正在加载视频...

视频加载失败

English :Bhook Ticket Urdu:کتاب کا ٹکٹ کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن پر لگی ٹکٹ مشین کا سوفٹویر کسی شدید ذہن ترین سے بنوایا گیا ھے 😂

34,774 次观看 • 5 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 次观看 • 1 年前

پولیس افسران کیمطابق پہلے پولیس ملازمین کو فوجی اہلکار کے بھائی سے غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر اس کے گھر میں پوچھ گچھ کرنے کے دوران مبینہ ملزم کے بھائیوں بشمول فوجی اہلکار نے پولیس افسران و ملازمین کو یرغمال بنایا اور تشدد کیا۔ معاملہ بگڑنے پر فوجی اہلکار نے اپنے کمانڈر سے بات کی جس کے بعد آئی ایس آئی افسران بالخصوص میجر عبداللہ کے احکام پر الٹا پولیس اہلکاروں پر ہی ایف آئی آر کاٹ کر انہیں لاک اپ میں ڈال دیا گیا۔ مگر دوسرے روز کور کمانڈر بہاولپور کے بہاولنگر دورے کے بعد فوج نے منظم انداز میں تھانے پر دھاوا بولا، تھانے کے داخلی اور خارجی راستے بند کردیے گئے، دوکانیں بند کروائیں گئیں، ملوث پولیس افسر اور ملازمین کو لاک اپ سے زبردستی باہر نکالا اور شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ علاج کے لئے اسپتال بھی نا لے جانے دیا گیا۔ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آر پی او، بریگیڈ کمانڈر اور آئی ایس آئی والوں نے ہمیشہ کی طرح معاملے کو دبانے کے لئے زبردستی صلح نامہ کروایا جس کے بعد پولیس لائن میں محصور شدید زخمی پولیس ملازمین کا علاج کروایا جاسکا

Adil Raja

279,440 次观看 • 2 年前

چونکہ پشاور جلسہ عمران خان کی خصوصی کال اور ہدایت پر منعقد ہوا اور جاری فاشزم کے خلاف تھا جس کا سب سے بڑا وکٹم عمران خان خود ہیں، تو اس جلسے میں علیمہ خان کو بطور انکی فیملی باقاعدہ دعوت دے کر اسٹیج پر بلایا جانا چاہیے تھا، ان سے درخواست کی جاتی کہ انہوں نے اڑھائی سال میں اپنے بھائی کے ساتھ پیش آنے والے معاملات دیکھے ہیں، ان سے ملاقاتیں کی ہیں انکی حالت ملاحظہ کی ہے انکی صحت کو ملاحظہ کیا ہے انکے ارادوں کی مضبوطی کو دیکھا ہے انکے پیغامات عوام تک unfiltered پہنچائے ہیں، وہ اپنے یہ تجربات، یہ سب کچھ سٹیج سے عوام کے ساتھ دوبارہ شیئر کریں، عمران خان کے پیغامات کا خلاصہ، نظریے اور سوچ کا خلاصہ، انکے ارادے اور لائحہ عمل لوگوں کو بتائیں۔ یوں جلسے کا اصل مقصد پورا ہوسکتا تھا۔ اس سے جلسے کا مومینٹم ہی کچھ اور ہوتا۔ لوگوں کے جذبات بھرپور ہوتے، خیالات میں مزید حدت پیدا ہوتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یا ہونے نہیں دیا گیا۔ حالانکہ جلسے میں شامل ہونے والے کئی درجن اور بھانت بھانت کے تمام رہنماؤں سے زیادہ عوام عمران خان کی بہنوں کو عزت اور احترام دے رہے تھے، انکی طرف متوجہ تھے، ان سے عقیدت اور جذباتی لگاؤ کا اظہار کررہے تھے، جیسے وہ عمران خان کیلیے کرتے ہیں۔ باقی کسی بھی پارٹی رہنما کو تو عوام اب کچھ سمجھتے ہی نہیں، رہنماؤں سے اُکتا چکے ہیں۔ نجانے کیوں علیمہ خان کو سٹیج پر نہ بلا کر یہ اہم ترین موقع ضائع کیا گیا، اور جلسے کو ایک لایعنی اور وقت کے ضیاع جیسی ایکٹویٹی بنا کر رکھ دیا گیا۔ انتظامات میں دیگر خرابیاں اور کوتاہیاں اسکے علاؤہ تھیں، اب رب جانے کہ یہ سب دانستہ تھا یا غیر دانستہ ہوا ہے۔

