Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

…Extreme Cold Alert ۔۔Running water turned into solid ice سکردو گلگت بلتستاب میں سردی کی شدت میں بےپناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ پانی کی پائپ لائنیں مکمل طور پر جم گئی ہیں۔ جگ میں بہتا ہوا پانی بھی برف کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انتہائی کم درجہ حرارت...

16,080 просмотров • 8 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

پاکستان کی مشہور اور خوب رو اداکارہ ہانیہ عامر وہ اپکو بتا رہی ہیں کہ ٹائیلٹ میں اپنی 2E کیسے دھوتے ہیں ۔۔ حیرانگی اس بات کی ہو رہی ہے جنہیں ہم پاک صاف سمجھتے ہیں جو مہنگے کپڑے پہنتے ہیں مہنگے پرفیوم لگاتے ہیں عوام کے سامنے بہترین بن کر اتے ہیں اصل میں وہ اتنے گندے ہیں کہ اپنی نجاست صاف کرنے کیلے اج بھی انگریزوں کی طرح ٹشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں ۔۔ حالانکہ جب پانی میسر ہے تو انگریزوں کی طرح ٹائیلیٹ پیپر استعمال کرنے کی کیاضرورت ہے ۔ اور ہانیہ عامر کی یہ حرکت دیکھ کر میں یقین سے کہ سکتا ہوں اس محترمہ کو غسل کے فرائض بھی نہی پتہ ہونگے ۔۔ اور یہ ہمارا کرش ہیں ۔۔ ہماری ہیروز ہیں جن کے ساتھ اک سیلفی بنانے کیلے ہم لالھوں ضائع کرنے پر تیار ہیں ۔۔۔ اب یہاں پر موم بتی معافیا کہے گا کہ یہ تو اس کاذاتی فعل ہے ُ وہ ٹائیکٹ پیپر استعمال کرے یا پانی ۔۔ تو ان کیلے عرض ہے کہ جب اپ خود پبلک فگر ہوتی ہیں اپ انفلوئنسر ملک کی مشہور ہستی ہوں لالھوں اپکے فینز ہیں تو پھر اپکا عمل زاتی نہی رہتا ۔۔۔ علما کرام مفتیاں کرام سب کا اس پر اک ہی موقف ہے کہ ۔۔ پانی افضل اور بہتر ہے کیونکہ یہ نجاست کو مکمل طور پر دور کرتا ہے۔ پتھر یا ٹوائلٹ پیپر سے استنجا اس وقت جائز ہے جب پانی میسر نہ ہو یا کوئی مجبوری ہو۔ تاہم اگر پانی موجود ہو تو پانی کا استعمال ضروری ہے کیونکہ ٹوائلٹ پیپر صرف نجاست کو پونچھتا ہے مگر مکمل طہارت حاصل نہیں ہوتی۔ اگر پانی موجود ہو اور صرف ٹوائلٹ پیپر پر اکتفا کیا جائے تو نماز درست نہیں ہوگی کیونکہ نجاست مکمل طور پر زائل نہیں ہوئی۔
0:19

