🙏 WOW

Thnx😅😊

گالی دینا اور سہنا دونوں انسانیت کے خلاف ہیں۔ جو دیتا ہے اسے اپنی زبان پر قابو سیکھنا چاہیے، اور جو سہتا ہے اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اس سے بہت بہتر سلوک کا حقدار ہے۔ تکلیف کو محبت سمجھنا پسند نہیں، ایک مجبوری ہے - اور ہر مجبوری سے نکلنے کا راستہ موجود ہے۔

لیکن یہ نفسیاتی مسئلہ ہے، کہ وہ خود کہہ رہی کہ گالی دو.. اسے اچھا لگتا ہے.. اس کے بارے آپکی کیا رائے ہے

جب کوئی خود کہے "مجھے گالی دو، مجھے اچھا لگتا ہے" تو وہ اصل میں گالی کو نہیں، اس گالی سے جُڑے احساس کو پسند کر رہی ہوتی ہے۔ نفسیات میں اس کی 2 بڑی وجہ ہوتی ہیں: 1. محبت = تکلیف والا فارمولا: بچپن میں اگر توجہ ہمیشہ ڈانٹ کے ساتھ ملی ہو تو دماغ سمجھ لیتا ہے کہ سختی ہی توجہ کی نشانی ہے۔ 2. خود کو سزا دینے کی سوچ: "میں اچھی نہیں ہوں" والی سوچ میں انسان کو لگتا ہے کہ گالی سن کر اس کا گناہ یا بوجھ ہلکا ہو رہا ہے۔ یہ پسند نہیں، ایک سیکھا ہوا زخم والا پیٹرن ہے۔ اسے حقیقی پسند نہیں کہتے، یہ ایک نفسیاتی عادت ہے جو مدد اور خود آگاہی سے ٹھیک ہو سکتی ہے۔

دماغ کا وہی والا پیٹرن کا سمجھ لینا... اور گالی سے جوڑے الفاظ میں موجود احساس کو سمجھ کر اس سے محبت کرنا.. یہ دو بہترین نفسیاتی نقطے آپ نے نکالے ہیں.. آپکی رائے کا بہت شکریہ

اپ کی محبت ہے جزاک اللہ خیرا خوش رہیں سلامت رہیں

آپ بھی برادر❤️

بے شک وہ ایک ذہنی مریضہ ہے

لیکن بہت سے بارمل لوگوں میں بھی یہ چیز پائی گئی ہے

ویسے حیرت ہے

پڑھے لکھے نارمل لوگ(فی میل ہو یا میل) اس چیز کو فینٹسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں
Похожие видео
Sensitive content
کیا آپ جانتے ہیں کہ پورن ایڈکشن (Porn Addiction) آپ کے رشتوں کو کیسے دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے؟ جب دماغ آرٹیفیشل ڈوپامین لوپ (Dopamine Loop) میں پھنس جاتا ہے، تو انسان 'Anhedonia' کا شکار ہو جاتا ہے، یعنی وہ حالت جہاں زندگی کی اصل اور نیچرل خوشیاں آپ کو مطمئن نہیں کر پاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ شادی کے بعد بھی لوگ اپنے لائف پارٹنر کے ساتھ ذہنی اور جسمانی سکون محسوس نہیں کرتے۔ اس خطرناک لت سے اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بچائیے۔ آپ کے خیال میں اس سے چھٹکارا پانے کا سب سے بہترین طریقہ کیا ہے؟ کمنٹس میں بتائیں۔ 👇🏻
★𝐒𝐀𝐍𝐈𝐀®🌸
46,614 просмотров • 3 месяцев назад