Obaid Bhatti

42,678 次观看 • 11 个月前

پاکستان تحریک انصاف کی اہلِ فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کرنے والے پرامن مظاہرین کی گرفتاریوں کی شدید مذمت: اسرائیلی جارحیت کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف ریاستی مشینری کا استعمال شرمناک ہے شہریوں کو مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑے ہونے کے جرم میں گرفتار کیا جا رہا ہے، تحریک انصاف کے پرامن مظاہروں کیلئے تعین کردہ مقامات پر پولیس موبائیلز اور قیدی وینز کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں، یہ بلاشبہ پچھلے 17 ماہ سے تحریک انصاف کے خلاف جاری سیاسی انتقام کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، ملک میں آئین وجمہوریت کو معطل کر کے شہریوں کو شخصی آزادی سے محروم کر دیا گیا ہے، ملک پر مسلط حکمرانوں کو مظلوم فلسطینی بھائیوں کے حق میں احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کرنے پر شرم آنی چاہیئے، شہریوں کو آزادی کی جدوجہد کیلئے مظالم جھیلنے والے اہلِ فلسطین کیساتھ اظہار یکجہتی سے روکنا کسی طور قابلِ برداشت نہیں، تحریک انصاف قابض حکمرانوں کے فسطائی رویے سے نہ گھبرائے گی اور نہ کسی صورت فلسطینیوں کی حمایت سے پیچھے ہٹے گی، ترجمان تحریک انصاف

PTI

142,485 次观看 • 2 年前

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

666,190 次观看 • 2 年前

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,621 次观看 • 4 个月前

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وادوز (Vaduz) کا دورہ کیا تاکہ اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کی جا سکے- سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں- ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرنے اور اس پر بات چیت کے لیئے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لیختنسٹائن کا سفر کیا- رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاول کی شادی رواں سال کے آخر میں ہو سکتی ہے، جبکہ ان کی مبینہ منگیتر کا تعلق لیختنسٹائن (Liechtenstein) کے دارالحکومت وادوز سے بتایا جاتا ہے- تاہم، پیپلز پارٹی نے ان دعووں کی تردید کی ہے- کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب، جو بلاول کے ترجمان بھی ہیں، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی منگنی یا شادی کے بارے میں خبریں "غلط اور بے بنیاد" ہیں- بلاول یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے منگنی کی تصدیق کے لیئے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ خبر ابھی تک غیر مصدقہ ہے- لیختنسٹائن مغربی یورپ میں واقع ایک چھوٹی خودمختار ریاست ہے جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے- اس کا دارالحکومت وادوز ملک کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے- بلاول اس سے قبل بھی شادی کے بارے میں عوامی سطح پر بات کر چکے ہیں لیکن انہوں نے ممکنہ شریکِ حیات یا شادی کی تاریخ کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں- سن 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے دوران، ایک صحافی نے بلاول سے ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا- مسکراتے ہوئے، اس وقت کے وزیر خارجہ نے جواب دیا، "یقیناً، شادی کا ارادہ رکھتا ہوں،" لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں- بلاول نے 2016 میں بھی اس موضوع پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہونے والی دلہن کو سب سے پہلے ان کی بہنوں کے "دل جیتنے" ہوں گے- انہوں نے کہا تھا، "مناسب امیدوار کو سب سے پہلے میری بہنوں کے دل جیتنے ہوں گے- مجھے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا اور کسی بھی لڑکی کے لیے میری بہنوں کے دل جیتنا بہت مشکل کام ہے۔" (رپورٹ: وقار ستی - جیو نیوز)