Sensitive content

پاکستان کی مشہور اور خوب رو اداکارہ ہانیہ عامر وہ اپکو بتا رہی ہیں کہ ٹائیلٹ میں اپنی 2E کیسے دھوتے ہیں ۔۔ حیرانگی اس بات کی ہو رہی ہے جنہیں ہم پاک صاف سمجھتے ہیں جو مہنگے کپڑے پہنتے ہیں مہنگے پرفیوم لگاتے ہیں عوام کے سامنے بہترین بن کر اتے ہیں اصل میں وہ اتنے گندے ہیں کہ اپنی نجاست صاف کرنے کیلے اج بھی انگریزوں کی طرح ٹشو پیپر کا استعمال کرتے ہیں ۔۔ حالانکہ جب پانی میسر ہے تو انگریزوں کی طرح ٹائیلیٹ پیپر استعمال کرنے کی کیاضرورت ہے ۔ اور ہانیہ عامر کی یہ حرکت دیکھ کر میں یقین سے کہ سکتا ہوں اس محترمہ کو غسل کے فرائض بھی نہی پتہ ہونگے ۔۔ اور یہ ہمارا کرش ہیں ۔۔ ہماری ہیروز ہیں جن کے ساتھ اک سیلفی بنانے کیلے ہم لالھوں ضائع کرنے پر تیار ہیں ۔۔۔ اب یہاں پر موم بتی معافیا کہے گا کہ یہ تو اس کاذاتی فعل ہے ُ وہ ٹائیکٹ پیپر استعمال کرے یا پانی ۔۔ تو ان کیلے عرض ہے کہ جب اپ خود پبلک فگر ہوتی ہیں اپ انفلوئنسر ملک کی مشہور ہستی ہوں لالھوں اپکے فینز ہیں تو پھر اپکا عمل زاتی نہی رہتا ۔۔۔ علما کرام مفتیاں کرام سب کا اس پر اک ہی موقف ہے کہ ۔۔ پانی افضل اور بہتر ہے کیونکہ یہ نجاست کو مکمل طور پر دور کرتا ہے۔ پتھر یا ٹوائلٹ پیپر سے استنجا اس وقت جائز ہے جب پانی میسر نہ ہو یا کوئی مجبوری ہو۔ تاہم اگر پانی موجود ہو تو پانی کا استعمال ضروری ہے کیونکہ ٹوائلٹ پیپر صرف نجاست کو پونچھتا ہے مگر مکمل طہارت حاصل نہیں ہوتی۔ اگر پانی موجود ہو اور صرف ٹوائلٹ پیپر پر اکتفا کیا جائے تو نماز درست نہیں ہوگی کیونکہ نجاست مکمل طور پر زائل نہیں ہوئی۔

Saleem Speaks

52,831 просмотров • 4 месяцев назад

اہم ، سیالکوٹ بجوات سیکٹر میں تباہی کی تفصیلات مجھے مستند ذرائع نے سینڈ کیں ہیں پنجاب حکومت انتظامیہ فوری توجہ دے ، سیالکوٹ سے تقریباً 21 کلومیٹر شمال کی جانب علاقہ بجوات جو 84 دیہات پر مشتمل ہے جس کی آبادی تقریباً چھ 7 لاکھ ہے کل کے سیلاب میں سب سے پہلے یہ علاقہ متاثر ہوا ہے چاول کی فیصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے جو کھانے پینے کی اشیاء لوگوں نے گھروں میں رکھی ہوئی تھی جو پورا سال استعمال کرنی تھی جس میں گندم ، چاول وہ سب کچھ پانی بہا لے گیا ہے اور بہت زیادہ مال مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں سب سے اہم بات یہ کی ان سب 84 دیہات کا زمینی راستہ بھی سیالکوٹ اور دوسرے شہروں سے منقطع ہے انتظامیہ فوری طور پر بجوات سیکٹر کا واحد زمینی راستہ ، بجلی ، انٹرنیٹ بحال کرے اور امدادی کارروائیاں شروع کرے بجوات سیکٹر میں مشرق سے دریائے جموں توی اور شمال سے دریائے چناب پاکستان میں داخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا پل بجواں ، مرہال، پنڈی پتراڑہ ، چک کھوجہ ، گدپور و دیگر جگہوں سے گزرنے والا سیلابی ریلا میں بھی کافی نقصان پہنچا چکا ہے سات سے دس فٹ جو نچلے حصے تھے وہاں 10 فٹ تک بھی پانی تھا بجوات وہ سیکٹر جس میں پاکستان میں جب انڈیا کی طرف سے پانی آتا ہے تو سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے اور اس علاقے کا سب سے بڑا گاؤں پل بجواں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے کیونکہ یہ بلکل دریائے جموں توی کے کنارے پر ہے NDMA PAKISTAN Government of Punjab Sialkot Police