Amir H. Qureshi

62,237 次观看 • 1 天前

🔔🔔 کسی کی دل آزاری مقصود نہیں لیکن کراچی میں بارش اور “اربن فلڈنگ” کے دعوؤں کی رپورٹنگ بہت ہی دلچسپ ہے۔ صُبح ایک خاتون رپورٹر کی پانچ منٹ کی لائیو رپورٹنگ دیکھی وہ ملیر کینٹ کو جانے والی سڑک پر چھتری لیے موجود تھیں اور اُن کے عقب میں سڑک بالکل صاف تھی لیکن وہ منظر کشی ایسی کررہی تھیں جیسے بارش سب بہا کر لے گئی ہو، یہاں تک کہ اینکرز نے پوچھ لیا آپ ہمیں سڑک پر پانی دکھا سکتی ہیں؟ تو انہوں نے کیمرہ مین کو کہا آپ دوسری طرف کیمرہ گُھما کر دکھائیں اور جب کیمرہ گھوما تو سڑک کے آدھے حصہ پر تقریباْ ایک سے آدھا انچ پانی کھڑا تھا جبکہ باقی آدھی سڑک پر وہ آدھا انچ پانی بھی نہیں تھا اور ٹریفک کے ساتھ ساتھ لوگ پیدل بھی جارہے تھے صرف شلوار ٹخنوں سے تھوڑی اوپر کر رکھی تھی تاکہ شلوار پر “چھینٹے” نہ پڑ جائیں۔ ابھی یہ وڈیو بھی دیکھیے کار کے ٹائر کا ایک چوتھائی حصہ تک بھی پانی میں نہیں ڈوب رہا یعنی کہ یہاں بھی پانی دو یا تین انچ سے زیادہ نہیں کھڑا لیکن بتایا یوں جارہا ہے جیسے حیدرآباد سے پانی نہیں راوی چناب سے سیلاب بند توڑ کر کراچی میں داخل ہوگیا ہے۔

Asad Ali Toor

104,103 次观看 • 11 个月前

اسلام آباد: 6 اپریل, 2026 اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے ریلویز حنیف عباسی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان ریلویز کی مجموعی کارکردگی، جاری اصلاحات اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیر ریلویز نے وزیراعظم کو پاکستان ریلویز کے آپریشنل امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خلیج کی صورتحال میں عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں چلنے والی تمام آپریشنل ٹرینوں کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے اور ریلوے کے نظام کو بہتر بنا کر آمدن میں اضافہ کرنے پر توجہ دی جائے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ہدایت کی کہ پاکستان ریلویز کو ایک جدید، محفوظ اور قابلِ اعتماد سفری نظام میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کو تیز کیا جائے. وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر کاربند ہے اور تمام اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وزیر ریلویز کو ہدایت کی کہ ریلوے کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بہتر، محفوظ اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

Prime Minister's Office

12,798 次观看 • 4 个月前

میں نے جیل روڈ سے کینٹ میں داخل ہونے کے بعد شامی روڈ کی طرف گاڑی موڑی تو فورٹریس سائیڈ سے ایک تیز رفتار رکشہ سگنل توڑ کر یوں نکلا کہ سائیڈ لگتے لگتے رہ گئی۔ ایک لمحے کے لئے مجھے لگا کہ گاڑی کی لیفٹ سائیڈ تو گئی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ فور کور کی اہم ترین سڑک ہے اس سگنل پر تو کیمرے بھی اندھا دھند لگے ہوئے ہیں تو یہ جرات کیوں، کیسے؟ جیسے ہی اس کی پشت شریف کو دیکھا تو سمجھ آ گئی کہ یہ قانون شکنی اور بدمعاشی کیوں کی جا رہی ہے کیونکہ اس نے نمبر پلیٹ پر جھالریں لٹکا رکھی تھیں۔ مجھے ہنسی آ گئی کہ اگر اس کو روکا گیا، دو جھانپڑ لگا دئیے گئے یا پولیس کی طرف سے چالان کر دیا گیا تو مزدور اور غریب کی توہین ہو جائے گی۔ یہ ریاست کے ظلم پر اپنے رکشے کو آگ لگا دے گا اور سڑک پر لیٹ کے یوں ٹانگیں پسار روئے گا جیسے اس کی ماں مر گئی ہو۔ کیا ٹریفک پولیس کو ایسی تمام نمبر پلیٹوں کو چیک نہیں کرنا چاہیئے جن کو چھپایا جا رہا ہے کیونکہ موٹرسائیکل سے رکشے اور گاڑی تک یہ کم از کم ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کے لئے بھی ہو سکتی ہے اور یہی ڈکیتی کے لئے بھی ۔۔۔ فرق امیر اور غریب کا نہیں ہوتا، فرق حاکم اور محکوم کا بھی نہیں ہوتا اصل فرق قانون پسند اور قانون شکن، ایماندار اور بے ایمان، اچھے اور برے کا ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی شعبے میں ہو، جج ہو، جرنیل ہو، بیوروکریٹ ہو، تاجر ہو یا صحافی ۔۔۔

Najam Wali Khan

12,999 次观看 • 4 个月前

یہ 1960 کی بات ہے. کہ ایک جرمن خاتون جوکہ تیس سال کی عمر کی تھیں. نوجوان اور حسین تھیں. اور پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھیں. پاکستان آنکر یہیں کی ہو گئیں. یہاں آنے کی وجہ کیا تھی.؟؟؟ وجہ یہ تھی کہ ان خاتون نے پاکستان میں جذام( کوڑھ) کے مریضوں پر بننے والی ایک ڈاکو مینٹری فلم BBC لندن سے دیکھی. کہ پاکستان میں اس بیماری میں مبتلا مریضوں کی زندگی کس قدر عذاب ہوجاتی ہے. اس بیماری کو جوکہ اُسوقت تک لاعلاج سمحھی جاتی تھی. "عذابِ الہی" کہا جاتا تھا. اور ایسے مریضوں کو معاشرے سے الگ کردیا جاتا تھا. اُس زمانے میں کراچی میں آئ آئ چندریگر روڈ پر ایک جگہ بنائ گئ تھی. جہاں جذام کے مریضوں کو ڈال دیا حاتا تھا. اور کچھ دردمند افراد اس چار دیواری کے دوسری طرف سے ہی ان مریضوں کو روٹیاں پھینک کر چلے جاتے تھے. سخت ترین بیماری، اور اُس پر لوگوں کا رویہ جذام کے مریضوں کیلیے دہرا عذاب تھا. انکے اپنے ان سے منھ موڑ لیتے تھے. اور پھر سسک سسک کر مرجانا ہی انکا مقدرتھا یہ جرمن خاتون کا نام "ڈاکٹر رُتھ فاؤ" تھا. 1960 میں کراچی تشریف لائیں. آئ آئ چندریگر روڈ پر ایک جھونپڑی میں اُنھی جذام کے مریضوں کے درمیان ہی اپنا کلینک کھولا. اور ان مریضوں کا علاج کرنا شروع کیا. ڈاکٹر صاحبہ کو صرف تین سال کی سخت محنت لوگوں کو یہ سمجھانے پر لگے کہ جذام ایک بیماری ہے. ڈاکٹر صاحبہ نے جذام کے مریضوں کا جس محنت، محبت اور شفیق انداذ میں علاج کیا. وہ انسان دوستی کی ایک زندہ ترین مثال ہے. آپ خود ان مریضوں کی، کہ جن سے انکے اپنے دور بھاگتے تھے. انکے زخموں کی صفائ کرتیں. انکی مرہم پٹی کرتیں . انکو تسلی اور دلاسہ دیتیں. اور اپنے شفیق لفظوں سے انکو زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کرتیں. جو مشن آپنے اٹھایا تھا. اس میں کئ لوگ اب آپکے ساتھ شامل تھے. سو ضرورت اس بات کی تھی. کہ ایک بڑا اسپتال یہ سینی ٹوریم ان مریضوں کیلیے بنایا جائے. اس کام کا تخمینہ 1963 میں تقریباً نوے لاکھ روپے لگایا گیا۔ یوں آپ اس مقصد کیلیے دوبارہ جرمنی گئیں. اپنی عوام کو اس مقصد سے آگاہ کیا. اور انکے سامنے اپنی جھولی پھیلادی. اور مطلوبہ رقم کا بندوبست کرکے ہی آپ جرمنی سے لوٹیں. اور آخرکار 1965 میں"میری ایڈ لیپریسی سینٹر" کا قیام عمل میں لایا گیا. ا ڈاکٹر صاحبہ نے پوری محنت اور وقت اس اسپتال اور اس میں آنے والے مریضوں کو دیا. اتنا بڑا اسٹاف ہونے کے باوجود بھی آپ پاکستان سے وآپس نہیں گئیں. بلکہ انتھک محنت اور جانفشانی سے جذام کے خلاف لڑائ لڑتی رہیں.اس دوران ملک کے دیگر حصوں میں بھی میری ایڈ لیپریسی سینٹر کی شاخیں کھلتی چلی گئیں. آپنے ملک کے گوشے گوشے میں اس مہلک بیماری کا پیچھا کیا. اور آخرکار 1990 میں آپکو پاکستانی شہریت عطا کی گئ 1996 میں عالمی ادارہِ صحت نے پاکستان کو جذام سے 100% فیصد پاک ملک قرار دے دیا. اس وقت پاکستان ہی ایشیاء کا پہلا ملک تھا. جوکہ اس مہلک مرض سے مکمل طور پر پاک ملک تسلیم کیا گیا. اور10 اگست وہ دن بھی آیا. کہ اس دن ڈاکٹر صاحبہ اس جہان فانی سے منھ موڑ گئیں. انکے عقیدتمندوں نے یہ روح فرساء خبر سنی کہ انکا انتقال ہوگیا ہے. اور ڈاکٹر صاحبہ کی تدفین اور آخری رسومات 19 اگست کو ادا کی جائینگی. ڈاکٹر صاحبہ نے پوری زندگی اکیلے ہی گزاری. اپنے نفس کا گلا گھونٹ دیا. انھوں نے اپنے مشن کو ہر چیز اور ہر جذبے پر مقدم رکھا. آپنے پوری زندگی شادی نہیں کی تھی.. بالاآخر 19 اگست کا دن بھی آن پہنچا. ڈاکٹر صاحبہ کو انکی وصیت کے مطابق میری ایڈ لیپریسی سینٹر لایا گیا. اور جب آپکی میت لائ گئ. تو آپکے عقیدتمند اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے. شدت جذبات کے مارے لوگ زار و قطار رو پڑے. آپکی آخری رسومات و تدفین میں ملک کی تمام تر اعلی شخصیات نے شرکت کی. اور یوں وہ فرشتہ صفت عورت جس نے بلا کسی معاوضہ کے، بلا کسی غرض کے اس ملک کو اپنی زندگی کے 57 سال دئیے. جو جان لیوا بیماری کے مریضوں کیلیے اللہ تعالی کا پیغام شفاء بنی رہی۔ وہ خاتون 19 اگست 2017 کو آسودہِ خاک ہوئی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے تمام زندگی ایک کمرے میں گزار دی. اس ایک کمرے میں ایک چارپائ ایک طرف پانی کا کولر اور انکے مطالعہ کیلیے چند کتابیں.....یہ تھی انکی کل جمع پونجی ! انہون نے اسلام قبول کیا تھا یا نہیں اس کا علم نہیں مجھے. کچھ لوگ زندگی میں اتنا بڑا کام کر جاتے ہیں جو رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ رہتا ہے ہمارا مقصد لوگوں کو موٹیویٹ کرنا ہے کہ محلوں کو چھوڑ کر ایک اکیلی عورت ہمارے کچے مکانوں میں آ کر آباد ہو گئی ہمارے ہی لوگوں کے لیے. کیا ہمیں اس سے سبق نہیں سیکھنا چاہیے؟ کیا کہتے ہیں آپ. کیا ہمارے اپنے ملک کے ڈاکٹر بھی ایسا کام کرسکتے ہیں؟