Saqib Bashir

96,196 просмотров • 11 месяцев назад

حقیقت یہ ہے آزاد کشمیر کی عوام نے اشرافیہ کی کمر توڑ دی ہے ابھی صبح کے 4 بجے ہیں میری اطلاعات کے مطابق کچھ دستخط رہتے ہیں 53 میں سے 48 ووٹ لینے والا اور 36 روکنی تاریخی کابینہ رکھنے والے کو عام دکانداروں نے ایک کی بیکری ، ایک کی کتابوں کی دکان باقی عام لوگ ملیہ میٹ کر چکے ہیں وہاں کی سیاسی جماعتوں نے کشمیر اور پاکستان میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جس میں پاکستانی ٹیلی ویژن میڈیا نے کردار ادا کیا اتنا بڑا عوام کا جمع غفیر 5 دن سڑکوں پر رہا لیکن مجال ہے اپنے فوکس سے ہٹا ہو تاریخی سیاسی شعور کا مظاہرہ ہوا کشمیر کی عوام آج ثابت کر چکی ہے وہ بھیڑ بکریاں نہیں ہیں سب سے اہم 12 نشستیں فارغ پیں۔ نہ۔فنڈز ، نہ گاڑی پر جنڈی ، نہ وزارتِ یہ مرا ہوا سانپ بن چکی 36 سے کم کر کے 20 یا 18 کابینہ ہو گی یعنی یہ عام لوگ آدھی وزارتوں کو گرا چکے ہیں فوری اربوں روپے کے فنڈز جاری ہوں گے اب ایکسرے ، سٹی سکین، ایم آر آئی کی مشینیں ہمارے شہروں میں ہوں گی تحریکوں کے کچھ لمحات ہوتے ہیں 29 تاریخ مظفرآباد میں گولیاں مار کر لاشیں گرا دی گئ، وہ لمحہ تھا اس تحریک نے ہر گھنٹے زور پکڑا ، گولی چلتی ہے لوگ دروازے بند کرتے ہیں کشمیر میں دروازے کھول کر ہر بندہ باہر آ گیا۔۔ کشمیر زندہ آباد پاکستان پائندہ باد

Sohrab Barkat

54,393 просмотров • 10 месяцев назад

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,621 просмотров • 4 месяцев назад

یہ پنجاب بھر کی فوجی طوائفیں اچانک بلوچستان کیوں نازل کی جارہی ہیں ؟ اور پھر کوئٹہ پہنچتے ہی اوٹ پٹانگ ہوکر کبھی اپنا لباس اڑا کر کبھی گوادر سمندر میں گیلی ہوکر کون سا امن دکھا رہی ہیں ؟ کیا بلوچستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ "اللہ کی فوج" کو بیانیہ بنانے کیلئے ایسی عورتوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے ؟ کبھی لاہور کی کومل بٹ ایم این ایز سے اکیلے ملاقاتوں کی خواہش میں نظر آتی ہیں، کبھی پنڈی کی سمیرا راجہ اور سدرہ یدویائی سمندر میں بھیگ کر گوادر کو “پرامن” ثابت کرنے میں مصروف ہوتی ہیں، کبھی گوادر اسٹیڈیم میں لیٹی ہوئی ہیں۔ چکوال کی ارحم ملک میرانی ڈیم میں اتر جاتی ہے، جبکہ حبا چودھری ملٹری میس کے سامنے تصویر کھنچوا کر اپنی پردادی کی امی کو کوئٹہ کی رہائشی بتا رہی ہوتی ہیں اس لئے بلوچستان فواد چودھری کی بیوی کا بھی ہے اب اسی سلسلے میں بے گھر و آل شرلی نجیبہ فیض کو بھی بلوچستان لا کر، حبا چودھری اور سفینہ خان کی طرح، کینٹ اور کوئٹہ ریڈ زون کا “امن” دکھایا جا رہا ہے۔ آخر ان طوفانی ٹڈی دل طوائفوں کے اچانک حملوں کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟ اللہ کی فوج پر برا وقت ہے ؟ #Balochistan

Balochistan Facts

72,806 просмотров • 1 месяц назад