Nida Ahmed

17,698 次观看 • 2 个月前

شکریہ چوہدری پرویز الٰہی ابھی کچھ دیر پہلے دفتر سے گھر آتے ہوئے بارش کے پانی کے قریب سڑک پر کسی کو گرے دیکھا۔ گاڑی موڑی اور واپس جا کے دیکھا تو وہ ایک عورت تھی۔ اسے اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ گر پڑی۔ مجھے لگا کہ یہ ذہنی مریض ہے، یہ بھی لگا کہ نشہ کیا ہے اور یہ بھی کہ کسی نے خود یہاں بھیک کے لئے چھوڑا ہے مگر پھر سوچا کہ شدید سردی ہے، یہ مر گئی تو ذمے دار کون ہو گا، میں؟ میں نے اسے مناسب رقم بھی دی مگر مجھے اس کی باتیں بھی سمجھ نہیں آ رہی تھیں، بس اتنی سمجھ آئی کہ ٹکر لگی ہے اور چوٹ۔ دس پندرہ منٹ کی ادھیڑ بن کے بعد پھر یہی خیال آیا کہ 1122 کو کال کروں کہ لوگ قریب سے اجنبیت سے گزرتے جا رہے تھے۔ کال کی اور دس بارہ منٹ میں ہی گاڑی آ گئی۔ کچھ لوگ جمع ہوئے جھگیوں کی رہائش بارے بتایا۔ پھر جو ہوا کچھ اس کی ریکارڈنگ دیکھ لیجئے اور دل میں پہلا خیال آیا کہ چوہدری پرویز الٰہی کا شکریہ ادا کروں اور شہبازشریف کا بھی جنہوں نے سیاسی مخالفت کو چھوڑ کر اس منصوبے کو پنجاب بھر تک پھیلا دیا۔ ریسکیو سٹاف فرسٹ ایڈ کے بعد اس کا گھر ڈھونڈنے اور پہنچانے چلا گیا۔۔

Najam Wali Khan

159,079 次观看 • 2 年前